آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی میں رہائش کی کوئی سہولت نہیں، سپیشل برانچ کی رپورٹ بے بنیاد ہے: اکیڈمی کا دعویٰ

بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی نے کہا ہے کہ ان کے پاس رہائش کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اعظم سواتی نے بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی میں قیام کیا جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ منگل سے وزیرِ آباد سے ان کی جماعت کا مارچ دوبارہ شروع ہو گا۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ایف آئی اے: اعظم سواتی کی مبینہ ویڈیو جعلی ہے، سینیٹر باضابطہ درخواست دیں

    وفاقی ادارہ تحقیقات (ایف آئی اے) نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی سینیٹر اعظم سواتی کی مبینہ ویڈیو کا فورینزک تجزیہ کرنے کے بعد پایا گیا ہے کہ یہ جعلی ویڈیو ہے۔

    اپنے ایک بیان میں ایف آئی اے نے کہا کہ یہ ویڈیو ایڈٹ کی گئی ہے اور چہروں کو مسخ کر کے مختلف کلپس کو جوڑا گیا ہے جبکہ فوٹوشاپ کے ذریعے تصویروں میں چہرے بدلے گئے ہیں۔

    ایف آئی اے کے مطابق اعظم سواتی کی پریس کانفرنس کے بعد باقاعدہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔

    ادارے نے اعظم سواتی سے درخواست کی کہ وہ ایف آئی اے میں باضابطہ درخواست دیں اور ایف آئی اے کو بتائیں کہ وہ کیوں اس ویڈیو کو درست سمجھتے ہیں۔

  2. بریکنگ, عمران خان کے الزامات پر شہباز شریف کی چیف جسٹس سے فل کورٹ کمیشن بنانے کی درخواست

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے درخواست کی کہ وہ ’اس ملک اور عدل و انصاف کے مفاد میں‘ ایک فل کورٹ پر مبنی کمیشن بنائیں جو عمران خان کے الزامات کی تحقیقات کرے۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ بہت جلد اس حوالے سے تحریری طور پر درخواست لکھیں گے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ اگر یہ درخواست آج نہ مانی گئی تو آنے والے وقتوں میں یہ سوالات اٹھتے رہیں گے، یہ سازش تبھی ختم ہو گی جب عدالت کے ذریعے حقائق سامنے آئیں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس معاملے پر فوجداری تحقیقات چلتی رہیں گی۔

    شہباز شریف نے کہا کہ اگر اس سازش میں اگر ان کا، رانا ثنااللہ کا یا ان فوجی افسر کا ’دور دور تک رتی برابر بھی‘ کردار سامنے آئے تو وہ ہمیشہ کے لیے سیاست چھوڑ دیں گے۔

    انھوں نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ یہی کمیشن ارشد شریف کے قتل کی بھی تحقیقات کرے۔

  3. پی ٹی آئی رہنماؤں کا مقتول پی ٹی آئی کارکن معظم گوندل کے گھر کا دورہ

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں فواد چوہدری، زلفی بخاری اور حماد اظہر نے وزیرآباد میں مقتول پی ٹی آئی کارکن معظم گوندل کے گھر کا دورہ کیا۔

    اس موقع پر فواد چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف کا وفد عمران خان کی ہدایت پر معظم کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے آیا ہے، اگر معظم کوشش نہ کرتے تو بہت زیادہ تصان ہو سکتا تھا۔

    حماد اظہر نے کہا کہ وہ معظم گوندل کے بچوں اور بھائی کو ساتھ لے کر جا رہے ہیں اور یہ سب اہل خانہ عمران خان سے ملاقات کریں گے۔

    حماد اظہر نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے مقتول کے ورثا کو 50 لاکھ روپے عطیہ دیا گیا ہے اور معظم کے بچوں کے لیے ’جو کر سکے، کریں گے‘۔

  4. شہباز شریف: پنجاب حکومت عمران خان کی ہے، الزامات کی تحقیقات کروا لیں

    عمران خان کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر اُنھوں نے کہا کہ پنجاب میں حکومت ان کی ہے وہ اس حوالے سے تحقیقات کروا لیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 28 اکتوبر کو مراسلہ پنجاب حکومت کو بھجوایا کہ عمران خان کے جلسوں میں دہشتگردی کا خطرہ ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ اس واقعے پر پنجاب حکومت سے پوچھا جائے اور بتایا جائے کہ اب تک ایف آئی آر کیوں نہیں کٹی اور ’پوسٹ مارٹم‘ کیوں نہیں ہوا۔ بظاہر ان کے مطلب میڈیکولیگل معائنہ تھا جو کسی جرم کے بعد کیا جانے والا طبی اور جسمانی معائنہ ہوتا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ضابطے کے مطابق میڈیکولیگل رپورٹ سرکاری ہسپتال جاری کرتے ہیں مگر عمران خان خود پر حملے کے بعد تین گھنٹے کا سفر کر کے اپنے ’خیراتی ہسپتال‘ چلے گئے مگر کسی سرکاری ہسپتال نہیں گئے۔

    اُنھوں نے کہا کہ عمران خان اگر چاہتے ہیں تو اپنی مرضی کی ایف آئی آر کٹوا لیں۔

  5. شہباز شریف: عمران خان کے ’جھوٹے‘ الزامات پر انڈیا میں خوشی ہے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف اس وقت پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی آئی ایس آئی اور فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ایسے الزامات لگا رہے ہیں جو کسی نے سوچے بھی نہیں تھے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کے بیانات پر انڈیا میں خوشی کا سماں ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ان کے، وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ اور ’ایک ادارے کے افسر‘ کے خلاف عمران خان کی جانب سے من گھڑت الزام لگائے جا رہے ہیں۔

    وزیرِ اعظم نے اس موقع پر عمران خان پر ہونے والے حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی تمنا کا اظہار کیا۔

  6. عمران خان: پاکستان کی طرف سے اعظم سواتی کی اہلیہ سے معافی مانگتا ہوں

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی طرف سے اعظم سواتی کی اہلیہ سے ان کو پہنچنے والے درد، تکلیف اور احساسِ بے عزتی پر معافی مانگتے ہیں۔

  7. اعظم سواتی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ تمام اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے: عمران خان

    سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اعظم سواتی کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس معاملے پر ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ٹوئٹر پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان انسانی وقار، خاندان کی عزت اور چادر و چار دیواری کے اسلامی اخلاقی اقدار پر معرض وجود میں آیا تھا۔ ریاست کے ہاتھوں اعظم سواتی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ان تمام اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے: دوران حراست انھیں برہنہ کرنے سے لے کر حراست کے دوران ان پر تشدد کرنے تک اور اب یہ ویڈیو جس میں ان کی اہلیہ کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کی گئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ میں چیف جسٹس سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کا از خود نوٹس لیں۔‘

  8. پی ٹی آئی سنیٹر اعظم سواتی کا ’اپنی اور اہلیہ کی ذاتی ویڈیو‘ بھیجے جانے کا انکشاف

    پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ اُن کی اہلیہ کو نامعلوم نمبر سے اُن کی (اعظم سواتی) اور ان کی اہلیہ کی ذاتی ویڈیو بھیجی گئی ہے۔

    لاہور میں پریس کانفرس کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’میں آج آپ کو بتانے آیا ہوں کہ ہمارا ملک کتنا دور جا چکا ہے۔ چند دن پہلے میں نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے کبھی کوئی کرپشن نہیں کی، میری کوئی غیر اخلاقی ویڈیو مقتدر حلقوں کے پاس نہیں ہو گی لیکن میں غلط تھا۔‘

    پریس کانفرنس کے دوران آبدیدہ ہوتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنے ساتھ ہوئے واقعے پر بتاتے ہوئے اپنے عوام کی بیٹیوں اور بہنوں سے شرم آ رہی ہے۔‘

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ رات اُن کی اہلیہ نے انھیں فون کیا اور وہ زور زور سے رو رہی تھیں اور ان کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ ’میں سمجھا میری پوتیوں کو کسی نے قتل کر دیا ہے۔ میں نے بار بار ان سے چیخ و پکار کی وجہ جانی لیکن وہ کچھ نہ کہہ سکیں۔‘

    ’پھر میں نے اپنی امریکہ پلٹ بیٹی کو کال کیا اور پوچھا کہ اپنی والدہ سے پوچھو کیا ہوا ہے۔ اس پر میری بیٹی نے بتایا کہ ان کے پاس کسی نے نامعلوم نمبر سے میری ایک قابل اعتراض ویڈیو بھیجی ہے۔‘

    اعظم سواتی کے مطابق ’اس پر میں نے کہا کہ جب مجھے 13 اکتوبر کو اٹھا کر لے جایا گیا تھا تو انھوں نے میری ویڈیو بنائی تھی اور آج کل جعلی ویڈو بنانا مشکل کام نہیں ہے۔‘

    ’اس پر میری بیٹی نے روتے ہوئے بتایا کہ یہ کسی اور کی ویڈیو نہیں بلکہ ’ڈیڈی یہ آپ کی اور میری والدہ کی ویڈیو ہے۔ جس پر میں نے کہا یہ کیسے ممکن ہے۔ تو میری بیٹی نے کہا جب آپ کوئٹہ گئے تھے یہ اس وقت کی ویڈیو ہے۔‘

    یہ بات بتاتے ہوئے اعظم سواتی ہچکیاں لے کر رو پڑے۔

    اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ ’میں تہجد گزار شخص ہوں اور صادق سنجرانی سے کہتا ہوں کہ آپ بلوچ ہو جو ایک بڑی قوم ہے۔‘

    انھوں نے صادق سنجرانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تم میری اہلیہ کو چاچی کہتے ہو۔۔۔ تم نے سپریم کورٹ کے جوڈیشل لاجز میں سنیٹر کا انتظام کیا اور مجھے بتایا کہ چونکہ سپریم کورٹ کا کوئی جج کوئٹہ میں نہیں ہے اس لیے میں وہاں پر رہوں گا۔‘

    انھوں نے روتے ہوئے کہا کہ ’میری بیوی جو ملک چھوڑ کر ایک محفوظ جگہ پر چلی گئی تھی اور میری پوتیاں جو امریکہ میں پیدا ہوئی انھیں میں یہاں لایا آج صدمہ اور تکلیف کے نشان لے کر اپنے دادا کو چھوڑ کر واپس چلی گئی ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میری پوتیوں کو قائد اعظم کے ملک سے چلے جانے سے مجبور کیا گیا۔ میں نے کبھی حرام نہیں کھایا، میرے کردار پر کبھی کوئی شبہ نہیں رہا، لاکھوں ڈالر ملک میں لایا، سولہ سترہ برس پارلیمان کا حصہ رہا اور وکالت کی لیکن یہاں پر میاں بیوی کے رشتے کا تقدس پامال کیا گیا۔‘

    انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’فوج کی وردی میں ملبوس ان کالی بھیڑوں کو جب کچھ نہ ملا تو انھوں نے میری اور میری بیوی کی ذاتی ویڈیو نکال لی۔‘

  9. تحریک انصاف لاہور شام پانچ بجے لبرٹی چوک میں احتجاج کرے گی

    پاکستان تحریک انصاف کا چیئرمین عمران خان پر قاتلانہ حملے اور حملے میں ملوث تین کرداروں کے مستعفی ہونے تک مُلک بھر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    پی ٹی آئی لاہور کے اعلامیے کے مطابق تحریک انصاف آج شام 5 بجے لبرٹی چوک سمیت شہر بھر میں احتجاج کرے گی۔

    پی ٹی آئی رہنما شیخ امتیاز نے کہا ہے کہ چیئرمین عمران خان پر قاتلانہ حملے اور حملے میں ملوث تینوں لوگوں کے مستعفی ہونے تک پی ٹی آئی لاہور شہر بھر میں احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

  10. ’پرویز الہی کا قصور نہیں، ایف آئی آر درج نہ کرنے پر بتایا گیا پیچھے سے حکم ہے:‘ عمران خان

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں ایک غلطی فہمی ہے کہ اگر آپ کسی فوجی پر تنقید کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ فوج کے خلاف ہیں۔

    جمعے کو شوکت خانم ہسپتال میں پریس کانفرنس کے دوران ان کی جانب سے آئی ایس آئی کے حاضر سروس افسر میجر جنرل فیصل نصیر پر الزامات عائد کرنے کے حوالے سے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہر جگہ ہر ادارے میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ادارہ خراب ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ کہتا ہوں اگر فوج سے ایسی کالی بھیڑیں ہٹائیں گے تو فوج کا وقار بڑھے گا۔‘

    ملک میں مارشل لا لگنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مارشل لا لگنے کے دن اب ختم ہو چکے ہیں۔ عوام میں شعور آ چکا ہے اب مارشل لا نہیں لگ سکتا۔‘

    لانگ مارچ کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جیسے میں میں چلنے کے قابل ہوں گا میں دوبارہ نکلوں گا۔‘

    لانگ مارچ پر فائرنگ کے واقعے کی ایف آئی آر درج نہ ہونے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی یہ ہے کہ میرے پر حملے کا معاملہ ہو، 25 مئی کو تشدد کا واقعہ ہو، ایف آئی اے کے کیسز ہوں، الیکشن کمیشن کے فیصلہ ہوں تو ہمارے کیسز درج نہیں ہوتے اور تمام ادارے ہمیں کہتے ہیں کہ پیچھے سے حکم ہے۔‘

    لانگ مارچ پر فائرنگ کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں چیف جسٹس آف پاکستان سے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    پنجاب حکومت کے ہوتے ہوئے انصاف نہ ملنے کی صورت میں کیا آپ موجودہ وزیر اعلیٰ پرویز الہی کو تبدیل کرنے کا سوچ سکتے ہیں کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس تمام معاملے میں پرویز الہی کا قصور نہیں ہے۔ یہ نظام کی ناکامی ہے۔ اس نطام میں توازن نہیں ہے۔ ملک کو فوج کی ضرورت ہے لیکن وہ اس نظام سے اوپر نہیں ہے۔ اگر آپ خود سے تنقید سے بالاتر سمجھے گے تو مسائل ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا کبھی خوشحالی نہیں آتی۔

    ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرس کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ اس پریس کانفرنس سے انھوں نے کیا مقصد حاصل کیا ہے۔ اگر میں ان کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں جواب دینا شروع کر دیتا تو انھیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کا کام نہیں تھا، سیاسی حکومت کے اداروں کو بولنا چاہیے تھا۔

  11. عمران خان حملہ کیس میں پولیس کا ایک اور ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

    وزیرآباد میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان پر جمعرات کو ہونے والے حملے کے کیس میں وزیر آباد پولیس نے ایک اور شخص کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نوید نے گرفتار شخص کی دکان پر اپنی بائیک کھڑی کی تھی، جس بنا پر تفتیش کی غرض سے اس دکاندار کو حراست میں لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

    وزیرآباد کے اللہ والا چوک کے قریب عمران خان کا کینٹینر ابھی تک جائے وقوعہ پر موجود ہے اور جائے وقوعہ کے گرد کاروباری مراکز تیسرے روز بھی بند ہیں۔

    سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی ٹیموں نے لانگ مارچ کے ساتویں روز کے روٹ پر لگے تمام سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ حاصل کیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق گکھڑ سے اللہ والا چوک تک 56 کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کرلی گئی ہے جسے اب مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ فوٹیج کی مدد سے ملزم کی نقل و حرکت اور اس کی مارچ میں انٹری کے مقام بارے معلوم کیا جا سکے۔

  12. اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج

    گذشتہ روز چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان پر حملے کے خلاف احتجاج کرنے کے معاملے پر اسلام آباد پولیس نے سرکار کی مدعیت میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سمیت 24 نامزد ملزمان کے خلاف تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ایف آئی آر میں نامزد پی ٹی آئی رہنماؤں میں علی احمد اعوان ، عامر محمود کیانی، واصف قیوم، چودھری شعیب اور دیگر شامل ہیں۔

    ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے پولیس کے ساتھ مزاحمت کی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور پولیس اور ایف سی اہلکاروں پر ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ملزمان کے پتھراؤ سے نو ایف سی اہلکار اور پانچ پولیس ملازمین زخمی ہوئے۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق گذشتہ روز کے احتجاج کے تناظر میں پولیس نے 30 افراد کو گرفتار کر رکھا ہے۔

  13. بریکنگ, فوج کے عمران خان پر الزامات بے بنیاد، افراد پر تنقید، ادارے پر تنقید نہیں ہے: اسد عمر

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کے عمران خان پر الزامات بے بنیاد ہیں، انھوں نے کبھی فوج کو بطور ادارہ تنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ اس کو مضبوط بنانے کی بات کی ہے اور شخصیات پر تنقید کو ادارے پر تنقید نہ سمجھا جائے۔

    ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے بیان میں انھوں نے آئی ایس پی آر سے سوال کیا کہ ’اگر ادارے کا کوئی بھی رکن کچھ غلط نہیں کرتا تو کورٹ مارشل کیوں کیا جاتا ہے۔ جنرل افسران کا بھی ماضی میں کورٹ مارشل کیا گیا ہے۔ اگر ارکان ایسا کام کرتے ہیں جس کی بنیاد پر ان کے خلاف کورٹ مارشل کیا جاتا ہے تو ان پر بطور شخص تنقید کیوں نہیں جاسکتی؟‘

    اسد عمر نے کہا کہ ایسے کسی بھی اقدام کو رد کرتے ہیں جس کے تحت شخصی تنقید کو اداروں پر تنقید سے منسوب کیا جائے۔ ادارے قابلِ عزت ہوتے ہیں جس کی بنیاد ان کی طرف سے قوم کے لیے دی گئی قربانیاں ہیں۔ البتہ ہر شخص اس عزت کے قابل نہیں ہوتا۔

    یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے گذشتہ روز جاری بیان میں کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے ادارے اور ایک مخصوص سینیئر آرمی افسر پر بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ الزامات ناقابل قبول اور بلاجواز ہیں۔

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی فوج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قوائد ضوابط پر فخر کرتی ہے اور اس میں کسی یونیفارمڈ اہلکار کی جانب سے کسی ممکنہ غیر قانونی اقدام پر اندرونی احتساب کا ایک مؤثر نظام موجود ہے۔

    اس بیان میں کہا گیا کہ رینک اینڈ فائنل پر بے بنیاد الزامات لگائے جانے پر ادارہ ہر صورت میں افسران اور فوجیوں کو تحفظ فراہم کرے گا۔ ’کسی کو بھی ادارے یا فوجی افسران کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    فوج نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ادارے پر بے بنیاد الزامات سے اسے بدنام کرنے کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’مفاد پرستوں کے فضول الزامات سے فوجیوں کی عزت کو داغ دار کیا جا رہا ہے۔ حکومت ادارے اور افسر کے خلاف ہتک عزت پر قانونی کارروائی کرے۔

  14. ’تین لوگوں نے حملے کا منصوبہ بنایا، ٹھیک ہوتے ہی اسلام آباد کی کال دوں گا‘: عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے لانگ مارچ کے دوران فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ تین لوگوں نے وزیرآباد یا گجرات میں مارنے کی منصوبہ بندی کی تھی، صحت یاب ہوتے ہی دوبارہ سڑکوں پر نکلوں گا اور اسلام آباد کی کال دوں گا۔

    جمعہ کی شام لاہور میں شوکت خانم ہسپتال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے دعویٰ کیا کہ انھیں وزیر آباد فائرنگ کے واقعے کے دوران چار گولیاں لگی ہیں۔

    عمران خان نے دعوی کیا کہ لانگ مارچ پر روانہ ہونے سے ایک دن پہلے پتا چلا تھا کہ انھیں وزیرآباد یا گجرات میں مارنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیر آباد سے ایک دن قبل تین لوگوں نے اُنھیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ تین لوگ ان چار لوگوں سے مختلف ہیں جن کی وہ پہلے بات کر چکے ہیں۔

    انھوں نے پہلے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ اور پھر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا نام لیا۔ انھوں نے تیسرا نام میجر جنرل فیصل نصیر کا لیا جو آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلیجنس شعبے کے سربراہ ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ ’ہم نے ایف آئی آر درج کرنے کی کوشش کی سب ڈرتے ہیں کیونکہ یہ قانون سے اوپر ہیں‘۔

    عمران خان کی طرف سے اسد عمر بھی ان تینوں پر الزام عائد کر چکے ہیں۔

    عمران خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اس دن کنٹینر پر دو ھرف سے گولیا ںچلی تھیں اور دو برسٹ فائر ہوئے تھے۔ دو آدمی تھے اور جب گر رہا تھا تو میرے اوپر سے گولیاں جا رہی تھیں اور اگر مجھے نشانہ بناتے تو میں نے بچنا نہیں تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’پکرے جانے والے ملزم کو جنونی اور انتہاپسند کہا گیا، یہ انتہاپسند نہیں بلکہ اس کے پیچھے پورا منصوبہ ہے، یہ منصوبےکو بے نقاب کریں گے، اس میں اور لوگ بھی ملوث ہیں اور یہ منصوبہ پہلے کا بنا ہوا ہے‘۔

    عمران خان نے کہا کہ ’ ریکارڈ جلسوں کے بعد چار افراد نے بند کمرے میں مجھے مارنے کا فیصلہ کیا اور میں نے ٹی وی پر جا کر لوگوں کو بتایا، ویڈیو بنائی اور چار لوگوں کے نام دیے اور ویڈیو باہر رکھی ہوئی ہے، اگر مجھے کچھ ہوا تو یہ ویڈیو ریلیز کریں تاکہ دنیا اور قوم کو پتا ہو کہ کس نے یہ کیا کیونکہ یہاں جو قتل ہوتا ہے تو پتا نہیں چلتا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’جو انھوں نے وزیرآباد میں کیا، ان کا منصوبہ یہ تھا کہ کہیں گے دینی انتہا پسند نے عمران خان کو قتل کردیا جس طرح سلمان تاثیر کا ہوا تھا کیونکہ اس نے مذہب کی توہین کی تھی۔‘

    عمران خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’اسلام آباد میں میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی کے بعد سے ان کی طرف سے پی ٹی آئی کے حامیوں اور میڈیا پر دباؤ بڑھایا گیا اور بلیک میلنگ کی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اراکین اسمبلی کو ڈرایا جاتا ہے کہ ہمارے پاس تمہارے کرپشن کیسز ہیں، وہ نہیں مل رہا ہو تو تمہاری گندی ویڈیوز ہیں، یہ تماشا ہو رہا ہے پاکستان میں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ہماری اپنی ایجنسیاں جمہوری عمل کو چلنے نہیں دی رہی ہیں اور یہ استعمال کر رہی ہیں غلطی کا احساس کرنے کے بجائے غلطی کو دہراتے جارہے ہیں اور لوگوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں‘۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین نہیں لانے دی گئی تاکہ انھوں نے دھاندلی کرنی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں دھاندلی پر بیٹھنے والے جوڈیشل کمیشن نے واضح کیا تھا کہ ای وی ایم لائیں گے تو 90 فیصد دھاندلی ختم ہوجاتی لیکن انھوں جان کر آنے نہیں دیا۔

    عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں چیف جسٹس آپ سے مخاطب ہوں، جب تک قانون کی بالادستی نہیں ہوگی ملک ترقی نہیں کرسکتا، ملک کی بڑی پارٹی کے سربراہ کو انصاف نہیں مل رہا ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’چیف جسٹس صاحب تین مہینوں میں جو میرے ساتھ کیا گیا ہے یقین دلاتا ہوں کوئی ملک اپنے دشمن سے نہ کرے، میرے خلاف جاسوسی کرنے کے لیے میرے نوکروں کو پیسے دیے گئے، ڈیوائس رکھنے کے لیے، میرے وزیراعظم ہوتے ہوئے ریکارڈڈ گفتگو ریلیز کی گئی‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’سب سے بڑی پارٹی کو دیوار کے ساتھ لگا رہے ہیں اور اس کے لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں طے کرکے آیا اور جیسے ہی ٹھیک ہوں گا پھر سڑکوں پر نکلوں گا، پھر کال دوں گا، پھر اسلام آباد کی کال دوں گا۔‘

  15. تحریک انصاف کی آج بھی تمام شہروں میں احتجاج کی کال

    عمران خان پر حملے کے خلاف تحریک انصاف نے آج (سنیچر) کو دوبارہ تمام شہروں میں احتجاج کی کال دی ہے۔

    رہنما پی ٹی آئی اسد عمر کہتے ہیں کہ ’پانچ بجے پاکستان کے تمام شہروں میں احتجاجی اجتماع ہوں گے۔ ہر شہر کی احتجاج کی جگہ کا اعلان مقامی تنظیمیں کریں گی۔

    ’ان کو دکھائیں حقیقی طور پر آزاد قوم کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ میں خود لبرٹی چوک لاہور میں احتجاج میں شرکت کروں گا۔‘

  16. ’عمران خان تحقیقات کا حصہ بنیں، ثبوت فراہم کریں‘

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان سکاٹ لینڈ یارڈ سمیت جہاں مرضی سے تحقیقات کرانا چاہتے ہیں کرائیں مگر ’ہماری شرط صرف یہ ہے کہ عمران خان خود تحقیقات میں شامل ہوں اور الزامات کا ثبوت فراہم کریں گے۔‘

    جمعے کو پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے عوام بھیڑ بکریاں نہیں کہ عمران خان جھوٹ بولے گا اور وہ اسے سچ سمجھ لیں گے، وہ وقت ختم ہو چکا۔‘

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کا جہاں دل کرتا ہے تحقیقات کروائیں لیکن اس تحقیقات کا حصہ ضرور بننا ہوگا۔ ’وفاق اس میں بھرپور تعاون کرے گا۔‘

    ’عمران خان الزام عائد کر رہے ہیں کہ تین افراد نے ان پر قاتلانہ حملے کی سازش کی، عمران خان الزام تو لگا رہے ہیں لیکن کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر رہے۔‘

  17. ’کسی کو بھی فوج یا افسران کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں‘، آئی ایس پی آر کا عمران خان کے بیان پر ردعمل

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے ادارے اور ایک مخصوص سینیئر آرمی افسر پر بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ الزامات ناقابل قبول اور بلاجواز ہیں۔

    ایک بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قوائد ضوابط پر فخر کرتی ہے اور اس میں کسی یونیفارمڈ اہلکار کی جانب سے کسی ممکنہ غیر قانونی اقدام پر اندرونی احتساب کا ایک مؤثر نظام موجود ہے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ رینک اینڈ فائنل پر بے بنیاد الزامات لگائے جانے پر ادارہ ہر صورت میں افسران اور فوجیوں کو تحفظ فراہم کرے گا۔ ’کسی کو بھی ادارے یا فوجی افسران کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

    فوج نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ادارے پر بے بنیاد الزامات سے اسے بدنام کرنے کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’مفاد پرستوں کے فضول الزامات سے فوجیوں کی عزت کو داغ دار کیا جا رہا ہے۔ حکومت ادارے اور افسر کے خلاف ہتک عزت پر قانونی کارروائی کرے۔‘

  18. بی بی سی کے لائیو پیچ میں خوش آمدید!

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔ چار نومبر تک کی کی نیوز اپ ڈیٹس کے لیے اس لنک پر کلک کریں