آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سندھ میں عوام کو منگل کی شب آٹھ بجے کے بعد غیر ضروری طور پر گھر سے نہ نکلنے کی تلقین

انڈیا میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ متاثرین کی مجموعی تعداد دو کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ ہے، دوسری جانب پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح فی الحال 5.21 فیصد ہے جبکہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ کے 3060 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. انڈیا میں بلیک فنگس کے قریب نو ہزار مریض سامنے آ گئے, سوتک بسواس، بی بی سی

    انڈیا میں کووڈ سے جڑے خطرناک بلیک فنگس کے 8800 سے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں اور اس بیماری کو بھی اب وبا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    میوکورمائیکوسز نامی یہ انفیکشن اتنا عام نہیں مگر اس سے موت کی شرح 50 فیصد بتائی جا رہی ہے۔ اس کے کچھ مریض نابینا ہوچکے ہیں اور کچھ کی زندگی ان کی آنکھ نکال کر بچائی گئی ہے۔

    حالیہ مہینوں میں انڈیا میں کووڈ کے ہزاروں مریض صحتیاب ہوئے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بلیک فنگس کا تعلق ایسے سٹیرائڈز سے ہے جو کووڈ کے علاج کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو بلیک فنگس سے زیادہ خطرہ ہے۔

    ڈاکٹروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کووڈ کے مریضوں کی صحتیابی کے بعد 12 سے 18 دنوں کے اندر بلیک فنگس انفیکشن ہوسکتا ہے۔

    گجرات اور مہاراشٹر کی مغربی ریاستوں میں نصف سے زیادہ بلیک فنگس کے مریضوں کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

    کم از کم 15 سے زیادہ ریاستوں میں آٹھ سے 900 کے درمیان مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ انڈیا میں اب 29 ریاستوں کو کہا گیا ہے کہ بلیک فنگس کو وبا قرار دیا جائے۔

    ڈاکٹروں کے مطابق ہسپتالوں میں بلیک فنگس انفیکشن کے علاج کے نئے وارڈ تیزی سے بھر رہے ہیں۔ جبکہ اینٹی فنگس ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔

  2. انڈیا میں دو لاکھ 40 ہزار سے زیادہ نئے مریض

    انڈیا کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں کووڈ 19 کے دو لاکھ 40 ہزار سے زیادہ مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اسی دوران کووڈ سے تین ہزار 741 مزید اموات ہوئی ہیں۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ اسی دورانیے میں تین لاکھ 55 ہزار سے زیادہ افراد کورونا وائرس کے اثرات کے بعد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک انڈیا میں دو کروڑ 65 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا کی زد میں آ چکے ہیں جبکہ ملک میں کووڈ 19 کے فعال کیسز کی تعداد 28 لاکھ سے زیادہ ہے۔

    انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے مطابق 22 مئی تک مجموعی طور پر 32 کروڑ 86 لاکھ سے زائد سیمپلز کی جانچ ہوئی ہے۔

    اگرچہ انڈیا میں بہت سی ریاستوں میں ویکسین کی کمی کی شکایت کی جا رہی ہے تاہم اب تک لوگوں کو 19 کروڑ سے زیادہ خوراکیں دی جا چکی ہیں جن میں سے بہت سے لوگوں کو دو خوراکیں مل چکی ہیں جبکہ زیادہ تر لوگوں کو ابھی تک ایک ہی خوراک ملی ہے۔

  3. کورونا کی انڈین قسم کیا ہے؟

    وائرس اپنی شکل ہر وقت تبدیل کر رہے ہوتے ہیں اور اس میں ایسی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔

    ان تبدیلیوں میں سے زیادہ تر معمولی ہوتی ہیں اور کئی تو ایسی ہوتی ہیں جن کے باعث وائرس مزید غیر موثر ہو جاتا ہے، لیکن دوسری جانب کچھ تبدیلیاں ایسی ہوتی ہیں جو وائرس کو زیادہ وبائی بناتی ہیں اور ویکسین کے ذریعے انھیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    باضابطہ طور پر کورونا وائرس کی ان انڈین قسموں کو بی ون سکس، ون سیون کہا جاتا ہے اور گذشتہ برس اکتوبر میں ان کی دریافت ہوئی تھی۔

  4. کووڈ ویکسین اب اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں بھی ملے گی

  5. فائزر اور ایسٹرا زینیکا ویکسینز انڈین قسم کے خلاف بھی موثر قرار

    ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ فائزر اور ایسٹرا زینیکا کی ویکسینز کی دو خوراکیں کووڈ کی انڈین قسم کے خلاف بھی موثر ثابت ہوتی ہیں۔

    تحقیق کے مطابق اس ویکسین سے جسم اتنا ہی محفوظ ہوتا ہے جتنا کسی دوسری قسم میں، جیسے برطانیہ میں کینٹ کی قسم۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ انڈین قسم کی صورت میں پہلی خوراک کے بعد دونوں ویکسینز 33 فیصد موثر ثابت ہوتی ہیں۔ کینٹ کی قسم میں وہ 50 فیصد موثر ہوتی ہیں۔

    یہ تحقیق پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے زیر انتظام کی گئی اور اس میں کہا گیا کہ ویکسینز کی مدد سے ہسپتال داخلے یا اموات کو روکا جاسکتا ہے۔

  6. انڈیا میں ہندو لاشیں دفنانے پر مجبور

  7. انڈیا کا سوشل میڈیا پر ’انڈین قسم‘ سے متعلق مواد ہٹانے کا مطالبہ

    انڈیا کی حکومت نے سوشل میڈیا کی متعدد کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ کووڈ 19 کی انڈین قسم سے متعلق مواد ہٹایا جائے۔

    آئی ٹی کی وزارت نے فیس بک اور ٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں سے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس قسم کا نام بی ون سکس، ون سیون ہے اور اسے ’انڈین‘ کہنا غلط ہوگا۔

    وائرس کی اکثر اقسام کو بیان کرنے کے لیے جغرافیائی اصلاحات کا استعمال کیا جاتا رہا ہے، جیسے برطانوی قسم یا برازیلین قسم۔

    انڈیا کی حکومت پر کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے نامناسب اقدامات کرنے پر بھی تنقید ہوتی رہی ہے۔

    گذشتہ ماہ اس نے ٹوئٹر پر حکم جاری کیا تھا کہ ایسی پوسٹوں کو ڈیلیٹ کیا جائے جن میں حکومتی اقدامات پر تنقید کی جا رہی ہے۔

  8. انڈیا میں گجرات ’بلیک فنگس کا مرکز‘

    انڈیا میں ریاست گجرات میں کووڈ سے جڑے بلیک فنگس کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ یہاں اس سے 250 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور دو ہزار سے زیادہ متاثرین کی اطلاع آئی ہے۔

    یہ تعداد انڈیا کی دیگر ریاستوں میں سے سب سے زیادہ ہے جسے تشویشناک سمجھا جا رہا ہے۔

    گجرات کی حکومت نے جمعرات کو اس فنگس انفیکشن کو وبا قرار دیا تھا اور اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  9. کیا پاکستان کووڈ کی انڈین قسم سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟

    پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ اس وقت کوئی ثبوت یا شواہد تو موجود نہیں کہ پاکستان میں کورونا کی انڈین قسم موجود ہے لیکن یہ اس وقت کی صورتحال ہے جو کچھ دن بعد بدل بھی سکتی ہے۔

    پاکستان میں اس وقت ہونے والی ٹیسٹنگ وبا کی موجودگی کے بارے میں تو بتا سکتی ہے لیکن ملک میں وبا کی کون سی قسم گردش کر رہی ہے، یہ جانچنے کے ذرائع کافی محدود ہیں۔

  10. پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد نو لاکھ سے بڑھ گئی

    پاکستان میں کووڈ کی روک تھام کے لیے قائم این سی او سی کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 62061 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تھے جن میں سے 3084 افراد کے نتائج مثبت آئے ہیں۔

    گذشتہ روز ملک میں کووڈ سے 74 اموات ہوئی اور مثبت کیسز کی شرح 4.96 فیصد رہی ہے۔

    اب تک پاکستان میں مجموعی طور پر کورونا کے متاثرین کی تعداد 900,552 ہے اور تاحال 20251 اموات ہوئی ہیں۔