پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر
اعظم عمران خان نے لانگ مارچ کے دوران فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں
کہا ہے کہ تین لوگوں نے وزیرآباد یا گجرات میں مارنے کی منصوبہ بندی کی تھی، صحت
یاب ہوتے ہی دوبارہ سڑکوں پر نکلوں گا اور اسلام آباد کی کال دوں گا۔
جمعہ کی شام لاہور میں شوکت خانم ہسپتال میں پریس کانفرنس
کرتے ہوئے عمران خان نے دعویٰ کیا کہ انھیں وزیر آباد فائرنگ کے واقعے کے دوران
چار گولیاں لگی ہیں۔
عمران خان نے دعوی کیا کہ لانگ مارچ پر روانہ ہونے سے ایک
دن پہلے پتا چلا تھا کہ انھیں وزیرآباد یا گجرات میں مارنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیر آباد سے ایک دن قبل تین
لوگوں نے اُنھیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ تین لوگ ان چار
لوگوں سے مختلف ہیں جن کی وہ پہلے بات کر چکے ہیں۔
انھوں نے پہلے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ اور پھر وزیرِ
اعظم شہباز شریف کا نام لیا۔ انھوں نے تیسرا نام میجر جنرل فیصل نصیر کا لیا جو آئی
ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلیجنس شعبے کے سربراہ ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ’ہم نے ایف آئی آر درج کرنے کی کوشش کی
سب ڈرتے ہیں کیونکہ یہ قانون سے اوپر ہیں‘۔
عمران خان کی طرف سے اسد عمر بھی ان تینوں پر الزام عائد کر
چکے ہیں۔
عمران خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اس دن کنٹینر
پر دو ھرف سے گولیا ںچلی تھیں اور دو برسٹ فائر ہوئے تھے۔ دو آدمی تھے اور جب گر
رہا تھا تو میرے اوپر سے گولیاں جا رہی تھیں اور اگر مجھے نشانہ بناتے تو میں نے
بچنا نہیں تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پکرے جانے والے ملزم کو جنونی اور
انتہاپسند کہا گیا، یہ انتہاپسند نہیں بلکہ اس کے پیچھے پورا منصوبہ ہے، یہ
منصوبےکو بے نقاب کریں گے، اس میں اور لوگ بھی ملوث ہیں اور یہ منصوبہ پہلے کا بنا
ہوا ہے‘۔
عمران خان نے کہا کہ ’ ریکارڈ جلسوں کے بعد چار افراد نے بند
کمرے میں مجھے مارنے کا فیصلہ کیا اور میں نے ٹی وی پر جا کر لوگوں کو بتایا، ویڈیو
بنائی اور چار لوگوں کے نام دیے اور ویڈیو باہر رکھی ہوئی ہے، اگر مجھے کچھ ہوا تو
یہ ویڈیو ریلیز کریں تاکہ دنیا اور قوم کو پتا ہو کہ کس نے یہ کیا کیونکہ یہاں جو
قتل ہوتا ہے تو پتا نہیں چلتا۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’جو انھوں نے وزیرآباد میں کیا، ان کا
منصوبہ یہ تھا کہ کہیں گے دینی انتہا پسند نے عمران خان کو قتل کردیا جس طرح سلمان
تاثیر کا ہوا تھا کیونکہ اس نے مذہب کی توہین کی تھی۔‘
عمران خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’اسلام آباد میں میجر
جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی کے بعد سے ان کی طرف سے پی ٹی آئی کے حامیوں اور میڈیا
پر دباؤ بڑھایا گیا اور بلیک میلنگ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اراکین اسمبلی کو ڈرایا جاتا ہے
کہ ہمارے پاس تمہارے کرپشن کیسز ہیں، وہ نہیں مل رہا ہو تو تمہاری گندی ویڈیوز ہیں،
یہ تماشا ہو رہا ہے پاکستان میں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ ہماری اپنی ایجنسیاں جمہوری عمل کو
چلنے نہیں دی رہی ہیں اور یہ استعمال کر رہی ہیں غلطی کا احساس کرنے کے بجائے غلطی
کو دہراتے جارہے ہیں اور لوگوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں‘۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین
نہیں لانے دی گئی تاکہ انھوں نے دھاندلی کرنی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں
دھاندلی پر بیٹھنے والے جوڈیشل کمیشن نے واضح کیا تھا کہ ای وی ایم لائیں گے تو 90
فیصد دھاندلی ختم ہوجاتی لیکن انھوں جان کر آنے نہیں دیا۔
عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
کہ ’میں چیف جسٹس آپ سے مخاطب ہوں، جب تک قانون کی بالادستی نہیں ہوگی ملک ترقی نہیں
کرسکتا، ملک کی بڑی پارٹی کے سربراہ کو انصاف نہیں مل رہا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’چیف جسٹس صاحب تین مہینوں میں جو میرے
ساتھ کیا گیا ہے یقین دلاتا ہوں کوئی ملک اپنے دشمن سے نہ کرے، میرے خلاف جاسوسی
کرنے کے لیے میرے نوکروں کو پیسے دیے گئے، ڈیوائس رکھنے کے لیے، میرے وزیراعظم
ہوتے ہوئے ریکارڈڈ گفتگو ریلیز کی گئی‘۔
انھوں نے کہا کہ ’سب سے بڑی پارٹی کو دیوار کے ساتھ لگا رہے
ہیں اور اس کے لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں طے
کرکے آیا اور جیسے ہی ٹھیک ہوں گا پھر سڑکوں پر نکلوں گا، پھر کال دوں گا، پھر
اسلام آباد کی کال دوں گا۔‘