بریکنگ, سلمان اکرم راجہ کے دلائل مکمل
نامہ نگار آصف فارقی کے مطابق وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل مکمل کر لیے ہیں اور اب اسحاق ڈار کی جانب سے طارق حسن دلائل دے رہے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد مسلسل پانچ روز تک پاناما کیس کی سماعت کر کے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ آخری سماعت میں وزیراعظم کے بچوں کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کیے جبکہ جماعتِ اسلامی، پی ٹی آئی اور عوامی مسلم لیگ کی جانب سے بھی جواب الجواب دیے گئے۔
نامہ نگار آصف فارقی کے مطابق وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل مکمل کر لیے ہیں اور اب اسحاق ڈار کی جانب سے طارق حسن دلائل دے رہے ہیں۔
وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلین کو رقوم اپنے دادا شریف حسین اور والد نواز شریف سے ملیں۔ اور اگر میرے موکلین نے کوئی غلط کام بھی کیا ہے تو اس کا اثر فریق نمبر ایک یعنی وزیراعظم نواز شریف پر نہیں پڑتا۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اگر نواز شریف کے بچے لندن فلیٹس خریدنے کے ذرائع ثابت کردیں تو بچے اور باقی سب بری الذمہ ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا اثر عوامی عہدہ رکھنے والوں پر بھی ہوگا۔
نامہ نگار آصف فارقی کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے عدلات کو بتایا کہ لندن میں بہت سے ایسے وکلا ہیں جو سنیچر اور اتوار کو بھی کام کرتے ہیں اور انھوں نے ایسے وکلا کی ایک فہرست بھی عدالت کو فراہم کی۔ جواب میں جسٹس اعجاز افضل نے سلمان اکرم راجہ سے پوچھا کہ کیا اس فہرست میں اس وکیل کا نام بھی شامل ہے جس نے اپ کی دستاویز نوٹرائز کی ہیں۔ جواب میں سلمان اکرم راجہ نے کہا نہیں۔
پاناما کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کیا آپ ہم نے یہ کہہ رہے ہیں کہ کیس نیب کو بھجوا دیا جائے۔
اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا ’کہ میں نیب کا ذکر نہیں کر رہا میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اس کیس کی جامع تحقیقات کروائی جائیں۔‘
بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاناما کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر دس کو کھولنے کا فیلصہ کیا ہے۔
اسم وقع ہر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ والیم 10 کھولنے سے بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں گی۔
سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کا آغاز ہوگیا ہے۔ وزیراعظم کے بچوں حسن، سین اور مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ دلائل دے رہے ہیں۔
پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کے متعدد رہنما سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے موقع پر موجود ہیں۔
پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ قوم کی نگاہیں سپریم کورٹ پر ہیں۔
جمعرات کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا تھا کہ اگر نواز شریف کے بچے لندن فلیٹس خریدنے کے ذرائع ثابت کردیں تو بچے اور باقی سب بری الذمہ ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا اثر عوامی عہدہ رکھنے والوں پر بھی ہوگا۔
جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا کہ آج بھی عدالت اپنے بنیادی سوال پر ہے کہ ان فلیٹوں کی خریداری کے لیے پیسہ کہاں سے آیا تھا۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزیر اعظم کے بچوں جن میں مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز شامل ہیں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلین نے ایسا کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ اُن کے موکل حسین نواز نے یہ فلیٹس 2006 میں خریدے تھے۔ اس پر بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے بچوں پر الزام ہے کہ جب لندن میں یہ فلیٹس خریدے گئے تو اس وقت اُن کی مالی حالت اتنی اچھی نہیں تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ درخواست گزار کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم سے پوچھا جائے کہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔
بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے وزیر اعظم نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ 'لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم پر الزام کیا ہے'۔ اُنھوں نے کہا کہ ہر کوئی اپنے مطلب کی بات نکالتا ہے
پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں بھی پاناما کیس پر سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے سینیٹرز نے ایک بار پھر وزیرِاعظم نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
جمعرات کو سینیٹ میں سینیٹر تاج حیدر نے پاناما کیس پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اور قومی اداروں بشمول سپریم کورٹ آف پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا اور بد نیتی پر مبنی حملے کی تحاریک پیش کیں۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مسلم لیگ ن کے سینٹرز کو مخاطب کر کے کہا کہ 'میں اپنی ذاتی حیثیت میں مشورہ دے رہا ہوں کہ وزیرِ اعظم نواز شریف پر سنگین الزامات لگ گئے ہیں اور وہ اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں۔‘
پاکستان کی سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کا آج مسلسل پانچواں دن ہے۔ یہ کیس وزیراعظم ان ان کے بچوں کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ سماعت کا آغاز کچھ دیر میں ہو گا جبکہ اس وقت سپریم کورٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
گذشتہ روز پاناما لیکس کے مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی کر رہے ہیں نے کہا تھا کہ اگر نواز شریف کے بچے لندن فلیٹس خریدنے کے ذرائع ثابت کردیں تو بچے اور باقی سب بری الذمہ ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا اثر عوامی عہدہ رکھنے والوں پر بھی ہوگا۔