آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مشکل وقت ہے، عام پاکستانی کو دبایا گیا تو تاریخ معاف نہیں کرے گی: مفتاح اسماعیل

وفاقی بجٹ 2022-23 میں حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد جبکہ پینشن میں پانچ فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس چھوٹ چھ لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ کر دی گئی ہے جبکہ نان فائلرز کے لیے ٹیکس کی شرح کو 100 فیصد سے بڑھا کر 200 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

محمد صہیب and تنویر ملک

  1. پچھلے پونے چار سال میں حکومت نے 20 ہزار ارب روپے قرض لیا

    مفتاح اسماعیل نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ گذشتہ حکومت نے پچھلے پونے چار سالوں کے دوران 20 ہزار ارب روپے قرضہ لیا جو اس سے قبل کسی بھی حکومت نے نہیں لیا تھا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت گردشی قرضہ 2500 ارب تک پہنچ گیا ہے۔

  2. مفتاح اسماعیل نے بجٹ تقریر کا آغاز کر دیا، گذشتہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید

    وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ تقریر شروع کر دی ہے۔ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے انھوں نے گذشتہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ موجودہ حکومت مشکل فیصلے کرنے کے لیے تیار ہے اور دیرپا ترقی کا صرف یہی طریقہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں ذراعت، آئی ٹی اور صنعتی پیداوار بڑھانی ہو گی اور اس حوالے سے چھوٹ بھی دینی ہو گی۔

  3. بریکنگ, مالی سال 2022-23 کے بجٹ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع

    مالی سال 2022-23 کے بجٹ کے اعلان کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔

    اس وقت اپوزیشن بینچوں پر صرف تین اراکین موجود ہیں اور حکومتی بینچوں پر مفتاح اسماعیل، شاہد خاقان عباسی، رانا تنویر، خورشید شاہ اور شیری رحمان موجود ہیں۔

  4. خراب ملکی معیشت کی وجہ سابقہ حکومت کا آئی ایم ایف کی شرائط پوری نہ کرنا یا موجودہ حکومت کی بد انتظامی؟

    پاکستان اس وقت مشکل معاشی حالات کا شکار ہے جس کا اثر مہنگائی کی صورت میں عوام پر نکل رہا ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے حالیہ عرصے پر پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں 60 روپے فی لیٹر کے حساب سے ہونے والے اضافے کے ساتھ یکم جولائی 2022 سے بجلی کے نرخوں میں آٹھ روپے فی یونٹ اور گیس کی قیمت میں 45 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ملک کی خراب معاشی صورتحال اور اس کی وجہ سے عوام کے لیے بڑھتی ہوئی مشکلات پر موجودہ اتحادی حکومت جس کی سربراہی پاکستان مسلم لیگ نون کر رہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کے درمیان الزام تراشی کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے جس میں ایک دوسرے کو ملک کی خراب معاشی صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

    موجودہ حکومت کی جانب سے سابقہ حکومت پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے جانے والے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی ادارے نے ابھی تک پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط جاری نہیں کی جس نے پاکستان کے لیے بیرونی ادائیگیوں کے شعبے کو سنگین مشکلات سے دوچار کر دیا اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں تسلسل سے کمی دیکھی جا رہی ہے۔

  5. وفاقی بجٹ 2022-2023: پاکستان میں حکومت کو بجٹ بنانے میں کون سے چیلنج درپیش تھے؟

    پاکستان میں اپریل کے آغاز میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت میں قائم ہونے والی مخلوط حکومت کو اقتصادی محاذ پر اس وقت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں ملک کا بڑھتا ہوا تجارتی و جاری کھاتوں کا خسارہ، تیزی سے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر، روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر شامل ہیں اور انھی وجوہات کی بنا پر ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    ایک جانب حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات کے ذریعے قرضہ پروگرام کی بحالی کے لیے کوشاں ہے تو دوسری جانب نئی حکومت کو پہلے دو مہینوں میں بجٹ پیش کرنے کے بڑے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔

    پاکستان میں جون کے مہینے میں بجٹ پیش کرنے کی روایت ہے اور نئے مالی سال کا آغاز جولائی سے ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ کی تیاری ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک کا مالیاتی خسارہ بلند ترین سطح پر ہے اور معاشی ماہرین کے مطابق اس سال بجٹ خسارہ 3400 ارب روپے کی بجائے 30 جون 2022 تک 5000 ارب روپے تک پہنچ جائے گا اور اس بڑے خسارے کے ساتھ اگلے سال کا بجٹ بنانا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

  6. بجٹ سے کیا مراد ہے اور اس میں خسارہ کیوں ہوتا ہے؟

    بجٹ کسی ملک کی آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ ہوتا ہے۔

    اگر کسی ملک کی سالانہ آمدنی سال بھر میں ہونے والے اخراجات سے کم ہو تو یہ خسارے کا بجٹ ہو گا۔ اگر اخراجات کے مقابلے میں آمدنی ذیادہ ہو تو یہ سر پلس یا فاضل بجٹ ہو گا۔

    حکومت نے موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں 1765 ارب کا قرضہ بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لیا۔ موجودہ مالی سال کے اکنامک سروے کے مطابق گذشتہ سال ان مہینوں میں یہ قرض 474 ارب روپے تھا۔

  7. پانج ہفتوں میں ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 1.2 ارب ڈالر کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران تقریباً ساٹھ کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر تقریباً ساٹھ کروڑ ڈالر کی کمی کے ساتھ پندرہ ارب اور سترہ کروڑ ڈالر رہ گئے۔

    سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر میں تقریباً 50 کروڑ کی کمی کے بعد نو ارب بائیس کروڑ ڈالر رہ گئے۔

    تجارتی بینکوں کے پاس زرمبادلہ ذخائر نو کروڑ آٹھ لاکھ ڈالر کمی کے بعد پانچ ارب اور نو کروڑ پانچ لاکھ ڈالر رہ گئے۔

    پاکستان اکنامک سروے 22-2021 کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے دس ماہ میں زرمبادلہ ذخائر 16.40 ارب ڈالر تھے جن میں اب تک 1.2 ارب ڈالر کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

  8. بریکنگ, حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 کی بجائے 15 فیصد اضافے کا فیصلہ

    وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزارتِ خزانہ کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کابینہ کی منظوری سے 15 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔

    اس کے علاوہ ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

  9. جی ڈی پی کیا ہوتی ہے؟

    بجٹ قریب آتے ہی ہماری طرح یقیناً آپ کے لیے بھی اس دوران استعمال ہونے والی مشکل اصطلاحات سمجھنا قدرے مشکل ہو جاتا ہو گا۔

    یہ مشکل آسان کرنے کے لیے ہم آپ کے لیے چند مشکل اصطلاحات کے حوالے سے تفصیلات پیش کر رہے ہیں۔

    ان میں سے پہلی اصطلاح جی ڈی پی ہے۔ جی ڈی پی دراصل کسی ملک میں پیدا ہونے والی اشیا، اجناس اور خدمات کی سالانہ مالیت ہوتی ہے۔

    جی ڈی پی میں صنعتی پیداوار، زرعی پیداوار اور خدمات شامل ہوتی ہیں۔

    اس بارے میں یہ جانیے کہ پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار یعنی جی ڈی پی گروتھ آنے والے سال میں سست کیوں ہو سکتی ہے۔

  10. گذشتہ مالی سال میں روز مرہ اشیاہ کی قیمتوں میں کتنا اضافہ، کتنی کمی ہوئی؟

    گذشتہ مالی سال میں روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں کے جائزہ لینے کے لیے چند بنیادی اشیا کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان میں آٹا، چینی، پیاز، ٹماٹر، دال، دودھ، چکن اور ویجیٹیبل گھی شامل ہیں۔

    چینی کی بات کریں تو جون 2021 میں پاکستان کے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ایک کلو چینی کی اوسط قیمت 98 روپے 57 پیسے تھی۔ جبکہ جون 2022 میں ایک کلو چینی کی قیمت 87 روپے 57 پیسے تھی جو قیمت میں تقریبا 11 فیصد کمی ہے۔

    جون 2021 میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 1136 روپے میں دستیاب تھا۔ یہ قیمت جون 2022 میں بڑھ کر 1226 روپے ہو چکی تھی جو 8 فیصد کا اضافہ ہے۔

    ٹماٹر اور پیاز جون 2021 میں 29 اور 28 روپے فی کلو دستیاب تھے جبکہ اب یہ قیمت بالترتیب 74 روپے اور 77 روپے فی کلو ہے۔ یعنی ٹماٹر کی قیمت میں 153 فیصد اور پیاز کی قیمت میں 178 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

    ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ایک کلو دال مسور کی قیمت 159 روپے 9 پیسے سے بڑھ کر 266 روپے ہوئی جبکہ ایک کلو برائلر چکن کی اوسط قیمت 231 روپے سے بڑھ کر 310 روپے ہوئی۔ یعنی دال مسور کی قیمت میں 67 فیصد اور برائلر چکن کی قیمت میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔

    اس دورانیے میں کھلا دودھ فی لیٹر کی قیمت 109عشاریہ 48 روپے سے بڑھ کر 130 روپے فی لیٹر تک پہنچی جو کہ 19 فیصد اضافہ تھا جبکہ ڈھائی لیٹر ٹن ویجیٹیبل گھی 772 روپے سے 1254 روپے تک جا پہنچا جو 62 فیصد اضافہ ہے۔

  11. گذشتہ ایک سال میں پیٹرول کی قیمت میں تیزی سے اضافہ

    پاکستان میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے سامنے عام طور پر سیاسی حکومتیں بے بس دکھائی دیتی ہیں۔

    گذشتہ مالی سال میں پیٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں میں اضافہ ہی ہے۔ تاہم جون 2021 میں پیٹرول کی قیمت 108 روپے تھی جبکہ جون 2022 میں یہ قیمت 209 روپے تک جا پہنچی ہے۔

    روس یوکرین تنازعے کے بعد عالمی منڈی میں غیر یقینی نے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جس کے بعد 16 فروری 2022 کو پاکستان میں ایک لیٹر پٹرول تقریبا 159 روپے تک جا پہنچا تھا۔

    وزیر اعظم عمران خان نے مارچ میں تیل کی قیمتوں پر سبسڈی کا اعلان کیا جس کے بعد ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 149 روپے 86 پیسے پر برقرار ہے۔

    تاہم نئی مخلوط حکومت اس سبسڈی کے خاتمے کے حوالے سے آغاز میں غیر یقینی کا شکار دکھائی دی تاہم مئی کے آخری ہفتے اور جون کے آغاز میں پیٹرول کی قیمت میں دو مرتبہ 30، 30 روپے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد اب یہ قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر موجود ہے۔

    وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمت میں آنے والے دنوں میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے، اور یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اضافہ اس بجٹ میں ہی کر دیا جائے۔

  12. گذشتہ مالی سال میں پاکستانی روپیہ اور امریکی ڈالر کی قیمت کیا رہی؟

    معیشت کے استحکام کی بات ہو تو ایک اہم عشاریہ کرنسی کی قدر شمار کی جاتی ہے۔

    تحریکِ انصاف کے آخری نو ماہ کے دوران بھی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرتی رہی۔ جیسا کہ اوپر دیے گئے چارٹ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جون 2021 میں ایک ڈالر 157 روپے کا تھا، جبکہ اپریل 2022 میں جب تحریک انصاف کی حکومت گئی تو ایک ڈالر 188 روپے کا تھا۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کی دو ماہ کی حکومت میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید کمی آئی اور یکم جون 2022 تک یہ 197 روپے تک پہنچ چکی تھی۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ موجودہ دورِ حکومت میں ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر چلی گئی تھی اور 200 روپے سے زیادہ ہو گئی تھی۔

  13. بجٹ 23-2022 پر سوشل میڈیا صارفین کے خدشات: ’یہ عوام دوست نہیں، آئی ایم ایف دوست بجٹ ہو گا‘

    موجودہ حکومت کی جانب سے سابقہ حکومت پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے جانے والے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

    اس وجہ سے عالمی ادارے نے ابھی تک پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط جاری نہیں کی جس نے پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور ایسے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ شاید آج پیش ہونے والا بجٹ ’عوام دوست‘ نہیں بلکہ ’آئی ایم ایف دوست‘ ہو گا۔

    آئیے دیکھتے ہیں کہ آج پیش کیے جانے والے بجٹ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

  14. مہنگائی تو بڑھ گئی ہے لیکن تنخواہیں نہیں بڑھیں، پھر گھر کا خرچہ کیسے پورا کریں؟

    مہنگائی تو بڑھ گئی ہے لیکن تنخواہیں نہیں بڑھیں، پھر گھر کا خرچہ کیسے پورا کریں؟ ہم آپ کو چند تدابیر بتاتے ہیں۔

    ویڈیو: فرحت جا وید، نعمان مسرور

  15. سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کا دونوں ایوانوں میں پیٹرول پر اٹھنے والے اخراجات پر 40 فیصد کٹوتی کا فیصلہ

    سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ نے پیٹرول پر اٹھنے والے اخراجات پر 40 فیصد کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور چئیرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی کی ملاقات ہوئی ہے جس میں بجٹ اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے جاری اجلاسوں اور قانون سازی کے حوالے سے گفتگو کے علاوہ ملکی معاشی صورتحال پر بات ہوئی ہے۔

    اس موقع پر جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’عوام کے نمائندے ہیں، ان کے تکلیف کو محسوس کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں، مشکل حالات میں کفایت شعاری کو اپنانا ناگزیر ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’پیٹرول کی مد میں 40 فیصد کٹوتی کا اطلاق اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ، و دیگر اعلی عہدیداران پر ہو گا۔ اس کٹوتی کا اطلاق دونوں ایوانوں کے قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں اور تمام افسران پر بھی لاگو ہو گا۔

  16. مہنگائی کے اس دور میں گھریلو بجٹ کیسے بنایا جائے؟

    اگر آپ کا تعلق اس طبقے سے ہے جس کی ماہانہ آمدنی 40 سے 60 ہزار کے درمیان ہے، آپ کسی شہر میں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور آپ کے بچے سکول جاتے ہیں تو یقیناً آج کل آپ کی پریشانی کئی گنا بڑھ گئی ہو گی۔

    مہنگائی میں حالیہ اضافے نے متوسط، خصوصاً زیریں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے لیے گھر کا خرچ چلانا مشکل کر دیا ہے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے مگر آمدن وہیں ہے جہاں ایک سال پہلے تھی اور شہریوں کی یہ پریشانی سوشل میڈیا پر بھی دکھائی دیتی ہے۔

    فیس بک پر خواتین کے کئی کلوزڈ گروپس میں کئی ہفتوں سے یہ بحث جاری ہے کہ وہ اپنا بجٹ کیسے ترتیب دیں۔ اسی طرح ٹوئٹر ہو یا سماجی رابطوں کی کوئی بھی ویب سائٹ، صارفین اپنے اپنے انداز میں مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔

    اگر آپ کے ذہن میں بھی یہی سوال موجود ہے، تو ہماری نامہ نگار فرحت جاوید نے اس بارے میں معلومات ترتیب دی ہیں۔

  17. مالی بجٹ 2022-23 پر بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی نئی مخلوط حکومت وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں آج 10 جون کو اگلے مالی سال 2022-2023 کا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔

    حالیہ عرصے میں پیٹرول، ڈیزل سے لے کر بجلی کے نرخوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد عوام آج پیش ہونے والی بجٹ میں مہنگائی میں مزید اضافے کے امکانات سے پریشان نظر آتی ہے۔

    بجٹ 2022-23 کے حوالے سے تمام معلومات اس لائیو پیج پر پیش کی جائیں گی جن میں آپ کے سوالات اور تجزیے شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کوشش کی جائے گی کہ بجٹ سے متعلق اعداد و شمار کو عام فہم زبان میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے۔