آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان کا بجٹ 18-2017: کب کیا ہوا؟

پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے جمعے کو قومی اسمبلی میں مالی سال 18-2017 کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کے لیے کلک کریں۔

لائیو کوریج

  1. اخراجات کاتخمینہ 4753 ارب روپے

    آئندہ مالی سال میں اخراجات کاتخمینہ 4753 ارب روپے لگایا گیا ہے جو کہ موجودہ مالی سال کے مقابلے گیارہ اعشاریہ سات فیصد زیادہ ہے۔

  2. مالی محصولات کا تخمینہ 5310 ارب روپے

    مالی محصولات کا تخمینہ 5310 ارب روپے لگایا گیا ہے جن میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 4013 ارب روپے ہیں۔

  3. ضرب عضب خصوصی الاؤنس

    افواج پاکستان کے تمام افسران اور جوانوں کو ان کی تنخواہ کا دس فیصد بطور ضرب عضب خصوصی الاؤنس دیا جائے گا۔ یہ الاؤنس بجٹ میں کیے جانے والے تنخواہوں میں اضافے کے علاوہ ہوگا۔

  4. گوادر کے لیے 31 ترقیاتی منصوبے

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں گوادر کے لیے 31 ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں جن میں نیا ایئرپورٹ، 200 بستر کا ہسپتال، بجلی گھر اور کھارا پانی صاف کرنے کا پلانٹ شامل ہیں۔

  5. دیامر بھاشا اور نیلم جہلم

    دیامربھاشا ڈیم کے لیے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس سے 4500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار متوقع ہے۔ نیلم جہلم منصوبے کے لیے 19 اعشاریہ چھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

  6. مردم شماری کا فیلڈ ورک مکمل

    وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں جاری 2017 کی مردم شماری کا فیلڈ ورک مکمل ہو چکا ہے۔

  7. بریکنگ, ’پی ایس ڈی پی کا 67 فیصد انفراسٹرکچر کے لیے مختص‘

    وزیرِ خزانہ نے کہا کہ آئندہ سال کے ترقیاتی بجٹ میں ہائی ویز کے لیے 320 ارب روپے اور ریل ویز کے لیے 43 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

  8. فنانس سیکٹر میں مرعات

    • چھوٹے تاجروں کے لیے مائیکرو فنانس کے تحت 8 ارب روپے کے اضافی قرضے
    • الیکٹرانک بینکنگ کے فروغ کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں 2 ارب روپے کا فنڈ
    • الیکٹرانک بینکنگ کے فروغ کے لیے ای والٹ پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم
  9. بینظیر انکم سپورٹ پروگرام

    • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 121 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
    • یہ موجودہ مالی سال کے لیے مختص شدہ 40 ارب کی رقم کے مقابلے میں 300 فیصد اٰضافہ ہے
    • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 68 لاکھ مستحق افراد مستفید ہوں گے۔
  10. پاکستان میں کاٹن ہیج ٹریڈنگ متعارف کروانے کا اعلان

    وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں کاٹن ہیج ٹریڈنگ متعارف کروائی جارہی ہے۔

  11. کسانوں کے لیے رعایات

    • کسانوں کی آسانی کے لیے درآمد شدہ یوریا کی قیمت ایک ہزار روپے فی بوری ہوگی
    • ڈی اے پی پر فکسڈ ٹیکس میں کمی لائی جائے گی۔
    • یوریا کی بوری کی 1400 قیمت برقرار رکھی جائے گی۔
    • زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بھی سستی بجلی فراہم کی جاتی رہے گی۔
  12. فی کسان 50 ہزار تک کا قرضہ

    فی کسان 50 ہزار تک کا قرضہ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

  13. ’کسانوں کے لیے خصوصی رعایتی قرضے‘

    • وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ حکومت نے آئندہ سال کے بجٹ میں کسانوں کو کم شرح سود پر قرضے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
    • ان کا کہنا تھا کہ ان قرضوں کا حجم 1001 ارب روپے ہوگا جو کہ ترقیاتی بجٹ کے برابر ہے۔
    • ان قرضوں پر 9.9 فیصد کی رعایتی شرح سے سود وصول کیا جائے گا۔
  14. ’شرح نمو کا ہدف 6 فیصد ہوگا‘

    وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ سال شرح نمو کا ہدف 6 فیصد ہوگا۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال یہ شرح 5.8 رہی تھی۔

  15. ’ایف بی آر کا ریونیو ہدف 14 فیصد بڑھا دیا گیا‘

    وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ سال ایف بی آر کے ریونیو ہدف میں 14 فیصد اضافہ ہوگا