یورپ کے متعدد بڑے ہوائی اڈوں پر سنیچر کے روز ایک بڑے سائبر حملے کے نتیجے میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس دوران متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہو گئیں۔
برطانیہ کا ہیتھرو ایئرپورٹ بھی ان متعدد یورپی ہوائی اڈوں میں شامل ہے جو سائبر حملے کی زد میں ہیں جس سے الیکٹرانک چیک ان اور سامان کا نظام ک بری طرح متاثرہوا ہے۔
ایئرپورٹ کی جانب سے متعدد ایئر لائنز کو کولنز ایرو سپیس کی طرف سے فراہم کردہ سافٹ ویئر کو متاثر کرنے والے ’تکنیکی مسئلے‘ کی وجہ سے ممکنہ تاخیر سے خبردار کیا۔
برسلز ہوائی اڈے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کی رات سائبر حملے کا مطلب یہ ہے کہ مسافروں کو مشینی طریقہ کار کے بجائے ہاتھ سے معلومت کا اندراج کر کے چیک ان کیا جا رہا تھا، جبکہ برلن کے برینڈن برگ ایئرپورٹ پر بھی اس مسئلے کی وجہ سے مسافروں کو طویل انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی۔
کولنز ایرو سپیس کے انتظام کی ذمہ دار کمپنی آر ٹی ایکس کے مطابق وہ بعض ہوائی اڈوں کے سسٹم میں سائبر حملوں سے متعلق آگاہ ہیں اور وہ اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
کمپنی نے مزید کہا کہ سائبر حملے کے اثرات الیکٹرانک کسٹمر چیک ان اور بیگج ڈراپ تک محدود ہیں۔
ان کے مطابق حملے نے ان کا وہ سافٹ ویئر متاثر کیا ہے جو مختلف ایئرلائنز کو ایک ہوائی اڈے پر ایک ہی وقت میں چیک ان ڈیسک اور بورڈنگ گیٹس استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
’بوڑھے والدین کے ساتھ ہیتھرو میں پھنسی ہوں، ہم بھوکے اور تھکے ہوئے ہیں۔‘
فلائٹ ٹریکر فلائیٹ اویئر کے مطابق اس حملے سے سینکڑوں پروازیں ہوائی اڈوں پر تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ڈبلن ایئرپورٹ کے مطابق ان کو سائبر حملے سے معمولی نوعیت کے اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بی بی سی کو ہیتھرو کے ٹرمینل فور سے لوسی سپینسر نامی ایک مسافر نے بتایا کہ وہ ملائیشیا ایئر لائنز کی پرواز میں چیک ان کرنے کے لیے دو گھنٹے سے زائد عرصے سے قطار میں کھڑی رہیں جہاں عملہ ہاتھ سے سامان کو ٹیگ کر رہا تھا اور فون پر مسافروں کی معلومات جانچ رہا تھا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سینکڑوں لوگوں کو قطار میں کھڑے دیکھ سکتی ہیں۔
ایک اور مسافر منزہ اسلم نے کہا کہ وہ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک انتظار بیٹھی رہیں۔ ان کے مطابق ’پتہ نہیں ہم کب اڑیں گے جبکہ دوحہ میں ہماری کنیکشن فلائیٹ پہلے ہی چھوٹ چکی ہے۔ میں صبح پانچ بجے سے اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ ہیتھرو میں ہوں، ہم بھوکے اور تھکے ہوئے ہیں۔‘
دوسری جانب ہیتھرو ہوائی اڈے نے بیان میں کہا ہے کہ اس صورتحال میں ان کا اضافی عملہ چیک ان کے مقامات پر موجود ہے تاکہ رکاوٹوں کو کم سے کم کرنے میں مدد ملے۔
ایئرپورٹ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم مسافروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ہوائی اڈے پر جانے سے پہلے اپنی ایئر لائن کے ساتھ اپنی پروازکو چیک کریں، اور اپنی طویل فاصلے کی پرواز سے کم از کم تین گھنٹے پہلے یا ڈومیسٹک پروازوں کے لیے دو گھنٹے پہلے پہنچ جائیں۔‘