یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بجٹ سے متعلق بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اختتام کو پہنچی۔ اب یہ صفحہ اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
وفاقی بجٹ 2022-23 میں حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد جبکہ پینشن میں پانچ فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس چھوٹ چھ لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ کر دی گئی ہے جبکہ نان فائلرز کے لیے ٹیکس کی شرح کو 100 فیصد سے بڑھا کر 200 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
محمد صہیب and تنویر ملک
بجٹ سے متعلق بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اختتام کو پہنچی۔ اب یہ صفحہ اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیرِ مملکت ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے اب سے کچھ دیر قبل پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یہ ایک مشکل وقت ہے اور اُنھوں نے اس مشکل وقت میں یہ بجٹ پیش کیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ 100 ارب یونٹ بجلی بنا کر فروخت کی جاتی ہے جبکہ 1100 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی اور 500 ارب روپے سرکلر ڈیٹ تھا یعنی فی یونٹ حکومت کی جانب سے 16 روپے دیے گئے۔
اُنھوں نے کہا کہ بجلی اس قدر مہنگی ہونے کی وجہ سے متعدد سطحوں پر بدانتظامی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ 1600 ارب روپے وفاقی حکومت کے اخراجات سے تین گنا زیادہ ہے جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا وہ گیس کی بلند قیمتوں اور اس شعبے میں موجود دباؤ کے باوجود کوئی فیکٹری بند نہیں ہونے دیں گے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نوّے کے دور میں بنگلہ دیش اور انڈیا سے آگے تھے، کیا وجہ ہے کہ اس نہج پر آ گئے ہیں؟ بدانتظامی تھی اور اب ہم اسے ٹھیک کریں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ ایسا تو نہیں ہے کہ پیٹرول مہنگا ہو رہا ہے تو وہ پیسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، بلکہ وہ اسے قوم کے خزانے میں ڈال رہے ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گذشتہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے معاہدے کے خلاف پیٹرول پر سبسڈی دینا ایسا تھا جیسے اُن ادائیگیوں کا وعدہ کیا جائے جن کے لیے پیسے بھی نہ ہوں۔
اُنھوں نے کہا کہ مشکل فیصلے لینے کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔
تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اگر عام پاکستان کو دبایا گیا تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پچھلے چار سالوں میں تاریخ کے چار بڑے خسارے عمران خان نے کیے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ 71 برس کے قرضوں کا 80 فیصد انھوں نے ان چار سال میں کر لی ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس سال دو دفاعی بجٹس کے برابر قرضوں کی ادائیگی کی مد میں جا رہا ہے۔
سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما فواد چوہدری نے وفاقی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی بھی سینیئر معیشت دان بجٹ دستاویز میں گروتھ اور افراط زر کے دیے گئے اعداد و شمار کو دیکھے گا تو وہ یہ نتیجہ ہی اخذ کرے گا کہ موجود حکومت کی معاشی ٹیم ’سرکس جوکرز‘ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت کی جانب سے بجٹ میں کیے جانے والے دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی دو سے تین گنا بڑھنے والی ہے۔ اور شرح ترقی آدھی ہو کر دو سے تین فیصد پر جانے والی ہے۔‘
اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اُن کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ عدم استحکام معیشت کے شعبے میں نظر آ رہا ہے۔ ’ملک دیوالیہ ہونے والا ہیں، قیمتیں اور بڑھیں گی اور یہ حکومت بیروز گاری کا سیلاب لے آئے گی۔‘
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ’بحران سے نکلنے کے لیے جو سمت ہمیں بجٹ میں نظر آنی چاہیے تھی وہ کہیں نظر نہیں آئی۔ اس بجٹ میں ابہامی کیفیت برقار رکھی گئی ہے۔ یہ جلد بازی کا بجٹ تھا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مالی سال 2022-23 کے بجٹ کا کل تخمینہ 9502 ارب روپے ہے اور یہ 3798 ارب خسارے کا بجٹ ہے۔
اس بجٹ کے بارے میں 10 اہم اعداد و شمار پیشِ خدمت ہیں:

،تصویر کا ذریعہMinistry of Finance
وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ میں موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔
اس حوالے سے ٹیکس کی مد میں حاصل کی جانے والی رقم درج ذیل ہے:

،تصویر کا ذریعہTwitter/PMLN

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سگریٹ پر 150 ارب روپے سے بڑھا کر 200 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مختلف کمپنیوں پر ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے ذریعے ٹیکس وصولی یقینی بنانے کا کام بھی اس سال کرنے کا ارادہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کریڈٹ، ڈیبٹ اور پری پیڈ کارڈز کے ذریعے پاکستان سے باہر رقم بھیجنے والے فائلرز کے لیے ایک فیصد جبکہ نان فائلرز کے دو فیصد ایڈوانس ود ہولڈنگ ٹیکس صول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
تاہم یہ واجب الادا ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔
بینکوں پر سپر ٹیکس
حکومت کی جانب سے بینکنگ کمپنیوں پر ٹیکس کی موجودہ شرح 39 فیصد سے بڑھا کر 42 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت کی جانب سے 1600 سی سی سے زائد کی موٹر گاڑیوں پر ایڈوانس ٹیکس کی صورت میں ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح نان فائلر کے لیے ٹیکس کی شرح کو 100 فیصد سے بڑھا کر 200 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں پر قیمت کے دو فیصد کی شرح سے ایڈوانس ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ تمام افراد جن کی پاکستان میں ڈھائی کروڑ روپے سے زیادہ کی ایک سے زائد غیر منقولہ جائیداد ہے، اس پر حکومت کی جانب سے مارکیٹ ویلیو کے حساب سے پانچ فیصد کے برابر فرضی آمدن یا کرایہ تصور کیا جائے گا اور اس پر ایک فیصد کی شرح سے ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
تاہم ایک عدد ذاتی رہائشی گھر اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہو گا۔
غیر منقولہ جائیداد کی لین دین پر ٹیکس
پاکستان میں واقع غیر منقولہ جائیداد کی ایک سال ہولڈنگ مدت پر کیپیٹل گین کی صورت میں 15 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ جو ہر سال، ڈھائی فیصد کمی کے ساتھ چھ سال کی ہولڈنگ مدت کے بعد صفر ہو جائے گی۔
پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ جبکہ جائیداد خریدنے والے نان فائلرز کے لیے ٹیکس کی شرح پانچ فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس چھوٹ کی موجودہ حد سالانہ چھ لاکھ روپے سے بڑھا کر، 12 لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔
اس کے علاوہ حکومت نے بہبود سیونگ سرٹیفیکیٹ، پینشنر بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح کو دس فیصد سے پانچ فصید کرنے کی تجویز دی ہے۔
حکومت کی جانب سے زیادہ آمدنی والے افراد اور کمپنیاں جن کی سالانہ آمدن 30 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہو، ان پر دو فیصد ٹیکس لگائے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
توانائی کے شبعے میں بجلی کے شعبے کی پیداوار اور ترسیل کی مد میں 73 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے 12 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ آبی وسائل کے لیے 100 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
دیامیر بھاشا ڈیم جیسے بڑے منصوبے اس پروجیکٹ میں شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلی کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایکسپورٹرز کے تمام واجبات جو سٹیٹ بینک کے مطابق تقریباً 40 ارب کے ہیں، انھیں اسی مہنے ادا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یوتھ روزگار سکیم کے تحت 20 لاکھ سے زیادہ مواقع ہوں گے، کاروبار کے پانچ لاکھ بلاسود اور ڈھائی کروڑ تک آسان شرائط پر قرضہ فراہم کیا جائے گا۔
اس میں 25 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مختص کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 9502 ارب روپے، جن میں سے 3950 ارب روپے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے۔
عوام کی سہولت کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز کے لیے 699 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے اور گرانٹ کی مد میں 1242 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی حکومت کی جانب سے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 800 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو موجودہ سال کے بجٹ میں 900 ارب روپے رکھا گیا تھا، تاہم گذشتہ حکومت نے اس پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے اسے ساڑھے 500 ارب روپے کر دیا تھا۔
اس حوالے سے چند نمایاں شعبوں کے لیے مختص کی گئی رقم درجِ ذیل ہے:

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی حکومت کی جانب سے ملکی دفاع کے لیے 1523 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ مالی سال میں دفاعی بجٹ 1370 ارب روپے مختص کیا گیا تھا۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ٹیکس کا جی ڈی پی سے تناسب 16 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں ٹیکس کا جی ڈی پی سے تناسب 8 اعشاریہ 6 فیصد ہے نئے مالی سال میں یہ شرح 9 اعشاریہ 2 فیصد تجویز کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’مجموعی خسارہ جی ڈی پی کا 8 فیصد رہے گا اور نئے مالی سال کا تخمینہ جی ڈی پی کا 4 اعشاریہ 8 فیصد رکھا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آئندہ مالی سال میں درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر رکھا گیا ہے رواں مالی سال درآمدات 76 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آئندہ مالی سال برآمدات کا تخمینہ 35 ارب ڈالر ہے، رواں مالی سال برآمدات کا تخمینہ 31 ارب ڈالر رہے۔‘
مفتاح اسماعیل کے مطابق پینشنز کی مد میں آئندہ مالی سال میں 530 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔ جبکہ مہنگائی کی شرح 11 اعشاریہ 5 فیصد تک رکھنے کا ہدف ہے۔