سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے ہر رکن قومی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو ایک ہزار آدمی اور دو سو گاڑیاں ساتھ لانے کا ٹاسک دیا ہے۔
اس معاملے میں جس حلقے سے وہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور ان کےنیچے اسی جماعت کے دو سے تین ارکان صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں تو وہ یہ ذمہ داریاں آپس میں بانٹ لیں گے اور اس طرح رکن قومی اسمبلی اور رکن صوبائی اسمبلی کے ذمہ ساٹھ سے ستر گاڑیاں اور ڈھائی سو سے تین سو افراد کو لانگ مارچ میں لانا ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف کے ایک ٹکٹ ہولڈر نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پارٹی کی پنجاب قیادت کی طرف سے انھیں ایک فارم بھی فراہم کیا گیا تھا جس میں لانگ مارچ میں شامل ہونے والے افراد کے نام، شناختی کارڈ اور ان کے موبائیل نمبر بھی مانگے گئے ہیں جو اس لانگ مارچ میں شرکت کریں گے۔
اس کے علاوہ ان گاڑیوں کے کاغذات کی فوٹو کاپی بھی جمع کروانے کا کہا گیا ہے جو گاڑیاں لانگ مارچ کے شرکا کو لے کر جائیں گی۔
پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت کی طرف سے جو ہدایات دی گئی ہیں اس کے مطابق ایک گاڑی میں پانچ افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی کی صوبائی قیادت کو اس بارے میں معلومات فراہم کر دی گئی ہیں۔
ان گاڑیوں میں پیٹرول یا ڈیزل ڈلوانے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کی طرف سے اس سے متعلق کوئی واضح ہدایات نہیں دی گئیں اور نہ ہی پارٹی کے ضلعی عہدیداروں کی طرف سے کچھ کہا گیا ہے لیکن بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان گاڑیوں میں پیٹرول ڈلوانے کی ذمہ داری بھی انھی اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی یا ٹکٹ ہولڈرز پر ہوگی، جنھوں نے ان گاڑیوں اور لانگ مارچ میں شامل ہونے والے افراد کا انتظام کیا ہے۔
لانگ مارچ کے شرکا کے کھانے پینے کے انتظامات کرنے کے بارے میں بھی ابھی تک واضح ہدایات نہیں ملیں لیکن چونکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جی ٹی روڈ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کریں گے اس لیے جن جن شہروں میں وہ رات کا قیام کریں گے تو ان شہروں کی ضلعی قیادت لانگ مارچ کے شرکا کے کھانے پینے کا بندوبست کرے گی۔
تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ چونکہ پنجاب میں ان کی جماعت کی حکومت ہے اس لیے اس بات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ بھی لانگ مارچ کی شرکا کو سہولتیں فراہم کرے گی۔
واضح رہے کہ عمران خان یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ پنجاب کے ہر ضلعے سے چھ ہزار افراد لانگ مارچ میں شریک ہوں گے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں پارٹی کے ضلعی عہدیداران ذمہ دار ہوں گے۔
خفیہ اداروں کی طرف سے وزارت داخلہ کو جو رپورٹ بھیجی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اسلام آباد میں داخل ہونے سے پہلے روات کے قریب پڑاؤ ڈالیں گے جہاں پر میانوالی، صوبہ خیبر پختونخوا اور پاکستان کے زیر اانتظام کشمیر سے پاکستان تحریک انصاف کے شرکا اس لانگ مارچ میں شریک ہوں گے۔
دوسری جانب صوبائی مشیر داخلہ عمرسرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو درخواست دے گی۔