بریکنگ, ’70 افراد ہلاک اور 250 زخمی‘
پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں ہونے والے خود کش دھماکے میں کم سے کم 70 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر جمعرات کی شام ہونے والے خودکش حملے میں 72 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 250 سے زیادہ ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں ہونے والے خود کش دھماکے میں کم سے کم 70 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔
جمعرات کو صوبہ سندھ کے علاقے سیہون شریف میں دھماکہ ہوا جس میں 72 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں گذشتہ پانچ روز سے دہشت گردی کے واقعات تواتر سے پیش آ رہے ہیں۔ 12 فروری
کراچی میں نجی نیوز چینل سما کی ڈی ایس این جی پر حملے میں اس میں سوار تیمور عباس نامی اسسٹنٹ ہلاک ہوئے۔
13 فروری
مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس پر ایک مظاہرے کے دوران خودکش حملہ ہوا جس میں ڈی آئی جی ٹریفک مبین احمد اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد محمود گوندل سمیت 11 افراد ہلاک اور 70 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم ناکارہ بناتے ہوئے پھٹ گیا جس سے دو پولیس اہلکار ہلاک اور 14 دیگر افراد زخمی ہو گئے۔
15 فروری
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور قبائلی علاقے مہمند ایحنسی میں شدت پسندی کے دو واقعات میں تین اہلکاروں سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو ئے۔پشاور میں حیات آباد کے علاقے میں خودکش حملے میں ججوں کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک شخص ہلاک ہوا۔
16 فروری
بلوچستان کے شہر آواران میں فوجی قافلے پر حملے میں تین فوجی ہلاک ہوئے۔ اس حملے میں کیپٹن طحٰہ، سپاہی کامران ستی اور سپاہی مہتر جان ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستانی فضائیہ کا سی ون تھرٹی طیارہ نواب شاہ کے ہوائی اڈے سے زخمیوں کو منتقل کرے گا۔ پاکستانی بحریہ کا ہیلی کاپٹر سیہون سے اور ارد گرد کے علاقوں سے زخمی اٹھائے گا۔
ایدھی سروس کے سربراہ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ 30 سے زائد ایمبولیسنز جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کراچی اور سکھر سے مزید ایمبولینسز بھجوائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ زخمی سیہون شریف کے سول ہسپتال بھجوائے گئے ہیں۔
’ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد ابھی معلوم نہیں لسٹیں تیار کی جا رہی ہیں کچھ دیر بعد اس بارے میں بتایا جا سکے گا۔‘
لعل شبہاز قلندر کی درگاہ میں ہونے والے دھماکے کے ایک عینی شاہد باقر شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے تقریباً دس منٹ کے بعد جو وہ درگاہ کے احاطے میں پہنچے تو وہاں قیامت کا منظر تھے۔ باقر شیخ کے بقول انسانی اعضا بکھرے ہوئے تھے اور ہر طرف افراتفری تھی۔
انھوں نے آبدیدہ آواز میں کہا ہے کہ’ لال قلندر پر پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، ہمارے شہر میں کبھی اتنی تباہی نہیں ہوئی۔ ایسا تباہی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی۔‘
وزیر صحت سندھ سکندر علی میندھرو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے اندر خود کش دھماکے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 60 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
دھماکے کے ایک عینی شاہد غلام قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ درگاہ کے سنہری گیٹ پر اپنے چار دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اس دوران زور دار دھماکہ ہوا اور وہ سب باہر کو بھاگے۔
انھوں نے بتایا کہ تھوڑی دور جا کر رکے تو درگاہ کے اندر سے زخمی حالت میں لوگ باہر نکل رہے تھے اور ساتھ میں چیخ و پکار کر رہے تھے کہ اندر بہت تباہی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ اس کے بعد اندر جا کر صورتحال دیکھی جو بیان نہیں کی جا سکتی، صرف اتنا کر فرش پر ہر طرف خون تھا اور لوگ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہوئے تھے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ زخمیوں کے لیے فوری طبی امداد ہے۔ مقامی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پاس ہیلی کاپٹر نہیں ہیں اس لیے فوج سے ہیلی کاپٹرز کی فراہمی کے لیے بات کی ہے۔‘
سیہون شریف میں ایک میڈیکل سٹور کے مالک غلام احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ایمبولینسز کے ذریعے مریضوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد اب وہاں فوج اور پولیس کھڑی ہے اور معلوم نہیں کتنا نقصان ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حادثے کی وجہ سے اب دکانوں کو بند کیا جا رہا ہے۔
سیہون سے ایک پولیس اہلکار دوست علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سیہون ہسپتال میں متعدد لاشیں لائی گئی ہیں تاہم صحیح تعداد کا علم نہیں ہے‘۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اتنے بڑے دھماکے سے نمٹنے کے لیے سیہون کے ہسپتال میں سہولیات نہیں ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری پوری توجہ زخمیوں کو طبی امداد دینے پر ہے۔‘
پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے اندر خود کش دھماکہ ہوا ہے جس میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے سیہون بم دھماکے کے زخیموں کی امداد کے لیے ہدایات کی ہیں۔ فوج اور رینجرز کے اہلکار طبی امداد کے لیے جائے حادثہ پر روانہ ہو گئے ہیں جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ حیدرآباد سی ایم ایچ زخمیوں کو علاج کی سہولت دینے کے لیے تیار ہے۔
سینیئر صحافی مظہر عباس نے لکھا کہ ’نہ ہسپتال نہ ایمبولینس۔ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ دھماکے کی نہیں مگر صحت کے نظام میں ناکامی کی؟‘
عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر نے دھماکے کی مذمت کی اور کہا ہے کہ حکومت انسانی جانیں بچانے میں ناکام رہی ہے۔