پاکستان سے ہمارے جبری انخلا کو روکا جائے: بلوچستان میں مقیم افغان مہاجرین کی اپیل, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
بلوچستان میں مقیم افغان مہاجرین نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ان کے جبری انخلا کو روک دیا جائے۔
کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان مہاجرین پاکستان کے صدر محمد تادین خان ترکئی نے کہا کہ پاکستان اس وقت 35 لاکھ افغان مہاجرین کی سرپرستی کررہا ہے، جس پر ہم اس کے مشکور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود 16 لاکھ افغان مہاجرین کے پاس یو این ایچ سی آر کے پی او آر کارڈز، نو لاکھ کے پاس آئی او ایم کارڈز ہیں۔ اسی طرح 6 لاکھ کو یو این ایچ سی آر نے ٹوکن جاری کیے ہیں جبکہ چھ لاکھ کے لگ بھگ کے پاس کارڈز نہیں ہیں۔
انھوں نے تمام متعلقہ حکام اور اداروں سے اپیل کی کہ وہ جلد از جلد تمام کارڈز کی تجدید کریں تاکہ انھیں پاکستان میں قیام کے دوران کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ سفر کے لیے یواین ایچ سے 375 ڈالرز اور افغانستان میں بسنے کے لیے دو سال کے لیے راشن اور امدادی سامان حاصل کرسکیں۔
انھوں نے پاکستان کی حکومت، عدلیہ اور سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ افغانستان کے معاملے کو افہام و تفہیم اور انسانی بنیادوں پر حل کریں اور جبری انخلا کو روکیں کیونکہ یہ مہاجرین کئی عشروں سے پاکستان میں رہ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی جبری انخلا دونوں اقوام کے درمیان دوری کی فضا قائم کرتی ہے بالخصوص موجودہ حالات میں افغان مہاجرین کے افغانستان جانے سے ان کی زندگی برباد ہو جائی گی۔