پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے لاہور میں وی لاگرز اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے ایک ماہ پہلے مشترکہ کاروباری دوست کے ذریعے رابطہ کیا تھا اور مذاکرات کی پیشکش کی اور وہ دو معاملات کو بات چیت کے ذریعے طے کرنا چاہتے تھے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پہلا معاملہ آرمی چیف کی تقرری کا اور دوسرا انتخابات کی تاریخ دینے کا تھا لیکن میں نے انکار کر دیا اور انھیں تاہم میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت پر بات کرنے کی پیشکش کی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا کہ تین نام میں بھجواتا ہوں اور تین آپ دیں، آپ میں مل کر آرمی چیف کی تعیناتی طے کر لیتے ہیں، میں نے انکار کردیا اور پیغام بھجوایا کہ یہ ایک آئینی فریضہ ہے اور آئین یہ صوابدیدی اختیار صرف وزیراعظم کو دیتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا میں نے اپنے دوست سے کہا کہ جب عمران خان نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی تھی تو کیا مجھ سے مشاورت کی تھی۔ شہباز شریف نے کہا پیغام رسانی والے دوست نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان جہاں ڈائیلاگ کرنے کی بات کر رہے تھے تو ساتھ ہی وہ دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔
شہباز شریف نے کہا کہ جب عمران خان وزیراعظم ہوتے تھے مجھ سے ہاتھ تک ملانا گوارا نہیں کرتے تھے اور مشاورت تک کرنا پسند نہیں کرتے تھے جو کہ قائد حزب اختلاف سے مشاورت کرنا آئینی فریضہ ہے۔
ان کے مطابق جب عمران خان انھیں خط لکھتے تھے تو اتنی حقارت کا مظاہرہ کرتے تھے کہ میرا نام تک خط پر نہیں لکھتے تھے جبکہ میں انھیں باقاعدہ جناب وزیراعظم کہہ کر جواب دیتا تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ ایک بات ازرائے تفنن کرتے ہیں کہ جتنی حمایت عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی ملی اس کا 20 فیصد بھی اگر ہمیں مل جائے تو حالات کہاں سے کہاں پہنچ جائیں۔ شہباز شریف نے کہا ان کے لیے ادارے نے باہر جا کر پیسے تک مانگے۔
آئی ایس آئی کے سربراہ نے اجازت لے کر پریس کانفرنس کی تھی
شہباز شریف نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے مجھ سے اجازت لے کرپریس کانفرنس کی تھی۔ وزیراعظم کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ میں بہت سے واقعات کا شاہد ہوں اور محتاط انداز میں کچھ حقائق بتانا چاہتا ہوں۔
شہباز شریف کے مطابق جب وزیراعظم سے اجازت لی گئی تو پھر انھیں یہ پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دے دی گئی کیونکہ عمران خان نے اپنے ہی محسنوں پر بہت سے ایسے الزامات لگائے جن کا حقائق سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ بطور آرمی چیف ملک کے مفاد میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے عمران خان کو فل سپورٹ دی مگر وہ دھکے سے بھی نہیں چل سکے۔