آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان میں مصدقہ متاثرین 3,157، مجموعی ہلاکتیں 47

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 3,157 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 47 ہے۔ آج پنجاب میں متاثرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا، پنجاب میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1380 ہو چکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کچی آبادیوں میں وائرس پھیل گیا تو روکنا مشکل ہوجائے گا: مراد علی شاہ

    صوبہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اگر سندھ میں کچی آبادیوں میں کورونا وائرس پھیل گیا تو حکومت کے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی ہوجائے گی۔

    اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ ابھی تک کچی آبادیوں سے کوئی کیس سامنے نہیں آئے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ ’سب سے زیادہ مشکل ہمیں ان علاقوں میں ہوجائے گی کیونکہ ایک ہی گھر اور کمرے میں کئی کئی افراد ساتھ رہتے ہیں اگر ان علاقوں میں کسی اور وجہ سے وائرس پھیل گیا تو ہمارے لیے کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا اور ہمارا طبی نظام جواب دے جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اسی صورتحال سے بچنے کے لیے لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ ’اس کا علاج یہی ہے کہ لوگوں سے نہ ملیں جلیں، اگر ہم نے 14 اپریل تک لاک ڈاؤن مکمل کر لیا تو ہم اس وبا کو روکنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ہر ضلعے میں ایک ریپڈ رسپانس ٹیم بنائی گئی ہے جس کا کام کورونا کے مریضوں کی نشاندہی، گھروں میں جا کر ٹیسٹ کرنا اور مثبت ٹیسٹ آنے کے نتیجے میں انھیں گھروں میں اور سرکاری مراکز میں قرنطینے میں منتقل کرنا ہے۔

    انھوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور کورونا کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں حکومت کے دیے گئے فون نمبرز پر رابطہ کریں، جس کے بعد سرکاری ٹیم خود گھر پر آئے گی اور جب تک ٹیم نہ آئے تب تک خود کو دوسروں سے دور رکھیں۔

  2. ملک میں مصدقہ متاثرین 2947، ہلاکتوں کی تعداد 45, 211 صحت یاب

    سندھ میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 881 ہو چکی ہے جبکہ 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے مطابق اب تک وائرس سے متاثرہ 123 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق صوبے میں اب تک 8931 کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    سندھ میں سب سے زیادہ متاثرین کراچی میں ہیں جہاں 417 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں 156، جامشورو میں دو، بدین میں ایک، شہید بینظیرآباد میں چھ، نوشہرہ فیروز میں دو، سجاول میں ایک، ٹنڈو محمد خان میں پانچ، گھوٹکی میں دو، سکھر میں 274، لاڑکانہ میں 13، اور دادو اور جیکب آباد میں ایک ایک متاثرین موجود ہیں۔

    صوبے میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے 13 کا تعلق کراچی اور دو کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔

    صحت یاب ہونے والے افراد میں سے 63 افراد کا تعلق کراچی، ایک کا تعلق حیدرآباد اور 59 کا سکھر سے ہے۔

    دیگر صوبوں کی صورتحال:

    پنجاب

    پاکستان میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب میں متاثرین کی کل تعداد 1196 ہوگئی ہے۔

    537 عام شہریوں، 312 زائرین، 347 تبلیغی جماعت کے اراکین جبکہ تین بقیدیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    صوبائی محکمہ صحت کے مطابق رائے ونڈ قرنطینہ مرکز میں 303 متاثرین موجود ہیں جبکہ ڈی جی خان میں 213 زائرین، ملتان میں 91، فیصل آباد میں پانچ، منڈی بہاوالدین میں 3، سرگودھا 13، وہاڑی 13، راولپنڈی 6، ننکانہ میں 2، گجرات میں 5 اور رحیم یار خان میں 2 تبلیغی ارکان میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔

    رائے ونڈ اجتماع میں شرکت کرنے والے 10,263 تبلیغی ارکان کو قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا ہے اور صوبے بھر کے 33 اضلاع میں تبلیغی ارکان کے لیے قرنطینہ مراکز بنائے گئے ہیں۔

    پنجاب میں سب سے زیادہ 220 مصدقہ متاثرین لاہور میں ہیں۔

    بلوچستان

    حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 189 ہوگئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں 43 ٹیسٹ رپورٹس موصول ہوئیں جن میں سے تین کے نتائج مثبت اور 40 کے نتائج منفی آئے۔ صوبے بھر میں 4 نئے مریضوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں اب تک 32 مریض مکمل صحتیابی کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کئے گئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا

    خیبر پختونخوا میں 383 متاثرین کی تصدیق ہوئی جن میں سے 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صوبے میں اب تک 30 افراد صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔

    گلگت بلتستان میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 206، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 14، اور وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں یہ تعداد 78 ہے۔

  3. پاکستان میں کلوروکوین کا کورونا متاثرین پر استعمال کتنا موثر

  4. پی ٹی آئی لیبر ونگ کے صدر: کوئلے کی کان کے مزدور بے یار و مددگار ہیں

    پاکستان تحریک انصاف کی لیبر ونگ کے مرکزی صدر نے اپنی ہی حکومت پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ سوات، شانگلہ اور جام شورو میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدور بے یارو مددگار ہیں۔

    سیمسن سائمن کا کہنا ہے کہ صرف پریس میں باتیں کرنے سے کام نہیں ہو گا بلکہ گراؤنڈ پر کچھ کر کے دکھانا ہوگا۔

    صدر پی ٹی آئی لیبر ونگ نے کہا ہے کہ بھوکے، بیمار، بے گھر مزدوروں کی حالت تشویشناک ہے۔ انھوں نے سندھ اور مرکز میں حکام سے لیبر حلقوں کا دورہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن کے باعث دیھاڑی دار مزدور کی مشکلات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

  5. بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دو نئے مریض، کل متاثرین 14, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس خطے میں مزید دو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    خطے میں اب کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی کل تعداد 14 ہوگی ہے۔

    ڈاکٹر نجیب نقی کے مطابق کورونا سے متاثر ہونے والے ایک شخص کا تعلق کوٹلی سے ہے جو حال ہی میں ایران سے تفتان کے راستے واپس آیا تھا اور اسے قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا تھا۔

    جبکہ دوسرے شخص کا تعلق میرپور سے ہے جو گذشتہ ماہ برطانیہ سے میرپور آیا تھا۔

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر میرپور ڈاکٹر فدا بخاری کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے دونوں افراد کو آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

  6. ساجد پلیز واپس آجائیں!

  7. پنجاب میں تازہ صورتحال

    صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 1196 مصدقہ متاثرین موجود ہیں جبکہ 12 ہلاکتیں اور 25 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  8. بریکنگ, بلوچستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 189 ہوگئی

    حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 189 ہوگئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں 43 ٹیسٹ رپورٹس موصول ہوئیں جن میں سے تین کے نتائج مثبت اور 40 کے نتائج منفی آئے۔ صوبے بھر میں 4 نئے مریضوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں اب تک 32 مریض مکمل صحتیابی کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کئے گئے ہیں۔

  9. حفاظتی سامان کی عدم فراہمی، ینگ ڈاکٹرز کا دو ہسپتالوں میں احتجاج, محمد کاظم، نامہ نگار، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹروں نے بطور احتجاج دو بڑے ہسپتالوں کے ایم ایس کے دفاتر کو تالے لگا دیے ہیں اور ڈاکٹروں نے اپنی مدد آپ کے تحت حفاظتی کٹس کی خریداری کے لیے پیسے اکٹھا کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔

    جن ہسپتالوں میں ایم ایس کے دفاتر کو تالے لگائے گئے ان میں بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال اور سول ہسپتال شامل ہیں۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر رحیم بابر نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ احتجاج حفاظتی سامان کی عدم فراہمی اور ڈاکٹروں کے بلاجواز تبادلوں کے خلاف کیا گیا۔

    محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں اب تک 11 ڈاکٹر کورونا وائرس سے متائثر ہوئے ہیں لیکن رحیم کاکڑ نے بتایا کہ ان کی تعداد 13سے زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈاکٹر کسی آئسولیشن وارڈ سے متائثر نہیں ہوئے بلکہ ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے کے دوران متاثر ہوئے۔ ’وائرس مقامی طور پر موجود ہے اور یہ پھیل رہا ہے۔‘

    ڈاکٹروں کی ملک گیر تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی بلوچستان میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے لیے حفاظتی کٹس کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    حکومتِ بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا ہے کہ ڈاکٹروں کو مطلوبہ حفاظتی کٹس فراہم کی گئی ہیں اور مزید کٹس بھی منگوائی گئی ہیں۔

    کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے حکومتِ بلوچستان کے ترجمان عمیر محمد حسنی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ تفتان میں ڈیوٹی نہ دینے پر پہلے 12 ڈاکٹروں کو معطل کیا گیا ہے اور اسی طرح مزید 24 ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔

  10. ’جب چینی کے ساتھ گیم کھیلی گئی تو سرکار کہاں تھی‘

  11. بریکنگ, پنجاب: کورونا کے 33 نئے مریض، صوبے میں کل 1196 متاثرین

    پاکستان میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب میں مزید 33 نئے مریضوں کا اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 1196 ہوگئی ہے۔

    صوبائی محکمہ صحت کے مطابق رائے ونڈ قرنطینہ مرکز میں 303 متاثرین ہیں جبکہ ڈی جی خان میں 213 زائرین، ملتان میں 91 زائرین، فیصل آباد میں 5 زائرین، منڈی بہاوالدین میں 3، سرگودھا 13، وہاڑی 13، راولپنڈی 6، ننکانہ میں 2، گجرات میں 5 اور رحیم یار خان میں 2 تبلیغی ارکان میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔

    رائے ونڈ اجتماع میں شرکت کرنے والے 10,263 تبلیغی ارکان کو قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا ہے اور صوبے بھر کے 33 اضلاع میں تبلیغی ارکان کے لیے قرنطینہ مراکز بنائے گئے ہیں۔

    پنجاب میں سب سے زیادہ مصدقہ متاثرین لاہور میں ہیں۔

  12. تفتان میں 600 افراد کی گنجائش والے قرنطینہ مرکز کی تعمیر شروع

    ریڈیو پاکستان کے مطابق ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی علاقے تفتان میں کوروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے ایک مستقل قرنطینہ مرکز کی تعمیر شروع کردی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق یہ مرکز 11 ایکڑ اراضی پر تعمیر ہوگا اور یہاں 600 افراد کو قرنطینہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کا قومی ادارہ مرکز کے لیے آلات سے لیس رہائشی کنٹینرز فراہم کرے گا جبکہ حکومتِ بلوچستان سڑکوں، صفائی ستھرائی، پینےکا صاف پانی اور سٹریٹ لائٹس سمیت دوسری سہولتیں فراہم کرے گی۔

  13. پنجاب: لانڈری، ڈرائی کلینرز کو دفعہ 144 سے استثنیٰ

    محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے میں دفعہ 144 کے حوالے سے نئے احکامات جاری کیے ہیں۔

    ان کے مطابق لانڈری اور ڈرائی کلینرز کو دفعہ 144 سے استثنی ہوگی اور وہ صرف ایک ملازم کے ساتھ اپنے کاروبار کھول سکیں گے۔

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ڈرائی کلینرز اور لانڈری شاپ مالکان کورونا وائرس سے بچائو کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

  14. غریب و مستحق افراد کی مالی امداد کے لیے رقم بڑھا دی گئی

  15. جسمانی درجہ حرارت معلوم کرنے والا واک تھرو گیٹ پشاور میں تیار

    پشاور میں پانی و نکاسی آب کے ادارے نے مقامی سطح پر کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے جسمانی درجہ حرارت معلوم کرنے والا واک تھرو گیٹ تیار کیا ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ واک تھرو گیٹ قیمت میں کم ہے اور اسے چلانا کافی آسان ہے۔

    اس سے انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات بھیجی جا سکتی ہے جبکہ اسے لوگوں کی سکریننگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    کہیں بھی داخل ہونے سے قبل واک تھرو گیٹ سے گزرنے پر جراثیم کُش سپرے کیا جائے گا۔

    ان گیٹس کو ابتدائی طور پر وزیر اعلیٰ ہاؤس، سول سیکرٹریٹ، پولیس لائز، پی ڈی اے، مارکیٹوں اور مساجد میں نصب کیا جائے گا۔

  16. بریکنگ, پاکستان میں کورونا وائرس کے کل 2891 متاثرین، 45 اموات

    پاکستان میں کورونا وائرس کے 69 نئے مریضوں کی تصدیق کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 2891 ہوگئی ہے جبکہ ملک بھر میں اس عالمی وبا سے 4 نئی ہلاکتوں کے بعد کل اموات 45 ہوگئی ہیں۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں 1,163 متاثرین ہیں جبکہ سندھ میں 864، خیبر پختونخوا میں 383، بلوچستان میں 185، گلگت بلتستان میں 206، اسلام آباد میں 78 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثرین کی تعداد 12 ہے۔

    اب تک پاکستان میں کووڈ 19 سے 170 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

    پاکستان میں 4 اپریل کو کورونا وائرس کے 172 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔

    ہلاک شدگان میں سے 12 کا تعلق پنجاب، 15 کا سندھ، 14 کا خیبر پختونخوا، تین کا گلگت بلتستان جبکہ ایک کا بلوچستان سے ہے۔

  17. ’وائرس زائرین سے نہیں، فضائی راستے سے آئے مسافروں سے پھیلا‘

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس زائرین سے نہیں بلکہ فضائی راستے سے آئے مسافروں سے پھیلا ہے۔

    ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایران سے آئے زائرین کی وجہ سے کورونا وائرس کی مقامی منتقلی کے بہت کم متاثرین ہیں۔ جبکہ کووڈ 19 کی زیادہ تر مقامی منتقلی فضائی سفر کر کے یہاں آنے والے متاثرین کی وجہ سے ہوئی ہے۔

    انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایئر پورٹس پر پھنسے مسافروں، طلبہ اور روزگار کے لیے بیرون ممالک میں موجود پاکستانیوں کی واپسی ترجیح ہوگی۔

  18. گجرات پنجاب میں کورونا مریضوں کا دوسرا بڑا گڑھ کیوں بنا؟

  19. ’مسلم لیگ نواز کو ٹائیگر فورس کے نام پر اطمینان ظاہر کرنا چاہیے‘

    منصوبہ بندی اور ترقی کے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نواز کو وزیر اعظم کی جانب سے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے قائم کردہ ٹائیگر فورس کے نام پر اطمینان ظاہر کرنا چاہیے۔

    ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان مسلم لیگ نواز اور دوسری حکومت مخالف جماعتوں کو ٹائیگر کے نام پر اطمینان کا اظہار کرنا چاہیے کیونکہ ان کے رہنمائوں نے انتخابی مہم کے دوران یہ نعرہ استعمال کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے کو کھولنے کے اقدام سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کی مشکلات ختم ہوں گی۔

  20. ’نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے‘

    اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ’ہم کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے عوام اور صف اول کے طبی عملے کی مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے اقدامات کررہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے کے لیے طبی عملے کو تمام ضروری آلات اور سازوسامان فراہم کیے جا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس پر قابو پانے میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہ قومی یکجہتی کا منھ بولتا ثبوت ہے۔