آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’گو نیازی گو‘ کی گونج میں 31.3 کھرب خسارے کا بجٹ

تحریکِ انصاف کی حکومت کے وزیر حماد اظہر نے منگل کو 3137 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کر دیا ہے جبکہ دفاعی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر, حسن زیدی and عماد خالق

  1. بریکنگ, بجٹ اجلاس سے قبل اپوزیشن کا مشترکہ اجلاس

    پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کا اہم اجلاس بجٹ اجلاس سے قبل منعقد ہوا ہے۔

    مسلم لیگ کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کے مطابق اس اجلاس میں ’عوام دشمن‘ بجٹ کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی طے کی گئی ہے۔

  2. ٹیکس ایمنسٹی سکیم

    رواں سال وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے بجٹ سے ایک دن پہلے ہی قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ جن کا پیسہ باہر پڑا ہوا ہے وہ 30 جون تک اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم میں شریک ہوں اور اس سے فائدہ اٹھائیں اس کے بعد انھیں موقع نہیں ملے گا۔

    واضح رہے کہ اس سکیم کے تحت چار فیصد ٹیکس دے کر بلیک منی کو وائٹ کیا جاسکتا ہے۔ مشیر خارجہ کے مطابق ان افراد کے علاوہ جو عوامی عہدہ رکھتے ہیں کوئی بھی پاکستانی اس سکیم میں حصہ لے سکتا ہے۔

    اس سکیم سے وہ افراد استفادہ حاصل نہیں کر سکتے جو عوامی عہدے رکھنے والوں کے زیر کفالت ہیں۔ حزب اختلاف اور ماہرین دونوں ہی اس سکیم کو ماضی میں لائی جانے والی ایمنسٹی سکیم جیسا ہی قرار دیتے رہے ہیں۔

  3. خدمات کے شعبے میں ترقی کی شرح 4.71 فیصد رہی

    رواں مالی سال میں اس شعبے میں ترقی کا ہدف 6.5 فیصد تھا لیکن یہ شرح ہدف سے 1.8 فیصد کم رہی

  4. بریکنگ, اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مایوس کن اشاریے, ملک میں ترقی کی شرح مقررہ ہدف سے نصف رہی

    وزیراعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے پیر کو اسلام آباد میں جب معاشی سال 19-2018 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کی تو کہیں کوئی مثبت چیز نظر نہیں آئی۔ رواں مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 6.2 فیصد تھا لیکن معاشی ترقی کی شرح اس کا نصف یعنی 3.3 فیصد رہی۔

  5. 750 ارب کے نئے ٹیکسوں کا امکان

    آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق تیار کردہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ساڑھے سات سو ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے جس سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

  6. بجٹ تجاویز کی منظوری

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں منگل کی صبح منعقد ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ تجاویزکی منظوری دے دی ہے۔ اب یہ بجٹ دستاویز وزیرِ مملکت برائے خزانہ حماد اظہر پارلیمان میں پیش کریں گے۔

  7. بریکنگ, تحریکِ انصاف کی حکومت کا پہلا وفاقی بجٹ

    پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت اقتدار میں آنے کے دس ماہ بعد منگل کو اپنا پہلا باقاعدہ وفاقی بجٹ پیش کر رہی ہے۔ مالی سال 20-2019 کے اس بجٹ کا تخمنیہ اندازاً 68 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔