آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نواز شریف کو العزیزیہ ریفرینس میں سات برس قید: کب کیا ہوا؟

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل مل کیس میں سات برس قید اور تقریباً دو کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے مساوی جرمانے کی سزا سنائی ہے جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرینس میں انھیں بری کر دیا گیا ہے:بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, نواز شریف احتساب عدالت کی جانب روانہ

    مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف العزیزیہ سٹیل مل اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرینسز میں اپنے خلاف قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر کردہ مقدمات کا فیصلہ سننے کے لیے احتساب عدالت کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔

    نواز شریف کی اسلام آباد میں رکن اسمبلی عباس آفریدی کے فارم ہاؤس سے عدالت روانگی کے موقع پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے نعرے بازی کی۔

    ذرائع کے مطابق ان کے ساتھ حمزہ شہباز، پرویز رشید، سابق گورنر سندھ محمد زبیر، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، رانا ثناء اللہ اور دیگر لیگی رہنما بھی ہیں۔

  2. عدالتی کارروائی کے آغاز کا انتظار جاری

  3. ’انصاف کا ماحول اس عدالت میں آج بھی نہیں ہے‘

  4. نواز شریف کے سیاسی کریئر کی تصویری کہانی

    جب تک احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نواز شریف کے خلاف دو ریفرنسز کا فیصلہ نہیں سناتے، ہمارے قارئین نواز شریف کے سیاسی کرئیر کو تصویری کہانی کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں۔

  5. ’فیصلہ آنے تک یہیں سستاتے ہیں‘

    احاطہ عدالت میں فیصلے کا منتظرایک پولیس اہلکار بکتر بند گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر سستا رہا ہے

  6. ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ چھ بار ملتوی ہوا، آج کیا ہو گا؟, عابد حسین، بی بی سی اردو

    اس سال چھ جولائی کو جب احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کو ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ صادر کرنا تھا تو آج کے مقابلے میں اُس دن عدالت میں ایسی گہما گہمی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ نہ اس دن عدالت کے ارد گرد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تھی اور نہ ہی اتنی بڑی تعداد میں لیگی رہنما عدالت میں موجود تھے۔

    واضح رہے کہ جج ممد بشیر نے وہ فیصلہ صبح دس بجے محفوظ کر لیا تھا لیکن اس کے بعد پہلے 12 بجے، پھر ڈھائی، پھر تین، پھر ساڑھے تین بجے، پھر چار بجے اسے بار بار ملتوی کیا گیا اور بالآخر شام ساڑھے چار بجے انھوں نے وہ تاریخی فیصلہ سنایا جس کے تحت محمد نواز شریف کو دس سال، ان کی بیٹی مریم نواز کو سات سال اور مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔

  7. ’یہاں عدالتوں کو تالے لگے ہوئے ہیں‘

    سابق گورنر خیبر پختونخوا اور لیگی رہنما مہتاب عباسی نے عدالت میں داخلے سے روکے جانے پر کہا کہ ’یہاں عدالتوں کو تالے لگے ہوئے ہیں اور انصاف بھی ہمیں تالے میں نظر آتا ہے۔ وہاں موجود لیگی رہنما مشاہد اللہ نے مزید کہا کہ ’ہم اندر جائیں یا نہ جائیں، ہم نواز شریف کے ساتھ ہی ہیں۔‘

  8. ’نواز شریف ایک نا قابل تسخیر نظریے کی علامت بن چکا ہے‘

  9. ’دروازہ بند کس نے کیا ہے، پہلے یہ فیصلہ کر لیں‘, فاران رفیع، بی بی سی

    لیگی رہنماؤں کو عدالت کے احاطے میں داخل ہونے سے روکے جانے پرسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ’ابھی تو یہاں یہ نہیں پتہ کہ دروازہ بند کس نے کیا ہے۔ نہ کمشنر جانتا ہے، نہ ڈی سی جانتا ہے، نہ ایس پی جانتا ہے۔ پہلے یہ فیصلہ کر لیں کہ دروازہ بند کس نے کیا ہے۔‘جب ان سے سوال کیا گیا کہ ان کا اور دیگر رہنماؤں کا نام داخل ہونے والی فہرست میں شامل ہے تو انھوں نے جواب میں کہا: ’یہاں یہ نہیں پتہ کہ دروازہ بند کس نے کیا ہے تو لسٹ کا کیا فائدہ؟‘

  10. احتساب عدالت کے باہر سے فیس بک لائیو, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

  11. پولیس اہلکار اپنی پوزیشنز پر مستعد, فاران رفیع، بی بی سی

  12. عدالتی کارروائی کے آغاز کا انتظار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    احتساب عدالت میں کارروائی کے آغاز کے مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ زیادہ گزر جانے کے باوجود کارروائی شروع نہیں ہو سکی ہے۔ احسن اقبال اور راجا ظفرالحق سمیت مسلم لیگ ن کے رہنما اور کارکن عدالت کے احاطے میں کارروائی کے آغاز کے منتظر ہیں۔ واضح رہے کہ پارٹی کے تاحیات قائد اور تین مرتبہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے نواز شریف بھی ابھی تک اپنے مقدمے کا فیصلہ سننے کے لیے عدالت نہیں پہنچے ہیں۔

  13. بکتربند گاڑی عدالت کے احاطے میں پہنچا دی گئی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

  14. لیگی رہنما احتساب عدالت میں داخل ہونے سے قاصر, فاران رفیع، بی بی سی

    شاہد خاقان عباسی اور دیگر لیگی رہنما عدالت کی عمارت کے احاطے میں بھی داخل ہونے سے قاصر ہیں کیونکہ حکام نے مرکزی دروازے ابھی تک بند رکھے ہیں۔

  15. احتساب عدالت کے باہر سکیورٹی اور عدالت کی داخلی راستے پر دھکم پیل, فاران رفیع، بی بی سی

    فیصلے کے موقع پر احتساب عدالت کے اردگرد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور علاقے میں ایک ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں جبکہ رینجرز کے اہلکار عدالت کے احاطے میں موجود ہیں۔ جوڈیشیل کمپلیکس کو سیل کر دیا گیا ہے اور عدالت جانے والی تمام سڑکیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔

  16. مسلم لیگ کے مشاہد اللہ خان کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو, فاران رفیع، بی بی سی

  17. فیصلے سے قبل مریم نواز کی سوشل میڈیا پر واپسی

    ایون فیلڈ ریفرینس میں سزا کی معطلی کے بعد سے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی بیٹی اور جماعت کی رہنما مریم نواز خاموش تھیں لیکن انھوں نے اپنی یہ خاموشی العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرینسز کے فیصلے سے ایک دن قبل توڑی اور ٹوئٹر پر اپنے والد اور والدہ کی تصاویر اس پیغام کے ساتھ شیئر کیں کہ انھوں نے آخری مرتبہ اپنے والد کو والدہ کے ساتھ ہی مسکراتے دیکھا تھا۔

  18. لیگی قائدین کی آمد کا سلسلہ شروع

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر مسلم لیگ نون کے قائدین کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ سردار مہتاب عباسی اور عبدالقادر بلوچ احتساب عدالت پہنچ چکے ہیں۔

    دیگر لیڈر بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔

  19. احتساب عدالت کے باہر کے مناظر

    پیر کی صبح سے ہی اسلام آباد کی احتساب عدالت کے داخلی راستے پر کافی رش ہے اور صحافیوں کے لیے بھی عدالت تک رسائی مشکل ہے۔

  20. فلیگ شپ ریفرینسز میں کب کیا ہوا؟, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    • فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں 16 گواہوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔
    • اس ریفرینس میں بھی عدم حاضری پر حسن اور حسن نواز اشتہاری قرار دیے گئے
    • العزیزیہ کی طرح اس ریفرینس میں بھی پہلے 19 اکتوبر کو نواز شریف کی عدم موجودگی میں ان کے نمائندے ذریعے فرد جرم عائد کی گئی اور پھر آٹھ نومبر کو نواز شریف کی پانچویں پیشی کے موقع پر دوبارہ ان کی موجودگی میں فرد جرم عائد کی گئی تاہم ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا۔
    • نواز شریف نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں شفاف ٹرائل کے بنیادی آئینی حقوق سے محروم کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریفرنسز بدنیتی پر مبنی ہیں اور سیاسی انتقام کی بنیاد پر بنائے گئے۔
    • فرد جرم کے مطابق نواز شریف اپنے اثاثوں کی قانونی حیثیت ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ وہ متعدد مواقع ملنے کے باوجود اثاثوں کے ذرائع ثابت نہیں کر سکے۔ انھوں نے بچوں کے نام پر جائیداد بنائی۔
    • 1996 سے 2001 تک حسن نواز کا کوئی ذرائع آمدن نہیں تھا۔ تعلیم مکمل کرتے ہی حسن نواز نے متعدد کمپنیاں بنالیں۔ فلیگ شپ انویسٹمنٹ کمپنی 2001 میں لندن میں بنائی اور اس کے ڈائریکٹر بنے۔ اسی برس متحدہ عرب امارات میں کیپیٹل ایف زیڈ ای کمپنی قائم کی گئی۔
    • ملزمان کے اثاثوں اور پیش کردہ شواہد میں تضاد پایا گیا۔ یہ اثاثے ظاہر کردہ آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ حسن نواز کی لندن میں 10 کمپنیاں، کئی مہنگی جائیدادیں ہیں۔
    • فرد جرم میں نوازشریف کے عوامی عہدوں پر فائز رہنے کی تفصیل اور نااہلی کی بنیاد بننے والی کیپیٹل ایف زیڈ ای کمپنی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔