آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر منتخب: ایرانی سرکاری میڈیا

ایران میں سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے رہنما اور اپنے والد کے جانشین کے طور پر منتخب کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی اتھارٹی کے انتخابی عمل کے بعد سامنے آیا ہے،

خلاصہ

  • ایران کے سرکاری ٹی وی نے نئے رہبر اعلیٰ کے نام کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔
  • ایران اسرائیل امریکہ جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
  • امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اپنے ساتویں فوجی کی ہلاکت کا اعلان کر دیا ہے۔
  • متحدہ عرب امارات نے اتوار کے روز 16 بیلسٹک میزائل اور 113 ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حملوں کی تازہ لہر میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔
  • تہران میں تیل کے ڈپو کے پھٹنے سے تیزابی بارش کا خطرہ، یہ رجحان جلد کو کیمیکل جلنے اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے: ہلال احمر
  • ایران کو ’بہت زیادہ شدت سے نشانہ‘ بنایا جائے گا، فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے: صدر ٹرمپ کا انتباہ

لائیو کوریج

  1. گذشتہ رات تہران کے آئل ریفائنریوں پر اسرائیلی حملوں کے دوران عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

    گذشتہ رات اسرائیل نے تہران میں کئی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد ایران میں لوگ بی بی سی فارسی کے نمائندے غنچے حبیبیزاد کو پیغامات بھیج رہے ہیں۔

    تہران صوبے کے مغرب میں واقع کاراج سے 30 سال کے ایک شخص نے بتایا: ’یہ ایک سرخ روشنی سے شروع ہوا جس نے ہر چیز کو روشن کر دیا۔ اس کے بعد ایک دھماکے کی لہر آئی جس نے دروازے ہلا کر رکھ دیے۔ پھر آسمان دوبارہ روشن ہوا اور ایک بہت بڑا سرخ رنگ کا بادل نمودار ہوا۔‘

    ایک 20 سالہ خاتون بتاتی ہیں کہ پورا شہر دھوئیں میں چھپ گیا تھا۔ ’آپ جلنے کی بو محسوس کر سکتے ہیں۔‘

    وہ کہتی کہ سورج اب بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ ’ایک خوفناک دھواں ہے۔ یہ اب بھی موجود ہے۔ میں بہت تھک چکی ہوں۔‘

    20 سال کی ایک اور خاتون بتاتی ہیں کہ انھوں بس ایک لمحے کے لیے کھڑکی کھولی ’اور ایسا لگا جیسے پیٹرول پمپ [جلنے] کی بو آ رہی ہو۔‘

    ایک اور 20 سالہ شخص بتاتے ہیں کہ کاراج کے تیل کے ڈپو پر حملے کے بعد ’زوردار دھماکہ اور گھنٹوں تک آگ جلنے‘ کے متعلق بتایا۔

  2. ایرانی ’جارحیت‘ کے خلاف ’اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کا حق رکھتے ہیں‘: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ‘ایران کی ظالمانہ جارحیت اور بلاجواز کارروائی کے خلاف اپنے دفاع میں اقدامات کر رہا ہے۔‘

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات پر 1,400 سے زیادہ ڈرون حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور ملک ’خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملہ ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وہ کسی بھی تنازع یا کشیدگی میں شامل نہیں ہونا‘ چاہتے لیکن یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت ’اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔‘

  3. جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران دو اسرائیلی فوجی ہلاک: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں اس کے دو فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    ٹیلی گرام پر جاری کیے گئے ایک پیغام میں آئی ڈی ایف نے ہلاک ہونے والے ایک اہلکار کا نام ماسٹر سارجنٹ مہر خطر بتایا ہے۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ کامبیٹ انجینیئرنگ کور کے دونوں اہلکار جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران مارے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق دوسرے اہلکار کے خاندان کو ان کی ہلاکت کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم ان کا نام جاری نہیں کیا جا سکتا۔

  4. متحدہ عرب امارات میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایات

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ’میزائل کے خطرے سے نمٹ رہا ہے۔‘

    وزارتِ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’برائے مہربانی محفوظ مقام پر رہیں اور سرکاری ویب سائٹ پر موجود وارننگز اور اطلاعات پر عمل کریں۔‘

  5. ایرانی سمندری حدود میں ڈرون کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی شہری ہلاک: حکام

    ایرانی سمندری حدود میں ڈرون کا ملبہ گرنے سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع گوادر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

    مکران ڈویژن میں سرکاری حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شہری کی کشتی ڈرون کے ملبے کی زد میں آ گئی تھی۔

    ضلع گوادر میں ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مارے جانے والے شخص کی شناخت طیب بلوچ کے نام سے ہوئی ہے۔

    پولیس اہلکار کے مطابق، یہ واقعہ سینیچر کی شام کو پیش آیا تھا۔

    مارے جانے والے طیب بلوچ کون تھے؟

    گوادر پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طیب بلوچ کا تعلق ضلع گوادر کی تحصیل جیونی میں گنز کے علاقے سے تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ وہ جوان تھے اور ایک کشتی کے ملاح تھے۔

    پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ طیب ماہی گیری اور ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ تھے جس کے لیے ان کو ایرانی حدود میں جانا پڑتا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سینیچر کی شام طیب بلوچ کی کشتی ایرانی حدود میں تھی جہاں وہ ڈرون کے ملبے کی زد میں آگئے۔

    طیب بلوچ کی ہلاکت کے بارے میں سرکاری حکام کا کہنا ہے؟

    انتظامی لحاظ سے گوادر بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔

    رابطہ کرنے پر مکران ڈویژن کے ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر طیب بلوچ کی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کی تاہم انھوں نے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ہمیں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ایرانی حدود میں ایرانی فورسز نے ایک ڈرون کو مار گرایا تھا جس کے ملبے کا کچھ حصہ اس شخص کی کشتی پر آگرا جس سے ان کی موت ہوئی۔

    گوادر میں پولیس اہلکار نے بتایا کہ طیب بلوچ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال نہیں لے جایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے رشتہ داروں نے لاش کو لا کر ان کے آبائی علاقے میں گنز میں ان کی تدفین کی ۔

    اس واقعے میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں لیکن پولیس اہلکار نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

    جیونی سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی جاوید شے نے بتایا کہ واقعے کے بعد کشتی میں موجود دوسرے شخص نے ہی طیب بلوچ کی لاش کو گنز پہنچایا۔

    جیونی ایران سے متصل ضلع گوادر کی تحصیل ہے جس کی آبادی مچھیروں پر مشتمل ہے۔

    جیونی ایرانی سرحد سے اندازاً 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔

  6. متحدہ عرب امارات کا مزید 16 بیلسٹک میزائل اور 113 ڈرونز گرانے کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات نے اتوار کے روز 16 بیلسٹک میزائل اور 113 ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے مجموعی طور پر 17 بیلسٹک میزائلوں کی نشاندہی کی جن میں سے 16 کو مار گرایا گیا جبکہ ایک سمندر میں گر گیا۔

    وزارت کے مطابق فضائی نظام نے 117 ڈرونز کی بھی نشاندہی کی جس میں سے 113 مار گرائے گئے جبکہ چار ملک کی حدود میں گرے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ملک کے فضائی دفاعی نظام نے مجموعی طور پر 238بیلسٹک میزائلوں کی نشاندہی کی جن میں سے 221 کو مار گرایا گیا، 15 سمندر میں گر کر تباہ ہوئے جبکہ دو ملک کی حدود میں گرے ہیں۔ اس کے علاوہ اب تک آٹھ کروز میزائلوں کا پتا لگا کر انھیں مار گرایا گیا ہے۔

    ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری حملوں کے نتیجے میں اب تک ملک بھر میں چار افراد ہلاک جبکہ 112 زخمی ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں کا تعلق پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے ہے۔

  7. تہران میں ایندھن کی فراہمی میں خلل، پیٹرول پمپس پر فی کس 20 لیٹر کا کوٹہ مقرر

    تہران کے گورنر محمد صادق معتمیدیان کا کہنا ہے کہ ایندھن کی تقسیم کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچنے سے ایندھن کی فراہمی میں خلل پڑا ہے جس کے بعد پیٹرول پمپس پر ذاتی کارڈ کے ساتھ ایندھن بھرنے کا کوٹہ عارضی طور پر 30 لیٹر سے کم کر کے 20 لیٹر کر دیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے تہران میں میٹرو سروس مفت کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق، میٹرو 24 گھنٹے کام کرے گی۔

    گورنر کا کہنا ہے کہ ایندھن کے ذخائر کافی ہیں جبکہ ایندھن کی فراہمی کے نیٹ ورک کے تباہ شدہ حصوں کی مرمت جاری ہے۔

    تہران کے گورنر نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ضرورت پڑنے پر ہی پیٹرول پمس کا رخ کریں۔

    آئل ڈپو اور ریفائنری میں لگنے والی آگ سے پیدا ہونے والی آلودگی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے شہریوں کو ماسک پہننے کا مشورہ دیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ پیٹرول کی اس کمی سے نمٹنے کے لیے تہران اور البرز صوبوں میں سی این جی اسٹیشنز 24 گھنٹے کھلے رہیں گے۔

    گذشتہ رات اسرائیل نے تہران کے ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا تھا۔

  8. امریکہ کے ساتھ ہر چیز پر اتفاق کرنا برطانیہ کے مفاد میں نہیں: برطانوی سیکرٹری خارجہ

    برطانیہ کی سیکرٹری خارجہ یویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہر چیر پر اتفاق کرنا برطانیہ کے مفاد میں نہیں۔

    اتوار کے روز بی بی سی کی نامہ نگار لورا کیونسبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران جب برطانوی سیکرٹری خارجہ سے سوال کیا گیا کہ آیا برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات مشکلات کا شکار ہیں، تو کوپر کا کہنا تھا دونوں ملک بہت سے معاملات پر مل کر کام کر رہے ہیں اور ’ایسا کرتے رہیں گے۔‘

    سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے اس بیان پر کہ برطانیہ کو شروع سے ہی امریکہ کا ساتھ دینا چاہیے تھا، کوپر کا کہنا تھا کہ سیاست میں مختلف آراء ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کہ ’برطانیہ کے قومی مفاد میں نہیں‘ کہ ’بنا کسی سوال کے امریکہ کے ساتھ ہر بات پر اتفاق کیا جائے۔‘

    وہ مزید کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں عراق جنگ کے دوران جو غلطیاں ہوئیں ان سے ’سبق سیکھنا ضروری ہے‘۔

  9. برطانیہ ایران پر حملوں میں براہ راست شامل ہوا تو تہران کو ’اپنے دفاع کا حق‘ حاصل ہوگا: ایرانی سفیر

    لندن میں تعینات ایرانی سفیر سید علی موسوی کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں میں براہ راست شامل ہوتا ہے تو ان کے ملک کو ’اپنے دفاع کا حق‘ حاصل ہوگا۔

    بی بی سی کی نامہ نگار لورا کیونس برگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایران کو امید ہے کہ برطانوی حکومت اور دیگر اپنے اقدامات میں ’انتہائی نزاکت، انتہائی احتیاط‘ سے کام لیں گے۔

    خیال رہے کہ برطانیہ نے امریکہ کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے تاہم برطانیہ نے خود براہ راست کسی حملے میں حصہ نہیں لیا ہے۔

    ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ ’اچھی‘ بات ہے کہ برطانیہ ’اس جارحیت میں ملوث نہیں۔‘

    علی موسوی کا مزید کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ برطانوی حکومت نے عراق پر 2003 کے حملے سے سبق سیکھا ہے۔

  10. ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

    ایران اس وقت دنیا میں اہل تشیع آبادی کی اکثریت والا سب سے طاقتور ملک ہے اور ملک کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر صرف ایک آیت اللہ بن سکتا ہے، جو اہل تشیع کا مذہبی رہنما ہوتا ہے۔

    تاہم جب علی خامنہ ای کا انتخاب ہوا تھا تو وہ آیت اللہ نہیں تھے۔ اس سلسلے میں قانون بدلے گئے تھے تاکہ وہ یہ عہدہ سنبھال سکیں۔

    ایران میں 88 علما کا ایک ادارہ جسے 'مجلسِ خبرگانِ رہبری' کہا جاتا ہے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کرتا ہے۔ ہر آٹھ سال بعد ایران کے لاکھوں شہری اس ادارے کے اراکین کو منتخب کرتے ہیں۔ مجلسِ رہبری کے کسی امیدوار کو انتخاب میں حصہ لینے سے قبل پہلے شوریٰ نگہبان نامی کمیٹی کی منظوری درکار ہوتی ہے جس کے اراکین کا انتخاب بالواسطہ یا بلاواسطہ موجودہ رہبر اعلیٰ کرتے ہیں۔

    2024 میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے وفاداروں نے اس کونسل کی تمام نشستیں جیتی تھیں جبکہ چار نشستیں جو ارکان کی موت کے بعد خالی ہو گئی تھیں- جن میں ابراہیم رئیسی بھی شامل ہیں- مئی 2026 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھری جائیں گی۔

    اس وقت اس اسمبلی کے چیئرمین محمد علی موحیدی کرمانی ہیں جبکہ ہاشم حسینی بوشہری اور علی رضا اعرافی نائب چیئرمین ہیں۔

    ضوابط کے مطابق، مجلسِ رہبری کا اجلاس اس وقت درست ہے جب اس کے کم از کم دو تہائی ارکان (59 افراد) موجود ہوں۔ نئے رہنما کے انتخاب کے لیے اجلاس میں موجود افراد کی دو تہائی اکثریت کے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صرف 59 ارکان موجود ہوں تو نئے قائد کے انتخاب کے لیے 40 ووٹ کافی ہیں۔

  11. ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب ہو گیا ہے: ایرانی میڈیا

    ایران میں رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرنے والے ادارے مجلسِ خبرگان رہبری کے رکن احمد عالم الہدیٰ کا کہنا ہے کہ ملک کے نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔

    نیم سرکاری خبررساں ایجنسی مہر کے مطابق، عالم الہدیٰ کا کہنا اب سب کچھ مجلسِ خبرگان رہبری کے سیکرٹریٹ کے سربراہ حسینی بوشہری پر ہے، جو فی الحال اس فیصلے کا عوامی طور پر اعلان کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

  12. پاکستانی حکومت کی دبئی میں میزائل حملوں میں دو پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق

    پاکستان کی حکومت نے حالیہ دنوں میں دبئی میں میزائلوں حملوں میں دو پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مجھے دبئی میں میزائل کے ملبے تلے دب کر دو پاکستانی شہریوں کی المناک موت پر بہت دکھ ہوا ہے۔‘

    وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں موجود پاکستان کا سفارتی مشن دبئی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ تمام ضروری مدد فراہم کی جا سکے اور لاشوں کی وطن واپسی کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔

    ’غم کی اس گھڑی میں ہمارے دل سوگوار خاندان کے ساتھ ہیں۔‘

    اس سے قبل اتوار کی صبح متحدہ عرب امارات میں قائم پاکستانی سفارتخانے کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ گذشتہ روز دبئی کے علاقے البرشا میں میزائل کو انٹرسیپٹر سے روکے جانے کے بعد اس کے ملبے تلے آ کر ایک پاکستانی شہری ہلاک ہو گیا تھا۔

  13. ہم خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنانا جاری رکھیں گے، اسرائیل کی ایران کو دھمکی

    اسرائیلی فوج نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنانا جاری رکھیں گے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اسرائیلی فوج کے فارسی زبان کے اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ قم شہر میں ایران کی مجلس خبرگان رہبری کا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔

    ’ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ ریاست اسرائیل نہ صرف ہر جانشین بلکہ ہر اس شخص کا پیچھا کرتا رہے گا جو جانشین مقرر کرنا چاہتا ہے۔‘

    ’ہم ان تمام لوگوں کو خبردار کرتے ہیں جو جانشین کے انتخاب کے اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں کہ ہم آپ کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ یہ ایک انتباہ ہے!‘

  14. میرے بیان کا غلط مطلب لیا گیا، دشمن ایران کو مسلمان اور پڑوسی ممالک سے جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے: ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنی گذشتہ روز کی گفتگو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن نے ان بیانات کا ’غلط مطلب‘ لیا ہے۔

    اپنے ایک نئے ویڈیو پیغام میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’دشمن چاہتا ہے کہ ایران کو مسلمان اور پڑوسی ممالک کے ساتھ جنگ میں دھکیل دیا جائے۔‘

    ایران کے صدر نے سنیچر کو ایک ویڈیو پیغام میں ان پڑوسی ممالک سے معافی مانگی تھی جو ایران کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سنیچر کے روز ایک خطاب میں کہا تھا کہ ایران کی عبوری قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ پڑوسی ممالک پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ایران پر براہِ راست حملہ ان کی سرزمین سے نہ ہو۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کی پالیسی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ہے، لیکن امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے دفاعی حکمتِ عملی پر عمل کر رہا ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی ممالک میں ایرانی ڈرون حملوں اور اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے باعث کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

    ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ براہِ راست حملے کا حصہ نہ بنیں تو انھیں نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

  15. تہران میں تیل کے ڈپو کے پھٹنے سے تیزابی بارش کا خطرہ، یہ رجحان جلد کو کیمیکل جلنے اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے: ہلال احمر

    گذشتہ رات اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے تہران کے ایندھن کے ٹینک تقریباً دس گھنٹے گزرنے اور لائٹ آنے کے باوجود جل رہے ہیں۔

    اس وقت تہران کے بڑے حصوں پر گھنا دھواں چھایا ہوا ہے۔

    ماحولیاتی تحفظ کی تنظیم نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ’موجودہ حالات اور تہران میں آلودگی کے داخلے کے پیش نظر غیر ضروری بیرونی سرگرمیوں سے گریز کریں اور اپنے گھروں میں زیادہ سے زیادہ رہیں۔‘

    ادھر ایرانی ہلال احمر نے آگ لگنے کے نتیجے میں تیزابی بارش کے امکان کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

    ہلال احمر کے بیان کے مطابق ’تیل ڈپو کے پھٹنے سے ہائیڈرو کاربن کے زہریلے مرکبات اور سلفر اور نائٹروجن کے آکسائیڈز کی بڑی مقدار فضا اور بادلوں میں داخل ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بارش بہت خطرناک ہوتی ہے اور اس میں تیزابیت کی خاصیت ہوتی ہے۔‘

    ہلال احمر نے کہا کہ یہ رجحان جلد کو کیمیکل جلنے اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ہلال احمر نے شہریوں پر زور دیا کہ ’بارش کے جلد کے ساتھ رابطے میں آنے کی صورت میں، کسی بھی حالت میں اس جگہ کو نہ رگڑیں اور صرف ٹھنڈے پانی سے دھوئیں، جو کپڑے اس بارش میں بھیگ گئے ہیں انھیں فوری طور پر تبدیل کریں اور انھیں سیل بند بیگ میں رکھیں۔‘

  16. اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے دیہات خالی کرنے کے نئے احکامات جاری کر دیے

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں رہنے والے شہریوں کو انخلا کے نئے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا: ’ارنون، یحمر، زوتر الشرقیہ اور زوتر الغربیہ میں رہنے والے اپنی حفاظت کی خاطر فوری طور پر گھروں سے نکل کر نباتیہ کے شمال کی طرف چلے جائیں۔‘

    ترجمان نے بتایا کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں کرنے جا رہی ہے۔

  17. ایرانی حملوں میں تین افراد زخمی، ڈرون حملے میں صاف پانی کے پلانٹ کو نقصان پہنچا: بحرین کا الزام

    بحرین کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ’ایرانی جارحیت‘ نے اندھا دھند شہری اہداف کو نشانہ بنایا اور ڈرون حملے سے ایک پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو نقصان پہنچا۔

    واضح رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ روز ایک ٹویٹ میں یہ خبر دی تھی کہ ’امریکہ نے قشم جزیرے پر میٹھے پانی کے صاف کرنے کے پلانٹ پر حملہ کر کے ایک کھلی اور مایوس کن جارحیت کی ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں 30 دیہاتوں کی پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔‘

    انھوں نے ایکس پر مزید لکھا کہ ’ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ایک خطرناک اقدام ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ یہ مثال امریکہ نے قائم کی ہے، ایران نے نہیں۔‘

    اس سے قبل وزارت داخلہ نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ ’ایرانی جارحیت‘ کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے اور محرق علاقے میں میزائل کے ٹکڑے لگنے سے ایک یونیورسٹی کی عمارت کو نقصان پہنچا۔

  18. ناروے میں امریکی سفارت خانے میں دھماکے سے ’معمولی نقصان‘

    ناروے کی پولیس کے مطابق اوسلو میں امریکی سفارت خانے کو اتوار کی صبح ایک دھماکے سے نشانہ بنایا گیا، جس سے معمولی نقصان ہوا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ناروے کی پولیس نے اوسلو میں امریکی سفارت خانے کے ارد گرد کے علاقے کو ایک دھماکے کے بعد گھیرے میں لے لیا ہے۔

    اوسلو پولیس نے بتایا کہ انھیں مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے کے قریب اس کی اطلاع ملی۔ پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پولیس سفارت خانے کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے اور کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘

    پولیس نے مزید کہا کہ ’فی الحال اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے کہ اصل میں کیا ہوا یا کون ملوث ہو سکتا ہے۔‘

    پولیس آپریشنز کمانڈر میکائیل ڈیلمیر نے ناروے کے سرکاری نشریاتی ادارے این آر کے کو بتایا کہ دھماکہ قونصلر اور عمارت کے عوامی حصوں میں ہوا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سفارت خانے کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

    یہ دھماکہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں حفاظتی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں، کیونکہ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی فضائی حملے بڑھ رہے ہیں۔

    خلیجی ممالک میں کئی امریکی سفارتی عمارتیں جو امریکی فوجی دستوں کی میزبانی کرتی ہیں، بشمول کویت اور سعودی عرب، کو ایران کے جوابی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

  19. مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ: وزارتِ منصوبہ بندی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کی وزارتِ منصوبہ بندی نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس میں جنگ کے باعث توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے، اس کے ساتھ پیداواری و فریٹ اخراجات میں اضافے کے باعث برآمدات کی مسابقت متاثر ہونے کا خدشہ بھی ہے۔

    وزارت کی جانب سے جاری کیے گئے ماہانہ ڈیولپمنٹ آؤٹ لک میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ گیا ہے، جو پاکستان کے بیرونی شعبے کے لیے ممکنہ خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سٹریٹجک آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر تیل مہنگا ہوتا ہے تو پاکستان کے درآمدی بل میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ملک کی درآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات کا بڑا حصہ ہے۔

    مزید برآں مشرقِ وسطیٰ کو کی جانے والی برآمدات، جو پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 11 فیصد ہیں، خطے میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر تنازع طویل ہو گیا تو ترسیلاتِ زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں، کیونکہ تقریباً 45 سے 50 لاکھ پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں اور یہی ممالک پاکستان کو موصول ہونے والی مجموعی ترسیلاتِ زر کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کرتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال شرح مبادلہ کے استحکام، سرمایہ کاری کی آمد اور مالیاتی دباؤ پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے کہا کہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو توانائی کے ذرائع میں تنوع، برآمدات میں سہولت کاری کو مضبوط بنانے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بیرونی شعبے کے استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران پاکستان کی معیشت میں قابلِ ذکر استحکام دیکھنے میں آیا، جس کی وجہ محتاط اور مربوط معاشی پالیسیوں کو قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جولائی تا فروری 2026 کے دوران اوسط مہنگائی میں کمی آئی، تاہم فروری 2026 میں بجلی کی قیمتوں میں رد و بدل کے باعث عارضی اضافہ دیکھا گیا۔ اسی عرصے میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں جولائی تا دسمبر کے دوران مجموعی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں کمی دیکھی گئی تھی، جو معاشی سرگرمیوں میں بحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    مزید کہا گیا ہے کہ تعمیرات اور آٹوموبائل کے شعبوں میں بھی مضبوط رفتار دیکھی گئی۔ اشیا اور خدمات کی برآمدات مستحکم رہیں، جس میں خدمات کے شعبے کی مضبوط کارکردگی نے مدد دی۔ معیشت کی بحالی کے ساتھ درآمدات میں بھی اضافہ ہوا جبکہ ترسیلاتِ زر نے بیرونی شعبے کو سہارا دیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالیاتی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا اور مالیاتی توازن مثبت ہو گیا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق بیرونی خطرات — خصوصاً جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں — اب بھی معاشی منظرنامے کے لیے منفی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

  20. امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور جوابی حملے: اب کیا صورتحال ہے؟

    ایران

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے تازہ حملوں کا آغاز کیا ہے، جبکہ تہران میں تیل کے ڈپو رات بھر حملوں میں تباہ ہوئے۔

    دوسری جانب، وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی ’کشیدگی کم کرنے کی خواہش‘ صدر ٹرمپ کی ’ایران کی صلاحیتوں اور ارادوں کی غلط تشریح‘ کے باعث ’فوراً ختم ہو گئی ہے۔‘

    خلیج

    کویتی فوج نے کہا ہے کہ وہ ’دشمن ڈرونز کی ایک لہر‘ سے نمٹ رہی ہے، جن میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایندھن کے ٹینکروں پر حملہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایک بلند عمارت میں بڑا آگ بھڑک اٹھی۔

    دبئی میڈیا آفس کے مطابق دبئی میں ایک رہائشی اس وقت ہلاک ہوا جب ’فضائی روک تھام‘ کے دوران ٹکڑے ایک گاڑی پر آل برشا علاقے میں آگرے۔

    اسرائیل

    اپوزیشن رہنما نے حکومت پر زور دیا کہ ’ایران کے تمام تیل کے کنویں تباہ کر دیے جائیں‘ تاکہ اس کی معیشت کو مفلوج کیا جا سکے۔

    آئی ڈی ایف نے بتایا کہ وہ ایران سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس نے لبنان میں قدس فورس پر حملہ کیا ہے، جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک کارروائیوں کا ونگ ہے۔

    لبنان

    لبنانی حکام نے رات بھر متعدد حملوں کی اطلاع دی، جن میں ایک اسرائیلی فضائی حملہ بھی شامل تھا جس نے ایک ہوٹل کو نشانہ بنایا اور چار افراد ہلاک ہوئے۔

    انھوں نے کہا کہ اب تک تقریباً پانچ لاکھ افراد لڑائی کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں۔

    امریکہ

    صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو جنگ میں اس وقت شامل ہوں جب ہم پہلے ہی جیت چکے ہوں۔‘ یہ بیان بی بی سی کی اس خبر کہ برطانوی طیارہ بردار جہاز ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز کو ہنگامی تیاری پر رکھا گیا ہے کے بعد سامنے آیا۔