اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر فیض آباد انٹر چینج پر جماعت لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک کے دھرنے کے 20ویں روز حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف آپریشن مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوا۔
آپریشن میں اب تک سو سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں متعدد سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
آپریشن کے آغاز کے بعد کراچی اور لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں چھوٹے چھوٹے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
پیمرا حکام کا کہنا ہے کہ پیمرا کے احکامات پر کیبل آپریٹرز نے لائیو کوریج کرنے پر زیادہ تر ٹی وی چینلز کی نشریات کو روک دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینلز کو لائیو کوریج کرنے پر تنبیہہ کی گئی تھی۔
آپریشن کے پیشِ نظر موٹر وے پولیس کے حکام نے اسلام آباد لاہور موٹروے پر چکری، پنڈی بھٹیاں سمیت متعدد مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی دی ہیں۔
ادھر راولپنڈی، اسلام آباد میٹرو بس سٹیشنز پر رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
جماعت لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا موقف ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف نامے کے بارے میں جو ترمیم کی گئی تھی وہ ختم نبوت کے منافی تھی۔