پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جمعے کو
اسلام آباد کے ریڈ زون میں ڈی چوک پر احتجاجی مظاہرے کے اعلان کے پیش نظر وفاقی
دارالحکومت کے تمام داخلی و خارجی راستے بدستور بند ہیں۔اسلام آباد کے تمام راستوں
پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔
جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو احتجاج میں شرکت
سے روکنے کے لیے اسلام آباد پولیس کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری
ہے۔ جمعے کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں سمیت متعدد کارکنوں کو ڈی چوک سے گرفتار
کیا گیا ہے۔
ادھر وفاقی
حکومت نے شنگھائی تعاون تنظیم کے پیش نظر آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں
سکیورٹی کے لیے پاکستان کی فوج کو طلب کر لیا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او)
کے سربراہی اجلاس کیلئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فوج تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن
جاری کیا گیا تھا جس کے بعد فوج کے دستوں نے اسلام آباد میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں
سنبھال لیں ہیں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ جس نے گولی مارنی ہے مار دے، میں کھڑا ہوں اور ہر صورت ڈی چوک جاؤں گا۔
خیال رہے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے
اسلام آباد کے ڈی چوک پر مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعلیٰ
علی گنڈا پور آج دوپہر احتجاج میں شرکت کرنے کے لیے خیبرپختونخوا سے نکلے تھے،
تاہم وہ ابھی بھی اسلام آباد نہیں پہنچ سکے ہیں۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صوبائی عہدیدار علی
اصغر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے برہان انٹرچینج کے قریب
سڑک کو کھود دیا ہے، جس کے باعث وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے قافلے کو اسلام آباد
پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق وزیر اعلیٰ کے قافلہ جب پشاور
اسلام آباد موٹروے پر برہان انٹرچینج پر پہنچا تو پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنان
کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال کے باعث
دارالحکومت اسلام آباد میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے اور موبائل
فون سروسز بھی تاحال معطل ہے۔
احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں 26 نمبر چونگی
کو ٹیکسلا کے مقام سے کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے، فیض آباد، سیکٹر آئی ایٹ،
آئی جے پی ڈبل روڈ، مارگلہ روڈ بھی کنٹینرز لگا کر بند کر دی گئی ہے، سنگجانی فیض
آباد، سیکٹر جی الیون چوک، گولڑہ موڑ فلائی اوور اور انڈر پاس پر بھی کنٹینرز لگائے
گئے ہیں۔
ترجمان اسلام آباد پولیس نے خبردار کیا ہے کہ
اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے، شہری کسی بھی غیر قانونی عمل کا حصہ نہ بنیں،
پولیس عوام کی جان و مال کےتحفظ کے لیے ہروقت مصروف عمل ہے، امن و امان میں خلل
ڈالنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پی ٹی آئی
کے احتجاج کے پیش نظر لاہور، راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں دفعہ 144 کے نفاذ کے
بعد تمام سیاسی اجتماعات، مظاہرے، احتجاج اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد
کر دی گئی ہے۔ لاہور اور راولپنڈی میں رینجرز کی خدمات طلب کی گئیں ہیں۔
دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا
فضل الرحمٰن نے بھی پی ٹی آئی کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس ختم
ہونے تک اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج مؤخر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یاد رہے کہ چار روز قبل پی ٹی آئی نے ’عدلیہ کی
آزادی‘ کے لیے ملک گیر احتجاج کی تازہ کال دی تھی اور اسلام آباد میں عوامی
اجتماعات پر پابندی کے باوجود ڈی چوک پر بھی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا تھا اور بانی
پی ٹی آئی عمران خان سے منسوب اعلان میں کہا گیا تھا چار اکتوبر کو اسلام آباد کے
ڈی چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔