آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی کا احتجاج: ’گرفتار افراد میں خیبرپختونخوا پولیس کے 11 اہلکار بھی شامل ہیں‘، وزیر داخلہ

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے 564 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں خیبرپختونخوا پولیس کے 11 اہلکار بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد پر دھاوا بولا گیا۔ آرڈر کرنے والے سے لے کر کارکن تک، سخت سے سخت کارروائی ہو گی۔‘ دوسری جانب پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی غیرموجودگی میں بھی احتجاج جاری رہے گا۔

خلاصہ

  • اسلام آباد ہائی کورٹ سے جاری حکنامے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں غیرقانونی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مظاہرین انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ جگہ پر جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔
  • لاہور میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان جھڑپ کے بعد پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔
  • پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو حراست میں لے لیا ہے۔ تاہم اسلام آباد پولیس نے ان دعوؤں کی تردید کر دی ہے۔
  • پاکستان کی حکومت نے ایس سی او اجلاس کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد میں فوج تعینات کی ہے
  • سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو اسلام آباد کے ڈی چوک سے پولیس نے حراست میں لے لیا ہے
  • پولیس نے فیض آباد اور 26 نمبر چونگی سمیت دیگر مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے جبکہ پی ٹی آئی کے درجنوں کارکنان کو حراست میں لیا ہے

لائیو کوریج

  1. اسلام آباد کا احتجاج آج بھی جاری رہے گا: تحریک انصاف

    پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں اس کا احتجاج جاری رہے گا اور آج وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور ڈی چوک پہنچ جائیں گے۔

    جماعت کے سیکریٹری انفارمیشن شیخ وقاص کا ایک ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے اسلام آباد پہنچنے والے لوگ اسلام آباد میں ہی احتجاج کریں گے۔ ’جو اسلام آباد کی طرف روانہ ہیں وہ بھی اسلام آباد کے ڈی چوک آ کر احتجاج کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ باقی لوگ اپنے اپنے اضلاع میں سنیچر سے احتجاج کریں گے۔ ’لاہور اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کے لوگ آج مینار پاکستان کے احتجاج میں شامل ہوں گے۔‘

    شیخ وقاص نے کہا کہ جلد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور ڈی چوک پہنچ جائیں گے اور اس کے بعد اگلے لائحہ عمل کا وہاں سے اعلان کیا جائے گا۔

    دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے آج صبح ڈی چوک کا دورہ کیا ہے۔

    اس موقع پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد پولیس اور ایف سی کے جوانوں کا مورال بہت بلند ہے۔ اسلام آباد پولیس اور ایف سی اہلکار ہمہ وقت الرٹ ہیں۔‘

    پی ٹی آئی کے اسلام آباد کے ریڈ زون میں ڈی چوک پر احتجاجی مظاہرے کے اعلان کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی و خارجی راستے بدستور بند ہیں۔

    حکام کے مطابق 26 نمبر چونگی سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب اور ٹول پلازہ سے ایم ون کی جانب راستے کھول دیے گئے ہیں۔

    ترنول کے مقام پر جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف کنٹینرتاحال موجود ہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

  2. پی ٹی آئی کے احتجاج اور اسلام آباد کی اب تک کی صورتحال کیا ہے؟

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جمعے کو اسلام آباد کے ریڈ زون میں ڈی چوک پر احتجاجی مظاہرے کے اعلان کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی و خارجی راستے بدستور بند ہیں۔اسلام آباد کے تمام راستوں پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

    جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو احتجاج میں شرکت سے روکنے کے لیے اسلام آباد پولیس کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعے کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں سمیت متعدد کارکنوں کو ڈی چوک سے گرفتار کیا گیا ہے۔

    ادھر وفاقی حکومت نے شنگھائی تعاون تنظیم کے پیش نظر آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں سکیورٹی کے لیے پاکستان کی فوج کو طلب کر لیا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کیلئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فوج تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے بعد فوج کے دستوں نے اسلام آباد میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں ہیں۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ جس نے گولی مارنی ہے مار دے، میں کھڑا ہوں اور ہر صورت ڈی چوک جاؤں گا۔

    خیال رہے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعلیٰ علی گنڈا پور آج دوپہر احتجاج میں شرکت کرنے کے لیے خیبرپختونخوا سے نکلے تھے، تاہم وہ ابھی بھی اسلام آباد نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صوبائی عہدیدار علی اصغر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے برہان انٹرچینج کے قریب سڑک کو کھود دیا ہے، جس کے باعث وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے قافلے کو اسلام آباد پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق وزیر اعلیٰ کے قافلہ جب پشاور اسلام آباد موٹروے پر برہان انٹرچینج پر پہنچا تو پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال کے باعث دارالحکومت اسلام آباد میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے اور موبائل فون سروسز بھی تاحال معطل ہے۔

    احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں 26 نمبر چونگی کو ٹیکسلا کے مقام سے کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے، فیض آباد، سیکٹر آئی ایٹ، آئی جے پی ڈبل روڈ، مارگلہ روڈ بھی کنٹینرز لگا کر بند کر دی گئی ہے، سنگجانی فیض آباد، سیکٹر جی الیون چوک، گولڑہ موڑ فلائی اوور اور انڈر پاس پر بھی کنٹینرز لگائے گئے ہیں۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے، شہری کسی بھی غیر قانونی عمل کا حصہ نہ بنیں، پولیس عوام کی جان و مال کےتحفظ کے لیے ہروقت مصروف عمل ہے، امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر لاہور، راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد تمام سیاسی اجتماعات، مظاہرے، احتجاج اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ لاہور اور راولپنڈی میں رینجرز کی خدمات طلب کی گئیں ہیں۔

    دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی پی ٹی آئی کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس ختم ہونے تک اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج مؤخر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    یاد رہے کہ چار روز قبل پی ٹی آئی نے ’عدلیہ کی آزادی‘ کے لیے ملک گیر احتجاج کی تازہ کال دی تھی اور اسلام آباد میں عوامی اجتماعات پر پابندی کے باوجود ڈی چوک پر بھی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا تھا اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے منسوب اعلان میں کہا گیا تھا چار اکتوبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

  3. ہم جے شنکر کو احتجاج میں شرکت اور خطاب کی دعوت دیں گے: بیرسٹر سیف

    خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ ہم شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کے لیے آنے والے انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کو دعوت دیں گے کہ وہ ہمارے احتجاج میں شرکت کریں اور ہمارے لوگوں سے خطاب کریں، دیکھیں پاکستان کی جمہوریت کتنی مضبوط جمہوریت ہے جہاں پر ہر کسی کو احتجاج کا حق ہے۔

    پاکستان کے مقامی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے پی ڈی چوک پہنچیں گے اور محسن نقوی کو چائے پلائیں گے، ڈی چوک پر ہم احتجاج ریکارڈ کرائیں گے اور بانی پی ٹی آئی کی کال پر احتجاج ختم ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ وزیر داخلہ غلط بات کر رہے ہیں، ہم اسلحہ کیوں لائیں گے؟ پر امن احتجاج ہمارے مفاد میں ہے، اگر کچھ ہوگا تو یہ لوگ خود ذمہ دار ہوں گے، ہم ملک کی بہتری کے لیے آ رہے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم فوج سے کیوں مقابلہ کریں گے، ہمارا ان سے جھگڑا نہیں، ان کا احترام کرتے ہیں، مجھے یقین وہ اپنے آئین اور قوم کا احترام کریں گے، ہم ڈی چوک میں احتجاج کریں گے جو ہمارا حق ہے، فوج کا اہلکار موجود ہوگا پھولوں کا گلدستہ پیش کریں گے، فوج تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کے لیے نہیں آرہی بلکہ ایس سی او کی سکیورٹی کے لیے آرہی ہے، ڈی چوک سے کوئی وفود نہیں گزرتے۔

    مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’ایک بات آپ کو بتاؤں یہ جتنے ممالک آ رہے ہیں ان کے وفود ہمارا احتجاج دیکھ کر خوش ہوں گے، پاکستان کی جمہوری اقدار کی مضبوطی کی تعریف کریں گے، یہاں پر احتجاج کرنے کا حق ہے آئین کے مطابق بڑی سیاسی پارٹی کو احتجاج کی اجازت ہے۔‘

    خیال رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہو گا جس میں انڈین وزیر خارجہ جے شنکر شمیت مخلتف ممالک کے وفود بھی شرکت کریں گے۔

  4. خیبر پختونخوا دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے اور پی ٹی آئی کی توجہ اسلام آباد میں افراتفری پھیلانے پر مرکوز ہے: گورنر کے پی

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کنڈی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے اور پی ٹی آئی کی توجہ اسلام آباد میں افراتفری پھیلانے پر مرکوز ہے۔

    جمعے کو ملک کی سیاسی صورتحال اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’خیبرپختونخوا میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے آج وزیراعظم سے ملاقات کی۔ صوبہ پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، اہم علاقوں پر عسکریت پسندوں کا کنٹرول ہے۔‘

    ان کا اپنی ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کی توجہ اسلام آباد میں افراتفری پر مرکوز ہے، ملائیشیا کے وزیر اعظم کے حالیہ دورے، شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں چین کے وزیر اعظم اور انڈیا کے وزیر خارجہ سمیت دیگر معززین کی شرکت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کبھی ملک میں استحکام نہیں چاہتی، اور عالمی سطح پر پاکستان کی صرف ایک افراتفری کی تصویر پیش کرنا چاہتی ہے جب کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ان چیلنجز کے درمیان صوبے کو متحد رکھنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ مل کر کام کرنا میری ترجیح ہے۔ یہ وقت ہے کہ کے پی کو وہ توجہ دی جائے جس کا وہ حقدار ہے۔‘

  5. ہر صورت ڈی چوک جاؤں گا: وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا

    خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ’جس نے گولی مارنی ہے مار دے، میں کھڑا ہوں اور ہر صورت ڈی چوک جاؤں گا۔‘

    خیال رہے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعلیٰ علی گنڈا پور آج دوپہر احتجاج میں شرکت کرنے کے لیے خیبرپختونخوا سے نکلے تھے، تاہم وہ ابھی بھی اسلام آباد نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صوبائی عہدیدار علی اصغر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے برہان انٹرچینج کے قریب سڑک کو کھود دیا ہے، جس کے باعث وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے قافلے کو اسلام آباد پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

    پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں علی امین گنڈاپور کو مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس ویڈیو میں وہ مظاہرین کو بتا رہے ہیں کہ ’سب سے آگے آپ کے ساتھ میں کھڑا ہوں۔‘

    ’کہتے ہیں مجھے خطرہ ہے۔ جسے گولی مارنی ہے مجھے مارو میں کھڑا ہوں اور ہر صورت ڈی چوک جاؤں گا۔‘

  6. پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں احتجاج: اب تک کیا کیا ہوا؟

    • پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
    • اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں دفعہ 144 فافذ کی ہوئی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے پر سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں سمیت جڑواں شہر میں 100 سے زائد کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔
    • دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی گنڈاپور احتجاج میں شرکت کے لیے اسلام آباد آ رہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی صوبائی تنظیم کے رہنما علی اصغر کا کہنا ہے کہ بُرہان انٹرچینج کے قریب حکومت نے سڑکوں کو کھود رکھا ہے جس کے سبب انھیں اسلام آباد پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
    • پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس نے اسلام آباد اور راولپنڈی کی مرکزی شاہراؤں کو ٹریفک کے لیے تاحال بند کر رکھا ہے۔
    • دوسری جانب مقامی انتظامیہ کی جانب سے جمعے کی صبح ہی موبائل فون سگنلز بند کر دیے گئے تھے جو کہ اب جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
    • پی ٹی آئی نے لاہور میں بھی سنیچر کو مینار پاکستان پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
    • پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت چار شہروں میں دفعہ 144 نافذ کی ہے اور سکیورٹی سخت کرتے ہوئے رینجرز کے نیم فوجی دستوں کو طلب کر لیا ہے۔
  7. شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس: پاکستانی حکومت نے اسلام آباد میں سکیورٹی کے لیے فوج کو طلب کرلیا

    پاکستان کی حکومت نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 23ویں اجلاس کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد میں فوج کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستانی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت 5 اکتوبر سے 17 اکتوبر تک اسلام آباد میں فوج کو تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔

    خیال رہے ایس سی او کا دو روزہ اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اراکین ممالک کے سبربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایس سی او کے اجلاس میں ان کے وزیرِ خارجہ اپنے وفد کے ساتھ شرکت کریں گے۔

  8. پی ٹی آئی احتجاج: اسلام آباد پولیس نے عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو حراست میں لے لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو اسلام آباد کے ڈی چوک سے پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو اسلام آباد پولیس کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ علیمہ خان کو حراست میں لے کر تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔

    بی بی سی کو موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں خواتین پولیس اہلکاروں کو عمران خان کی بہن علیمہ خان کو ساتھ لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    پولیس نے تصدیق کی ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے 100 سے زائد کارکنان کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

  9. پی ٹی آئی کا سنیچر کو مینارِ پاکستان پر احتجاج کا اعلان

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سنیچر کو لاہور میں مینارِ پاکستان کے مقام پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر نے جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’اہلیانِ لاہور کل باہر نکلیں گے اور اس ملک میں بےشرم فسطائیت کے خاتمے اور آزاد عدالتوں کی خاطر عوامی طاقت کا پُرامن مظاہرہ کریں گے۔‘

    خیال رہے اس سے قبل پی ٹی آئی نے 5 اکتوبر کو لاہور میں مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف مینارِ پاکستان کے گراؤنڈ میں احتجاج کی کال دی تھی۔

    پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت چار شہروں میں دفعہ 144 نافذ کی ہے اور سکیورٹی سخت کرتے ہوئے رینجرز کے نیم فوجی دستوں کو طلب کر لیا ہے۔

    پنجاب کے شہروں لاہور، راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، یعنی ان شہروں میں عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی۔ حکام کے مطابق اس کی خلاف ورزی پر پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کر سکیں گے۔

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق راولپنڈی اور اٹک میں چار اور پانچ اکتوبر کے لیے رینجرز کی چھ کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئیں ہیں۔ اٹک میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی 10 پلاٹون بھی تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

  10. پی ٹی آئی احتجاج: اسلام آباد میں کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کا آنسو گیس کا استعمال

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی کال پر پارٹی کے کارکنان اسلام آباد اور اس کے اطراف کے علاقوں میں جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پی ٹی آئی کے کچھ کارکنان جب احتجاج کی غرض سے اسلام آباد میں کلثوم پلازہ اور فیض آباد ے قریب پہنچے تو پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ سوہان ہائی وے پر پی ٹی آئی کے کارکنان کے پتھراؤ سے سپرنٹینڈنٹ آف پولیس آئی 9 علی رضا پاؤں پر پتھر لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔

    خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت پرامن احتجاج کو زبردستی پُرتشدد بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ن لیگ میدان میں آئے اور اداروں کو اپنی گندی سیاست کے لیے استعمال نہ کرے۔‘

    اس سے قبل وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی سے احتجاج موخر کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ غیرملکی مہمانوں کی اسلام آباد میں موجودگی میں احتجاج کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما زین قریشی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت آئینی ترامیم کا معاملہ 23 اکتوبر تک موخر کر دے تو ان کی جماعت بھی اپنے جلسے، جلوس، دھرنے اور احتجاج موخر کرنے کے لیے تیار ہوجائے گی اور ’سارا مسئلہ ختم ہوجائے گا۔‘

  11. انڈین وزیرِ خارجہ جےشنکر شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان جائیں گے: انڈین وزارتِ خارجہ

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے وزیرِ خارجہ جےشنکر پاکستان میں رواں مہینے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد جائیں گے۔

    جمعے کو ایک پریس بریفنگ کے دوران انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’وزیرِ خارجہ (جےشنکر) پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ہمارے وفد کی قیادت کریں گے جس کا انعقاد 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔‘

    خیال رہے انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے سنہ 2015 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اس کے بعد کوئی بھی انڈین وزیر پاکستان کے دورے پر نہیں آیا ہے۔

  12. ’اس کی اجازت نہیں دے سکتے‘: وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی پی ٹی آئی سے اسلام آباد میں احتجاج مؤخر کرنے کی درخواست

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے گذشتہ روز بھی درخواست کی تھی کہ وہ آج اسلام آباد میں احتجاج نہ کریں۔

    اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ان سے کل بھی درخواست کی تھی کہ یہ دن نہیں ہے احتجاج کرنے کا، جلسہ جلوس کرنا ان کا حق ہے لیکن اس طریقے سے نہیں جس طریقے سے ہو رہا ہے۔‘

    خیال رہے سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت نے آئینی ترامیم کے خلاف آج ڈی چوک پر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور اس سبب پاکستان کی وفاقی حکومت نے اسلام آباد آنے والے متعدد راستوں کو بند کر رکھا ہے۔

    وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سڑکیں بند کرنے پر عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اپنے باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کی سکیورٹی یقینی بنانی ہے اور سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ ہم نے ان کو احساس دلانا ہے کہ وہ ایک محفوظ ملک میں آئے ہوئے ہیں۔‘

    واضح رہے پی ٹی آئی نے احتجاج کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب ملائیشیا کے وزیراعظم پاکستان کے دورے پر ہیں۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ سعودی اور چینی وفود بھی پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

    وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا سے اسلام آباد آنے والے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے احتجاجی قافلے کو دارالحکومت پر ’دھاوا‘ قرار دیا۔

    ’یہ طریقہ کار بالکل غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں اور اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

    محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کو روکنے کے لیے تعینات کیے گئے پولیس اہلکاروں کے پاس بندوقیں نہیں لیکن ’آپ ویڈیوز میں اور تصویروں میں بڑے آرام سے دیکھ سکتے ہیں کہ جو لوگ وہاں (خیبرپختونخوا) سے آ رہے ہیں ان کے پاس بندوقیں اور سب کچھ موجود ہے۔‘

    ’لیکن مجھے امید ہے کہ وہ تھوڑے ہوش کے ناخن لیں گے اور اس طرح کی کوئی حرکت نہیں کریں گے۔‘

    ’وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا پہلے پاکستانی ہیں اور اس کے بعد وہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کس وجہ سے کر رہے ہیں۔‘

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما زین قریشی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت آئینی ترامیم کا معاملہ 23 اکتوبر تک موخر کر دے تو ان کی جماعت بھی اپنے جلسے، جلوس، دھرنے اور احتجاج موخر کرنے کے لیے تیار ہوجائے گی اور ’سارا مسئلہ ختم ہوجائے گا۔‘

  13. ’ہمارے ساتھ کنٹینر ہٹانے کا سامان اور پانی کے ٹینکرز ہیں‘, عزیزاللہ خان، بی بی سی پشاور

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ’پُرامن احتجاج‘ کے لیے ڈی چوک پہنچنے کی کال کے بعد خیبر پختونخوا سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہیں۔ تاہم وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی راستے کنٹینرز لگا کر سیل کر دیے گئے ہیں۔

    ان قافلوں کی قیادت خود وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کریں گے اور وہ ہر حالت میں اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچنا چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت کے مطابق ان کی تیاریاں مکمل ہیں اور قافلے اپنے ساتھ ضروری سامان بھی لے جا رہے ہیں تاکہ تمام رکاوٹیں ہٹا سکیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی شاندانہ گزار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’احتجاج ہمارا حق ہے اور ہم پُرامن احتجاج کریں گے۔ حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ پُرامن احتجاج میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔‘

    ایک سوال پر شاندانہ گلزار نے کہا کہ ’ہمارے ساتھ مشینری ہے، بڑی تعداد میں لوگ ہیں، رضا کار ہیں اور ہم نے آنسو گیس سے بچاؤ کی تیاری کی ہے۔ بڑی تعداد میں ماسک لیے ہیں حالانکہ مارکیٹ سے ماسک غائب کر دیے گئے تھے ’ہمارے ساتھ نمک اور پانی کے ٹینکرز ہیں اور یہ آنسو گیس کے شیل سے ہمیں نہیں روک سکیں گے۔‘

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ ’اسلام آباد میں حکومت نے جو کرنا ہے، وہ ان کا کام ہے۔ ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ مکمل تیاری کے ساتھ آنا ہے۔ تمام قافلے اپنے ساتھ خوراک اور دیگر سامان بھی لائیں گے تاکہ اگر دھرنا دینا پڑا تو وہ دو دن یا تین دن یا جتنا بھی ہو سکا وہ دھرنا دیں گے ’تمام کارکنوں اور قائدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ جہاں روکا گیا وہیں دھرنا ہوگا۔ وہ چاہے جتنے دن بھی ہوگا، اس کا فیصلہ پھر قائدین کریں گے۔‘

    تحریک انصاف کے صوبائی جنرل سیکریٹری علی اصغر نے بی بی سی کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے قافلے موٹر وے اور جی ٹی روڈ کے ذریعے پہنچیں گے۔ ’صوبے کے تمام قافلوں کا پہلا پڑاؤ صوابی انٹر چینج ہوگا اور پھر یہاں سے آگے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر خیبر پختونخوا سے قافلوں کو پنجاب کی حدود میں برہان اور اس سے آگے پہاڑی سلسلے پر روکنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کی کوشش ہے کہ آج اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچیں گے۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ گذشتہ روز وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا ہے جس میں تمام قائدین اور اراکین اسمبلی سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ بڑی تعداد میں کارکنوں کو لائیں کیونکہ یہ ایک اہم احتجاج ہونے جا رہا ہے۔

    اس بارے میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں اور اراکین قومی اسمبلی عاطف خان، علی محمد خان اور اسد قیصر سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    خیال ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد بیشتر اراکین قومی اسمبلی روپوش ہیں۔ پی ٹی آئی پشاور ریجن کے صدر اور سابق ناظم پشاور ارباب عاصم نے کہا ہے کہ وہ روانہ ہو رہے ہیں اور مقابلہ کریں گے۔ ’اگر وہ آنسو گیس کے شیل پھینکیں گے تو ہم اپنے ساتھ ماسک اور بچاؤ کا سامان لے جا رہے ہیں۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ رکاوٹیں کیسے دور ہوں گی تو انھوں نے کہا کہ ’یہ تو وہاں جا کر معلوم ہوگا کہ رکاوٹیں کیسے دور ہوں گی۔‘ صوابی اور چارسدہ سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ صبح گیارہ بجے کے قریب لوگ پہنچانا شروع ہو گئے تھے۔

    ارباب عاصم نے پشاور موٹروے انٹرچینج سے بتایا کہ گاڑیاں پہنچ رہی ہیں جبکہ باقی علاقوں سے بھی قافلے روانہ ہیں جو صوابی انٹر چینج پہنچیں گے۔

  14. آئینی ترامیم کا بل 23 اکتوبر سے آگے لے جائیں، احتجاج موخر کر دیں گے: زین قریشی

    تحریک انصاف کے رہنما زین قریشی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت آئینی ترامیم کا معاملہ 23 اکتوبر تک موخر کر دے تو تحریک انصاف بھی اپنے جلسے، جلوس، دھرنے اور احتجاج موخر کرنے کے لیے تیار ہوجائے گی اور ’سارا مسئلہ ختم ہوجائے گا۔‘

    جیوز نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات چیت کے دوران زین قریشی نے کہا کہ ’اگر حکومت 26ویں آئینی ترمیم کا بل 23 اکتوبر سے آگے لے جاتی ہے تو میں خود اپنی جماعت کے پاس جا کر کہوں گا کہ احتجاج موخر کر دیں۔‘

    ’یہ آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ انھوں نے 23 اکتوبر سے پہلے اپنا بل پاس کروانا ہے تاکہ اگلا لائحہ عمل ہوسکے۔‘

    وفاقی حکومت عدالتی اصلاحات کا ارادہ رکھتی ہے اور ملک میں آئینی عدالت قائم کرنا چاہتی ہے۔ اس بارے میں مزید یہاں پڑھیے۔۔۔

    خیال ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی پی ٹی آئی کو ایس سی او کے اجلاس تک اسلام آباد میں احتجاج موخر کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

  15. ’سب پُرامن احتجاج کے لیے اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچیں‘: عمران خان کا ایکس پر پیغام

    سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اپنی جماعت کے کارکنان اور رہنماؤں کو آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچنے کی کال دی ہے۔

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کردہ پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’میں چاہتا ہوں کہ آج آپ سب پُرامن احتجاج کے لیے ڈی چوک اسلام آباد پہنچیں۔ لاہور اور اس کے گردو نواح کے اضلاع کے شہری 5 اکتوبر، بروز ہفتہ مینار پاکستان پر احتجاج کی تیاری کریں۔‘

    اس پیغام میں کہا گیا کہ ’یہ جنگ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ اللہ کے فضل سے ہم اپنی حقیقی آزادی کی لڑائی جیت رہے ہیں۔ اقتدار پر قابض ظالم ہمیں خوف زدہ کر کے ہماری جیت کو شکست میں بدلنا چاہتے ہیں۔‘

    دوسری طرف ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، یعنی عوامی اجتماعات پر پابندی ہے۔ ’شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی عمل کا حصہ نہ بنیں۔ امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔‘

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جناح ایونیو اور شارع دستور کے سنگم پر واقع ڈی چوک خاصی اہمیت کا حامل ہے جس کے قریب ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، پارلیمنٹ ہاؤس اور سپریم کورٹ سمیت دیگر سرکاری عمارتیں واقع ہیں۔

    یہ بھی پڑھیے

    جبکہ عمران خان کے اس پیغام میں یہ اپیل کی گئی کہ ’آپ بے خوف ہو کر نکلیں اور یاد رکھیں کہ اگر اب بھی آپ نے آگے بڑھ کر خود کو حقیقی طور پر آزاد کروانے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا تو یہ ظالم آپ کو چیونٹیوں کی طرح مسل کر رکھ دیں گے اور آپ کی آئندہ نسلوں کو بھی اپنا غلام بنا لیں گے جن پر ان کی اولادیں حکومت کریں گی۔‘

    یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی یہ کہہ چکے ہیں کہ تحریک انصاف کے اسلام آباد میں احتجاج کے دوران ’قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی نرمی کی توقع نہ رکھیں۔‘

    اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ملائیشیا کے وزیر اعظم پاکستان کے دورے پر ہیں اور اس دوران ڈی چوک پر احتجاج مناسب نہیں ہوگا۔ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ ’سعودی اور چینی وفود بھی پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ ہم نے سکیورٹی کے پیشگی انتظامات کیے ہیں۔ کنٹینرز کھڑے کرنا ہماری مجبوری ہے۔‘

    وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی والے احتجاج کی کال سے پہلے ملک کا مفاد دیکھیں۔‘

  16. راولپنڈی سمیت پنجاب کے چار شہروں میں رینجرز طلب

    پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت چار شہروں میں دفعہ 144 نافذ کی ہے اور سکیورٹی سخت کرتے ہوئے رینجرز کے نیم فوجی دستوں کو طلب کر لیا ہے۔

    پنجاب کے شہروں لاہور، راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، یعنی ان شہروں میں عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی۔ حکام کے مطابق اس کی خلاف ورزی پر پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کر سکیں گے۔

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق راولپنڈی اور اٹک میں چار اور پانچ اکتوبر کے لیے رینجرز کی چھ کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئیں ہیں۔ اٹک میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی 10 پلاٹون بھی تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان شہروں میں ’ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے، احتجاج اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی۔‘

    ایک بیان میں راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں ’سیکورٹی ہائی الرٹ ہے۔ موٹرسائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی ہو گی، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق ’سکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے۔ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے احکامات جاری کیے گئے۔‘

    لاہور میں پانچ اکتوبر کے لیے رینجرز کی تین کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئیں ہیں۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف نے 5 اکتوبر کو لاہور میں مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف مینارِ پاکستان کے گراؤنڈ میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

  17. ڈی چوک پر تحریک انصاف کا احتجاج آج: اسلام آباد کے داخلی راستے سیل، موبائل فون سروسز معطل

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ڈی چوک پر احتجاجی مظاہرے کی کال دی ہوئی ہے جس سے قبل شہر میں نہ صرف داخلی راستے سیل کر دیے گئے ہیں بلکہ صبح سے موبائل فون سروسز بھی معطل ہیں۔

    پی ٹی آئی کے مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف احتجاج سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کی شب کہا تھا کہ ’کسی صورت بھی اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ رینجرز اور فوج کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ انھوں نے تحریک انصاف کی قیادت سے احتجاج کی کال پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

    ادھر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان ’ہر صورت ڈی چوک جائیں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ تاحال احتجاج ملتوی کرنے کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری تیاری مکمل ہے اور ہمارا احتجاج پُرامن ہے۔ اگر ہمارے جلوس پر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ ذمہ دار ہوگا۔‘

    گذشتہ روز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بینچ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق عدالت عظمیٰ کے ایک سابقہ فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیل کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔

    17 مئی 2022 کو دیے گئے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ کسی بھی جماعت کے منحرف رُکن یا اراکین اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے خلاف دیا گیا ووٹ گنتی میں شمار نہیں ہو گا جبکہ ایسے رُکن کی نااہلی کی معیاد کا تعین پارلیمان کرے گی۔

    تاہم حالیہ فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 63 اے کی اِس تشریح کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے اور اب اس کا مطلب یہ ہو گا کہ منحرف رُکن اسمبلی کا ووٹ گنتی میں شمار کیا جائے گا۔

    یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد آئینی اور سیاسی تجزیہ کار اسے حکومت کے لیے ایک بڑے ریلیف کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اُن کی رائے ہے اب بظاہر حکومت اِس پوزیشن میں آ گئی ہے کہ وہ موجودہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ آئینی ترامیم بشمول آئینی عدالت کے قیام جیسی ترامیم کو پارلیمان سے منظور کروا پائے گی۔

    اس بارے میں مزید:

  18. بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید!

    آج پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کی کال دی گئی ہے۔

    ہم نے اس سے متعلق اپ ڈیٹس اور پاکستانی سیاست سے جڑی اہم اطلاعات آپ تک پہنچانے کے لیے اس لائیو کوریج کو شروع کیا ہے۔