آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سپریم کورٹ سے نواز شریف کی نااہلی: کب کیا ہوا؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف دائر پاناما کیس کے فیصلے میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے جس کے بعد نواز شریف وزیر اعظم کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ’شریف خاندان اپنی آمدنی کے ذرائع بتانے میں ناکام رہا‘

    جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج وزیر اعظم نا اہل ہوئے تو ملک کرپشن سے پاک ہو جائے گا۔ سراج الحق کے مطابق شریف خاندان اپنی آمدن کے ذرائع بتانے میں ناکام رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کا فیصلہ ملک کی سیاست پر اثر انداز ہو گا۔

  2. سکیورٹی سخت

    پاناما کیس کے فیصلے کے دن اسلام آباد کے ریڈ زون میں سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے سامنے سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد موجود ہے۔

  3. ’عمران کی جدوجہد کامیاب ہو رہی ہے‘

    پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے جمعے کو سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جدوجہد کامیاب ہو رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان ذرائع آمدن نہیں بتا سکا ہے۔

    فواد چوہدری کے مطابق احتساب پہلے ہو جاتا تو پاکستان بہت آگے جا چکا ہوتا۔

    انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی 60 روزہ تحقیق نے نواز شریف کا کچہ چھٹہ کھول دیا ہے۔

  4. پانچ رکنی بینچ کورٹ روم ون میں فیصلہ سنائے گا

    بینچ میں فیصلے پر عملدرآمد کی نگرانی کرنے والے تین رکنی بینچ کے ارکان جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس عظمت سعید شیخ کے علاوہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد بھی اس پینچ میں شامل ہیں۔

  5. ’عمران خان فیصلہ سننے نہیں آئیں گے‘

    پاکستان تحریک انصاف کے نعیم الحق نے کہا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کے باعث عمران خان آج پاناما کیس کا فیصلہ سننے کے لیے سپریم کورٹ نہیں آئیں گے۔

  6. پاکستان کی سپریم کورٹ نے 21 جولائی کو پاناما لیکس کے بارے میں فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فیصلہ سناتے وقت وزیر اعظم کی نااہلی کے معاملے کو بھی ضرور دیکھے گی۔

    21 جولائی کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا تھا کہ اگر نواز شریف کے بچے لندن فلیٹس خریدنے کے ذرائع ثابت کردیں تو بچے اور باقی سب بری الذمہ ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا اثر عوامی عہدہ رکھنے والوں پر بھی ہوگا۔

    جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا کہ آج بھی عدالت اپنے بنیادی سوال پر ہے کہ ان فلیٹوں کی خریداری کے لیے پیسہ کہاں سے آیا تھا۔

  7. فیصلہ محفوظ

    جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ کے بعد پانچ روز تک سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 21 جوالائی کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

  8. ’پاناما کیس کا فیصلہ آتے ہی مستعفی ہو جاؤں گا‘

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاناما لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے فوراً بعد وزارت اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو جائیں گے۔

  9. مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی حتمی رپورٹ

    سپریم کورٹ کے تین ججوں پاناما لیکس کے حوالے مزید تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جس نے دو ماہ کی تحقیقات کے بعد اپنی حتمی رپورٹ دس جوالائی کو پیش کی تھی۔

  10. جے آئی ٹی کی رپورٹ کی جلد نمبر چار میں ایسا کیا ہے؟

    جے آئی ٹی کی رپورٹ کی جلد نمبر چار میں ایسا کیا ہے جس کے بارے میں سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ یہ نظرانداز نہیں کی جاسکتی ہیں؟

  11. ’پورے پاکستان میں اس احتساب کو کوئی نہیں مانے گا‘

    وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ کہ گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں کہ پورے پاکستان میں اس احتساب کو کوئی نہیں مانے گا۔

    اپر دیر میں لواری ٹنل کے افتتاح پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ احتساب نہیں استحصال ہے۔

    ’تمہارے احتساب کو کوئی نہیں مانے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے صبر کا امتحان نہ لو۔ صبح سے بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں کہ نواز شریف استعفیٰ دے۔‘