آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سیلاب زدہ علاقوں سمیت پاکستان کے مختلف حصوں میں 5.9 شدت کا زلزلہ، خیبرپختونخوا میں سات سے نو ستمبر تک مزید بارشوں کی پیشگوئی

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 111 کلومیٹر اور مرکز کوہ ہندوکش افغانستان ریجن تھا۔ محکمہ موسمیات نے 7 ستمبر سے 9 ستمبر تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے مزید بارشوں، آندھی، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلادھار بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔

خلاصہ

  • انڈیا نے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے پاکستان سے سفارتی سطح پر رابطہ کرتے ہوئے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
  • پاکستان میں صوبہ پنجاب میں سیلابی صورتحال سے متعلق ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں سیلاب سے مجموعی طور پر 38 لاکھ 75 ہزار لوگ متاثر اور 46 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم سیلاب میں پھنس جانے والے 18 لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
  • پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق اگلے 72 گھنٹوں میں تینوں انڈین ڈیم فل ہونے کی توقع ہے جبکہ تھین ڈیم پہلے ہی فل ہو چکا ہے جس کے باعث اگلے دو سے تین ہفتے راوی میں پانی کی سطح میں اضافہ متوقع ہے۔
  • پاکستانی میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مون سون کا نواں سپیل اگلے 24 سے 48 گھنٹوں تک مزید جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران ملک کے بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

لائیو کوریج

  1. متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے کو ضم کرنے سے تعلقات کو نقصان پہنچے گا

    متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کو ’ریڈ لائن‘ عبور کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا اور نا صرف یہ بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے والے ابراہام معاہدے کی روح کو نقصان پہنچائے گا۔

    متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ عہدیدار لانا نصیبہ نے کہا ہے کہ اس طرح کا اقدام اسرائیل فلسطین تنازعے کے دو ریاستی حل کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔

    فلسطینی انتظامیہ کی وزارت خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے اس موقف کا خیر مقدم کیا ہے۔

    تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے اس بیان پر تاحال کوئی تبصرہ یا ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن نسیبہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزل سموٹریچ نے مغربی کنارے کے پانچ میں سے تقریبا چار حصوں کو ضم کرنے کی تجویز پیش کی۔

    اسرائیل نے سنہ 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کرنے کے بعد سے اب تک تقریباً 160 بستیاں تعمیر کی ہیں جن میں سات لاکھ یہودی آباد ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے ساتھ 33 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔ یہ بستیاں بین الاقوامی قانون کی روح سے غیر قانونی ہیں۔

    سنہ 2020 کے ابراہام معاہدے، جو امریکہ کی ثالثی میں طے پائے تھا میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

    اس معاہدے پر دستخط کے لیے متحدہ عرب امارات کی اہم شرائط میں سے ایک یہ تھی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی سابقہ حکومت مغربی کنارے کے کچھ حصوں بشمول بستیوں اور وادیِ اردن کو ضم کرنے کے اپنے منصوبوں کو روک دے۔ نیتن یاہو نے اس وقت کہا تھا کہ وہ ان منصوبوں کو ’معطل‘ کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں لیکن وہ ’میز پر‘ موجود ہیں یعنی اب بھی زیر بحث ہیں۔

    ان کے موجودہ دائیں بازو اور آباد کاروں کے حامی حکومتی اتحاد کے بہت سے وزراء طویل عرصے سے مغربی کنارے کے کچھ حصّے یا پورے ہی علاقے کو ضم کرنے کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ لیکن اطلاعات کے مطابق وہ برطانیہ، فرانس اور متعدد دیگر ممالک کی جانب سے اس ماہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حالیہ اعلانات کے جواب میں اس طرح کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے بارے میں بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  2. اگلے 72 گھنٹوں میں راوی میں پانی کی سطح میں اضافہ متوقع

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے حوالے سے تین وارننگز موصول ہوئیں اور چناب میں گذشتہ رات شدید سیلابی صورتحال نے بڑے چیلنجز کھڑے کیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ فی الحال پانی کی سطح مستحکم ہے تاہم چناب میں سیلابی صورتحال سے پہلے سے متاثر اضلاع دوبارہ متاثر ہوں گے۔

    پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر کے مطابق:

    • ستلج میں گذشتہ دو ماہ سے سیلابی صورتحال برقرار ہے جبکہ راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
    • اگلے 72 گھنٹوں میں تین انڈین ڈیم بھر جانے کی توقع ہے جبکہ تھین ڈیم پہلے ہی مکمل بھر چکا ہے جس کے باعث اگلے دو سے تین ہفتے راوی میں پانی کی سطح میں اضافہ متوقع ہے۔
    • خانیوال کے 136 اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے 75 دیہات متاثر ہو چکے ہیں۔
    • راوی کا پانی چناب میں شامل ہونے کے بجائے واپس آ رہا ہے جس کے باعث پانی کی سطح میں کمی نہیں آئی۔
    • احمد پور سیال میں پانی کی کمی تک سدھنائی میں بھی پانی کی سطح کم نہیں ہو گی۔
    • ہیڈ محمد والا اگلا بڑا چیلنج ہے جہاں چار سے پانچ فٹ پانی کی گنجائش موجود ہے جبکہ ملتان میں شیر شاہ بریج پر پانی کا دباؤ برقرار ہے اور دو فٹ کا مارجن باقی ہے۔
    • پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 3900 سے زائد موضع جات اور 37 لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ملک بھر میں 409 فلڈ کیمپس قائم کیے گئے ہیں جن میں 25 ہزار سے زائد افراد موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 14 لاکھ سے زائد افراد اور 10 لاکھ جانور محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔
    • اب تک 46 افراد سیلاب کے باعث ہلاک ہوئے ہیں اور 17 بریچنگ پوائنٹس نوٹیفائی کیے جا چکے ہیں۔
  3. گجرات، سیالکوٹ، جہلم اور گردونواح میں آئندہ چند گھنٹوں میں شدید بارشوں کی پیش گوئی

    محکمہ موسمیات نے اب سے کچھ دیر قبل بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کیا ہے جس کے مطابق اب سے تین گھنٹوں کے دوران گجرات، جہلم، وزیر آباد، سیالکوٹ منڈی بہاؤالدین اور گرد و نواح میں شدید بارش ہو سکتی ہے۔

    ادارے کے مطابق ان علاقوں میں بارش برسانے کا موسم متحرک ہے جس کے زیر اثر گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    ادارے نے خراب موسم کے پیش نظر ان علاقوں کے شہریوں کو انتہائی محتاط رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

  4. چینی اور روسی صدور کے درمیان گفتگو: ’150 برس تک زندہ رہنے کے امکانات موجود ہیں‘, بی بی سی رشین سروس

    بیجنگ میں فوجی پریڈ سے قبل چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ملاقات ہوئی تھی اور اس ملاقات کے دوران جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی عمر کو وسعت دینے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال ہوا تھا۔

    جس وقت صدر پوتن اور صدر شی شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کے ہمراہ تیانانمین گیٹ کی طرف جا رہے تھے اس وقت دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو کے کچھ حصے ٹی وی سکرین پر بھی نشر کیے جا رہے تھے۔

    چینی اور روس صدور کے درمیان گفتگو ایک منٹ سے بھی کم وقت تک جاری رہے اور اس میں بار بار اعلانات کے سبب تعطل بھی آتا رہا۔

    اسی وجہ سے ان کی گفتگو کا صرف کچھ حصہ ہی سُنا جا سکا۔

    اس گفتگو کی ریکارڈنگ میں صدر شی کو چینی زبان میں کچھ الفاظ کہتے ہوئے سنُا جا سکتا ہے: جیسے کہ ’ان دنوں‘ اور ’70 برس۔‘

    مترجم نے چینی صدر کے الفاظ کا روسی زبان میں ترجمہ کیا جس کا مطلب اردو زبان میں کچھ یوں نکلتا ہے: ’لوگ 70 برس کی عمر تک شاز و نادر ہی زندہ رہتے تھے لیکن اب 70 برس کی عمر میں بھی آپ بچے ہی رہتے ہیں۔‘

    صدر پوتن ان کی اس بات پر کچھ تبصرہ ضرور کیا لیکن ان کی آواز سُنی نہیں جا سکی۔

    تاہم ایک مترجم نے چینی زبان میں ان کے جملوں کا ترجمہ کیا جس کا مطلب اردو میں کچھ یوں نکلتا ہے: ’بائیو ٹیکنالوجی کے طفیل انسانی اعضا کی مسلسل پیوندکاری کی جا سکتی ہے، اس کے سبب لوگ جوان سے جوان تر ہوتے جائیں گے اور شاید ہو سکتا ہے کہ وہ لافانیت بھی حاصل کر لیں۔‘

    کورین زبان میں ان دونوں رہنماؤں کی گفتگو کا ترجمہ کرنے والے مترجم نے بھی اعضا کی پیوندکاری کا ذکر کیا ہے۔

    پھر صدر شی نے ایک مرتبہ پھر چینی زبان میں کہا کہ: ’طبی پیش گوئیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس صدی میں 150 برس تک زندہ رہنے کے امکانات موجود ہیں۔‘

    ایک پریس کانفرنس میں صدر پوتن نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے صدر شی کے ساتھ دراز عمری کے موضوع پر بات کی ہے۔

  5. انڈونیشیا میں سینکڑوں خواتین کا ’پولیس کے ناجائز رویوں اور غیر ضروری سرکاری اخراجات کے خلاف‘ جھاڑو اٹھا کر احتجاج

    بدھ کے روز انڈونیشیا کے دارالحکومت میں سینکڑوں خواتین نے گلابی لباس پہنے اور جھاڑو تھامے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا۔ وہ پولیس کے ناجائز رویوں اور غیر ضروری سرکاری اخراجات کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں۔

    جکارتہ اور دیگر اہم شہروں میں مظاہرے دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں جن کی بنیاد مہنگائی اور پارلیمنٹ کے اراکین کو ملنے والی مہنگی مراعات کے خلاف عوامی غصہ ہے۔

    یہ مظاہرے اس وقت پرتشدد ہو گئے جب نوجوان موٹر سائیکل ٹیکسی ڈرائیور عفان کرنیاون پولیس کی گاڑی کے نیچے آ کر ہلاک ہو گئے۔

    مظاہروں کے شدت اختیار کرنے کے بعد صدر پرابووا نے اعلان کیا کہ وہ بیجنگ کے اپنے دورے کو منسوخ کر دیں گے تاکہ چین کی بڑے پیمانے پر فوجی پریڈ میں شرکت نہ کر سکیں، مگر بدھ کے روز وہ چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ گروپ فوٹو کے لیے کھڑے نظر آئے۔

    چین کے دورے سے قبل صدر پرابووا نے ہفتے کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ وہ قانون سازوں سے مراعات کو واپس لے لیں گے۔ اور یہی مظاہرین کی بنیادی شکایات میں سے ایک تھی۔

    بدھ کے روز ہونے والے مظاہرے کے دوران، انڈونیشیا کی خواتین اتحاد (آئی ڈبلیب اے) کی گلابی لباس میں ملبوس مظاہرین نے کہا کہ جھاڑو اُن کی خواہش کی علامت ہے کہ ’ریاست کی گندگی، عسکریت پسندی اور پولیس کے ظلم و ستم کو صاف کیا جائے۔‘

    مظاہرین نے ’پولیس میں اصلاحات کرو‘ کے نعرے والے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔

  6. وینزویلا کے صدر مادورو نے شی جن پنگ کا دیا ہوا فون دکھایا ’امریکی اسے ہیک نہیں کر سکتے‘

    وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے پیر (یکم ستمبر) کو ہواوے کا سمارٹ فون دکھایا جو اُن کے بقول چین کے صدر شی جن پنگ نے انھیں تحفے میں دیا ہے۔

    انھوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس کی سکیورٹی خصوصیات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی انٹیلیجنس اسے ہیک نہیں کر سکتی۔‘

    ’یہ شاندار ہے۔ میں سب کچھ اسی فون کے ذریعے معلوم کرتا ہوں جو شی جن پنگ نے مجھے دیا۔‘

    انھوں نے فون دکھاتے ہوئے کہا ’دیکھیں، شی جن پنگ نے مجھے یہ ہواوے کا فون دیا ہے، دنیا کا سب سے بہترین فون۔‘

    ’اور امریکی اسے ہیک نہیں کر سکتے، نہ اُن کے جاسوس طیارے اور نہ ہی اُن کے سیٹلائٹ۔‘

  7. انڈیا کی ’فوڈ باسکٹ‘ کہلانے والا پنجاب سیلاب اور بارشوں کی زد میں، تین لاکھ ایکڑ سے زیادہ زمین پر لگی فصلوں کو نقصان, ابھیشیک ڈے، بی بی سی نیوز دلی

    انڈیا کی ریاست پنجاب میں شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں اب تک 30 افراد ہلاک اور ساڑھے تین لاکھ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔

    حکام نے دریاؤں میں پانی کی سطح کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین پنجاب کے تمام 23 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں۔

    نشیبی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے تقریباً 20 ہزار افراد کا انخلا کیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے سینکڑوں امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔

    پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان نے ملک کے عوام سے ’ریاست کا ساتھ‘ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سیلاب سنہ 1988 کے بعد سے ریاست میں آنے والا اب تک بدترین سیلاب ہے۔

    پنجاب کو اکثر انڈیا کی ’فوڈ باسکٹ‘ کہا جاتا ہے کیونکہ چاول اور گندم سمیت ملک کی زرعی پیداوار کا بڑا حصہ اسی ریاست سے آتا ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلاب کے سبب پنجاب میں تین لاکھ سے زیادہ ایکڑ زمین پر لگی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    خیال رہے پنجاب کے تین کروڑ سے زیادہ افراد کا انحصار زراعت کے شعبے پر ہے۔

    دریائے ستلج کے کنارے واقع علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ رات رات بھر دریا میں پانی کی سطح کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں تاکہ انسانی زندگیاں محفوظ رہ سکیں۔

    صابرہ نامی دیہات کے رہائشی جسویر سنگھ نے بی بی سی پنجابی کو بتایا کہ ’یہاں پانی کی سطح بہت اونچی ہے۔ ڈیم میں دراڑیں ہیں۔۔۔ جہاں سے بھی یہ ٹوٹتا ہے ہم اس کی مرمت کرتے ہیں۔‘

    انڈیا کے ساتھ پاکستان کے صوبے پنجاب میں بھی شدید بارشوں اور سیلاب کے سبب نقصانات دیکھنے میں آ رہے ہیں اور دونوں ممالک میں اس صورتحال سے 20 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

  8. پوتن اور کم جونگ اُن کی ملاقات: ’شمالی کوریا کے فوجی یوکرین میں روسی فوج کے شانہ بشانہ بہادری سے لڑے‘

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین میں روس کے شانہ بشانہ لڑنے والے اپنے فوجیوں کی بہادری پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا شکریہ ادا کیا۔

    شمالی کوریا کے رہنما نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ وہ روس کی ’ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    دونوں رہنماؤں کی آج ملاقات ہوئی جب چین نے دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنی سب سے بڑی فوجی پریڈ کا انعقاد کیا۔

    صدر پوتن نے کہا کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات دوستانہ ہیں اور پیانگ یانگ کی فوج نے کرسک کے علاقے کو آزاد کرانے میں مدد کی ہے۔

    پوتن نے بدھ کو بات چیت کے دوران کم جونگ سے کہا کہ ’آپ کے فوجیوں نے بہادری اور بہادری سے مقابلہ کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں یہ واشگاف انداز میں کہتا ہوں کہ ہم آپ کی مسلح افواج اور آپ کے فوجیوں کے خاندانوں کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔‘

    واضح رہے کہ روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا۔

    کم جونگ اُن نے یوکرین کی جنگ کو ’مشترکہ جدوجہد‘ قرار دیا اور تعریف کرنے پر روسی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ’تمام شعبوں میں ترقی کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر روس کی مدد کرنے کا کوئی طریقہ ہے تو ہم اسے برادرانہ فرض کے طور پر ضرور کریں گے۔‘

    جنوبی کوریا کے مطابق شمالی کوریا نے میزائل اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے لیس تقریباً 15 ہزار فوجی روس کی مدد کے لیے روانہ کیے ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ روس نے اس امداد کے بدلے میں شمالی کوریا کو خوراک، رقم اور تکنیکی مدد فراہم کی تھی۔

    شمالی کوریا کے فوجیوں نے مغربی کرسک علاقے کے کچھ حصوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی روسی کوشش میں حصہ لیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

    یوکرین نے پچھلے سال ایک حملے میں اس خطے کے ایک چھوٹے سے حصے پر قبضہ کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

    مغربی حکام نے اس سال جنوری میں کہا تھا کہ صرف تین ماہ میں شمالی کوریا کے کم از کم ایک ہزار فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دو ماہ بعد جنوبی کوریا کے کچھ حکام نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کے کل 15,000 فوجیوں میں سے تقریباً 4,700 زخمی ہوئے تھے، جن میں سے 600 ہلاک ہو چکے تھے۔

    شمالی کوریا کے فوجی، جن میں سے کوئی بھی جنگی تجربہ نہیں رکھتا، خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے پہلے ہفتے روس کی تربیت اور پھر دیگر امور میں گزارے۔

    گذشتہ دو سالوں میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان یہ تیسری ملاقات ہے اور یہ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ماسکو اور پیانگ یانگ اپنے تعاون کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

    ولادیمیر پوتن اور کم جونگ نے گذشتہ موسم گرما میں جون میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر کوئی دوسرا ملک ان پر حملہ کرتا ہے تو وہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔

    اس وقت کم جونگ نے اس معاہدے کو ’سب سے مضبوط‘ معاہدہ قرار دیا۔ چند ہفتے قبل انھوں نے یوکرین کی جنگ میں روس کی ’غیر مشروط حمایت‘ کا اعلان بھی کیا تھا۔

    یوکرین اور مغرب کی جانب سے شمالی کوریا کے فوجیوں کی فرنٹ لائنز پر بڑے پیمانے پر منتقلی کی اطلاع کے مہینوں بعد پیانگ یانگ نے پہلی بار عوامی طور پر اپریل میں روس میں فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا۔

    ایک روسی سکیورٹی اہلکار نے جون میں یہ بھی کہا تھا کہ شمالی کوریا نے فوجیوں کے علاوہ جنگ زدہ کرسک علاقے کی تعمیر نو میں مدد کے لیے ہزاروں کارکنان روس بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔

  9. دریائے چناب میں سیلابی صورتحال، ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ

    دریائے چناب میں سیلابی صورتحال پر بی بی سی اردو کی نامہ نگار ترہب اصغر کی رپورٹ

    ویڈیو ایڈیٹنگ: فرقان الٰہی

  10. مون سون کا نواں سپیل اگلے 24 سے 48 گھنٹوں تک مزید جاری رہنے کا امکان

    پاکستانی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مون سون کا نواں سپیل اگلے 24 سے 48 گھنٹوں تک مزید جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران ملک کے بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    ناروال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، لاہورمیں پچھلے 24 گھنٹوں میں شدید بارشیں ہوئیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق اس سپیل کے زیر اثر چھ ستمبر سے ملک کے جنوبی علاقوں بشمول جنوبی پنجاب اورجنوبی سندھ میں بارشوں کا امکان ہے۔ ملک کے ساحلی علاقے بشمول بدین، سجاول اور تھر پارکر میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔

    ملک میں غیر معمولی بارشوں اور دریاؤں میں پانی کی آمد کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق چار سے پانچ ستمبر کے دوران پنجند کے مقام پر راوی، چناب اور ستلج کے سیلابی ریلے جمع ہوں گے اور تینوں دریاؤں سے آنے والے سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث پنجند کے مقام پر شدید سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

  11. مودی کی واپسی کے بعد شہباز شریف اور پوتن کی چین میں ملاقات کو انڈیا میں کیسے دیکھا جا رہا ہے؟

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کو وزیر اعظم مودی کے چین سے واپس آتے ہی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں پوتن نے شہباز شریف کو بتایا کہ پاکستان اب بھی روس کا روایتی پارٹنر ہے۔

    شہباز شریف نے پوتن سے کہا کہ وہ انڈیا اور روس کے تعلقات کا احترام کرتے ہیں لیکن پاکستان روس کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ جب شہباز شریف یہ کہہ رہے تھے تو صدر پوتن اثبات میں سر ہلا رہے تھے۔

    تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی سینیئر فیلو تنوی مدن نے ایکس پر شہباز شریف اور پوتن کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ویڈیو کلپ دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میمز کی دنیا کے علاوہ بھی ایک حقیقی دنیا ہے، پوتن بھی کسی ایک ملک سے بندھے ہوئے نہیں ہیں، انھوں نے شہباز شریف سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ لوگوں نے پہلگام حملے کے بعد ٹرمپ پر نظریں جمائے رکھیں اور روسی مؤقف پر توجہ ہی نہیں دی۔‘

    تنوی مدن کو لگتا ہے کہ پہلگام میں حملے کے بعد روس نے انڈیا کو مایوس کیا لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔

    تنوی مدن نے چار مئی کو ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ 12 سال سے بھی کم عرصے میں روس نے یوکرین پر دو بار حملہ کیا اور دوسری طرف وہ انڈیا سے پاکستان کے ساتھ تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا کہہ رہا ہے۔

    تھنک ٹینک او آر ایف میں انڈیا روس تعلقات کے ماہر الیکسی زخاروف نے ایکس پر شہباز شریف اور پوتن کے درمیان ملاقات کے بارے میں لکھا کہ ’مودی کے چین جانے کے بعد پوتن اور شہباز شریف نے دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی ہے۔

    پوتن نے پاکستان کو روایتی پارٹنر قرار دیا اور تجارت بڑھانے سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی تعاون بڑھانے پر بھی بات کی۔

    کیا روس پاکستان کا روایتی پارٹنر ہے؟

    پوتن نے پاکستان کو روایتی پارٹنر قرار دیا ہے۔ کیا پاکستان واقعی روس کا روایتی پارٹنر رہا ہے؟

    نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار رشین اینڈ سینٹرل ایشین سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر راجن کمار کہتے ہیں کہ ’پاکستان کبھی بھی روس کا روایتی پارٹنر نہیں رہا ہے، چاہے وہ سوویت یونین کے دور میں ہو یا اس کے ٹوٹنے کے بعد۔‘

    ان کے مطابق ’اگر ہم برٹش انڈیا کو دیکھیں تو زار کے ساتھ ان کی دشمنی سب کو معلوم تھی۔ لیکن اب تاریخی پارٹنرشپ کی بات کی جا رہی ہے۔‘

    ڈاکٹر راجن کمار کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے روس کو صاف کہہ دیا ہے کہ اگر پاکستان کے ساتھ آپ کی قربتیں بڑھیں گی تو یقیناً ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے۔ لیکن پاکستان ہمیشہ چین کے ذریعے روس کے ساتھ قربت بڑھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ظاہر ہے پاکستان اور روس دونوں چین کے اہم شراکت دار ہیں۔

    ان کے مطابق پاکستان کی حکمت عملی اس براعظم میں انڈیا کے توازن کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ انڈیا نے یوریشیائی براعظم میں روس کے ساتھ اچھے تعلقات رکھ کر پاکستان کو اپنے قابو میں رکھا ہوا ہے۔

    ان کے مطابق انڈیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان، روس اور چین کا اتحاد ہے جبکہ روس اور چین پہلے ہی اتحادی ہیں۔‘

    ڈاکٹر راجن کمار کہتے ہیں کہ یہ صرف میں ہی نہیں کہہ رہا بلکہ تھنک ٹینک کارنیگی انڈومنٹ کے سینیئر فیلو ایشلے جے ٹیلس بھی اسی بات پر یقین رکھتے ہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ انڈیا مکمل طور پر امریکی کیمپ میں نہیں جا سکتا کیونکہ انڈیا کو براعظمی خطرہ ہے۔

    اگر چین، روس اور پاکستان ہاتھ ملاتے ہیں تو وہی ’گریٹ گیم‘ شروع ہو جائے گی، جس کے بارے میں بات کی جا رہی تھی۔‘

    سنہ 1965 میں جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی تو روس کا رخ بہت متوازن تھا۔ تاشقند میں روس نے جو معاہدہ کروایا وہ بھی انڈیا کے خلاف گیا۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان کو لگا کہ روس مکمل طور پر اس کے خلاف نہیں ہے۔

    سنہ 1991 میں پاکستان نے اقوام متحدہ میں ’ساؤتھ ایشیا نیوکلیئر فری زون‘ کی تجویز پیش کی تھی جس کی انڈیا نے مخالفت کی تھی۔ انڈیا نے دلیل دی تھی کہ اس تجویز کا کوئی مطلب نہیں جب تک اس میں چین کو شامل نہیں کیا جاتا۔

    کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی یہ تجویز انڈیا کے جوہری پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے تھی لیکن سوویت یونین نے پاکستان کی اس تجویز کی حمایت کی تھی۔

    پوتن نے کبھی پاکستان کا دورہ نہیں کیا

    ڈاکٹر راجن کمار کی رائے میں پوتن پاکستان کے حوالے سے انڈین تشویش کو سمجھتے ہیں۔ اس کی تائید میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پوتن گذشتہ 25 سالوں سے روس میں برسر اقتدار ہیں اور انھوں نے آج تک پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔

    بلکہ آج تک کسی روسی صدر نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ جب روس سوویت یونین کا حصہ تھا تب بھی کسی صدر نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔

    11 اپریل 2007 کو سوویت یونین کے انہدام کے 16 سال بعد روس کے وزیر اعظم میخائل فراڈکوف نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

    جنوبی ایشیا میں انڈیا وہ واحد ملک ہے جس کا پوتن نے دورہ کیا ہے۔

    17 مارچ 2016 کو پاکستان میں اس وقت کے روس کے سفیر الیکسی ڈیڈوف نے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد میں پاکستان روس تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ یہ دورہ محض رسمی نہیں ہونا چاہیے، دورے کی کوئی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے، اگر کوئی ٹھوس وجہ ہے تو یہ دورہ یقینی طور پر طے پا جائے گا اور اس کے لیے ضروری معاہدہ طے پا جائے گا۔‘

  12. امید ہے چین اپنی آزادی کے جشن میں امریکی حمایت اور قربانیوں کو بھی یاد رکھے گا: ٹرمپ

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے وکٹری ڈے پر سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’اہم سوال یہ ہے کہ کیا چین کے صدر شی چین کی آزادی کی خاطر جو امریکہ نے بے انتہا مدد دی ہے اور خون بہایا ہے اس کے بارے میں بات کرتے ہیں یا نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ بیرونی غاصب سے چین کو آزادی اور فتح دلانے کے لیے کئی امریکی شہریوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ انھیں ان کی بہادری اور قربانی کے لیے صحیح طور پر یاد رکھا جائے گا۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’خدا کرے کہ صدر شی اور چین کے حیرت انگیز لوگ جشن کا ایک عظیم اور دیرپا فتح کا دن منائیں۔‘

    انھوں نے اپنی پوسٹ میں چینی صدر سے کہا کہ ’امریکا کے خلاف سازش تیار کرتے وقت روسی صدر ولادیمیر پوتن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کو بھی میری نیک تمنائیں پہنچائیں۔‘

  13. کرم میں سنی قبیلے سے تعلق رکھنے والے چھ افراد کا قتل: ’حملہ آور ہمارے بھی دشمن ہیں، اہل سنت کے بھی اور حکومت کے بھی‘

    پاکستان کے ضلع کرم میں مسلح افراد نے بدھ کی صبح فائرنگ کر کے چھ مسافروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

    افغانستان سے متصل اس ضلع میں حالیہ مہینوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات تواتر سے دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔

    مقامی انتظامیہ کے اہلکار عامر نواز خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ آج صبح مسلح افراد نے ایک مسافر گاڑی میں سوار پاڑہ چمکنی سے تعلق رکھنے والے سنی قبیلے کے افراد پر حملہ کیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔

    ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقع شیعہ اکثریتی علاقے میں پیش آیا ہے۔

    کرم میں جولائی سے اب تک اس علاقے میں 250 کے قریب لوگ مارے گئے ہیں۔

    پاکستان کے انسانی حقوق کے کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔ کمیشن نے کرم میں صورتحال کو ’انسانی بحران‘ قرار دیا ہے۔

    طوری قبیلے کا ردعمل

    کرم میں چھ افراد کے قتل پر طوری قبیلے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ناخوشگوار واقعے میں چھ افراد کی ہلاکت پر وہ ’بہت خفا‘ ہیں۔

    اس قبیلے کے متعدد افراد نے جمع ہو کر اپنے سربراہ حاجی زمین حسین کے ذریعے یہ پیغام ریکارڈ کروایا کہ ’ہم اس واقعے پر ایسے خفا ہیں جیسے ہمارے اپنے قبیلے کے لوگ مارے گئے ہوں۔‘

    حاجی زمین حسین پاڑہ چنار میں انجمن حسینیہ کے سیکریٹری ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’طوری قبیلے کے علاقے میں امن تھا او اسی بھروسے پر یہ لوگ یہاں آئے تھے۔ یہاں پر گذشتہ تقریباً چھ مہینوں میں کچھ بھی مشکوک معاملہ نظر نہیں آیا ہے۔‘

    ان کے مطابق ’یہ پہلا واقعہ ہے، ہم بہت افسوس کرتے ہیں۔ اس جرگے میں بیٹھے ہوئے ہم تمام لوگ کہتے ہیں کہ حملہ کرنے والے ہمارے بھی دشمن ہیں، اہل سنت کے بھی او حکومت کے بھی۔‘

    حاجی زمین حسین کے مطابق ’ہم چاہتے ہیں اہل سنت اور حکومت کے ساتھ اس معاملے میں ایک پیج پر ہوں، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’ان حملہ آوروں کو ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی اس طرح سوچے بھی نا۔ ہم سب ان کے مخالف ہیں، مذمت کا لفظ استمال نہیں کریں گے بلکہ کہیں گے کہ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں، دراصل یہ سنی کو نہیں بلکہ مجھے مارا گیا ہے، طوری قبیلے کو مارا گیا ہے۔ ان کو سزا دلانے کے لیے ہمیں ایک ہونا پڑے گا۔‘

  14. اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خطوط سے پتا چلتا ہے کہ کیسے عدلیہ کی آزادی چھین لی گئی: تحریک انصاف

    پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے متعبر ترین ججزکے دو خطوط بتا رہے ہیں کہ کیسے ملک میں عدلیہ کی آزادی چھین لی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان عوام کے لیے جیل میں ہیں، جمہوریت اور آزادی اظہار کے لیے جیل میں ہیں۔

    سلمان اکرم راجہ کے مطابق آٹھ فروری سے وجود میں آنے والا نظام اب سسکیاں لے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ جنرل سیسی کا مصر نہیں ہے اور نہ یہاں کوئی طالع آزما ٹھہر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے منگل کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر کو ایک خط لکھا کہ جس میں اُن کے جانب سے ہائیکورٹ سے متعلق کچھ سوالات اُٹھائے گئے ہیں اور اس خط نے ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔

    جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں کئی سوالات اُٹھائے ہیں جیسے ’کیا آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں؟ کیا ججز یقین کرتے ہیں کہ شہری اپنے بنیادی حقوق کا انھیں محافظ سمجھتے ہیں؟ کیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضلعی عدلیہ کو آزاد ادارہ بنانے کی کوشش کی؟‘

    جسٹس بابر ستار نے نئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط میں کہا کہ ’ادارے بنانے میں دہائیاں لگتی ہیں تباہ کرنے میں کچھ وقت نہیں لگتا۔‘

    جسٹس بابر ستار کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے نام لکھے جانے والے خط کی کاپیاں تمام ججز اور رجسٹرار کو بھی بھجوا دی گئیں ہیں۔

    جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے نام خط میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’روسٹر کی تیاری، کیسز فکس کرنے کے عمل میں شفافیت کی کمی ہے۔ ہم روزانہ اپنے فیصلوں میں افسران کو کہتے ہیں کہ آپ بادشاہ نہیں نا ہی اختیارات بغیر حدود و قیود ہیں۔‘

  15. دریائے توی اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب متوقع، انڈین ہائی کمیشن کا پاکستان کو الرٹ

    وزارت آبپاشی کے مطابق انڈین ہائی کمیشن نے الرٹ جاری کیا ہے کہ دریائے توی میں جموں کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے۔

    وزارت آبپاشی کی جانب سے جاری نوٹیفیکشن کے مطابق ستلج میں ہریکے اور فیروزپور کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔

  16. سیلاب سے 3300 دیہات جبکہ 33 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے: پی ڈی ایم اے کی رپورٹ

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلابی صورتحال کے باعث 33 سو سے زائد دیہات جبکہ مجموعی طور پر 33 لاکھ 63 ہزار لوگ متاثر ہوئے۔

    ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق سیلاب میں ڈوبنے سے 43 شہری ہلاک ہوئے جبکہ 12 لاکھ 92 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    بیان کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 405 ریلیف کیمپس، 425 میڈیکل کیمپس جبکہ مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 385 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے۔

    ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق حالیہ بارشوں کے نتیجے میں منگلا ڈیم 83 فیصد، تربیلا ڈیم 100 فیصد، دریائے ستلج پر موجود انڈین بھاکڑا ڈیم 84 فیصد، پونگ ڈیم 98 فیصد جبکہ تھین ڈیم 92 فیصد تک بھر چکا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں بیشتر اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی ہے۔

  17. کوئٹہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14 ہو گئی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا تین روزہ سوگ کا اعلان, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے اختتام پر گزشتہ روز ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔

    اس واقعے کے خلاف بلوچستان میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    بلوچستان کے وزیر صحت بخت کاکڑ نے فون پر بتایا کہ ایک اور زخمی کی ہلاکت کے باعث دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 14 ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 30 ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے بعد پیش آنے والا یہ واقعہ خود کش حملہ تھا۔

    اس واقعے کے خلاف کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں وکلاء نے بطور احتجاج عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے جس کی کال بلوچستان بار کونسل نے دی تھی۔

    بلوچستان بار کونسل نے ایک بیان میں بی این پی کے جلسے پر حملے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے اسے حکومتوں کی ناکامی قرار دیا ہے۔

    بیان کے مطابق یہ حملہ ایک سیاسی پارٹی پر نہیں بلکہ بلوچستان کے پُرامن عوام کو آگ و خون میں دھکیلنے کی سازش ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    پارٹی کے ایک بیان میں اس واقعے کو جمہوری اور سیاسی جدوجہد کے خلاف دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔

    اس واقعے کے خلاف بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے آبائی شہر وڈھ میں تین روزہ سوگ کے اعلان کے علاوہ اس واقعے کے خلاف کاروباری مراکز کو بھی بند رکھا گیا ہے۔

  18. ضلع کُرم میں مسافر گاڑی پر فائرنگ، چھ افراد ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں مسافر گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقع کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر ضلع پولیس افسر ملک حبیب نے بتایا ہے کہ جس مسافر گاڑی کو شرپسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ پاڑہ چنار سے صدہ جا رہی تھی۔

    پولیس اہلکاروں کے مطابق پاڑہ چنار سے تقریباً 20 کلومیٹر دور ’محورہ‘ کے مقام پر نامعلوم افراد نے اس گاڑی پر فائرنگ کی، یہ علاقہ اہل تشیع کا بتایا جاتا ہے جبکہ کے اس واقعے میں ہلاک ہونے والے چھ افراد پارہ چمکنی اور منگل قبیلے کے لوگ تھے اور ان کا تعلق اہل سنت سے ہے۔

    کرم میں نا معلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں قریبی ہسپتال منتقل کردی گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فوری طور فائرنگ کی وجہ تو معلوم نہیں ہوسکی تاہم واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے اور علاقے میں پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ہے۔

    ضلع کرم سے رکن قومی اسمبلی اور ایم ڈبلیو ایم کے پارلیمانی لیڈر انجینیئر حمید حسین نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’احمد خان کلے جیسے پرامن علاقے میں اس قسم کا واقعہ سمجھ سے باہر ہے اور یہ علاقے میں منظم سازش کے تحت بدامنی پھیلانے کی کوششیں ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’عوام اس سازش کو ناکام بنا کر قیامِ امن کے لیے راہ ہموار کریں۔‘

    ایم این اے حمید حسین کا کہنا تھا کہ ’مرکزی شاہراہ پر چوکیوں کے قیام کے بعد بھی اس قسم کا واقعہ کا ہونا پریشان کُن اور افسوسناک ہے۔‘

    دوسری جانب طوری بنگش قبائل کے رہنماؤں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے واقعے کی فوری تحقیقات اور ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    عمائدین کا کہنا تھا کہ وہ بھی دہشت گردوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

  19. انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں دوبارہ سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، کشمیر کو انڈیا سے ملانے والی شاہراہ بند, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں منگل سے تیز بارشوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا جس کے بعد دریائے چناب اور توی میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔

    اس دوران وادی کے دریائے جہلم میں بھی مسلسل بارشوں کے بعد پانی کی سطح تشویشناک حد تک پہنچ گئی۔

    راجوری ضلع میں بدھ کی صبح تیز بارش کی وجہ سے کانگری گاوٴں میں ایک گھر منہدم ہو جانے سے ماں بیٹی ہلاک ہو گئی ہیں۔

    حکام نے جموں میں بدھ کے روز بھی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا۔

    محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار احمد نے بتایا کہ موسم میں جمعرات سے بہتری آنے کا امکان ہے۔

    سرینگر میں نکاسی کا نظام متاثر ہونے سے بعض بستیوں میں پانی داخل ہوا تاہم وہاں سے لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا۔

    واضح رہے جموں سے بہنے والا توی دریا دراصل دریائے چناب کا معاون دریا ہے جو جموں، بھدرواہ، ڈوڈہ اور اُدھم پور سے ہوتے ہوئے پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کی طرف چناب میں بہتا ہے۔

    کشمیر کو انڈیا سے ملانے والی شاہراہ بند

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ہفتے کئی روز تک سیلابی صورتحال قائم رہنے کے بعد موسم میں بہتری آئی تھی اور جہلم میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی لیکن منگل سے پھر ایک بار تیز بارشوں کی وجہ سے دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    کشمیر کو انڈیا کے ساتھ ملانے والی واحد شاہراہ ’نیشنل ہائی وے 44‘ ایک ہفتے سے بند ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہائی وے پر کئی مقامات ایسے ہیں جہاں بارش کے بعد پہاڑوں سے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑک کو نقصان پہنچا۔

    اتوار کو کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبد اللہ نے ہائی وے پر مرمت کے کام کا جائزہ لیا۔ انھوں نے کہا کہ ٹریفک کو مکمل طور پر بحال کرنے میں تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ کشمیرمیں درآمد ہونے والی کھانے پینے کی چیزیں اور تجارتی مصنوعات اسی راستے سے آتی ہیں تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وادی میں پہلے ہی غذائی اجناس کا سٹاک موجود ہونے سے کوئی بحران پیدا نہیں ہو گا۔

    تاہم کشمیر میں سیب اُگانے والے کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ اُن کا مال ہائی وے پر پھنسے رہنے کی وجہ سے انھیں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

    ’ایپل فارمرس فیڈریشن‘ کے صدر ظہور احمد نے بتایا کہ ’ہائی وے پر تازہ سیبوں سے بھرے 1000 ٹرک پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک ٹرک میں 5 سے 9 لاکھ مالیت تک کے سیب اور ناشپاتی ہوتے ہیں۔ یہ نقصان 100کروڑ سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔‘

    اُدھر جموں میں کٹھوعہ۔پٹھان کوٹ، راجوری۔ جموں اور جموں۔کشتواڑ کی شاہراہوں پر بھی سیلابی صورتحال کی وجہ سے ٹریفک معطل ہے۔

    گذشتہ ہفتے بارش سے کیا تباہی ہوئی؟

    اتوار کو جموں میں تیز بارش کے بعد چٹانیں اور مٹی کے تودے گرنے اور دریاوٴں میں آئی طغیانی سے درجنوں مکان تباہ ہو گئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ جموں کے ریاسی ضلع میں مہور گاوٴں میں 41 سالہ خاتون اپنے 11 سالہ بیٹے کے ساتھ مقامی نالہ عبور کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ بچے کو تیز سیلابی ریلا بہا لے گیا۔

    امدادی سرگرمیوں میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خاتون نے اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کی لیکن پانی کا بہاوٴ تیز ہونے کی وجہ سے وہ بھی بہہ گئیں۔ دونوں کی تلاش جاری ہے۔‘

    گذشتہ ہفتے سے جاری بارشوں نے ریاسی کے علاوہ رام بھن، ڈوڈہ، کشتواڑ، راجوری، پونچھ اضلاع اور وادی کشمیر کے کئی اضلاع میں سیلابی صورتحال پیدا کی۔

    راجوری میں مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد پہاڑوں سے کھسکنے والے مٹی کے تودوں اور چٹانوں سے کئی رہائشی مکان منہدم ہو گئے ہیں۔

    راجوری کے ڈپٹی کمشنر ابھیشیک شرما کا کہنا ہے کہ ضلع میں 150 رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا، جن میں سے بیشتر مکمل طور پر تباہ ہو چکے۔ اودھمپور ضلع میں بھی کئی مکان تباہ ہوگئے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے جموں کے علاقے کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے چناب میں جو طغیانی آئی تھی اُس میں ابھی تک حکومت نے 65 افراد کی ہلاکت اور 100 سے زیادہ زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

    اس کے بعد کٹھوعہ کے ویشنو دیوی مندر کے قریب بھی بادل پھٹنے سے 40 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  20. ’ادارے بنانے میں دہائیاں لگتی ہیں لیکن تباہ کرنے میں وقت نہیں لگتا‘ جسٹس بابر ستار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے منگل کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر کو ایک خط لکھا کہ جس میں اُن کے جانب سے ہائیکورٹ سے متعلق کچھ سوالات اُٹھائے گئے ہیں اور اس خط نے ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔

    جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں کئی سوالات اُٹھائے ہیں جیسے ’کیا آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں؟ کیا ججز یقین کرتے ہیں کہ شہری اپنے بنیادی حقوق کا انھیں محافظ سمجھتے ہیں؟ کیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضلعی عدلیہ کو آزاد ادارہ بنانے کی کوشش کی؟‘

    جسٹس بابر ستار نے نئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط میں کہا کہ ’ادارے بنانے میں دہائیاں لگتی ہیں تباہ کرنے میں کچھ وقت نہیں لگتا۔‘

    جسٹس بابر ستار کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے نام لکھے جانے والے خط کی کاپیاں تمام ججز اور رجسٹرار کو بھی بھیجوا دی گئیں ہیں۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیا عدالتی سال منگل دو ستمبر کو شروع ہوا جس کے بعد اب چیف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں آج یعنی بدھ تین ستمبر کو دوپہر دو بجے ایک اور فل کورٹ اجلاس طلب کیا گیا ہے اور تمام ججوں کو شرکت کے باضابطہ نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

    عمومی طور پر ایسے اجلاس عدالتی سال کے آغاز پر انتظامی امور کے ساتھ ساتھ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے ہوتے ہیں کہ گزشتہ عدالتی سال کے دوران کتنے مقدمات کے فیصلے ہوئے اور کتنے مقدمات زیرِ التوا ہیں۔

    جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے نام خط میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ’روسٹر کی تیاری، کیسز فکس میں شفافیت کی کمی ہے۔ ہم روزانہ اپنے فیصلوں میں افسران کو کہتے ہیں کہ آپ بادشاہ نہیں نا ہی اختیارات بغیر حدود و قیود ہیں۔‘

    انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’کیسز فکس کرتے ہوئے سینئر ججز کو نظر انداز کرکے ٹرانسفر اور ایڈیشنل ججز کو کیسز بھیجے جا رہے ہیں۔ انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا ججز اور چیف جسٹس کو یاد نہیں رکھنا چاہیے وہ ’کنگ‘ نہیں پبلک آفیشلز ہیں۔ آپ کا آفس کچھ کیسز میں کاز لسٹ بھی جاری کرنے سے انکاری ہے جس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔‘

    جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’روسٹر جاری کرکے میرے سمیت سنگل بنچز سے محروم کرنا بھی ہم نے دیکھا ہے۔ سینئر ججز کو انتظامی کمیٹی سے رولز کی خلاف ورزی میں الگ کیا گیا ایڈیشنل اور ٹرانسفر ججز کو شامل کیا گیا۔ آپ نے ججز کے بیرون ملک جانے کے لئے این او سی لینا لازمی قرار دیا گویا ججز کو ای سی ایل پر ڈالا گیا۔ ادارے بنانے میں دہائیاں لگتی ہیں تباہ کرنے میں کچھ وقت نہیں لگتا۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیدا ہونے والے اختلافات

    واضح رہے کہ جسٹس سرفراز ڈوگر جو پہلے لاہور ہائیکورٹ میں تعینات تھے ان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں بطور چیف جسٹس تعیناتی کے معاملے کو لے کر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے سے تعینات ججز میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور جسٹس سرفراز ڈوگر کی تعیناتی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دیں اور یہ درخواستیں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کثرت رائے سے مسترد کردیں۔

    تاہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیلیں سپریم کورٹ میں ہی زیر التوا ہیں۔

    ان چھ ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار جسٹس، طارق محمود جہانگیری، جسٹس اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت بھی شامل ہیں۔

    توہین مذہب کے مقدمات کی چھان بین کے لیے کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے جسٹس سردار اعجاز اسحاق کی سربراہی میں ایک بینچ نے جب حکومت کو کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا تو اسی فیصلے کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے معطل کردیا تھا۔

    تاہم اس فیصلے کی معطلی کا ابھی تک تفصیلی فیصلہ سامنے نہیں آیا اس کے علاوہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر وزیر اعظم اور کابینہ کو توہین عدالت کا جو نوٹس جاری کیا گیا تھا، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے یہ معاملہ بھی جسٹس اعجاز اسحاق سے لے کر کسی دوسرے بینچ کو منتقل کردیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے جسٹس بابر ستار اور جسٹس اعجاز اسحاق کی عدالتوں میں جو کیسز زیر التوا تھے وہ دوسری عدالتوں کو ٹرانسفر کردیے ہیں جبکہ ان دونوں ججز پر مشتمل ایک ڈویژن بینچ بنا دیا گیا ہے جو صرف ٹیکس سے متعلق معاملات کی سماعت کرے گا۔