روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کو وزیر اعظم مودی کے چین سے واپس آتے ہی
ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں پوتن نے شہباز شریف کو بتایا کہ پاکستان اب بھی روس کا
روایتی پارٹنر ہے۔
شہباز شریف نے پوتن سے کہا کہ وہ انڈیا اور روس کے تعلقات کا احترام کرتے ہیں لیکن پاکستان روس کے ساتھ بھی مضبوط
تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ جب شہباز شریف یہ کہہ رہے تھے تو صدر پوتن اثبات
میں سر ہلا رہے تھے۔
تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی
سینیئر فیلو تنوی مدن نے ایکس پر شہباز شریف اور پوتن کے درمیان
ہونے والی گفتگو کا ویڈیو کلپ دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میمز کی دنیا کے
علاوہ بھی ایک حقیقی دنیا ہے، پوتن بھی کسی ایک ملک سے بندھے ہوئے نہیں ہیں،
انھوں نے شہباز شریف سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات
چاہتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ لوگوں نے پہلگام حملے کے بعد ٹرمپ پر نظریں جمائے رکھیں اور روسی مؤقف پر توجہ ہی نہیں دی۔‘
تنوی مدن کو لگتا ہے کہ پہلگام میں
حملے کے بعد روس نے انڈیا کو مایوس کیا لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔
تنوی
مدن نے چار مئی کو ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ 12 سال سے بھی کم عرصے میں روس
نے یوکرین پر دو بار حملہ کیا اور دوسری طرف وہ انڈیا سے پاکستان کے ساتھ تنازع کو بات چیت
کے ذریعے حل کرنے کا کہہ رہا ہے۔
تھنک ٹینک او آر ایف میں انڈیا روس تعلقات کے ماہر الیکسی زخاروف نے ایکس پر شہباز شریف اور پوتن کے درمیان
ملاقات کے بارے میں لکھا کہ ’مودی کے چین جانے کے بعد پوتن اور شہباز شریف
نے دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی ہے۔
پوتن نے پاکستان کو روایتی پارٹنر قرار
دیا اور تجارت بڑھانے سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی تعاون بڑھانے پر بھی بات کی۔
کیا روس پاکستان کا روایتی پارٹنر ہے؟
پوتن نے پاکستان کو روایتی پارٹنر
قرار دیا ہے۔ کیا پاکستان واقعی روس کا روایتی پارٹنر رہا ہے؟
نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے
سینٹر فار رشین اینڈ سینٹرل ایشین سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر راجن کمار
کہتے ہیں کہ ’پاکستان کبھی بھی روس کا روایتی پارٹنر نہیں رہا ہے، چاہے وہ سوویت
یونین کے دور میں ہو یا اس کے ٹوٹنے کے بعد۔‘
ان کے مطابق ’اگر ہم برٹش انڈیا کو دیکھیں تو زار
کے ساتھ ان کی دشمنی سب کو معلوم تھی۔ لیکن اب تاریخی پارٹنرشپ کی بات کی جا رہی ہے۔‘
ڈاکٹر راجن کمار کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے روس کو صاف کہہ دیا ہے کہ اگر پاکستان کے ساتھ آپ کی قربتیں بڑھیں
گی تو یقیناً ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے۔ لیکن پاکستان ہمیشہ چین کے ذریعے روس کے
ساتھ قربت بڑھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ظاہر ہے پاکستان اور روس دونوں چین
کے اہم شراکت دار ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان کی حکمت عملی اس براعظم میں انڈیا کے توازن کو غیر
مستحکم کرنا ہے۔ انڈیا نے یوریشیائی براعظم میں روس کے ساتھ اچھے تعلقات رکھ کر
پاکستان کو اپنے قابو میں رکھا ہوا ہے۔
ان کے مطابق انڈیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان، روس
اور چین کا اتحاد ہے جبکہ روس اور چین پہلے ہی اتحادی ہیں۔‘
ڈاکٹر راجن کمار کہتے ہیں کہ یہ صرف میں ہی نہیں کہہ رہا بلکہ تھنک ٹینک کارنیگی انڈومنٹ کے سینیئر فیلو ایشلے
جے ٹیلس بھی اسی بات پر یقین رکھتے ہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ انڈیا مکمل طور پر امریکی
کیمپ میں نہیں جا سکتا کیونکہ انڈیا کو براعظمی خطرہ ہے۔
اگر چین، روس اور پاکستان
ہاتھ ملاتے ہیں تو وہی ’گریٹ گیم‘ شروع ہو جائے گی، جس کے بارے میں بات کی جا رہی
تھی۔‘
سنہ 1965 میں جب
انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی تو روس کا رخ بہت متوازن تھا۔ تاشقند میں
روس نے جو معاہدہ کروایا وہ بھی انڈیا کے خلاف گیا۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان کو لگا
کہ روس مکمل طور پر اس کے خلاف نہیں ہے۔
سنہ 1991 میں
پاکستان نے اقوام متحدہ میں ’ساؤتھ ایشیا نیوکلیئر فری زون‘ کی تجویز پیش کی تھی
جس کی انڈیا نے مخالفت کی تھی۔ انڈیا نے دلیل دی تھی کہ اس تجویز کا کوئی مطلب نہیں
جب تک اس میں چین کو شامل نہیں کیا جاتا۔
کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی یہ تجویز انڈیا کے جوہری پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے تھی لیکن سوویت یونین نے پاکستان
کی اس تجویز کی حمایت کی تھی۔
پوتن نے کبھی پاکستان کا دورہ نہیں کیا
ڈاکٹر راجن کمار کی رائے میں پوتن پاکستان کے حوالے سے انڈین تشویش کو سمجھتے ہیں۔ اس
کی تائید میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پوتن گذشتہ 25 سالوں سے روس میں برسر اقتدار ہیں اور انھوں نے آج تک پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔
بلکہ آج تک کسی روسی صدر نے پاکستان کا
دورہ نہیں کیا۔ جب روس سوویت یونین کا حصہ تھا تب بھی کسی صدر نے پاکستان کا دورہ
نہیں کیا۔
11 اپریل 2007 کو سوویت یونین کے انہدام کے 16 سال بعد روس کے وزیر اعظم
میخائل فراڈکوف نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
جنوبی ایشیا میں انڈیا وہ واحد ملک ہے
جس کا پوتن نے دورہ کیا ہے۔
17 مارچ 2016 کو پاکستان میں اس وقت کے روس کے سفیر الیکسی ڈیڈوف نے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام
آباد میں پاکستان روس تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ یہ
دورہ محض رسمی نہیں ہونا چاہیے، دورے کی کوئی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے، اگر کوئی ٹھوس
وجہ ہے تو یہ دورہ یقینی طور پر طے پا جائے گا اور اس کے لیے ضروری معاہدہ طے پا
جائے گا۔‘