دبئی کے شاہی خاندان
کے ایک رکن کی سابقہ اہلیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے کیونکہ
ان کے سابق شوہر نے مقامی پولیس میں ان کے خلاف اپنی تین کمسن بیٹیوں کے اغوا کا الزام لگایا ہے۔
زینب جوادلی کی 2019 میں اپنے سابق شوہر شیخ سعید بن مکتوم بن راشد المکتوم سے طلاق کے بعد سے دونوں
میں بچوں کی حوالگی کو لے کر لڑائی جاری ہے۔ شیخ سعید دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد
المکتوم کے بھتیجے ہیں۔ زینب جوادلی اور شیخ سعید ایک دوسرے پر بچوں کے اغوا کا
الزام لگاتے آئے ہیں۔
اپنے برطانوی وکیل ڈیوڈ
ہے کو بھیجے گئے ایک ویڈیو پیغام میں زینب جوادلی کا کہنا تھا کہ وہ جانتی تھیں کہ یہ
اپنے بچوں کے ساتھ رہنے کا ان کا آخری موقع تھا اس لیے انھیں لائیو اسٹریم میں مدد
کے لیے پکارنے کا فیصلہ کیا۔
’مجھے پتا تھا کہ یہ اپنے بچوں کے ساتھ رہنے کا آخری موقع تھا کیونکہ وہ مجھے دوبارہ کبھی نہیں ملنے دیں گے۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ کئی ہفتوں بعد وہ اپنی بیٹیوں کو ان کے والد کے پاس سے واپس لے آئی تھیں اور تب سے وہ اپنے گھر میں بند ہو کر رہ رہی ہیں۔
اس سے قبل ایک معاہدے کے تحت تینوں
بچیوں کی تحویل جوادلی کے پاس تھی۔ ان کے بقول یہ معاہدہ 2022 میں
دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے ساتھ طے پایا تھا جس میں یہ ضمانت دی
گئی تھی کہ جب تک بچیاں 18 سال کی نہیں ہو جاتیں وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہیں گی۔ اس کے
علاوہ معاہدے کے تحت رہائش اور دیگر اخراجات ادا کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا جبکہ بچوں کے
تعلیمی اخراجات ان کے والد ادا کر رہے ہیں۔
ڈیوڈ ہے کا کہنا ہے
کہ اس کے بدلے میں انھیں کچھ دستاویزات پر دستخط کرنے پڑے تھے جس کے تحت ان پر میڈیا سے
بات کرنے اور مزید لائیو سٹریمنگ کرنے پر پابندی تھی۔
بعد ازاں ایک عدالتی
فیصلے نے بچوں کی تحویل شیخ سعید کو دے دی تھی تاہم جوادلی کہتی ہیں کہ انھیں یقین
دہانیاں کروائی گئی تھیں کہ اس فیصلے کا اثر دبئی کے حکمران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر
نہیں پڑے گا۔
دو ماہ قبل جب
بچیاں اپنے والد سے ملنے گئیں تو انھیں دبئی پولیس کے ذریعے شیخ سعید کی طرف سے ایک پیغام موصول ہوا کہ انھیں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بچیاں اس دن انھیں واپس
نہیں کی جائیں گی۔
زینب جوادلی کہتی
ہیں کہ بالآخر انھیں آٹھ نومبر کو اپنی بیٹیوں سے ملاقات کی اجازت دی گئی تو وہ
اپنی بیٹیوں کو اپنے ساتھ واپس لے آئیں۔
انھوں نے مزید دعویٰ
کیا کہ ان کے سابقہ شوہر کے لیے کام کرنے والے افراد نے انھیں روکنے کی کوشش کی جس
پر انھوں نے لائیو سٹریم کیا۔
زینب جوادلی کا
کہنا ہے کہ وہ تب سے گھر میں ہیں اور گرفتاری کے خوف سے باہر نہیں جا رہیں۔
بی بی سی نے متحدہ عرب
امارات میں متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ تاہم
عدالت میں جمع کروائے گئے جوابات سے شیخ سعید کا موقف واضح ہے۔
آٹھ نومبر کے
واقعات کے متعلق جمع کروائے گئے بیان میں شیخ سعید نے جوادلی پر زبردستی بچیوں کو
اپنے ساتھ لے جانے کا الزام لگایا ہے۔ جوادلی پر سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز پوسٹ کرنے
کا بھی الزام لگایا گیا ہے جس میں انھوں نے اپنے سابق شوہر پر بہتان لگانے اور ریاست
کو بدنام کرنے اور ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کی۔
جاویدلی نے الزامات کو مسترد کیا ہے اور ان کی اماراتی قانونی ٹیم نے عدالت میں اس کے برعکس ثبوت پیش کر دیے ہیں۔