’یہ ایک غیر سیاسی مارچ ہے‘
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان اسلام آباد میں ہونے والے عورت مارچ میں پارٹی کا جھنڈا لے کر پہنچیں تو انھیں وہاں موجود شرکا سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے پاکستان کے مختلف شہروں میں عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ اس بارے میں دیکھیے بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔
حسن زیدی، تابندہ کوکب اور عابد حسین
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان اسلام آباد میں ہونے والے عورت مارچ میں پارٹی کا جھنڈا لے کر پہنچیں تو انھیں وہاں موجود شرکا سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد پریس کلب سے شرکا نے مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔
گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی پاکستان کے چند بڑے شہروں میں خواتین کے مختلف گروپس نے عورتوں کے حقوق کے حصول اور آگاہی پھیلانے کے سلسلے میں جمعے کے روز مارچ کا انعقاد کیا ہے۔
بی بی سی اردو کے عابد حسین نے اسی حوالے سے تین خواتین سے گفتگو کی اور ان سے سوال کیا کہ ان کی ذاتی زندگی میں ایسے کیا واقعات رونما ہوئے تھے جن کی وجہ سے ان میں عورتوں کے حقوق کی مہم میں شرکت کرنے کی خواہش پیدا ہوئی اور ان کے نزدیک عورت مارچ کی کیا اہمیت ہے اور وہ کیا معنی رکھتا ہے۔
عورت مارچ میں شرکت کرنے والی اسلام آباد کی فوزیہ پروین نے کہا کہ انھیں پانچ سال لگے جس کے بعد انھیں انتہائی تکلیف دہ شادی سے چھٹکارہ ملا۔
ملک بھر سے ہمارے نمائندے اور نامہ نگار عورت مارچ پر آئے مظاہرین کے بنائے گئے بینرز اور پلے کارڈز کی تصاویر ہمیں بھیج رہے ہیں۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے کرامت حسین کے مطابق کراچی میں عورت مارچ کا روٹ پی ایس ایل کے لیے آئی ٹیموں کی سکیورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے تبدیل کیا جا رہا ہے۔
مارچ کے شرکا اب فاطمہ جناح روڈ کے ذریعے کراچی کینٹ سٹیشن تک مارچ کر کے فریئر ہال واپس آ جائیں گے۔
نامہ نگار فرقان الہی نے لاہور میں عورت مارچ کے شرکا کی تصاویر بھیجی ہیں جو اب پریس کلب سے روانہ ہو کر چئیرنگ کراس کی جانب رواں دواں ہیں۔
نامہ نگار فرحت جاوید نے اسلام آباد پریس کلب سے تصاویر بھیجی ہیں جہاں شرکا کی جانب سے تقاریر کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
لاہور میں عورت مارچ کا آغاز پریس کلب سے ہوا اور اس کا رخ چیئرنگ کراس کی جانب ہے۔
گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی عورت مارچ میں شرکا نے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے پوسٹرز کے ذریعے اپنے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ پچھلے سال کراچی میں وائرل ہونے والا پوسٹر ’اپنا کھانا خود گرم کرو‘ اس بار بھی اسلام آباد میں مارچ میں شامل شخص کے ہاتھ میں نظر آیا۔
حیدر آباد میں خواتین کے ساتھ ساتھ مرد بھی عورت مارچ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
پریس کلب کے باہر موجود عثمان نے بی بی سی کو بتایا کہ آج کے مارچ میں شامل ہونے والی خواتین کا تعلق ورکنگ کلاس سے ہے اور انھیں بھی اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیے۔
پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں نے حکومت کی طرف سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر بنائے گئے اشتہار میں سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کا نام مبینہ طور پر نکالنے پر ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔
سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ویمن ڈے کے اشتہار سے ملک کی دو مرتبہ وزیر اعظم رہنے والی بے نظیر بھٹو کا نام، شکل اور ذکر تک نکال دیا۔
اُنھوں نے کہا کہ دنیا نے بے نظیر بھٹو کی خدمات کا اعتراف کیا اور ان کے نام پر یونیورسٹیوں میں چئیر اور کئی ملکوں میں سڑکوں کے نام رکھے گئے ہیں۔ شیری رحمان کے احتجاج پر حکومتی بینچوں میں شامل خواتین سینیٹرز نے بھی ڈیسک بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔
سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کروائیں گے کہ کیسے بےنظیر بھٹو کا نام اور ان کی تصویر اشتہار سے ہٹائی گئی۔
کراچی سے صحافی شمائلہ خان اور اسلام آباد سے نامہ نگار فرحت جاوید نے عورت مارچ کے حوالے سے تصاویر بھیجی ہیں جن میں مارچ کے شرکا پوسٹرز اور بینرز تیار کر رہے ہیں۔
آرٹلری میدان تھانے کے ایس ایچ او نے عورت مارچ کے شرکا کو کہا ہے کہ وہ اپنے مارچ کا راستہ تبدیل کر لیں کیونکہ فریئر ہال کے گردونواح میں سکییورٹی خدشات ہیں۔
صحافی شمائلہ خان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مارچ کے منتظمین سے مارچ کا راستہ تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔
منتظمین کے مطابق مقامی انتظامیہ نہ انھیں اسی مقام پر مارچ کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔