بلوچستان کے
ضلع پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات
مزدور ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔
پنجگور پولیس
کے مطابق مزدوروں کو پنجگور شہر کے قریب خدابادان کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا
ہے۔ پنجگور پولیس کے ایک اہلکار شہزاد بلوچ نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے
مزدور ایک گھر میں رہائش پزیر تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنیچر کی شب نو بجے کے بعد
نامعلوم مسلح افراد دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے اور وہاں رہائش پزیر
مزدوروں پر فائر کھول دیا۔
انھوں نے
بتایا کہ فائرنگ سے چھ مزدور موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کا
کہنا تھا کہ زخمی مزدوروں کو ہسپتال منتقلی کے دوران ان میں سے ایک زخموں کی تاب
نہ لا کر چل بسے۔
ہلاک ہونے
والے مزدوروں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا
ہے۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے مزدوروں کی شناخت ہوگئی ہے
جن کا تعلق ملتان کے مختلف علاقوں سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مزدور مختلف علاقوں
میں کام کرتے تھے اور رات کو خدابادان کے علاقے میں ایک گھر میں رہتے تھے۔
پولیس
اہلکار کے مطابق واقعے کے حوالے سے شواہد اکھٹے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے
تاہم یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔
درایں اثنا
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک
مرتبہ پھربلوچستان میں ’دہشت گردوں‘ نے غریب پاکستانی مزدوروں پر وار کیا ہے۔ ایک
بیان میں انھوں نے کہا کہ ’دہشت گرد کب تک بلوں میں چھپیں گے۔ چن چن کر بے گناہ
پاکستانیوں کے قتل کا حساب لیں گے۔‘
پنجگور ایران سے متصل بلوچستان کا سرحدی ضلع ہے۔ پنجگور شہر اس ضلع کا ہیڈکوارٹر ہے جو کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً ساڑھے پانچ سو کلومیٹر دور جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ پنجگور کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہیں۔ پنجگور میں پہلے بھی ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ بم دھماکوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
اگرچہ تاحال اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں بدامنی کے ایسے واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔ پنجگور انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔ اس ڈویژن کے دیگر دو اضلاع گوادر اور کیچ میں اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
رواں سال مئی کے مہینے میں ضلع گوادر کے علاقے سربندن میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے حجام کی دکان پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات افراد مارے گئے تھے۔ اس سے قبل گوادر سے متصل ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں بھی اکتوبر 2023 میں فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے چھ مزدور ہلاک ہوئے تھے۔