پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا: شیری رحمان
سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی کے حوالے سے ان کی جماعت نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی حکومت کی ان سے کوئی حتمی مشاورت ہوئی ہے۔
انھوں نے یہ گفتگو جیوز نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ خان کے ساتھ‘ میں کی جب ان سے پوچھا گیا کہ ن لیگ کی حکومت تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی بات کر رہی ہے تو اس پر پیپلز پارٹی کا کیا موقف ہے۔
15 جولائی کو وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا تھا کہ اس کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔ تاہم اگلے ہی روز پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
22 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا اور جماعت کے ترجمان رؤف حسن کو گرفتار کیا تھا جنھیں 23 جولائی کو اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دیا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے رؤف حسن کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’دوران تفتیش ملزم وقاص احمد (پی ٹی آئی کے میڈیا کوارڈینیٹر) نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی لیڈر شپ ریاست مخالف میڈیا سیل چلا رہی ہے۔‘ تاہم عدالت کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ رؤف حسن کا ڈیجیٹل میڈیا ونگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
’ہمیں آئینی اور جمہوری قدروں کو سامنے رکھنا چاہیے‘
ادھر شیری رحمان نے کہا کہ ماضی میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے تحریک انصاف اور عمران خان سے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ ’تب ہم نے کہا تھا آپ الیکشن لڑ کر آئیں۔۔۔ آپ اگر جمہوری سانچے میں ڈھلنا چاہتے ہیں، ہمارے دروازے کھلے ہیں۔‘
’ایک طریقہ کار ہونا چاہیے جس کے مطابق ہم چل سکیں اور لوگوں کو اس پر اعتماد ہو یہ لوگ ہماری مشکلات حل کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘
’اس وقت یہ ملک کو اس نہج پر لے آئے ہیں۔ کسی کو فوکس کرنے نہیں دے رہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے فیصلے کے بارے میں مشاورت نہیں کی گئی اور تاحال ان کی پارٹی نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ کام جمہوری طریقہ کار سے کیا جانا چاہیے۔۔۔ ہمیں آئینی اور جمہوری قدروں کو سامنے رکھنا چاہیے۔۔۔ ہم سے کوئی حتمی مشاورت نہیں ہوئی۔‘
’ہم نے ایسی کوئی تجویز نہیں دی۔ کابینہ پہلے خود فیصلہ کرے، یا ہمارے پاس آئے جو بھی وہ پہلے کرنا چاہییں۔‘
شیری رحمان نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتی اس وقت تک چیئرمین بلاول یا صدر زرداری نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے۔‘
’ہم مشاورت کر کے بات کریں گے، لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہم لبرل پارٹی ہیں تو چپ کر کے بیٹھ جائیں گے۔‘
تاہم انھوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی سوچ بنی ہوئی ہے کہ میں ہوں تو پاکستان ہے۔ یہ آمریت والی سوچ ہے۔۔۔ جب ایسی ذہنیت بننے لگتی ہے تو اللہ تکبر کو توڑتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ سیاسی سوچ ہے نہ جمہوری۔