آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پی ٹی آئی کے مقدمات سننے والے بینچ میں نہ شامل کیا جائے: عمران خان

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے بینچ تشکیل دینے والی تین رُکنی ججز کی کمیٹی سے استدعا کی ہے کہ وہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ان کے اور پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات سننے والا بینچز میں شامل نہ کرے۔

خلاصہ

  • اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ جج اعظم خان نے ایڈشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کو پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ کی سماعت کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے
  • سابق سپیکر قومی اسمبلی نے دعوٰی کیا ہے کہ دسمبر تک پی ٹی آئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی
  • نیویارک میں 2022 میں برطانوی مصنف سلمان رشدی پر قاتلانہ حملے میں ملوث ملزم پر شدت پسند تنظیم حزب اللہ کی حمایت کا نیا الزام عائد
  • پاکستان کے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کے حوالے سے وفاقی حکومت کے پاس میٹریل موجود ہے
  • سابق وزیر اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل سے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ 70 کی دہائی میں جینے والے چند افراد جو اس امر سے یکسر نابلد ہیں کہ سوشل میڈیا کام کیسے کرتا ہے، وہ ڈیجیٹل دہشتگردی کے لقب بانٹ رہے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا: شیری رحمان

    سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی کے حوالے سے ان کی جماعت نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی حکومت کی ان سے کوئی حتمی مشاورت ہوئی ہے۔

    انھوں نے یہ گفتگو جیوز نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ خان کے ساتھ‘ میں کی جب ان سے پوچھا گیا کہ ن لیگ کی حکومت تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی بات کر رہی ہے تو اس پر پیپلز پارٹی کا کیا موقف ہے۔

    15 جولائی کو وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا تھا کہ اس کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔ تاہم اگلے ہی روز پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

    22 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا اور جماعت کے ترجمان رؤف حسن کو گرفتار کیا تھا جنھیں 23 جولائی کو اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دیا ہے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے رؤف حسن کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’دوران تفتیش ملزم وقاص احمد (پی ٹی آئی کے میڈیا کوارڈینیٹر) نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی لیڈر شپ ریاست مخالف میڈیا سیل چلا رہی ہے۔‘ تاہم عدالت کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ رؤف حسن کا ڈیجیٹل میڈیا ونگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ’ہمیں آئینی اور جمہوری قدروں کو سامنے رکھنا چاہیے‘

    ادھر شیری رحمان نے کہا کہ ماضی میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے تحریک انصاف اور عمران خان سے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ ’تب ہم نے کہا تھا آپ الیکشن لڑ کر آئیں۔۔۔ آپ اگر جمہوری سانچے میں ڈھلنا چاہتے ہیں، ہمارے دروازے کھلے ہیں۔‘

    ’ایک طریقہ کار ہونا چاہیے جس کے مطابق ہم چل سکیں اور لوگوں کو اس پر اعتماد ہو یہ لوگ ہماری مشکلات حل کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘

    ’اس وقت یہ ملک کو اس نہج پر لے آئے ہیں۔ کسی کو فوکس کرنے نہیں دے رہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے فیصلے کے بارے میں مشاورت نہیں کی گئی اور تاحال ان کی پارٹی نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ کام جمہوری طریقہ کار سے کیا جانا چاہیے۔۔۔ ہمیں آئینی اور جمہوری قدروں کو سامنے رکھنا چاہیے۔۔۔ ہم سے کوئی حتمی مشاورت نہیں ہوئی۔‘

    ’ہم نے ایسی کوئی تجویز نہیں دی۔ کابینہ پہلے خود فیصلہ کرے، یا ہمارے پاس آئے جو بھی وہ پہلے کرنا چاہییں۔‘

    شیری رحمان نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتی اس وقت تک چیئرمین بلاول یا صدر زرداری نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے۔‘

    ’ہم مشاورت کر کے بات کریں گے، لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہم لبرل پارٹی ہیں تو چپ کر کے بیٹھ جائیں گے۔‘

    تاہم انھوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی سوچ بنی ہوئی ہے کہ میں ہوں تو پاکستان ہے۔ یہ آمریت والی سوچ ہے۔۔۔ جب ایسی ذہنیت بننے لگتی ہے تو اللہ تکبر کو توڑتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ سیاسی سوچ ہے نہ جمہوری۔

  2. ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں امن مارچ کو غلط رنگ دیا گیا، جرگہ عمائدین بنوں

    خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں جرگہ عمائدین نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں امن مارچ کو غلط رنگ دیا گیا، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

    جرگہ عمائدین نے کہا ہے کہ بنوں قوم کی پر امن آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ اس مارچ میں کسی ایک جماعت کے نام پر نہیں بلکہ لوگ صرف امن کے نام پر نکلے ہیں۔

    گذشتہ روز پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بنوں میں ہونے والے احتجاج کے بارے میں کہا کہ جمعے کو بنوں میں تاجروں کے ’امن مارچ‘ میں کچھ ’منفی عناصر‘ اور مسلح افراد شامل ہو گئے تھے جن کی فائرنگ سے لوگ زخمی ہوئے۔

    ان کے مطابق ان عناصر نے نہ صرف ریاست اور فوج مخالف نعرے لگائے بلکہ سپلائی ڈپو کو لوٹا بھی اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں نے قواعد و ضوابط کے مطابق ’ہوائی فائرنگ‘ کی۔

    یاد رہے کہ 19 جولائی کو تاجر برادری نے سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں کے ہمراہ ’شہر میں امن و امان کے قیام کے لیے‘ احتجاج کیا تھا اور اس مظاہرے کے دوران فائرنگ اور بھگدڑ سے ایک شخص ہلاک اور تقریباً 25 افراد زخمی ہوئے تھے۔

    جرگے کے رہنما ناصر بنگش نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر عطا تارڑ اور مسلم لیگ نون کے رہنما امیر مقام کے بیانات کی مذمت کی کہ وہ قوم سے معافی مانگیں اور اپنے الفاظ واپس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات سے بنوں کے عوام کے زخموں پر نمک ڈالا جا رہا ہے۔

    علما آئمہ مدارس کے رہنما مولانا عبدالغفار قریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امن مارچ مقامی لوگوں کے جذبات کی عکاسی تھی اور اس پر سوچا جائے کہ عوام کیوں اس طرح باہر نکلی۔

    بنوں میں احتجاج کی وجہ کیا؟

    بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف شہر کی تاجر برادری کی درخواست پر 19 جولائی کو امن مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں افراد شریک تھے۔

    خیبرپختونخوا میں گذشتہ چند ماہ میں یوں تو شدت پسندی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ سامنے آیا ہے تاہم حالیہ دنوں میں بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث احتجاج کا اعلان کیا گیا۔