آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان کی ہدایت پر خیبرپختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز بِل پر بریفنگ ملتوی: یہ متنازع بل کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی کے جرگہ ہال میں گذشتہ روز اس بل کے بارے میں ایک بریفنگ کا انتظام کیا گیا تھا جس میں حکومت اور اپوزیشن کے اراکین موجود تھے لیکن اس اجلاس میں ایسی ہنگامہ آرائی شروع ہوئی کہ سپیکر کو یہ بریفنگ موخر کرنا پڑی۔ بریفنگ میں موجود صحافیوں نے بتایا کہ اس بل پر بریفنگ جب شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے رکن نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ بل صوبے کے اختیارات کے خلاف ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ ڈیل نہیں چاہتے ہیں اور نہ انھوں نے کسی کو ایسے مذاکرات کے اختیارات دیے ہیں کہ جس سے یہ تاثر جائے کہ وہ ڈیل چاہتے ہیں۔
  • پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے سمندر پار پاکستانیوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'دہشتگردوں کی دس نسلیں بھی بلوچستان اور پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے جو دل میں ہوتا ہے وہی بات ان کے زبان پر ہوتی ہے۔
  • بلوچستان ہائیکورٹ نے سماجی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی طرف سے دائر کردہ رہائی کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا ہے کہ وہ امن عامہ سے متعلق قانون میں گرفتاری کے بعد پہلے محکمہ داخلہ سے رجوع کریں۔
  • پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکاروں پر حملے میں دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم استعمال کیا گیا ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کا خیال ترک کرنا پڑے گا ورنہ امریکہ اسے روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان سے ہمارے جبری انخلا کو روکا جائے: بلوچستان میں مقیم افغان مہاجرین کی اپیل, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان میں مقیم افغان مہاجرین نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ان کے جبری انخلا کو روک دیا جائے۔

    کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان مہاجرین پاکستان کے صدر محمد تادین خان ترکئی نے کہا کہ پاکستان اس وقت 35 لاکھ افغان مہاجرین کی سرپرستی کررہا ہے، جس پر ہم اس کے مشکور ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود 16 لاکھ افغان مہاجرین کے پاس یو این ایچ سی آر کے پی او آر کارڈز، نو لاکھ کے پاس آئی او ایم کارڈز ہیں۔ اسی طرح 6 لاکھ کو یو این ایچ سی آر نے ٹوکن جاری کیے ہیں جبکہ چھ لاکھ کے لگ بھگ کے پاس کارڈز نہیں ہیں۔

    انھوں نے تمام متعلقہ حکام اور اداروں سے اپیل کی کہ وہ جلد از جلد تمام کارڈز کی تجدید کریں تاکہ انھیں پاکستان میں قیام کے دوران کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ سفر کے لیے یواین ایچ سے 375 ڈالرز اور افغانستان میں بسنے کے لیے دو سال کے لیے راشن اور امدادی سامان حاصل کرسکیں۔

    انھوں نے پاکستان کی حکومت، عدلیہ اور سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ افغانستان کے معاملے کو افہام و تفہیم اور انسانی بنیادوں پر حل کریں اور جبری انخلا کو روکیں کیونکہ یہ مہاجرین کئی عشروں سے پاکستان میں رہ رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی جبری انخلا دونوں اقوام کے درمیان دوری کی فضا قائم کرتی ہے بالخصوص موجودہ حالات میں افغان مہاجرین کے افغانستان جانے سے ان کی زندگی برباد ہو جائی گی۔

  2. جنوبی وزیرستان سے اغوا کیے جانے والے دونوں پولیس اہلکار قتل، ’لاشوں پر تشدد کے نشانات‘, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    جنوبی وزیرستان کی تحصیل توئے خیلہ میں گذشتہ روز اغوا کیے گئے دو پولیس اہلکاروں، کانسٹیبل حمید شاہ دوتانی اور کانسٹیبل اشرف دوتانی کو مسلح شدت پسندوں نے قتل کر دیا ہے۔

    انھوں نے دونوں اہلکاروں کی لاشیں توئے خیلہ کے قریبی علاقے سے ملی ہیں۔ اس خبر کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی-

    ضلعی ہولیس افسر آصف بہادر نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں نے گذشتہ روز پولیس اہلکاروں کے گھروں پر رات کی تاریکی میں چھاپہ مارا اور انھیں اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔

    واقعے کے بعد دوتانی قبیلے نے روایتی لشکری نظام کے تحت جوابی کارروائی کرتے ہوئے تین شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ دونوں اہلکاروں کی لاشوں پر تشدد کے واضح نشانات تھے۔ اس ہولناک واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب دوتانی قبیلے کے عمائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے نشان عبرت بنایا جائے اور علاقے میں مستقل قیام امن کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

  3. اسلام آباد ہائیکورٹ ٹرانسفر ہونے والے ججز کو نوٹسز جاری، آئینی بینچ 17 اپریل کو سماعت کرے گا

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ فوری طور پر معطل کرنے اور اس مقدمے کے فیصلے تک ٹرانسفر ہونے والے ججز کو کام سے روکنے کی استدعا مسترد کردی ہے۔

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلے اورسنیارٹی سے متعلق درخواستوں پر سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کی۔

    اس بینچ کے سامنے اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیے۔

    عدالت نے پانچ ججز کی درخواست پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین، جسٹس محمد آصف اورجوڈیشل کمیشن سمیت اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 17 اپریل تک ملتوی کردی ہے۔

    جسٹس مظہر علی نے منیر اے ملک سے کا کہ ’آپ کی درخواست میں (ججز کو) کام کرنے سے روکنے کی استدعا ہی نہیں ہے اور ابھی آپ زبانی استدعا کیے جا رہے ہیں۔

    اس موقع پر کراچی ہائیکورٹ بار کے وکیل فیصل صدیقی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ ان کی درخواست میں ان ججز کو کام سے روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    اس کے بعد آئینی بینچ نے متعلقہ ہائیکورٹس کے رجسٹرار، اٹارنی جنرل اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے والے تینوں ججز کو بھی نوٹسز جاری کیے۔

    منیر اے ملک نے کہا کہ ’جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 18 اپریل کو ہے لہٰذا سماعت 18 اپریل سے پہلے مقرر کی جائے۔

    عدالت نے 17 اپریل تک کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

    آج کی سماعت میں مزید کیا ہوا؟

    دلائل کے آغاز میں وکیل منیراے ملک نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے والے ججز کے معاملے کو آرٹیکل175 کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ججز ٹرانسفر، فیڈرل ازم اور انتظامی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق دلائل دینا چاہتے ہیں۔

    آئینی بینچ کے جسٹس علی مظہر نے کہا ججز ٹرانسفر آرٹیکل 200 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، بہتر ہے دلائل کا آغاز بھی یہیں سے کریں، ہم ججز کو سول سرونٹ کے طور پر تو نہیں دیکھ سکتے۔

    جسٹس علی مظہر نے کہا کہ ایک جج کی ٹرانسفر چار درجات پر رضامندی کے اظہار کے بعد ہوتی ہے، جس جج نےٹرانسفر ہونا ہوتا ہے اس کی رضامندی معلوم کی جاتی ہے، جس ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہونا ہوتی ہے اس کے چیف جسٹس سے رضامندی معلوم کی جاتی ہے، جس ہائیکورٹ میں آنا ہوتا ہے اس ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی رضامندی لی جاتی ہے، آخر میں چیف جسٹس پاکستان کی رضامندی کے بعد صدر مملکت ٹرانسفر کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں۔

    انھوں نے استفسار کیا کہ ’آپ کو اعتراض ٹرانسفر پر ہے یا سنیارٹی پر؟ اس پر منیر اے ملک نے جواب دیا ہمارا اعتراض دونوں پر ہے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے جب ججزکی آسامیاں خالی تھیں توٹرانسفر کے بجائے ان ہی صوبوں سے نئے جج تعینات کیوں نہیں کیے گئے؟

    کیا حلف میں ذکر ہوتا ہے کہ جج کون سی ہائیکورٹ کا حلف اٹھا رہے ہیں؟ اس پر وکیل منیر اے ملک نے کہا حلف کے ڈرافٹ میں صوبے کا ذکر ہوتا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حلف میں ’اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری‘ کا ذکرآتا ہے۔

  4. پاکستان میں اگلے مہینے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا: گورنر سٹیٹ بینک

    پاکستان میں اگلے ماہ سے مہنگائی میں اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    کراچی میں پاکستان لیٹریسی ویک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ’آئندہ ماہ سے افراطِ زر میں اضافہ ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ سنہ 2022 میں ہم مشکل حالات میں تھے اور افراطِ زر میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق ان مسائل کے باعث زرمبادلہ ذخائر دو ہفتوں کی درآمدات کے برابر رہ گئے تھے۔ گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق ’ہمارے ایکسچینج ریٹ 50 فیصد تک تنزلی کا شکار ہوگئے تھے، ہم نے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ایک وسیع خلیج بھی دیکھا مگر اس کے بعد ہم نے کئی اقدامات کیے۔‘

    جمیل احمد نے بتایا کہ بیرونی ادائیگیاں 26 ارب ڈالر ہیں جن میں سے 16 ارب رول اوور یا ری فنانس ہوں گی، بقایا 10 ارب میں سے آٹھ ارب کی ادائیگی کرچکے ہیں۔

    جمیل احممد نے کہا ہم نے سخت پالیسی اقدامات کیے، درآمدات پر پابندی لگائی جس وجہ سےشرحِ سود بڑھانی پڑی، مارچ 2025 میں ہم نے 0.7 فیصد کی کم ترین سطح پر افراطِ زر دیکھی تاہم آئندہ ماہ سے افراطِ زر میں اضافہ ہوگا۔

    گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ گذشتہ سال خسارے میں تھا تاہم اس سال سرپلس میں ہے، تمام تر صورتحال کے باوجود ہم کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس رکھنے میں کامیاب ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ بھی انہی پالیسی اقدامات کے باعث مستحکم ہے، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کا فرق بھی کم ہوچکا ہے۔

  5. بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ایک ماہ میں ریکارڈ 4.1 ارب ڈالرز کی ترسیلات زر موصول ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟, تنویر ملک، صحافی

    بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے موجودہ مالی سال کے دوران مارچ کے مہینے میں 4.1 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر ملک بھیجی گئی ہیں، جو کسی بھی ایک مہینے میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے۔

    پیر کی صبح کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے ایک ماہ میں 4.1 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہونے کے حوالے سے بتایا تو اُس کے کچھ ہی دیر بعد مرکزی بینک کے میڈیا ونگ کی جانب سے بھی یہی اعداد و شمار جاری کیے گئے۔

    مرکزی بینک کے مطابق مارچ 2024 کے مقابلے میں مارچ 2025 میں موصول ہونے والی ترسیلات زر میں 37 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    سٹیٹ بینک کے ترجمان نے رابطہ کرنے پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملک میں موصول ہونے والی ترسیلات زر نے پہلی دفعہ چار ارب ڈالر کا ہدف عبور کیا ہے۔ اس سے پہلے مئی 2024 میں سب سے زیادہ 3.2 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئی تھیں۔

    اس حوالے سے بات کرتے ہوئے مالیاتی امور ے تجزیہ کار فرحان محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ترسیلات زر ڈالر بیسڈ ہوتی ہیں جو بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی جانب سے اپنے ملک میں اپنے گھر والوں کو یا بچت کے طور پر بھیجی جاتی ہیں، یہ ترسیلات بینکوں اور منی ایکسچنیج کمپنیوں کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔

    مارچ میں ترسیلات زر میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے فرحان محمود کا کہنا تھا کہ مارچ میں ترسیلات زر میں اضافے کی بڑی وجہ رمضان اور عید کے موقع پر بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے زیادہ رقم بھیجنے کا رجحان ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ساتھ غیر قانونی حوالے اور ہنڈی پر سختی کی وجہ سے قانونی طور پر اب زیادہ ڈالرز پاکستان آ رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا ترسیلات زر کا پاکستانی معیشت میں اہم کردار ہے کیونکہ یہ کرنٹ اکاونٹ کو سپورٹ کرتے ہیں اور بیلنس آف پیمنٹ میں مدد فراہم کرتے ہیں یعنی ان ڈالروں کی وجہ سے پاکستان سے درآمد کے لیے باہر بھیجے جانے والوں ڈالروں کا خسارہ پورا کیا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا برآ مدات سے بھی ڈالر پاکستان آتے ہیں تاہم اب ترسیلات زر سے زیادہ آ رہے ہیں اور یہ رجحان نظر آ رہا ہے، جس سے لگتا ہے کہ رواں مالی سال میں 35 سے 36 ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہو پائیں گی۔

  6. ٹرمپ کا ٹیرف کے معاملے پر ’کسی کو رعایت نہ دینے‘ کا عندیہ، چینی صدر آج ویتنام جائیں گے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ’غیر منصفانہ تجارتی توازن کے خلاف کوئی نہیں بچے گا۔‘ انھوں نے مزید ٹیرف کا عندیہ دیا ہے۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جمعے کو اعلان کردہ ٹیرف پر کسی کو رعایت نہیں ملے گی۔‘

    امریکی صدر نے اصرار کیا کہ چین سے آنے والی الیکٹرانک اشیا اب بھی فینٹینائل سے متعلق 20 فیصد ٹیرف کے تابع ہیں لیکن یہ ٹیرف کی الگ فہرست میں شامل ہے۔

    امریکہ طویل عرصے سے چینی کارپوریشنوں پر مصنوعی اوپیوئڈ کی تخلیق میں ملوث گروہوں کو دانستہ طور پر سپلائی کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے جس نے ملک میں طبی بحران کو جنم دیا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ٹیرف اور قومی سلامتی کے بارے میں آنے والی تحقیقات میں الیکٹرانک سامان جیسے سیمی کنڈکٹرز اور ’پوری الیکٹرانکس سپلائی چین‘ پر غور کیا جائے گا۔

    انھوں نے مینوفیکچرنگ کو امریکہ میں واپس لانے کے اپنے عزائم کو دہراتے ہوئے لکھا کہ ’جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں امریکہ میں مصنوعات بنانے کی ضرورت ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ یہ چین سمیت ان ممالک کی طرف سے ’یرغمال بنائے جانے‘ سے بچنے کے لیے ہے جسے انھوں نے ’دشمن تجارتی قوم‘ قرار دیا۔

    وائٹ ہاؤس نے جمعے کو سمارٹ فورنز اور کمپیوٹرز کو چین پر عائد کردہ درآمدی ٹیرف سے استثنیٰ دی تھی۔ اس سے قبل چینی حکام نے ٹرمپ سے مکمل طور پر ٹیرف ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    چینی صدر شی جن پنگ آج ویتنام کا دورہ کریں گے۔ وہ جنوب مشرقی ایشیا میں مینوفیکچرنگ کے شعبے کے تین بڑے ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔

    صدر شی ہفتے کے آخر میں ملائیشیا اور کمبوڈیا کا سفر کرنے سے پہلے ہنوئی میں ویتنام کے رہنماؤں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ وہ چین کے کچھ قریبی سٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ویتنام کے نائب وزیراعظم بوئی تھانہ سون نے کہا ہے کہ ان کا ملک چین کے ساتھ تقریباً 40 معاہدوں پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں زرعی تجارت اور سبز معیشت کے معاہدے شامل ہیں۔

    گذشتہ ہفتے پہلے ٹیرف کے نفاذ اور پھر 90 روزہ وقفے نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو متاثر کیا اور عالمی تجارت کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کی عکاسی کی ہے۔

  7. یوکرین کے شہر سومی پر روس کے دہرے میزائل حملے: ’مذاکرات سے بمباری نہیں رُکی‘

    یوکرین کے شہر سومی پر روسی میزائل حملے میں دو بچوں سمیت 34 افراد ہلاک جبکہ 117 زخمی ہوئے ہیں۔ کیئو کے مغربی اتحادیوں نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    دو اسکندر ویریئنٹ بیلسٹک میزائل صبح 10 بج کر 15 منٹ پر سومی میں گِرے اور انھوں نے سومی سٹیٹ یونیورسٹی اور اس کے کانگریس سینٹر کو نشانہ بنایا۔

    روسی میزائل حملے کے بعد کی تصاویر اور ویڈیوز میں سڑکوں پر خون سے لت پت لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ زخمی ہونے والی ایک بچی اسی سال پیدا ہوئی تھی اور طبی عملہ ’زیادہ سے زیادہ جانیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    زیلنسکی نے اپنے اتحادیوں سے روس کے خلاف سخت ردعمل کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’مذاکرات سے بیلسٹک میزائل اور فضائی بمباری نہیں رُکی۔‘

    ’روس اسی طرح کا خوف چاہتا ہے اور وہ اس جنگ کو طول دے رہا ہے۔ جارحانہ طاقت پر دباؤ کے بغیر امن ناممکن ہے۔‘

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس حملے کو خوفناک قرار دیا ہے۔ روس نے تاحال اس حملے پر تبصرہ نہیں کیا مگر اس کی فوجیں سرحد کے قریب بڑے حملے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔

    یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب یوکرین کا سب سے بڑا عسکری اتحادی امریکہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوششیں کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی سال سے جاری اس جنگ کو روس کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ختم کروانا چاہتے ہیں۔

    زیلنسکی نے ٹرمپ کو یوکرین آنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ خود روسی مداخلت کے بعد تباہی کے مناظر دیکھ سکیں۔

    تاہم مارکو روبیو نے کہا کہ یہ حملہ یاد دہانی ہے کہ کیوں ٹرمپ انتظامیہ ’جنگ کے خاتمے کے لیے اتنی کوششیں اور وقت لگا رہی ہے۔‘

    یورپی ممالک اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اس حملے کی مذمت کی گئی ہے۔

    سومی پر دہرا میزائل حملہ اس سال یوکرین کے شہریوں پر سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملہ ہے۔ فروری 2022 میں روسی مداخلت سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک دونوں جانب مجموعی طور پر لاکھوں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ یوکرین میں 70 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

  8. گذشتہ روز کی بڑی خبریں

    • ایرانی سفارت خانہ نے اس واقعے کو 'غیر انسانی اور بزدلانہ مسلح کارروائی' قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ ایرانی صوبہ سیستان و بلوچستان میں جن آٹھ پاکستانیوں کو مسلح افراد کی جانب سے قتل کیا گیا، ان کا تعلق صوبہ پنجاب سے بتایا گیا ہے۔
    • پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایران میں آٹھ پاکستانیوں کی ہلاکت پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’پاکستان ایران سرحد سے تقریباً 230 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع صوبہ سیستان بلوچستان کی مہرستان کاؤنٹی میں کل آٹھ پاکستانی شہری المناک طور پر ہلاک ہوئے ہیں۔‘ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’ہمارے مشن نے پہلے ہی ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست کی ہے۔‘ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی قیادت اور عوام اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور غم میں مبتلا ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے سوگوار خاندانوں کے لیے گہرے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
    • بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ اور صبغت اللہ شاہ سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان کے مختلف شہروں میں اتوار کو مظاہرے کیے گئے۔
    • بلوچستان کے 20 شہروں میں کیے جانے والے ان احتجاجی مظاہروں کی کال بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دی تھی جس کے نتیجے میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں اور احتجاج کیا گیا۔ کوئٹہ شہر میں ریلی کے شرکا نے سریاب کے علاقے میں شیخ زید ہسپتال سے کسٹمز کے علاقے تک مارچ کرنا تھا لیکن پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی کی وجہ سے کوئٹہ میں ریلی نہیں نکالی جاسکی۔ تاہم دیگر شہروں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ریلیوں اور مظاہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلیوں اور مظاہروں کے شرکا نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنمائوں اور کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
  9. بی بی سی کی نئی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید

    اس صفحے پر 14 اپریل اور اس کے بعد کے دنوں کی خبروں اور تجزیوں سے آپ کو آگاہ کیا جائے گا۔

    بی بی سی پر دیگر تحریروں کے لیے یہاں کلک کریں!