آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی بینچ سنی اتحاد کونسل (تحریک انصاف) کی مخصوص نشستوں پر آج سماعت کرے گا

پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس پر سماعت آج چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی لارجر بینچ کرے گا۔

خلاصہ

  • اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس بابر ستار کے خلاف ’سوشل میڈیا مہم‘ اور ’فیملی کا ڈیٹا لیک کرنے‘ پر توہین عدالت کیس کل یعنی تین جون کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔
  • بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ گوادر میں باڑ لگانے کے حوالے سے ریاست کے خلاف عوام کو ورغلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
  • سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم انٹرا کورٹ اپیلوں کی 30 مئی کی عدالتی کارروائی کے جاری کردہ تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا ’قوی امکان تھا کہ جب ایک سیاسی جماعت کا سربراہ جو اس عدالت کا وکیل بھی نہ ہو، کسی مقدمے میں عدالت سے مخاطب ہو گا تو وہ سیاسی نوعیت کے معاملات پر بھی بات کرے اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پوائنٹ سکورنگ بھی کرے گا، عمران خان نے بعد میں یہ ثابت بھی کیا۔‘

لائیو کوریج

  1. افواج پاکستان کو بغاوت پر اکسانے کا الزام ’ایبسولوٹ نان سینس‘ ہے، عمران خان کا جیل میں ایف آئی اے ٹیم سے ملاقات سے انکار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایف آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا اکاوئنٹ کے ذریعے افواج پاکستان کو بغاوت پر اکسانے کے الزام کو ’ایبسولوٹ نان سینس‘ قرار دیتے ہوئے اپنے وکیل کے بغیر تفتیش میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔

    ایف آئی اے سائبر کرائم کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ ’عمران خان کے ایکس ٹوئٹر اکاوئنٹ سے ریاست مخالف مواد شیئر کیا گیا ہے اور ریاستی اداروں بشمول فوج کے خلاف جھوٹا بیانیہ اور غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں جو بظاہر فوجی اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کے ضمرے میں آتا ہے۔‘

    ایف آئی اے کی جانب سے پیکا 2016 کے تحت جیل میں عمران خان سے اس معاملے پر تفتیش کی اجازت ملنے کے بعد ایف آئی اے سائبر کرائم کی ایک ٹیم گذشتہ رات اڈیالہ جیل پہنچی تو جیل حکام کے مطابق سابق وزیر اعظم نے ملنے سے انکار کر دیا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے وکیل کے بغیر ایف آئی اے کی تفتیش میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے خلاف یہ الزامات ’ایبسولوٹ نان سینس‘ (یعنی بلکل بکواس) ہیں۔

    جیل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان نے ایف ائی اے ٹیم کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کیا۔

    جیل اہلکار کے مطابق عمران خان نے کہا کہ وہ کسی بھی سوال کا جواب وکلا کی موجودگی میں ہی دیں گے جس کے بعد ایف ائی اے ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا موقف تحریری طور پر حاصل کر لیا۔

  2. شاعر احمد فرہاد بازیابی کیس: ’یہ کیس صرف تب ختم ہو گا جب وہ عدالت میں پیش ہوں گے،‘ جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے شاعر احمد فرہاد کی بازیابی درخواست نمٹانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سماعت 7 جون تک ملتوی کر دی ہے۔

    آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے احمد فرہاد کی اہلیہ عروج زینب کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے ایمان مزاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں۔

    دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے عدالت کو بتایا کہ احمد فرہاد پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حدود میں مقدمات درج ہیں اور وہ 2 جون تک جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ احمد فرہاد سے ان کی فیملی کی ملاقات کرا دی گئی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے حبس بے جا کی پٹیشن نمٹانے کی استدعا کی۔

    اس موقع پر ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ہم نے صرف واپسی نہیں مانگی تھی بلکہ یہ بھی مانگا تھا کہ جبری گمشدگی کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی ہو۔

    دورانِ سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’یہ کیس صرف تب ختم ہو گا جب وہ عدالت میں پیش ہو گا۔ جس دن احمد فرہاد کورٹ میں آئے گا ہم پٹیشن نمٹا دیں گے۔‘

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے دلائل دیے کہ کشمیر فارن ٹیراٹری ہے جس کا اپنا آئین اور اپنی عدالتیں ہیں،کشمیر میں پاکستانی عدالتوں کے فیصلے غیر ملکی عدالت کے فیصلوں کے طور پر پیش ہوتے ہیں۔

    ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا کہ فیملی دھیر کوٹ تھانے گئی، پورا پولیس سٹیشن اور لاک اپ دیکھا لیکن احمد فرہاد وہاں نہیں تھے، پوچھنے پر بتایا گیا کہ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت مظفر آباد ٹرانسفر کر دیا ہے، اور وہاں پہنچے تو پولیس والوں ے بتایا کہ وہ تھانے میں نہیں ایس ایچ او کے پاس ہیں۔ ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا کہ احمد فرہاد کو ملنے کے لیے 14 کلومیٹر دور گئے، ان کی حالت اچھی نہیں تھی۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ احمد فرہاد پر اب دو ایف آئی آرز ہیں؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے علم میں دو ہیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ 29 مئی کو گرفتاری ہوئی ہم اُس سے پہلے والے وقت کو ڈھونڈ رہے کہ وہ کہاں تھا؟

    جس پر پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ سر یہ وہاں کی عدالت دیکھے گی۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ہر شخص کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے، پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ اب انھوں نے قانون کے دائرے میں رہ کر کام کیا ہے۔

    ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے دلائل دیے کہ عدالت نے قوانین اور طریقہ کار کے غلط استعمال کو بھی دیکھنا ہے، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ہم نے قانون کے غلط استعمال کا ہی تو تعین کرنا ہے۔

    پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ جس طرح یہاں نو مئی کے واقعات ہوئے ویسے ہی وہاں بھی احتجاج پر مقدمات درج ہوئے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ احمد فرہاد پر کتنے پرچے ہوئے ہیں؟ پولیس نے احتجاج پر تیس چالیس پرچے تو دیے ہوں گے، جسٹس محسن اختر کیانی کا مزید کہنا تھا کہ میں ابھی کمنٹ نہیں کروں گا ورنہ پرچوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔

    عدالت نے احمد فرہاد کی بازیابی درخواست نمٹانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سماعت 7 جون تک ملتوی کر دی ہے۔

  3. سائفر کیس میں ہونے والے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت تین جون کو ہو گی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں ہونے والے فیصلے کے خلاف اپیلیوں پر سماعت کے لیے تین جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔

    پیر کو سابق وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہو گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کیس کی سماعت کریں گے۔

    گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے پراسیکوٹر کے وکیل اور ملزمان کے وکلا کو اپنے اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

    خیال رہے کہ 28 مئی کو عام تعطیل کے باعث سائفر کیس کی سماعت نہیں ہو سکی تھی۔

  4. سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس پر سماعت فل کورٹ کرے گی

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 جون کو فل کورٹ کرے گی۔

    جسٹس مسرت ہلالی علالت کے باعث بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے۔ ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے تمام 13 ججز اس بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے گذشتہ سماعت پر حکومتی اتحاد کو دی گئی اضافی نشستیں معطل کر دی تھیں۔

  5. ایران اور عمان کے قریب سمندری حدود سے ماہی گیروں نے 17 افراد کو ریسکیو کرلیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    ایران اور عمان کے قریب سمندری حدود سے ماہی گیروں نے 17 ایسے افراد کو ریسکیو کرلیا ہے جو کئی روز تک سمندری حدود میں پھنسنے، بھوک اور پیاس کے باعث نڈھال ہوچکے تھے۔

    بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کے ڈپٹی کمشنر حمود الرحمان نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان افرادکو ریسکیو کرنے والے ماہی گیر بلوچستان کے ہیں۔

    اس سلسلے میں سماجی رابطوں کی میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں یہ نظر آتا ہے کہ ان میں سے بعض کی حالت زیادہ خراب ہے۔

    ویڈیو میں ان افراد کو بچانے والے ماہی گیر اردو میں بات کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ سمندر میں پھنسنے والوں نے ان افراد نے اپنے مرنے والے تین ساتھیوں کو سمندر میں پھینک دیا ہے۔

    ماہی گیر زندہ بچ جانے والے افراد کو پانی کے علاوہ کھانے کے لیے کھجور دے رہے ہیں۔ وائرل ہونے والی ویڈیوز میں کیا ہے اور ان میں نظر آنے والے افراد کیا بول رہے ہیں؟

    سمندر میں جن افراد کو بچا لیا گیا ہے ان کے حوالے سے دو ویڈیوز وائرل ہیں۔ ایک ویڈیو میں دور سے ایک چھوٹی کشتی کو بڑی کشتی کے پاس لایا گیا اور اس سے ان لوگوں کو بڑی کشتی میں منتقل کیا گیا۔

    ریسکیو کرنے والے ماہی گیر اردو زبان بول رہے ہیں۔ خیال رہے کہ بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر اور ایران کے ساحلی علاقے چاہ بہار میں ماہی گیر بلوچ ہیں تاہم ایرانی بلوچ ماہی گیروں کو اردو نہیں آتی ہے وہ بلوچی یا فارسی بولتے ہیں۔ جن لوگوں کو ریسکیو کرلیا گیا ہے وہ بھی اردو زبان بولتے اور سمجھتے ہیں تاہم ان میں سے بعض پشتو بولتے ہیں جن کا لہجہ خیبرپختونخوا کے لوگوں کی ہے۔

    بچ جانے والے افراد میں سے ایک کی آواز واضح ہے جو کہ پشتو زبان میں یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ ایک ہے۔

    یسی اطلاعات ہیں کہ جن لوگوں کو بچالیا گیا ہے وہ غیر قانونی طورپر سمندری راستے کے زریعے مسقط جانے کی کوشش کررہے تھے اور ان کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے ۔ تاہم گوادر میں سرکاری حکام نے تاحال ان کی شناخت کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے۔ ویڈیو میں یہ نظر آتا ہے کہ جب ان کو بڑی کشتی میں منتقل کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے ان میں سے بعض پانی کے لیے اشارہ کررہے ہوتے ہیں۔ ماہی گیروں میں سے ایک ان کو کہہ رہا ہوتا ہے کہ آپ لوگ ڈریں نہیں ہم مسلمان ہیں جبکہ جن لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

    اس دوران نعرہ تکبیر اور اللہ و اکبر کے نعرہ بھی لگائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک ماہی گیر اپنے دوسروں ساتھیوں کو کہتا ہے کہ ان کو پہلے دو دو کھجور دے دو اور جب یہ تھوڑے سے سنبھل جائیں تو ان کو مزید کھجور دو۔

    اسی طرح وہ متائثرہ افراد کو بھی یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ کھائیں آپ لوگ سیٹ ہوجاو گے اور تھوڑے وقفے کے بعد آپ لوگ مزید کھائیں۔

    گوادر کے ڈپٹی کمشنر کا کیا کہنا ہے؟

    جب ان افراد کے حوالے سے گوادر کے ڈپٹی کمشنر حمودالرحمان سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جو کشتی پھنسی تھی وہ ایران اور عمان کی پانیوں میں تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ ماہی گیری کے دوران یہ مقامی گیروں کو نظرآئے تو انھوں نے ان کو ریسکیو کیا جن کی تعداد 17 ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ماہی گیر ابھی تک واپس نہیں پہنچے ہیں اور شاید ایران کا جو قریبی ساحل پڑتا تھا انھوں نے ریسکیو کیے جانے والے افراد کو وہاں چھوڑا ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ لوگ واپس یہاں نہیں آتے ہیں اس وقت ساری چیزیں واضح نہیں ہوں گی۔

  6. پاک سیٹ ایم ایم ون: لاکھوں روپے کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ کیا پاکستان میں عام آدمی کے لیے ’گیم چینجر‘ ثابت ہو گا؟

  7. ’ہم کالی بھیڑیں نہیں ’بمبل بِی‘ ہیں‘: عمران خان کا ویڈیو لِنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیشی کا احوال

  8. عمران خان کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی جانے والی ویڈیو فوجیوں کو بغاوت پر اکسانے کے مترادف ہے: ایف آئی اے

    وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) کے سائبر ونگ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے حمودالرحمان کمیشن رپورٹ سے متعلق کیے گئے ایک ٹویٹ اور ویڈیو پر انکوائری کا فیصلہ کیا ہے۔

    ایف آئی اے سائبر ونگ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کا فیصلہ 26 مئی کو عمران خان کے آفیشل ایکس ہینڈل سے ایک ’پراپیگنڈا ویڈیو پوسٹ کرنے پر کیا گیا۔

    عمران خان کے آفیشل ہینڈل سے کیے گئے اس ٹویٹ میں شیخ مجیب اور سابق آرمی چیف جنرل یحیٰ خان کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن‘- بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان‘

    ایف آئی اے نے نوٹیفکیشن میں اسے سراسر گمراہ گن ہے جس کا مقصد فوجیوں کو عسکری قیادت سے متنفر کرنا اور بغاوت پر اکسانا ہے تا کہ وہ اپنے فرائض منصبی ادا نہ کر سکیں۔

    ایف آئی اے کے مطابق عمران خـان کا یہ اقدام سنہ 2016 کے پیکا قانون کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق اس وقت عمران خان کے ایکس پر فالورز کی تعداد 20.6 ملین ہے جبکہ ان کی یہ ویڈیو 42 لاکھ بار دیکھی گئی۔ 56 ہزار صارفین نے اسے لائیک کیا اور 38 ہزار صارفین نے اسے ری ٹویٹ کیا۔

    ایف آئی اے کے مطابق یہ اکاؤنٹ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے اور یہ ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیتا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل جمعرات کو آرمی چیف جنرل عاصم کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں ہونے والی فارمیشن کمانڈر کانفرنس کے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ریاستی اداروں بالخصوص افواج پاکستان کے خلاف جاری شدہ ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘، مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بیرونی سہولت کاروں کی مدد کے ساتھ کی جا رہی ہے، اس کا مقصد جھوٹ اور پروپیگنڈا کے ذریعے پاکستانی قوم میں مایوسی پیدا کرنا اور قومی اداروں بالخصوص افواج پاکستان اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر نے فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں لازم ہے کہ نو مئی کے منصوبہ سازوں، مجرموں، اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

  9. ’قید تنہائی میں ہوں، اڈیالہ میں سب کچھ کرنل صاحب کنٹرول کرتے ہیں‘: عمران خان کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمہ, شہزاد ملک، بی بی سی

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں جمعرات کو نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران پہلی بار سابق وزیر اعظم عمران خان اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان باضابطہ مکالمہ ہوا ہے۔

    عمران خان اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی سماعت کا حصہ بنے۔ عمران خان کی خواہش کے باوجود یہ سماعت لائیو سٹریم نہیں کی گئی۔ دوران سماعت عمران خان سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’خان صاحب آپ خود دلائل دینا چاہیں گے یا خواجہ حارث پر انحصار کریں گے؟‘

    عمران خان نے کہا کہ ’آدھا گھنے دلائل دینا چاہتا ہوں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’قید تنہائی میں ہوں، مجھے تیاری کے لیے مواد ملتا ہے نہ ہی وکلا سے ملاقات کرنے دی جاتی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے عمران خان کی بات سن کر کہا کہ ’آپ کو مواد بھی فراہم کیا جائے گا اور وکلا سے ملاقات بھی ہوگی۔‘

    عمران خان نے چیف جسٹس سے کہا کہ ’اڈیالہ میں سب کچھ کرنل صاحب کنٹرول کرتے ہیں۔‘

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’پہلے بھی وکلا سے ملنا چاہتا تھا لیکن ممکن نہیں ہوا۔‘ عمران خان نے چیف جسٹس سے کہا کہ ’آپ وکلا سے ملاقاتوں کا حکم جاری کریں۔

    چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ’آپ کے سامنے ہی حکم نامہ لکھوائیں گے۔‘

    چیف جسٹس نے عمران خان سے کہا کہ ’اگر آپ قانونی ٹیم کی خدمات لیں گے تو پھر آپ کو نہیں سنا جائے گا۔‘

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’کسی قانونی شخص سے معاونت تو ضروری ہے تیاری کے لیے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’خواجہ حارث اور ایک دو اور وکلا سے ملنا چاہتا ہوں۔‘ عمران خان نے چیف جسٹس سے کہا کہ ’آپ سے بات کرنے کا موقع شاید دوبارہ نہ ملے۔‘

    سابق وزیراعظم نے چیف جسٹس سے کہا کہ ’آٹھ فروری اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر میری دو درخواستیں زیرالتوا ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کے وکیل کون ہیں ان کیسز میں؟ عمران خان نے کہا کہ ’حامد خان میرے وکیل ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’حامد خان کو معلوم ہے کیسز کیسے جلدی مقرر کرائے جاتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے عمران خان سے کہا کہ ’آج کیس نیب ترامیم کے حوالے سے ہے۔‘ سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

    عمران خان نے سپریم کورٹ کے سامنے زیر التوا مقدمات پر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ملک کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔‘

    چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاریخ کا اعلان شیڈول دیکھ کر کریں گے۔ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔

  10. ’ریاستی اداروں کے خلاف بیرونی قوتوں کی مدد سے ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کا مقصد فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے‘: فارمیشن کمانڈرز کانفرنس

    پاکستانی فوج کی قیادت کے مطابق ریاستی اداروں بالخصوص افواج پاکستان کے خلاف جاری شدہ ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘، مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بیرونی سہولت کاروں کی مدد کے ساتھ کی جا رہی ہے، اس کا مقصد جھوٹ اور پروپیگنڈا کے ذریعے پاکستانی قوم میں مایوسی پیدا کرنا اور قومی اداروں بالخصوص افواج پاکستان اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر نے فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں لازم ہے کہ نو مئی کے منصوبہ سازوں، مجرموں، اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم نے جی ایچ کیو میں فارمیشن کمانڈر کانفرنس کی سربراہی کی جس میں کور کمانڈرز، پرنسپل سٹاف افسران اور فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے بھی شرکت کی۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ فورم نے اتفاق کیا کہ ملک ان مقاصد سے آگاہ ہے اور ان قوتوں کے ارادوں کو شکست دی جائے گی۔

    اعلامیے کے مطابق فورم نے افغانستان کی سرحد پار سے مسلسل خلاف ورزیوں اور افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کی منصوبہ بندی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فورم نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دشمن پاکستان کے اندر سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کیے لیے افغانستان کو استعمال کر رہے ہیں۔

    آئی ایس پی آر اعلامیے کے مطابق فورم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام کی بیش بہا قربانیوں کا اعتراف کیا اور دہشت گردی کو فیصلہ کن شکست دینے کے لیے نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    اعلامیے کے مطابق فورم نے بلوچستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ بیرونی طور پر پروپیگنڈہ کرنے والوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’فورم نے کہا کہ پروپیگنڈہ کرنے والوں کی پشت پناہی غیر ملکی سپانسرڈ پراکسیوں کے ذریعے کی جاتی ہے تا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو امن اور ترقی سے دور رکھا جا سکے۔‘

    اعلامیے کے مطابق فورم نے مشرقی سرحد پر موجودہ صورتحال اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں معصوم کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کے تازہ ترین واقعات کا جائزہ لیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے لیے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اعلامیے کے مطابق فورم نے انڈیا میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بڑھتے ہوئے فاشزم پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فورم نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی مذمت کی۔

    فوج نے غزہ پٹی کے اندر رفح آپریشن اور دیگر تمام آپریشنز کو روکنے کے لیے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی حمایت کی۔

  11. ‏نیب ترامیم کیس میں عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری، سماعت کی لائیو سٹریمنگ کے درخواست مسترد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کو لائیو سٹریمنگ کے ذریعے براہ راست دکھانے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ جمعرات کے دن سماعت کے موقعے پر سابق وزیر اعظم عمران خان اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر پیش ہوئے تو خیبر پختونخوا ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے عدالت کی کارروائی کو لائیو سٹریمنگ کے ذریعے دکھانے کی درخواست کی گئی تھی۔

    اس درخواست پر عدالتی بینچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تاہم پانچ رکنی بینچ میں سے جسٹس اطہر من اللہ نے لائیو سٹریمنگ کی درخواست کے حق میں فیصلہ دیا۔

    عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار، یعنی عمران خان، کو اجازت ہے کہ وہ ویڈیو لنک عدالتی کارروائی میں شامل ہو سکتے ہیں۔

    عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ہم جلد بازی میں فیصلہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے اس پر سوچ بچار کی گئی۔

    کیس کی سماعت کا باقاعدہ آغاز ہوا تو وفاق کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیے جبکہ دسری جانب عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں موجود ہیں۔

    اس سے قبل سماعت کے آغاز میں خیبر پختونخوا کے ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے اس درخواست پر بحث ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ سماعت کی کارروائی لائیو سٹریمنگ کے ذریعے نشر کی جائے۔

    چیف جسٹس کا موقف تھا کہ یہ مقدمہ مفاد عامہ کا نہیں اس لیے لائیو سٹریمنگ نہیں کی جا سکتی جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ سماعت کی لائیو سٹریمنگ ہونی چاہیے تاکہ یہ تاثر نہ آئے کہ کسی سے غیر مساوی سلوک کیا جا رہا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس کے بعد عدالتی بینچ اٹھ کر چلا گیا اور لائیو سٹریمنگ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا جو وقفے کے بعد سنایا گیا۔

  12. ‏نیب ترامیم کیس میں عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری، سماعت کی لائیو سٹریمنگ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کے موقعے پر سابق وزیر اعظم عمران خان جمعرات کے دن ویڈیو لنک پر پیش ہوئے تو عدالت کی کارروائی کو لائیو سٹریمنگ کے ذریعے دکھانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو عمران خان اڈیالہ جیل سے دوسری بار ویڈیو لنک پر پیش ہوئے۔ ویڈیو لنک میں ان کو شلوار قمیض میں ملبوس دیکھا جا سکتا تھا۔

    تاہم سماعت کے آغاز میں خیبر پختونخوا کے ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے اس درخواست پر بحث ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ سماعت کی کارروائی لائیو سٹریمنگ کے ذریعے نشر کی جائے۔

    تاہم چیف جسٹس کا موقف تھا کہ یہ مقدمہ مفاد عامہ کا نہیں اس لیے لائیو سٹریمنگ نہیں کی جا سکتی۔

    اس پر بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ سماعت کی لائیو سٹریمنگ ہونی چاہیے تاکہ یہ تاثر نہ آئے کہ کسی سے غیر مساوی سلوک کیا جا رہا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس کے بعد عدالتی بینچ اٹھ کر چلا گیا اور لائیو سٹریمنگ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

    اس سے قبل 16 مئی کو تقریباً ڈھائی گھنٹے کی سماعت کے دوران عمران خان کو بولنے کا موقع نہیں ملا تھا اور حکومتی وکیل دلائل دیتے رہے۔ جس کے بعد عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی تھی۔

  13. ارشد شریف قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست پر اٹارنی جنرل آف پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاونت منگی ہے۔

    جمعرات کے دن اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران درخواست گزار صحافی حامد میر اپنے وکیل شعیب رزاق کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے یو ٹیوبر عمران ریاض اور صدیق جان کی جانب سے اس درخواست میں پٹیشنر بننے کی متفرق درخواست کو بھی منظور کر لیا۔

    سماعت کے دوران بیرسٹر شعیب رزاق نے کہا کہ ارشد شریف کیس میں سپریم کورٹ میں کچھ نہیں ہو رہا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے تو ہائی کورٹ کو یہ کیس نہیں سننا چاہیے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم اٹارنی جنرل کو نوٹس کر کے ان سے معاونت مانگ لیتے ہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔

  14. ‏’عدالتی فیصلے پر تنقید بلاجواز ہے‘ چیف جسٹس آف پاکستان کے حکم پر رجسٹرار کا برطانوی ہائی کمشن کو خط

    پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کو رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں عدالتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنانے پرایک خط لکھا گیا ہے۔

    رجسٹرار سپریم کورٹ کے مطابق انھوں نے یہ خط چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت پر لکھا ہے۔

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے برطانوی ہائی کمشن کو لکھے جانے والے خط میں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے بلے نشان کے عدالتی فیصلہ پر تنقید کا جواب دیا ہے۔

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے برطانوی ہائی کمشن کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ ’پارٹی نشان کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید مناسب نہیں، سپریم کورٹ نے وہی فیصلہ دیا جو قانون کے مطابق تھا۔‘

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے حکم پر لکھے جانے والے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کے حوالے سے الیکشن ایکٹ 2017 پارلیمنٹ نے منظور کیا۔ سیاسی جماعتوں میں شخصی آمریت روکنے اور جمہوریت کی خاطر پارٹی انتخابات کرانا لازم ہے، قانون کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت پارٹی انتخابات نہ کرائے وہ انتخابی نشان کی اہل نہیں۔‘

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ ’برطانوی ہائی کمشنر نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جمہویت اور کھلے معاشرے کی بات کی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے غلطیوں کا ازالہ کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ برطانیہ بھی غلطیوں کا ازالہ کرے۔‘

    خط میں 1953 میں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے اور بالفور اعلامیہ کے ذریعے اسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔

    برطانوی ہائی کمشن کو لکھے جانے والے خط میں ’سپریم کورٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قانون نے کیا کہا ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے آپ کی تنقید بلاجواز تھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ چیف جسٹس کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوامی اہمیت کے مقدمات براہ راست نشر ہونے لگے۔ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مقدمات لائیو نشر کرنے کی اجازت دی۔‘

  15. مظفرآباد پولیس نے شاعر احمد فرہاد کی فیملی سے ملاقات کروا دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کارِ سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت گرفتار شاعر احمد فرہاد کی ملاقات اُن کے خاندان کے افراد سے کروائی گئی۔

    شاعر احمد فرہاد کو اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ایک مقدمے میں مظفر آباد پولیس کی تحویل میں ہیں۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق احمد فرہاد کی ملاقات اُن کی اہلیہ، بیٹی اور بھائی سے کروائی گئی ہے۔ اس بارے میں احمد فرہاد کی وکیل ایمان مزاری نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کی فیملی سے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

    اسلام آباد سے 17 مئی کو لاپتہ ہونے والے شاعر احمد فرہاد کے خلاف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ 29 مئی کو ہی درج کیا گیا تھا جس کے بارے میں گزشتہ روز 29 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کو احمد فرہاد کی اہلیہ کی جانب سے ان کی گمشدگی کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران آگاہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے احمد فرہاد کی وکیل ایمان مزاری کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

    ایمان مزاری نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں احمد فرہاد کی اہلیہ اور اُن کے بھائی نے بتایا ہے کہ گزشتہ شب اُن کی ملاقات احمد فرہاد سے کروائی گئی۔

    خیال رہے کہ احمد فرہاد کے خلاف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کوہالہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے مطابق احمد فرہاد نے کوہالہ پل پر تفتیش کے دوران پولیس سے تلخ کلامی اور بدتمیزی کی جس کے بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ باغ پولیس کی مدعیت میں درج اس مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فرہاد علی شاہ نے کار سرکار میں مزاحم ہو کر جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

    یاد رہے احمد فرہاد کی گمشدگی کا معاملہ سامنے آنے پر شاعر احمد فرہاد کی اہلیہ عین نقوی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ہفتہ قبل بجلی اور اّٹے کی قیمتوں کے معاملے پر ان کے شوہر نے ذمہ داران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اس کے بعد 17 مئی کو ان کے شوہر کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے اور جب وہ گھر لوٹے اور گھنٹی بجائی تو اتنے میں کچھ نامعلوم افراد وہاں پہنچ گئے اور احمد فرہاد کو زبردستی اٹھا کر لے گئے۔

    عین نقوی کے مطابق ان کے شوہر کو گذشتہ دو سالوں سے سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور انھیں کہا جا رہا تھا کہ وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے خلاف لکھنا چھوڑ دیں ورنہ ان کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔

    یاد رہے کہ احمد فرہاد کی گمشدگی کے بعد ان کی اہلیہ کی جانب سے ان کی بازیابی سے متعلق دائر کردہ درخواست پر گذشتہ ہفتے ہونے والی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر کمانڈر اسلام کے علاوہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں کو بھی آج (بدھ) ہونے والی سماعت میں پیش ہونے کے احکامات دیے تھے۔ تاہم آج ہونے والی سماعت میں آئی جی اسلام آباد پیش ہوئے اور عدالت کو آگاہ کیا احمد فرہاد کو باغ پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

  16. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • بلوچستان کے ضلع واشک میں مسافر بس کو پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں تربت یونیورسٹی کے دو پروفیسرز کے علاوہ مکران میڈیکل کالج کے دو طالب علم بھی شامل تھے۔ ہلاک ہونے مکران میڈیکل کالج کے طالب علم چراغ اسلم کی کزن نمرا اسد نے بتایا کہ ’ڈاکٹر بننا چراغ کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا جسے حاصل کرنے کے لیے انھوں نے بھرپور محنت بھی کی لیکن زندگی نے ان کے ساتھ وفا نہیں کی۔‘
    • پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے ضلع واشک میں پاکستان، ایران سرحدی گزرگاہ کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں کم از کم چار پاکستانی شہری ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔ ضلع واشک کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق بلوچستان کے رخشاں ڈویژن سے ہے۔ فون پر رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر واشک نعیم عمرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ سرحدی علاقے میں گذشتہ شب پیش آیا تھا جس میں چار پاکستانیوں کی ہلاکت ہوئی۔
    • تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ریاستی اداروں کے اوپر اسٹیبلشمنٹ کا دباو بڑھتا جا رہا ہے،ریاست اداروں کی اس وقت بھرپور کوشش ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر نہ آ سکیں۔‘ اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران رؤوف حسن نے مزید کہا کہ ’75 سال سے سٹیبلشمنٹ کا کردار ہم دیکھ رہے ہیں۔ ماتحت عدالتوں سے بزور شمشیر لیے گئے فیصلے اعلی عدالتوں میں قائم نہیں رہ سکتے۔‘
    • سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے عدت میں نکاح کے مقدمے میں سزا کے خلاف اپیلوں پر مقدمے کی سماعت کرنے والے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج نے فیصلہ سنانے سے معذرت کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے مقدمہ کسی اور عدالت ٹرانسفر کرنے کا خط لکھ دیا ہے۔
  17. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!پاکستان کی سیاست، سیکورٹی، عدلیہ، معیشت اور دیگر امور سے متعلق خبریں جاننے کے لیے بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    گذشتہ دونوں کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں