گزشتہ روز کی اہم خبریں
آئیے گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
- اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی (انروا) کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ غذائی قلت کا شکار ہے اور ہر روز ان کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے ایک ساتھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’غزہ کے لوگ نہ مرے ہیں اور نہ ہی زندہ، وہ چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔‘ 100 سے زائد بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے بھی بڑے پیمانے پر قحط کی وارننگ دی ہے جبکہ حکومتوں سے کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔
- انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر اعظم سر کیئر سٹامر کے ساتھ کئی بلین پاؤنڈ کی برآمدات میں اضافے کے لیے ایک آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت برطانوی کاریں اور ’وہسکی‘ سستے داموں انڈیا کو فروخت کی جائیں گی جبکہ انڈیا سے ٹیکسٹائل اور جیولری کی مصنوعات برطانیہ کو ارزاں نرخوں پر برآمد کی جائیں گی۔ دونوں ممالک کو اس معاہدے تک پہنچنے میں تین سال کا عرصہ لگا اور یہ غیر قانونی نقل مکانی سے نمٹنے کے لیے انڈیا اور برطانیہ کے درمیان ایک نئے معاہدے کی تجدید بھی کرتا ہے۔
- روسی حکام کا کہنا ہے کہ انگارا ایئرلائن کا طیارہ مشرقی علاقے ’امور‘ کے ایک گھنے جنگل میں گرنے سے 48 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ Antonov An-24 طیارے، جس میں 42 مسافر اور چھ عملے کے افراد سوار تھے نے چینی سرحد کے قریب سے پرواز بھری تھی اور ٹنڈا ہوائی اڈے کے قریب پہنچتے ہی ریڈار سکرینوں سے غائب ہو گیا۔
- بی بی سی نیوز اور تین دیگر خبر رساں اداروں نے غزہ میں صحافیوں سے متعلق سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صحافی اب اپنا اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ بی بی سی نیوز، اے ایف پی، ایسوسی ایٹڈ پریس اور روئٹرز کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ سے تنازع کی اطلاع دینے والوں کو اب بھوک اور ’ایسے ہی سنگین حالات کا سامنا ہے جن کی وہ کوریج کر رہے ہیں۔‘