آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

فیصل واوڈا کی پارٹی رکنیت معطل، شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا

تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا کا بیان پارٹی پالیسی اور خیالات کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سندھ کے صدر کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات پر فیصل واوڈا کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر شوکاز نوٹس بھیجنے کا کہا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. فیصل واوڈا کی پارٹی رکنیت معطل، شو کاز نوٹس جاری

    پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر علی حیدر زیدی نے اپنی جماعت کے رکن سینیٹر فیصل واوڈا کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جواب دینے تک اُن کی پارٹی رکنیت معطل کی جا رہی ہے اور تب تک وہ میڈیا میں پارٹی کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔

  2. فیصل واوڈا کا بیان پارٹی پالیسی کا عکاس نہیں، شوکاز نوٹس کا فیصلہ: اسد عمر

    تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا کا بیان پارٹی پالیسی اور خیالات کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔

    تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا کا بیان پارٹی پالیسی اور خیالات کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سندھ کے صدر کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات پر فیصل واوڈا کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر شوکاز نوٹس بھیجنے کا کہا گیا ہے۔

  3. فیصل ووڈا نے حکومت کی ایما پر لانگ مارچ کو نقصان پہچانے کی کوشش کی ہے، تحریک انصاف رہنما علی زیدی

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی نے اسلام آباد کے پریس کلب میں منعقدہ فیصل ووڈا کی پریس کانفرس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصل واوڈا نے حکومت کی ایما پر لانگ مارچ کو نقصان پہچانے کی کوشش کی ہے۔

    علی زیدی نے کہا کہ سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی تک نے اس پریس کانفرنس کو لائیو دکھایا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے انھیں لانچ کیا ہے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کے خطرات سے متعلق فیصل واوڈا کی پیش گوئیوں میں کوئی معقولیت نہیں ہے کیونکہ عمران خان پہلے ہی لانگ مارچ کو پرامن رکھنے سے متعلق ہدایات دے چکے ہیں۔

    تو کیا ایسے میں اس پریس کانفرس کی کوئی حیثیت رہ جاتی ہے۔

  4. ارشد شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں تھا، عمران خان کی اجازت سے یہ سب ہوا: فیصل واوڈا

    رہنما تحریک انصاف فیصل واوڈا، جنھیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر سینیٹ کی نشست سے نااہل قرار دیا گیا ہے، کا کہنا ہے کہ ارشد شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں تھے۔ وہ پاکستان واپس آنا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق ارشد شریف کے رابطوں کے بارے میں انھیں بحثیت دوست انھیں علم تھا اور وہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اجازت سے ان رابطوں کا خود بھی حصہ تھے۔

    فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ارشد شریف کے قتل کے پیچھے والے کردار پاکستان کے اندر موجود ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جو شواہد ہیں، وہ ان ثبوتوں کو صرف ایم آئی، آئی ایس آئی اور چئیرمین تحریک انصاف سے شیئر کر سکتے ہیں اور باقی کسی پر انھیں کوئی بھروسہ نہیں ہے۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ ارشد شریف کو ڈرا دھمکا کر ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کے مطابق عمران خان نے نیک نیتی میں ارشد شریف کو باہر جانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

    ان کے مطابق ارشد شریف کو قتل کرنے کے بعد ان کے لیپ ٹاپ اور فون تک بھی دستیاب نہیں ہیں۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ اس قتل کے پیچھے نہ تو سیاسی لوگ ہیں اور نہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ میں سے کوئی ہے۔ جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ آپ نام کب لیں گے تو انھوں نے کہا کہ وہ دنوں میں ان لوگوں کا نام بھی بتا دیں گے۔ تاہم ان کے مطابق اگر انھوں ابھی ان لوگوں کے نام بتا دیے تو انھیں قتل کیا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ارشد شریف سے رابطے میں تھے اور وہ اپنے فون کو فارنزک کے لیے دینے کو تیار ہیں۔

  5. لانگ مارچ خطرات سے پر ہے، رہنما تحریک انصاف کی پیش گوئی

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں یہ لانگ مارچ خطرات سے بھرا نظر آتا ہے۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ ایک ایسی کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جن کے بہت سارے حلقوں سے رابطے ہیں اور وہ بہت کچھ جانتے ہیں۔

  6. ارشد شریف کا قتل ہوا ہے، جس کی سازش پاکستان میں ہوئی ہے: رہنما تحریک انصاف فیصل واوڈا

    تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے کہا ہے ارشد شریف شہادت ایک حادثہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ارشد شریف کا قتل ہوا ہے، جس کی سازش پاکستان میں ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا ارشد شریف کو یا تو گاڑی کے اندر سے مارا گیا ہے اور یا بہت کلوز رینج سے مارا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان سے سر اور سینے پر گولیاں لگنے سے ان کی موت واقع ہوئی ہے۔

    انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بچہ اغوا ہوا تھا تو پھر کیا گاڑی پر اس طرح گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق خرم اور وقار نامی افراد کے نام سامنے آ رہے ہیں تو یہ ہمارے بس کا کام نہیں ہے کہ نیروبی سے دور کوئی پاکستان فارم ہاؤس بسائے اور پھر وہاں ارشد شریف کو چھپائے اور پھر یوں قتل ہو جائے۔

  7. لانگ مارچ کو ناکام بنانے کے لیے فوج بھی طلب کریں گے: وزیر داخلہ رانا ثنااللہ

    وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے نجی وی چینل آج کو بتایا کہ حکومت تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے فرنٹ لائن پر پولیس اور ایف سی کو استعمال کریں گے اور اس مارچ کے شرکا کو آنسو گیس اور ربڑ بلٹ سے منتشر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    وزیرداخلہ کے مطابق اگر اس مرحلے پر کوئی کوتاہی اور کمزوری سامنے آئی تو پھر رینجرز اور فوج کو طلب کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ’اس جتھے کو ہر صورت ناکام بنائیں گے‘۔

    وزیرداخلہ نے کہا کہ عمران خان نے لانگ مارچ کا اعلان جمعے کو کرنا تھا مگر ارشد شریف کے المناک واقعے کے بعد انھوں نے پہلے ہی اعلان کر دیا، شک پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان لانگ مارچ کے لیے کسی ناگہانی واقعے کے منتظر تھے۔

  8. لانگ مارچ کو پورا سپورٹ کریں گے: وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی

    صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ لانگ مارچ کو پورا سپورٹ کریں گے۔ ان کے مطابق پاکستان کے عوام عمران خان کے ساتھ ہیں، لانگ مارچ امپورٹڈ حکومت کو بہا لے جائے گا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ شروع ہونے سے قبل ہی وفاقی حکومت کی چولیں ہل گئی ہیں۔

  9. تحریک انصاف نے لانگ مارچ کے متوقع شرکا کا ڈیٹا کیسے حاصل کیا؟, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے ہر رکن قومی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو ایک ہزار آدمی اور دو سو گاڑیاں ساتھ لانے کا ٹاسک دیا ہے۔

    اس معاملے میں جس حلقے سے وہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور ان کےنیچے اسی جماعت کے دو سے تین ارکان صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں تو وہ یہ ذمہ داریاں آپس میں بانٹ لیں گے اور اس طرح رکن قومی اسمبلی اور رکن صوبائی اسمبلی کے ذمہ ساٹھ سے ستر گاڑیاں اور ڈھائی سو سے تین سو افراد کو لانگ مارچ میں لانا ہوگا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے ایک ٹکٹ ہولڈر نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پارٹی کی پنجاب قیادت کی طرف سے انھیں ایک فارم بھی فراہم کیا گیا تھا جس میں لانگ مارچ میں شامل ہونے والے افراد کے نام، شناختی کارڈ اور ان کے موبائیل نمبر بھی مانگے گئے ہیں جو اس لانگ مارچ میں شرکت کریں گے۔

    اس کے علاوہ ان گاڑیوں کے کاغذات کی فوٹو کاپی بھی جمع کروانے کا کہا گیا ہے جو گاڑیاں لانگ مارچ کے شرکا کو لے کر جائیں گی۔

    پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت کی طرف سے جو ہدایات دی گئی ہیں اس کے مطابق ایک گاڑی میں پانچ افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی کی صوبائی قیادت کو اس بارے میں معلومات فراہم کر دی گئی ہیں۔

    ان گاڑیوں میں پیٹرول یا ڈیزل ڈلوانے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کی طرف سے اس سے متعلق کوئی واضح ہدایات نہیں دی گئیں اور نہ ہی پارٹی کے ضلعی عہدیداروں کی طرف سے کچھ کہا گیا ہے لیکن بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان گاڑیوں میں پیٹرول ڈلوانے کی ذمہ داری بھی انھی اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی یا ٹکٹ ہولڈرز پر ہوگی، جنھوں نے ان گاڑیوں اور لانگ مارچ میں شامل ہونے والے افراد کا انتظام کیا ہے۔

    لانگ مارچ کے شرکا کے کھانے پینے کے انتظامات کرنے کے بارے میں بھی ابھی تک واضح ہدایات نہیں ملیں لیکن چونکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جی ٹی روڈ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کریں گے اس لیے جن جن شہروں میں وہ رات کا قیام کریں گے تو ان شہروں کی ضلعی قیادت لانگ مارچ کے شرکا کے کھانے پینے کا بندوبست کرے گی۔

    تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ چونکہ پنجاب میں ان کی جماعت کی حکومت ہے اس لیے اس بات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ بھی لانگ مارچ کی شرکا کو سہولتیں فراہم کرے گی۔

    واضح رہے کہ عمران خان یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ پنجاب کے ہر ضلعے سے چھ ہزار افراد لانگ مارچ میں شریک ہوں گے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں پارٹی کے ضلعی عہدیداران ذمہ دار ہوں گے۔

    خفیہ اداروں کی طرف سے وزارت داخلہ کو جو رپورٹ بھیجی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اسلام آباد میں داخل ہونے سے پہلے روات کے قریب پڑاؤ ڈالیں گے جہاں پر میانوالی، صوبہ خیبر پختونخوا اور پاکستان کے زیر اانتظام کشمیر سے پاکستان تحریک انصاف کے شرکا اس لانگ مارچ میں شریک ہوں گے۔

    دوسری جانب صوبائی مشیر داخلہ عمرسرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو درخواست دے گی۔

  10. عمران خان کا لانگ مارچ کسی انقلاب کے لیے نہیں مرضی کا آرمی چیف لگانے کے لیے ہے: نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ عمران خان کا لانگ مارچ کسی انقلاب کے لیے نہیں بلکہ اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کے لیے ہے۔ سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’اس کا انقلاب اس کی چار برس کی حکمرانی میں عوام دیکھ چکی ہے‘۔

  11. عمران خان توہین عدالت کیس: سابق وزیر اعظم سے 31 اکتوبر تک جواب طلب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    وزارت داخلہ کی جانب سے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف سے 31 اکتوبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔

    چیف جسٹس کی سر براہی میں پانچ رکنی خصوصی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل دیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 25 مئی کو ’شام چھ بجے عدالتی حکم کے بعد عمران خان اور پارٹی رہنماؤں نے ڈی چوک کی کال دی جو توہین عدالت تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان نے عدالت کی جانب سے مختص مقام سے چار کلومیٹر آگے جا کر ریلی ختم کی۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’عمران خان کے بیان سے لگتا ہے انھیں عدالتی حکم سے آگاہ کیا گیا۔ عمران خان نے کہا سپریم کورٹ نے رکاوٹیں ہٹانے کا کہا ہے۔ عمران خان کو کیا بتایا گیا اصل سوال یہ ہے۔‘

    چیف جٹس نے ریمارکس دیے کہ ’عمران خان عدالت آ کر واضح کر دیں کس نے کیا کہا تھا۔‘

    چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے دلائل پر ریمارکس دیے کہ ’مناسب ہو گا کہ حکومتی الزامات پر یقین دہانی کرانے والوں سے جواب مانگ لیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹس میں اتنا جواز موجود ہے کہ عمران خان سے جواب مانگا جائے۔‘ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سرخیاں نہیں بنوانا چاہتے، قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔‘

    جسٹس یحیی آفریدی سے نکتہ اٹھایا کہ کیا جواب دینے کیلئے نوٹس دینا ضروری ہے۔ انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’نوٹس کے بغیر کسی سے جواب نہیں مانگا جا سکتا۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’نوٹس جاری کر کے عمران خان سمیت یقین دہانی کرانے والوں سے پوچھ لیتے ہیں ایسا کیوں کیا۔‘

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’سول کنٹمٹ میں متعلقہ شخص کو شاید عدالت بلانا لازمی نہیں ہوتا۔‘

    سپریم کورٹ نے عمران خان بابر اعوان اور فیصل چوہدری کو نوٹس جاری کر تے ہوئے تحریری جواب طلب کر لیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جائزہ لینا ہے کیا یقین دہانی ڈی چوک نہ آنے کی کرائی گئی تھی یا نہیں، حکومتی الزامات پر عمران خان کا موقف سننا چاہتے ہیں۔‘

  12. تحریک انصاف کا لانگ مارچ چار نومبر کو اسلام آباد پہنچے گا، اسد عمر

    پاکستان تحریک انصاف رہنما اسد عمر کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کی قیادت میں لانگ مارچ چار نومبر کو اسلام آباد پہنچے گا۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے گذشتہ روز 28 اکتوبر کو لانگ مارچ کے آغاز کا اعلان کیا تھا جس کے بعد آج اس مارچ کے خدوخال واضح ہوئے ہیں۔

    پارٹی رہنما اسد عمر نے ٹؤٹر پر بتایا ہے کہ 29 اکتوبر کو ’لاہور سے روانہ ہو کر مریدکے، کامونکی، گوجرانوالہ، ڈسکہ، سیالکوٹ، سمبڑیال، وزیرآباد، گجرات، لالہ موسیٰ، کھاریاں، جہلم، گجر خان، راولپنڈی سے ہوتے ہوئے عمران خان 4 نومبر کو اسلام آباد پہنچیں گے۔‘

  13. لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 650 پوائنٹس گر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچنج میں بدھ کے روز کاروبار کا آغاز شدید مندی کے رجحان کے ساتھ ہوا اور کاروبار کے پہلے ڈیڑھ گھنٹے میں انڈیکس 650 پوائنٹس سے زیادہ گر گیا۔

    سٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے پہلے دو روز مثبت رجحان رہا جس کی وجہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نکلنا تھا۔

    تاہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے جمعے کے روز لانگ مارچ کے اعلان کا سٹاک مارکیٹ میں منفی اثر پڑا۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق لانگ مارچ کے اعلان نے ملک میں سیاسی عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا ہے جس کا سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری پر منفی اثر پڑا۔

  14. پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: عمران خان شیڈول پر حتمی مشاورت کریں گے

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سابق وزیر اعظم شیڈول طے کرنے کے لیے بدھ کو لاہور میں حتمی مشاورت کریں گے۔

    عمران خان نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے آغاز تک پنجاب میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں وہ آج سیاکوٹ کا دورہ کریں گے جبکہ لاہور میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔

    عمران خان لانگ مارچ کے شیڈول کے حوالے سے آج حتمی مشاورت کریں گے جس کے بعد انتظامات کے حوالے سے اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔

  15. پی ٹی آئی لانگ مارچ جمعے کو شروع ہو گا، ہفتے کو لاہور سے اسلام آباد روانہ ہو گا، اسد عمر

    پاکستان تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد پارٹی رہنما اسد عمر نے واضح کیا ہے کہ لاہور سے اسلام آباد کی طرف ہفتہ 29 اکتوبر کو مارچ روانہ ہو گا۔

    ٹؤٹر پر جاری پیغام میں اسد عمر نے کہا کہ لانگ مارچ کے پہلے دن 28 اکتوبر کو ’مارچ لبرٹی سے شروع کر فیروز پور روڈ سے اچھرہ، مزنگ، داتا دربار سے ہوتے ہوئے آزادی چوک تک پہنچے گا۔‘

    ان کے مطابق اگلے دن یعنی ہفتہ 29 اکتوبر کو جی ٹی روڈ پر اسلام آباد کا سفر شروع ہو گا۔

  16. عمران خان لانگ مارچ کریں یا جو مرضی، حکومت برقرار رہے گی: شاہد خاقان عباسی

    تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یہ کوئی دلی کا تخت نہیں جس پر کوئی بھی پہنچ کر قبضہ کر لے۔

    جیو نیوز سے گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ حکومت پر لازم ہے کہ ملک میں انارکی پھیلنے سے روکے لہذا مارچ کو روکنے کے لیے تیاریاں کی جائیں گی۔ ’عمران خان لانگ مارچ کریں یا جو مرضی، حکومت برقرار رہے گی۔۔۔ لانگ مارچ سے حکومت گرانے کی روایت پڑ گئی تو نہ سیاست بچے گی نہ جمہوریت۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان اس وقت آیا ہے جب وزیر اعظم شہباز شریف چین کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ 2014 میں بھی عمران خان کے مارچ کی وجہ سے چینی صدر شی جن پنگ کا دورۂ پاکستان منسوخ ہوا تھا۔ ’جب بھی ہمارے تعلقات چین سے ٹھیک ہونے لگتے ہیں اور ملک میں سرمایہ کاری آنے لگتی ہے یہ دھرنا لے کر اسلام آباد آجاتے ہیں۔‘

  17. ’توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ چوری سے این آر او لینے کی لانگ مارچ: احسن اقبال

  18. بریکنگ, لانگ مارچ ریڈ زون میں داخل نہیں ہوگا، کوئی لڑائی کرنے نہیں جا رہے: عمران خان

    عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد میں تحریک انصاف کا لانگ مارچ کوئی قانون نہیں توڑے گا اور نہ ہی ریڈ زون میں داخل ہوگا۔

    انھوں نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’میں ایک سیاسی جماعت ہوں۔ مجھے امریکہ کے پیر نہیں پکڑنے۔ عوام کا نمائندہ ہوں، عوام کو ساتھ ملانا ہے۔ بار بار عوام کو نکال کر دکھا دیا ہے۔ کسی نے اتنے بڑے جلسے نہیں کیے۔‘

    ’سب سیاسی جماعتیں مل گئی پھر بھی ہم نے دو ضمنی الیکشن جیتے۔ (ہم) اسلام آباد میں کوئی لڑائی کرنے نہیں جا رہے۔ نہ ہم نے کوئی قانون توڑنا ہے، نہ ریڈ زون میں جانا ہے، جو بھی اسلام آباد میں ہوگا عدالت کی اجازت کے مطابق ہوگا۔ ہم نے کوئی قانون نہیں توڑنا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’اگر اس میں کوئی انتشار کیا گیا تو ان میں سے لوگ کروائیں گے۔ ہم نے کبھی انتشار نہیں کیا۔ 25 مئی کو سادہ کپڑوں میں لوگ پھر رہے تھے۔ گاڑیاں توڑ رہے تھے ہمیں معلوم تھا کہ ایجنسیوں کے لوگ ہیں۔

    ’اسلام آباد میں نظر آئے گا کہ عوام کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’فیصلہ کرنے والی بڑی طاقتوں کو پتا ہونا چاہیے کہ ہم آئین و قانون کے مطابق سب کر رہے ہیں۔ اگر یہ ملک بکھر گیا تو کوئی نہیں سنبھال سکے گا۔ یہ لوگ اس ملک میں صاف و شفاف الیکشن کرنے دیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’جب تک زندہ ہوں ان سارے چوروں اور نظام کا مقابلہ کروں گا۔‘

  19. ’جب لاکھوں آئیں گے تو کون سی پولیس کچھ کرے گی‘

    عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے خلاف حکومت اور پولیس کچھ نہیں کر سکیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جس طرح کے عوام آئیں گے، کسی پولیس نے کچھ نہیں کرنا۔

    ’پولیس تب کچھ کرتی ہے جب ڈیڑھ دو ہزار لوگ ہوں۔ جب لاکھوں آ رہے ہوں گے تو کون سی پولیس کچھ کرے گی۔‘

  20. ’اب ہم نے مارچ کا فیصلہ کر لیا ہے‘، عمران خان کا بیک ڈور رابطوں سے متعلق سوال پر جواب

    بیک ڈور رابطوں سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ ’سیاسی جماعت ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے حل کرتی ہے۔ دروازے ہمیشہ بیک ڈور چینلز پر کھلے تھے۔ مگر اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ یہ الیکشن نہیں کرائیں گے۔ انھیں یہ خوف ہوگیا کہ پالتو الیکشن کمشنر کے باوجود یہ الیکشن نہیں جیت سکتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ انھیں غیر قانونی اور غیر قانونی طور پر نااہل کیا گیا۔ ’انھوں نے الیکشن نہیں کروانے۔ اس لیے ہم نے مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    ’جمعے کو میں اس لانگ مارچ کو لیڈ کروں گا۔ 11 بجے لبرٹی چوک جمع ہوں گے پھر وہاں سے مارچ شروع ہو جائے گا۔‘

    دریں انھوں نے کہا کہ ’خیبرپختونخوا کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ارشد شریف شہید کے لیے مونومنٹ بنائیں گے۔۔۔ میں چاہوں گا پنجاب کی حکومت بھی ایسا کرے۔‘