تحریک انصاف کا مظاہرین پر مبینہ تشدد اور گولیاں چلانے میں ملوث کرداروں کے تعین کے لیے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے احتجاج کی غرض سے اسلام آباد آنے والوں پر مبینہ طور پر ’تشدد اور گولیاں چلانے‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس معاملے میں ملوث کرداروں کے تعین کے لیے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پرامن احتجاج کے لیے اسلام آباد آنے والے شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں میں ملوث حکومتی کرداروں کے تعین کے لیے اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کی جائیں۔
یاد رہے کہ حکومت تحریک انصاف کے مظاہرین پر گولی چلانے یا احتجاج میں ہلاکتوں جیسے الزامات کی تردید کرچکی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا ہے کہ ’ہمارے قائدین کو اور حکومت میں شامل جماعتوں کو سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا وگرنہ اس سے پاکستان کا نقصان ہوگا۔‘
ان سے جب بشری بیگم کی سیاسی معاملات میں مداخلت کی خبروں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہ عمران خان کی گرفتاری سے پریشان ہیں انھوں نے اس ریلی میں شرکت کی ہے۔ باقی انھوں نے کوئی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سیاسی حالات کشیدہ ہیں اور اس پر پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام کے قائدین اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اعلامیے کے متن کے مطابق ’پرامن اور محبِ وطن پاکستانیوں پر سیدھی گولیاں چلانے پر وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔‘
یاد رہے کہ اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج اور مظاہرین پر حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد تحریکِ انصاف کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے جماعت کے کارکنوں کی ہلاکتوں اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ ’گرینڈ آپریشن‘ میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے سرے سے گولی چلائی ہی نہیں گئی۔
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اعلامیے میں بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کی گاڑی پر مبینہ طور پر شیلنگ اور فائرنگ کرنے، انھیں اغوا کرنے کی کوشش کرنے اور ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’سرکاری مشینری کی جانب سے بشریٰ بی بی کے کنٹینر کو نذرِ آتش کرنے، شہریوں کی نجی املاک گاڑیوں وغیرہ کو جلانے کی بھی مذمت کی جاتی ہے۔‘
دوسری جانب اعلامیے میں بانی چیئرمین عمران خان کی فائنل کال پر پرامن احتجاج کے لیے رکاوٹوں کے باوجود اسلام آباد پہنچنے اور بدترین شیلنگ کا سامنا کرنے پر عوام اور کارکنان کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا گیا۔
اعلامیے میں مبینہ طور پر حکومتی فائرنگ سے کارکنان کی ہلاکت کو قومی المیہ قرار دیتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبے کیا گیا کہ بےگناہ پاکستانیوں کے اہلِخانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔
سیاسی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں جلد آئیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔