آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے لاشوں کی سیاست کر رہی ہے: وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بڑا افسوس ہوتا ہے کہ اب تحریک انصاف اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے لاشوں کی سیاست کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال والے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں کوئی لاشیں نہیں لائی گئی ہیں۔

خلاصہ

  • پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تحریک انصاف پر ’لاشوں کی سیاست‘ کا الزام لگایا ہے۔ ادھر پی ٹی آئی نے اس حکومتی دعوے کی تردید کی ہے کہ ’فائنل کال‘ کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔
  • وزارت داخلہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کا اس پرتشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی انھیں ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔
  • ادھر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ ’وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے سے ڈرتے نہیں ہیں، ڈریں جب ہم گولی کا جواب گولی سے دیں گے۔‘

لائیو کوریج

  1. تحریک انصاف کا مظاہرین پر مبینہ تشدد اور گولیاں چلانے میں ملوث کرداروں کے تعین کے لیے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے احتجاج کی غرض سے اسلام آباد آنے والوں پر مبینہ طور پر ’تشدد اور گولیاں چلانے‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس معاملے میں ملوث کرداروں کے تعین کے لیے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پرامن احتجاج کے لیے اسلام آباد آنے والے شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں میں ملوث حکومتی کرداروں کے تعین کے لیے اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کی جائیں۔

    یاد رہے کہ حکومت تحریک انصاف کے مظاہرین پر گولی چلانے یا احتجاج میں ہلاکتوں جیسے الزامات کی تردید کرچکی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا ہے کہ ’ہمارے قائدین کو اور حکومت میں شامل جماعتوں کو سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا وگرنہ اس سے پاکستان کا نقصان ہوگا۔‘

    ان سے جب بشری بیگم کی سیاسی معاملات میں مداخلت کی خبروں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہ عمران خان کی گرفتاری سے پریشان ہیں انھوں نے اس ریلی میں شرکت کی ہے۔ باقی انھوں نے کوئی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سیاسی حالات کشیدہ ہیں اور اس پر پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام کے قائدین اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    اعلامیے کے متن کے مطابق ’پرامن اور محبِ وطن پاکستانیوں پر سیدھی گولیاں چلانے پر وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔‘

    یاد رہے کہ اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج اور مظاہرین پر حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد تحریکِ انصاف کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے جماعت کے کارکنوں کی ہلاکتوں اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ ’گرینڈ آپریشن‘ میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے سرے سے گولی چلائی ہی نہیں گئی۔

    پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اعلامیے میں بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کی گاڑی پر مبینہ طور پر شیلنگ اور فائرنگ کرنے، انھیں اغوا کرنے کی کوشش کرنے اور ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’سرکاری مشینری کی جانب سے بشریٰ بی بی کے کنٹینر کو نذرِ آتش کرنے، شہریوں کی نجی املاک گاڑیوں وغیرہ کو جلانے کی بھی مذمت کی جاتی ہے۔‘

    دوسری جانب اعلامیے میں بانی چیئرمین عمران خان کی فائنل کال پر پرامن احتجاج کے لیے رکاوٹوں کے باوجود اسلام آباد پہنچنے اور بدترین شیلنگ کا سامنا کرنے پر عوام اور کارکنان کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا گیا۔

    اعلامیے میں مبینہ طور پر حکومتی فائرنگ سے کارکنان کی ہلاکت کو قومی المیہ قرار دیتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبے کیا گیا کہ بےگناہ پاکستانیوں کے اہلِخانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔

    سیاسی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں جلد آئیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

  2. بشری بی بی کی 190 ملین پاؤنڈز کے مقدمے میں گرفتاری کے لیے نیب کی ٹیم پشاور میں موجود, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی 190ملین پاؤنڈ میں گرفتاری کے لیے قومی احتساب بیورو کی ٹیم اس وقت پشاور میں موجود ہے اور اس ضمن میں ہوم سیکرٹری کو نیب حکام کی جانب سے تحریری طور پر کہا گیا ہے کہ وہ ملزمہ کی گرفتاری کے سلسلے میں تعاون کریں۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے غیر حاضری کی بنیاد پر بشری بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں اس مقدمے کی گزشتہ چار سماعتوں سے بشری بی بی عدالت میں پیش نہیں ہو رہیں۔

    اس مقدمے میں تمام گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں اور ملزمان عمران خان اور بشری بی بی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان قلمبند کروانا ہے لیکن ابھی تک ان دونوں ملزمان نے اپنا بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔

    اس مقدمے میں ملزمان کے بیان کے بعد فریقین کی جانب سے حتمی دلائل دیے جائیں گے جس کے بعد اس مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ اس مقدمے میں شہزاد اکبر زلفی بخاری نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے سربراہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے کو اشتہاری قرار دیا ہے۔

    القادر ٹرسٹ کیس یا 190ملین پاؤنڈز کا مقدمہ کیا ہے

    واضح رہے کہ بحریہ ٹاون کے مالک اور پاکستان کے پراپرٹی ٹائیکون القادر ٹرسٹ کیس میں اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں۔

    اس مقدمے میں سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف رہنما عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انھوں نے بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے سینکڑوں کنال پر محیط اراضی اُس 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض حاصل کی جس کی شناخت برطانیہ کے حکام نے کی تھی اور یہ رقم پاکستان کو واپس کر دی تھی۔

    اس کیس میں عمران خان، بشری بی بی، ملک ریاض، احمد علی ریاض و دیگر کو ملزم قرار دیا گیا ہے۔

    رواں برس نو جنوری کو احتساب عدالت نے ملک ریاض اور اُن کے بیٹے احمد علی ریاض سمیت کیس کے پانچ دیگر شریک ملزمان کو مقدمے کی تفتیش میں شامل نہ ہونے پر اشتہاری قرار دیتے ہوئے پاکستان میں موجود اُن کی جائیدادیں منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

  3. صحافی مطیع اللہ جان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    صحافی مطیع اللہ جان کا اے ٹی سی کی جانب سے دو روزہ جسمانی ریمانڈ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

    ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے صحافی مطیع اللہ جان کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست دائر کردی ہے۔

    اس حوالے سے دائر درخواست میں ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے موقف اختیار کیا ہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کو جھوٹے اور من گھڑت مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز انسداد دہشتگردی عدالت نے صحافی مطیع اللہ جان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انھیں پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا۔

    ایمان مزاری نے کہا کہ ’ہماری استدعا ہے کہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت آج ہی ہو۔ اگر آج سماعت نہ ہوئی کل یا پیر کو ہوئی تو ہماری درخواست غیر موثر ہو جائے گی۔‘

    واضح رہے کہ جمعرات کے روز اسلام آباد پولیس نے صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات برآمدگی، پولیس اہلکار سے اسلحہ چھینے، پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی کوشش میں اُن پر اسلحہ تاننے جیسے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

    جمعرات کے روز عدالت میں پیشی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مطیع اللہ جان نے صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ اُنھیں ڈیڈ باڈیز سے متعلق سٹوری کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

    اس موقع پر مطیع اللہ جان نے واضح کیا کہ سب جانتے ہیں کہ وہ سگریٹ تک نہیں پیتے۔ انھوں نے کہا کہ ’اداروں کی ساکھ کو تباہ کیا جا رہا ہے تاہم ہم ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ ‘

    یاد رہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کے بیٹے نے بدھ کی صبح اسلام آباد پولیس کودرخواست دی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد نے‘ ان کے والد کے اغوا کر لیا۔

    درخواست میں اُن کے بیٹے کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ اُن کے والد کے اغوا کا واقعہ گذشتہ رات گیارہ بجے کے لگ بھگ اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی پارکنگ میں پیش آیا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں درج مقدمے میں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

    درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا کہ صحافی مطیع اللہ سے 246 گرام آئس برآمد ہوئی جبکہ انھوں نے پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی کوشش کی۔

    درخواست میں کہا گیا کہ جس وقت مطیع اللہ جان کو ’اغوا‘ کیا گیا اس وقت ان کے ہمراہ نجی ٹی وی سے منسلک صحافی ثاقب بشیر بھی موجود تھے جنھیں بعدازاں اغواکاروں کی جانب سے چھوڑ دیا گیا۔

    بیٹے نے بتایا کہ انھیں اپنے والد کے اغوا کی بابت صحافی ثاقب بشیر نے صبح چار بجے کے لگ بھگ بتایا۔

    ایف آئی آر میں کیا الزامات عائد کیے گئے ہیں؟

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی رات سوا دو بجے کے لگ بھگ سیکٹر ای 9 میں ایک پولیس ناکے پر پیش آیا۔

    پولیس اے ایس آئی کی مدعیت میں درج اس مقدمے میں الزام عائد کیا ہے کہ مارگلہ روڈ پر واقع ایک پولیس ناکے پر اہلکار معمول کی جانچ پڑتال کے لیے موجود تھے جب ایک انتہائی تیز رفتار گاڑی نے بیرئیر پر موجود اہلکاروں کو ’جان سے مارنے کی غرض سے‘ اُن پر اپنی گاڑی چڑھا دوڑی۔

    ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس واقعے میں ایک کانسٹیبل زخمی ہوا جبکہ پولیس اہلکاروں نے بیرئیر آگے پھینک کر گاڑی کو زبردستی روک لیا جس میں سوار ڈرائیور ’حالتِ نشہ‘ میں تھا۔

    ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ گاڑی کے ڈرائیور نے اُترتے ہی ایک پولیس کانسٹیبل کو زدکوب کیا، اس سے سرکاری اسلحہ چھینا اور ناکے پر موجود اہلکاروں پر تان لیا۔

    ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ پولیس نے ملزم پر قابو پایا تو معلوم ہوا وہ مطیع اللہ جان نامی بندہ تھا جس کی گاڑی کی تلاشی لی گئی تو اس میں سے 246 گرام آئس برآمد ہوئی جس کو تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ’ملزم نے آئس اپنے قبضے میں رکھ کر، سرکاری رائفل چھین کر، پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی غرض سے رائفل تاننے اور ناکے کے بیرئیر پر گاڑی چڑھانے اور کار سرکار میں مزاحم ہونے اور وہاں موجود لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا کر متعدد جرائم کا ارتکارب کیا ہے۔۔۔‘

    صحافی ثاقب بشیر نے کیا بتایا؟

    صحافی ثاقب بشیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ بدھ کی رات گیارہ بجے کے قریب پمز ہسپتال سے نکل کر پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف جا رہے تھے جب کچھ افراد وہاں پر آئے جنھوں نے ہم دونوں کے چہروں پر کپڑا ڈالا اور زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔‘

    ثاقب بشیر نے دعویٰ کیا کہ ’دس منٹ کی مسافت کے بعد ہم دونوں کو ایک کمرے میں بیٹھایا گیا، لیکن کپڑا منہ سے نہیں اتارا گیا۔ اِن افراد نے مجھے (ثاقب) مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں ہے، اس لیے ہم آپ کو کچھ نہیں کہتے۔‘

    ثاقب بشیر نے مزید کہا کہ اغوا کرنے والے افراد نے انھیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا اور دو گھنٹے کے بعد آئی نائن کے قریب ایک ویران جگہ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

    صحافی ثاقب بشیر کے مطابق وہ اور مطیع اللہ جان پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران مظاہرین کی مبینہ ہلاکتوں کی تصدیق کرنے کے لیے پمز گئے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ جب انھیں چھوڑنے کے لیے گاڑی کی طرف لے کر جا رہے تھے تو اس وقت کمرے میں موجود ایک شخص سے انھوں نے وقت پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس وقت رات کے ڈھائی بج چکے ہیں۔ ثاقب بشیر کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر رہے ہیں جبکہ مطیع اللہ جان کی فیملی بھی اسی عدالت سے رجوع کر رہی ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل مطیع اللہ جان کو جولائی 2020 میں بھی اغوا کیا گیا تھا تاہم انھیں 12 گھنٹوں کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

  4. عالمی برادری فلسطینی عوام کی نسل کشی روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے: صدر زرداری

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر فلسطینی عوام کے حق ِخودارادیت کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا ہے۔

    اپنے بیان میں صدر آصف علی درداری نے کہا ہے کہ پاکستان فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔

    بیان کے مطابق ’اسرائیلی جارحیت خطے کے دیگر ممالک کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ آزادی، وقار اور انصاف کے لیے فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ عالمی برادری فلسطینی عوام کی نسل کشی روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ دن ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب اسرائیل کی جانب سے جاری فوجی مہم غزہ اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نسل کشی، بنیادی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں کی تباہی، مصائب اور فلسطینیوں کی نقل مکانی کا باعث بن رہی ہے۔‘

    صدر زرداری نے کہا کہ ’پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک ایسی آزاد، پائیدار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔‘

    صدر مملکت نے کہا کہ ’آج پاکستان عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی، لاکھوں فلسطینیوں کے مصائب کم کرنے کے لیے بلا روک ٹوک انسانی امداد کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرانے کے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔‘

    انھوں نے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان فلسطین کی حمایت جاری رکھے گا۔

  5. بڑے بوجھل دل سے کہتا ہوں یہ سب کب تک چلے گا اور آخر یہ قوتیں پاکستان کو کہاں لے کر جانا چاہتی ہیں: سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی

    خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کا جمعرات کی رات اسلام آباد کے ڈی چوک میں پیش آنے والے واقعے پر ہنگامی اجلاس ہوا۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی کا جمعرات کو ہونے والا اجلاس سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہوا۔ اسمبلی کے اس ہنگامی اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور موجود نہیں تھے۔

    صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے اس ہنگامی اجلاس کے آغاز پر سپیکر بابر سلیم سواتی نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 16 کا ذکر کیا جس کے بارے میں بات کوتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’آئینِ پاکستان کا یہ آرٹیکل 16 پاکستان کے تمام شہریوں کو پُرامن احتجاج اور آزادیِ رائے کے اظہار کا حق دیتا ہے۔ مگر بد قسمتی سے اس ارضِ پاکستان میں روز اول سے اداروں اور مقتدر حلقوں نے اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو بے دردی اور جبر کا نشانہ بنایا ہے۔‘

    خیبر پختونخوا اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کے دوران صوبے بھی میں 26 نومبر کے ڈی چوک واقعے اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں پر تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا گیا۔

    سپیکر صوبائی اسمبلی نے 26 نومبر کو اسلام آباد میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کیے جانے والے آپریشن پر شدید الفاظ میں تنقید کی اسی کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے وفاقی حکومت پر 26 نومبر کی رات ڈی چوک میں آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں غائب کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

    سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے 26 دسمبر کے واقعات سے متعلق بات کرتے ہویے کہا کہ ’ہم ایسے ہی تجربات پہلے بھی دیکھ چُکے ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ کے وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ جیسا وفاقی حکومت اور اداروں نے ڈی چوک میں نہتے مظاہرین کے ساتھ کیا۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’میں بڑے بوجھل دل سے یہ کہتا ہوں یہ سب آخر کب تک چلے گا۔ آخر یہ قوتیں پاکستان اور اس قوم کو کہاں لے کر جانا چاہتی ہیں۔ کیا اس مُلک میں آئین کی پاسداری کے لیے کھڑے ہونا ایک جُرم ہے؟‘

    بعد ازاں خیبر پختونخوا اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کے دوران صوبے بھی میں 26 نومبر کے ڈی چوک واقعے اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں پر صوبائی وزیر قانون نے تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا گیا اور بعد ازاں ڈی چوک میں ہلاک ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کروائی گئی۔

    صوبہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس جمعے کی شام سات بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

    یاد رہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکُنان کی بڑی تعداد بانی پی ٹی آئی کے کال پر 24 دسمبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

    خیبر پختونخوا سے چلنے والے اس قافلے کی قیادت صوبے کے وزیراعلیٰ علی امن گنڈا پور کر رہے تھے جبکہ اُن کے ساتھ سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی بھی موجود تھیں۔

    26 دسمبر کو پی ٹی آئی مظاہرین اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچے تھے جہاں انھوں نے عمران خان کی رہائی تک دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا تاہم حکومت کی جانب سے ایک آپریشن کے بعد مظاہرین کو مُنتشر کر دیا گیا تھا۔

  6. بلوچستان اسمبلی میں پی ٹی آئی پر پابندی کی قرارداد منظور, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان اسمبلی میں جمعرات کو پاکستان تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کے لیے ایک قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی۔ بلوچستان اسمبلی میں یہ قرار داد حکومتی اتحاد میں شامل پاکستان مُسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے 8 اراکین کی جانب سے لائی گئی تھی۔

    بلوچستان اسمبلی میں منظور ہونے والی اس قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف پر فوری پابندی پائد کرے۔

    اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

    ایوان میں قرارداد نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے وزیر میر سلیم احمد کھوسہ نے پیش کی۔

    قرارداد کے متن میں کہا گیا تھا کہ ’09 مئی کو ملک گیر فسادات برپا کرنے والی پی ٹی آئی کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پر تشدد کارروائیاں کی جارہی ہیں ملک کی تاریخ میں ایک سیاسی انتشاری ٹولے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ پی ٹی آئی کی اس قسم کی انتشاری ایجنڈے نے ملک کے ہر نظام ہر مکتبہ فکر کے افراد بشمول عدلیہ، میڈیا اور ملکی معشیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔‘

    قرارداد کے متن کے مطابق ’ایک صوبے کے آئینی وزیر اعلی کے وفاق اور فیڈ ریشن کے خلاف محاز آرائی کی باتیں ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا آگے لے جانے کے مترادف ہے۔ کے پی حکومت کا سرکاری مشینری اور وسائل کے ساتھ وفاق پر جھتوں کی صورت میں اعلانیہ حملہ کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کے غیر سیاسی ایجنڈے کا واضح ثبوت ہے۔‘

    قرارداد کے متن کے مطابق ’مذکورہ بالا حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ایوان ملک میں انتشار پھیلانے، افواج پاکستان اور سکیورٹی فورسز کو عوام کے ساتھ براہ راست لڑانے کی کوشش کرنے پر وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی پر فوری طور پر پابندی لگانے کو یقینی بنائے۔‘

    سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم خان رئیسانی نے تحریک انصاف پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں سیاست کرنے کا مساوی موقع فراہم کرنا چائیے۔‘

    نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ ’وہ تحریک انصاف پر پابندی کی حمایت نہیں کرسکتے۔ معلوم نہیں اس طرح کے اقدامات سے پاکستان کو کہاں لے جایا جارہا ہے۔‘

    قائدِ حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ ’وہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں لیکن وہ تحریک انصاف پر پابندی کی حمایت نہیں کرتے۔‘

    حق دو تحریک کے رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے تحریک انصاف پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’متحدہ قومی موومنٹ پر تحریک انصاف پر قتل و غارت گری کے زیادہ سنگین الزامات ہیں لیکن نہ صرف گورنر سندھ ان کا ہے بلکہ وہ حکومت کا بھی حصہ ہیں۔‘

    قرارداد پر رائے شماری سے قبل حزب اختلاف کے اراکین نے ایوان سے واک آئوٹ کیا۔ تاہم حزب اختلاف کے اراکین کی عدم موجودگی میں ایوان نے قرارداد کو منظور کرلیا۔

  7. اسلام آباد سمیت ملک بھر میں ’فسادات‘ سے نمٹنے کے لیے نئی فورس قائم کی جائے: پی ٹی آئی کے احتجاج کے بعد وزیر اعظم کا حکم

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو گزشتہ دنوں ملک میں دھرنوں کی صورت میں احتجاج کرنے والوں کی جانب سے سرکاری املاک اور پولیس و رینجرز کے اہلکاروں پر حملے پر بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، اٹارنی جنرل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف کی جانب سے اسلام آباد یا ملک کے کسی بھی شہر پر ذاتی مقاصد کے حصول کیلئے لشکر کشی کو روکنے کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مظاہرین سے نمٹنے کیلئے اسلام آباد اور ملک بھر میں اینٹی روائٹس یعنی فسادات سے نمٹنے کے لیے ایک فورس قائم کی جائے۔ فورس کو بین الاقوامی طرز پر پیشہ ورانہ تربیت اور ضروری سازوسامان سے لیس کیا جائے۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے نام نہاد پر امن دھرنے کے مسلح افراد کو انتشار پھیلانے سے روکنے میں برداشت کا مظاہرہ کیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آئندہ ایسی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کیا جائے اور اسی کے ساتھ ساتھ گزشتہ دنوں کے واقعات میں عوام میں اشتعال، بے یقینی اور انتشار پھیلانے والے عناصر کو قانون کے کٹھرے میں لایا جائے۔‘

  8. یوکرین ’اپنے آقاؤں سے فوجی سامان کی بھیک مانگ رہا ہے‘: صدر پوتن کا کیئو پر حملوں کا عندیہ

    یوکرین میں بجلی کی تنصیبات پر روسی حملوں کے سبب ملک کے مغربی حصوں لویو، ریوین اور وولن پر تازہ حملے کے بعد تقریباً 10 لاکھ افراد کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

    رواں ماہ میں ہونے والا یہ اس طرز کا دوسرا حملہ ہے۔ 17 نومبر کو بھی ایک ایسے ہی حملے میں روس نے یوکرین کی بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جس میں 10 افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔

    صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ یوکرین نے گذشتہ ہفتے برطانوی اور امریکی ہتھیاروں سے روس پر حملہ کیا تھا اور ان کے ملک نے گذشتہ رات یوکرین پر 90 میزائلوں اور 100 ڈرونز کے ذریعے ان حملوں کا جواب دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں اہداف طے کرتے ہوئے ان مقامات کا انتخاب کیا جاتا ہے جو کہ فیصلہ سازی کا مرکز ہوں۔

    تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ روسی حملوں میں عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ یوکرین نے روس کے خلاف جاری جنگ میں گذشتہ ہفتے پہلی مرتبہ برطانوی اور امریکی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا، جس کے جواب میں روس نے یوکرین پر مزید حملے کیے ہیں۔

    قزاقستان میں ایک سمٹ کے دوران صدر پوتن نے یوکرین پر حملوں کی تصدیق کی اور کہا کہ ’ہم نے جامع حملے کیے ہیں‘ جس میں 17 عسکری مقامات تباہ ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو دنوں میں روس نے یوکرین کی طرف 100 میزائل اور 466 ڈرونز فائر کیے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ روس یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں فیصلہ سازی کے مراکز کو بھی ’اوریشنک‘ میزائل کے ذریعے نشانہ بنا سکتا ہے۔

    روس نے یوکرین پر حملے میں اپنے نئے ’اوریشنک‘ میزائل کا استعمال گذشتہ ہفتے بھی کیا تھا۔

    قزاقستان میں امریکہ اور برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ یوکرین اپنے ’اپنے آقاؤں سے عسکری سامان کی بھیک مانگ رہا ہے۔‘

    صدر پوتن نے روس کی عسکری صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کوئی ہمارے کلیبر، کنزہل اور سرکون ہائپر سونک میزائل سسٹم کو نہ بھولے، جو کہ اپنی خصوصیات کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنی مثال نہیں رکھتے۔‘

    ’ان کی پروڈکشن بڑھ گئی ہے اور پوری قوت سے جاری ہے۔‘

  9. روس کا یوکرین کی بجلی کی تنصیبات پر حملہ، 10 لاکھ افراد کو بجلی کی فراہمی معطل

    یوکرین کے وزیرِ توانائی کا کہنا ہے کہ روس نے ملک کی بجلی کی تنصیبات پر راکٹوں سے ایک بڑا حملہ کیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی بنیادوں پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔

    رواں ماہ میں ہونے والا یہ اس طرز کا دوسرا حملہ ہے۔ 17 نومبر کو بھی ایک ایسے ہی حملے میں روس نے یوکرین کی بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جس میں 10 افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔

    یوکرینی حکام کے مطابق کئی گھنٹے جاری رہنے والے اس حملے میں روس کی جانب سے میزائل اور ڈرونز استعمال کیے گئے ہیں۔

    وزیرِ توانائی نے ملک بھر میں بجلی کی تنصیبات پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔

    اس حملے میں شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں تاہم اس بارے میں ابھی صورتحال واضح نہیں۔

    روس کی جانب سے یوکرین کے مغربی حصوں لویو، ریوین اور وولن پر تازہ حملے کے بعد تقریباً 10 لاکھ افراد کو بجلی کی فراہمی منقطع ہے۔

    یوکرین کے شہر خرکیو کے میئر کا کہنا ہے روسی شیلنگ میں شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ لٹسک کے میئر کا کہنا ہے کہ شہر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور شہر کے ایک حصے کو بجلی کی فراہمی منقطع ہے۔

    یوکرین کے مغربی علاقے روین کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد سے علاقے میں دو لاکھ 80 ہزار افراد کو بجلی کی سہولت میسر نہیں ہے۔

    یوکرینی میڈیا کے مطابق اوڈیسا میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سمی اور وولن کے علاقوں میں بھی روسی حملوں کی اطلاعات ہیں۔

    یوکرینی حکام نے پاور گرڈ کو اوور لوڈ کے نتیجے میں نقصان سے بچانے کے لیے ایمرجنسی لوڈشیڈنگ شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ شام تک جاری رہ سکتی ہے۔

  10. صحافی شاکر اعوان کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    جمعرات کے روز نجی چینل سے تعلق رکھنے والے صحافی شاکر اعوان کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

    ‏شاکر اعوان کی والدہ شہناز بیگم کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی ہے۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ‏گذشتہ رات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اہلکار اور نامعلوم افراد شاکر اعوان کو ان کے گھر سے لے کر گئے لیکن تاحال انھیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

    درخواست گزار کا مزید کہنا ہے کہ ‏شاکر اعوان کے خلاف تاحال کسی مقدمے کے اندراج کے حوالے سے بھی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہے۔ انھوں نے ‏استدعا کی کہ ہائیکورٹ شاکر اعوان کو بازیاب کروا کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں ایف آئی اے، پنجاب حکومت، پولیس سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

  11. ’246 گرام آئس برآمد ہونے اور پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی کوشش‘ جیسے الزامات پر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف مقدمہ،, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو

    انسداد دہشتگردی عدالت نے صحافی مطیع اللہ جان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انھیں پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

    واضح رہے کہ جمعرات کے روز اسلام آباد پولیس نے صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات برآمدگی، پولیس اہلکار سے اسلحہ چھینے، پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی کوشش میں اُن پر اسلحہ تاننے جیسے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا۔

    اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں درج مقدمے میں صحافی کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

    درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا کہ صحافی مطیع اللہ سے 246 گرام آئس برآمد ہوئی جبکہ انھوں نے پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی کوشش کی۔

    یاد رہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کے بیٹے نے بدھ کی صبح اسلام آباد پولیس کودرخواست دی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد نے‘ ان کے والد کے اغوا کر لیا۔

    درخواست میں اُن کے بیٹے کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ اُن کے والد کے اغوا کا واقعہ گذشتہ رات گیارہ بجے کے لگ بھگ اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی پارکنگ میں پیش آیا۔

    درخواست میں کہا گیا کہ جس وقت مطیع اللہ جان کو ’اغوا‘ کیا گیا اس وقت ان کے ہمراہ نجی ٹی وی سے منسلک صحافی ثاقب بشیر بھی موجود تھے جنھیں بعدازاں اغواکاروں کی جانب سے چھوڑ دیا گیا۔ بیٹے نے بتایا کہ انھیں اپنے والد کے اغوا کی بابت صحافی ثاقب بشیر نے صبح چار بجے کے لگ بھگ بتایا۔

    ایف آئی آر میں کیا الزامات عائد کیے گئے ہیں؟

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی رات سوا دو بجے کے لگ بھگ سیکٹر ای 9 میں ایک پولیس ناکے پر پیش آیا۔

    پولیس اے ایس آئی کی مدعیت میں درج اس مقدمے میں الزام عائد کیا ہے کہ مارگلہ روڈ پر واقع ایک پولیس ناکے پر اہلکار معمول کی جانچ پڑتال کے لیے موجود تھے جب ایک انتہائی تیز رفتار گاڑی نے بیرئیر پر موجود اہلکاروں کو ’جان سے مارنے کی غرض سے‘ اُن پر اپنی گاڑی چڑھا دوڑی۔

    ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس واقعے میں ایک کانسٹیبل زخمی ہوا جبکہ پولیس اہلکاروں نے بیرئیر آگے پھینک کر گاڑی کو زبردستی روک لیا جس میں سوار ڈرائیور ’حالتِ نشہ‘ میں تھا۔

    ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ گاڑی کے ڈرائیور نے اُترتے ہی ایک پولیس کانسٹیبل کو زدکوب کیا، اس سے سرکاری اسلحہ چھینا اور ناکے پر موجود اہلکاروں پر تان لیا۔

    ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ پولیس نے ملزم پر قابو پایا تو معلوم ہوا وہ مطیع اللہ جان نامی بندہ تھا جس کی گاڑی کی تلاشی لی گئی تو اس میں سے 246 گرام آئس برآمد ہوئی جس کو تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ’ملزم نے آئس اپنے قبضے میں رکھ کر، سرکاری رائفل چھین کر، پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی غرض سے رائفل تاننے اور ناکے کے بیرئیر پر گاڑی چڑھانے اور کار سرکار میں مزاحم ہونے اور وہاں موجود لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا کر متعدد جرائم کا ارتکارب کیا ہے۔۔۔‘

    صحافی ثاقب بشیر نے کیا بتایا؟

    صحافی ثاقب بشیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ بدھ کی رات گیارہ بجے کے قریب پمز ہسپتال سے نکل کر پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف جا رہے تھے جب کچھ افراد وہاں پر آئے جنھوں نے ہم دونوں کے چہروں پر کپڑا ڈالا اور زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔‘

    ثاقب بشیر نے دعویٰ کیا کہ ’دس منٹ کی مسافت کے بعد ہم دونوں کو ایک کمرے میں بیٹھایا گیا، لیکن کپڑا منہ سے نہیں اتارا گیا۔ اِن افراد نے مجھے (ثاقب) مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں ہے، اس لیے ہم آپ کو کچھ نہیں کہتے۔‘

    ثاقب بشیر نے مزید کہا کہ اغوا کرنے والے افراد نے انھیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا اور دو گھنٹے کے بعد آئی نائن کے قریب ایک ویران جگہ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

    ثاقب کے مطابق وہ اور مطیع اللہ جان پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران مظاہرین کی مبینہ ہلاکتوں کی تصدیق کرنے کے لیے پمز گئے تھے۔ ثاقب بشیر کا کہنا تھا کہ ’جب ہم دونوں کو اغوا کرکے لے گئے، تو ہمیں ایک ہی کمرے میں بیٹھایا گیا اور ہم دونوں سے کوئی بھی سوال نہیں پوچھا گیا۔ اُن کے مطابق کمرے میں جو افراد موجود تھے وہ صرف ہم دونوں سے یہی پوچھتے رہے کہ چائے تو نہیں پینی؟ سردی تو نہیں لگ رہی؟ واش روم تو نہیں جانا؟‘

    انھوں نے کہا کہ جب انھیں چھوڑنے کے لیے گاڑی کی طرف لے کر جا رہے تھے تو اس وقت کمرے میں موجود ایک شخص سے انھوں نے وقت پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس وقت رات کے ڈھائی بج چکے ہیں۔ ثاقب بشیر کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر رہے ہیں جبکہ مطیع اللہ جان کی فیملی بھی اسی عدالت سے رجوع کر رہی ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل مطیع اللہ جان کو جولائی 2020 میں بھی اغوا کیا گیا تھا تاہم انھیں 12 گھنٹوں کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

  12. پولیس مطیع اللہ جان کے خلاف درج ایف آئی آر کی کاپی نہیں دے رہی: بیٹے کا الزام

    اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی مطیع اللہ جان کے بیٹے نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اُن کے والد کے خلاف درج ایف آئی آر کی کاپی مہیا نہیں کر رہی ہے۔

    یاد رہے کہ جمعرات کی صبح مطیع اللہ جان کے بیٹے نے ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد کی جانب سے اپنے والد کے اغوا‘ کیے جانے کے خلاف تھانہ جی نائن میں درخواست دائر کی تھی۔ تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ اسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج ہوا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مطیع اللہ جان کے بیٹے نے دعویٰ کیا کہ اُن کے والد کو اسلام آباد کے مارگلہ پولیس سٹیشن میں رکھا گیا تھا جبکہ کچھ دیر قبل اُن کی والدہ اور بہن کی مطیع اللہ جان سے ملاقات بھی اسی تھانے میں کروائی گئی تھی۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ بعدازاں انھیں اس تھانے سے کہیں اور منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ حکام کی جانب سے ایف آئی آر کی کاپی بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔

  13. صحافی، یوٹیوبر مطیع اللہ جان کو ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد کی جانب سے اغوا‘ کیے جانے کے خلاف درخواست دائر, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو

    اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی اور یوٹیوبر مطیع اللہ کو مبینہ طور پر ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد کی جانب سے اغوا‘ کیے جانے کے خلاف اُن کے بیٹے نے تھانہ جی نائن میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    درخواست میں اُن کے بیٹے کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُن کے والد کے اغوا کا واقعہ گذشتہ رات گیارہ بجے کے لگ بھگ اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی پارکنگ میں پیش آیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جس وقت مطیع اللہ جان کو ’اغوا‘ کیا گیا اس وقت ان کے ہمراہ نجی ٹی وی سے منسلک صحافی ثاقب بشیر بھی موجود تھے جنھیں بعدازاں اغواکاروں کی جانب سے چھوڑ دیا گیا۔ بیٹے نے بتایا کہ انھیں اپنے والد کے اغوا کی بابت صحافی ثاقب بشیر نے صبح چار بجے کے لگ بھگ بتایا۔

    صحافی ثاقب بشیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ بدھ کی رات گیارہ بجے کے قریب پمز ہسپتال سے نکل کر پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف جا رہے تھے جب کچھ افراد وہاں پر آئے جنھوں نے ہم دونوں کے چہروں پر کپڑا ڈالا اور زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔‘

    ثاقب بشیر نے دعویٰ کیا کہ ’دس منٹ کی مسافت کے بعد ہم دونوں کو ایک کمرے میں بیٹھایا گیا، لیکن کپڑا منہ سے نہیں اتارا گیا۔ اِن افراد نے مجھے (ثاقب) مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں ہے، اس لیے ہم آپ کو کچھ نہیں کہتے۔‘

    ثاقب بشیر نے مزید کہا کہ اغوا کرنے والے افراد نے انھیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا اور دو گھنٹے کے بعد آئی نائن کے قریب ایک ویران جگہ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

    ثاقب کے مطابق وہ اور مطیع اللہ جان پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران مظاہرین کی مبینہ ہلاکتوں کی تصدیق کرنے کے لیے پمز گئے تھے۔ ثاقب بشیر کا کہنا تھا کہ ’جب ہم دونوں کو اغوا کرکے لے گئے، تو ہمیں ایک ہی کمرے میں بیٹھایا گیا اور ہم دونوں سے کوئی بھی سوال نہیں پوچھا گیا۔ اُن کے مطابق کمرے میں جو افراد موجود تھے وہ صرف ہم دونوں سے یہی پوچھتے رہے کہ چائے تو نہیں پینی؟ سردی تو نہیں لگ رہی؟ واش روم تو نہیں جانا؟‘

    انھوں نے کہا کہ جب انھیں چھوڑنے کے لیے گاڑی کی طرف لے کر جا رہے تھے تو اس وقت کمرے میں موجود ایک شخص سے انھوں نے وقت پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس وقت رات کے ڈھائی بج چکے ہیں۔ ثاقب بشیر کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر رہے ہیں جبکہ مطیع اللہ جان کی فیملی بھی اسی عدالت سے رجوع کر رہی ہے۔

    حکام کی جانب سے فی الحال اس واقعے پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل مطیع اللہ جان کو جولائی 2020 میں بھی اغوا کیا گیا تھا تاہم انھیں 12 گھنٹوں کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

  14. پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں احتجاج: عمران خان، بشری بی بی سمیت 300 افراد کے خلاف مقدمہ درج

    پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 24 نومبر کو کیے جانے والے احتجاج پر سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف تھانہ ترنول میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    مقدمے میں عمران خان اور بشری بی بی کے علاوہ پی ٹی آئی رہنما حکیم خان، سردار نعمان، رفیع آفریدی، عرفان کاکا، راجہ خالد، سعید خان، ریحان نثار اور ارسلان سمیت 300 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 24 نومبر کو پی ٹی آئی رہنماؤں کی قیادت میں ڈنڈے، آہنی راڈ، پتھر اور غلیلوں سے لیس 300 کے قریب پی ٹی آئی کارکنان اسلام آباد میں چونگی نمبر 26 کے نزدیک پہنچے۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے کارکنان کو پیغام دیا کہ آج ڈی چوک پہنچنا ہے۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا پولیس نے وہاں موجود پارٹی کی قیادت کو آگاہ کیا کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور انھیں منتشر ہونے کا کہا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اس کے بعد پولیس پر حملہ کر دیا اور ان سے اینٹی رائٹ کٹس بھی چھین لیں تاہم اضافی پولیس نفری کے آنے پر ملزمان نعرے بازی کرتے ہوئے وہاں سے فرار ہوگئے۔

    ملزمان کے خلاف درج مقدمے میں پیسفل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر 2024 کے سیکشن آٹھ سمیت 10 دفعات شامل ہیں۔

  15. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکسان میں اپوزیشن جماعت کے کارکنان کے خلاف جان لیوا آپریشن فوری اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔
    • بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سپہ سالار کے تعاون سے سکیورٹی اداروں نے اسلام آباد میں فساد کا بہترین سٹریٹجی سے خاتمہ کیا۔
    • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کوئی افغان شہری 31 دسمبر کے بعد اسلام آباد میں نہیں رہ سکے گا۔ خیال رہے کہ پولیس حکام کے مطابق احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے پی ٹی آئی مظاہرین میں 56 افغان شہری بھی شامل تھے۔
    • خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کا دھرنا سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی کال تک جاری رہے گا۔
  16. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔