آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

قصور: کب کیا ہوا

صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں زینب کے اغوا، ریپ اور قتل پر شہر بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور ڈی سی او کے دفتر پر مشتعل ہجوم کے دھاوے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قصور میں بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والے کی کھوج لگانے کے لیے پولیس کے دو سو سے زیادہ اہلکار کوشاں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ’آپ کو پتہ نہیں بچے اغوا ہو رہے ہیں آپ نے دھیان نہیں دیا‘

    قصور سے منتخب ہونے والے ممبر قومی اسمبلی سلمان حنیف نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ قصور میں بچوں کے اغوا، ریپ اور قتل کے مقدمات کے حوالے سے پیش رفت ہو رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ والدین کو بھی مدد کرنی چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے میرا خیال ہے اس کا یہی حل ہے اس کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس سے قبل اغوا ہونے والی بچی جو فرار ہو کر گھر واپس لوٹ آئی کے والدین نے پولیس کو بتایا کہ انھوں نے بچی کو دہی لینے بھیجا تھا۔

    پولیس نے بچی کی گمشدگی اور سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد والدین سے کہا کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ بچے اغوا ہو رہے ہیں آپ نے دھیان نہیں دیا۔

  2. زینب کی نماز جنازہ کی ادائیگی

    آٹھ سالہ زینب کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔ نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے پڑھائی۔

  3. جب ماڈل ٹاؤن کے لوگوں کو سزا نہیں ملے گی تو یہی ہوگا‘

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ ’پہلے ایک معصوم بچی قتل ہوتی ہے اور پھر انصاف کا تقاضہ کرنے والوں پر پولیس فائرنگ کرتی ہے۔ جب آپ پنجاب پولیس کو ماڈل ٹاؤن میں بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے دیں گے اور کسی سے پوچھ گچھ نہیں ہوگی تو ایسا ہی ہوگا۔‘

  4. بریکنگ, ’بچی کا جنازہ آج رات دس بچے‘

    نامہ نگار حنا سعید نے بتایا کہ زینب کا جنازہ آج رات دس بچے تک ملتوی کر دیا گیا ہے اور اس وقت جنازے کو ان کے گھر لے جایا جا رہا ہے۔

  5. ’پہلا واقعہ نہیں‘

    پولیس کا کہنا ہے کہ قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ علاقے کے مکینوں کے مطابق ہر دوسرے تیسرے مہینے ایسے واقعات پیش آرہے ہیں۔

    ایک ماہ قبل بھی شہر کے مرکز سے زینب کی ہم عمر بچی اس وقت لاپتہ ہو گئی تھی جب وہ گھر کے قریب دکان پر کچھ خریدنے کے لیے نکلی تھیں۔

    اس ننھی بچی نے خود کو نامعلوم اغوا کار کی ہوس کا نشانہ بننے سے تو بچا لیا تھا اور وہ گھر بھی لوٹ چکی ہیں لیکن ابھی تک وہ اس واقعے سے ہونے والے ذہنی صدمے سے نہیں نکل پائیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ وہ بیان دینے کے قابل نہیں۔

  6. بریکنگ, مظاہرین نے ڈی پی او کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی

    قصور کی ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے مطابق مظاہرین نے ڈی پی او کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تاہم اسے ناکام بنا دیا گیا۔ ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا تھا۔

  7. بریکنگ, قصور میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا ہے

    پولیس نے ہماری نامہ نگار حمیرا کنول کو بتایا کہ قصور میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ شخص کس کی فائرنگ سے ہلاک ہوا ہے۔

  8. طلبا کا احتجاج

    قصور میں زینب کے ریپ اور قتل اور اسی طرح کے دیگر واقعات کے کے خلاف طلبا کا احتجاج جاری ہے۔ بلدیہ چوک میں پولیس کے خلاف نعرہ بازی ہو رہی ہے۔

  9. زینب کی تدفین کچھ دیر میں

    پولیس نے بی بی سی کی حنا سعید نے بتایا کہ مظاہروں کو آٹھ سالہ زینب کے جنازے کے لیے روک دیا گیا ہے۔ زینب کی تدفین کچھ دیر میں ہو گی۔

  10. ’بھرا بازار ہے سب اپنے ہی ہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کہاں گئی‘

    سب انسپیکٹر افتخار احمد کا کہنا ہے کہ زینب کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد نامعلوم شخص نے کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا۔ پولیس نے اس بچی کی لاش سرچ آپریشن کے دوران برآمد کی۔

    زینب کے والدین عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے تھے۔ ان کے چچا نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ 'ساتھ ہی خالہ کا گھر ہے زینب بچوں کے ساتھ پڑھنے کے لیے گئی تھی۔ بھرا بازار ہے سب اپنے ہی ہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کہاں گئی۔'

  11. 2016 کے بعد سے اب تک وفقے وقفے سے ایسے واقعات پیش آرہے ہیں: پولیس

    سب انسپکٹر افتخار احمد نے بتایا کہ 2016 کے بعد سے اب تک وفقے وقفے سے ایسے واقعات پیش آرہے ہیں۔

  12. ’ان واقعات میں ملوث شخص کوئی ذہنی مریض ہے‘

    'جہاں تک ہماری تفتیش ہوئی ہے تو ان واقعات میں ملوث شخص کوئی ذہنی مریض ہے۔ جیسے لاہور میں جاوید نامی شخص نے کیا تھا۔ اس کی کیٹگری مختلف ہے، زیادتی کی کوشش کرتا ہے، سانس روک دیتا ہے اور اسی دوران بچے کو مار دیتا ہے۔'

  13. ابھی تک بچوں کا قاتل ڈھونڈنے میں مشکلات اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے: پولیس

    زینب اور دیگر بچوں کے کیسز کی تفتیش سے منسلک پولیس افسر افتخار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ قصور کی آبادی چھ سے سات لاکھ ہے اور ہمارے دو سو سے زیادہ افسران پر مشتمل جے آئی ٹی چھ ماہ سے اسی قسم کے کیسز کو دیکھ رہی ہے لیکن ابھی تک بچوں کا قاتل ڈھونڈنے میں مشکلات اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ 'معمول میں تو بہت سے کیسز آتے ہیں لیکن یہ کیسز ان سے ہٹ کر ہیں۔ ابھی تک گمان یہی ہے کہ ایک ہی بندہ ہے جو بچوں کو راستے میں سے اٹھاتا ہے اور ان کی ڈیڈ باڈی کو پھینک دیتا ہے اور ان کیسز میں زیادہ بچے ہیں۔'

  14. چھ سے زائد کیسز: پولیس

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت مرکزی شہر کے مختلف تھانوں میں چھ سے زائد کیسز ایسے ہیں جن بچوں کو اغوا کے بعد قتل کر کے ان کی لاشوں کو اسی علاقے میں پھینک دیا گیا۔

  15. ’پولیس کے دو سو سے زیادہ افسران کوشاں‘

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور کی پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والے بظاہر ایک ہی شخص کا کھوج لگانے کے لیے پولیس کے دو سو سے زیادہ افسران کوشاں ہیں۔

  16. منگل کو قصور میں لاپتہ ہونے والی آٹھ سالہ زینب کی تشدد زدہ لاش ان کے گھر سے دو کلومیٹر دور ملی ہے۔