آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران کا دبئی میں یوکرینی ایٹی ڈرون سسٹم تباہ کرنے کا دعویٰ: ’یہ بالکل جھوٹ ہے،‘ کئیو کی تردید

ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے دبئی میں ’یوکرین کے اینٹی ڈرون سسٹمز‘ کے ایک گودام کو نشانہ بنایا ہے۔

خلاصہ

  • ایران پر حملے ٹرمپ کی سفارت کاری کے لیے دی گئی مہلت کے منافی ہیں: عراقچی
  • جی سیون کا عام شہریوں پر حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کا مطالبہ
  • یمن کے حوثی باغیوں کی بھی جنگ میں شامل ہونے کی دھمکی
  • امریکہ اور ایران کے نمائندے 'بہت جلد' پاکستان میں ملاقات کر رہے ہیں: جرمن وزیرِ خارجہ
  • اقوامِ متحدہ کا ایران میں بچیوں کے سکول پر حملے کی شفاف تحقیقات جلد مکمل کرنے اور نتائج عام کرنے کا مطالبہ
  • اسرائیل کا ایران کی سمندری بارودی سرنگیں بنانے کی فیکٹری تباہ کرنے کا دعویٰ
  • امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 'ایرانی حکومت کی درخواست پر' ایران میں انرجی پلانٹس پر حملے مزید 10 دن تک مؤخر کر رہے ہیں

لائیو کوریج

  1. امریکہ اور ایران کے نمائندے ’بہت جلد‘ پاکستان میں ملاقات کر رہے ہیں: جرمن وزیرِ خارجہ

    جرمن وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے نمائندے پاکستان میں بات چیت کے لیے ملاقات کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اُن کے بقول یہ ملاقات پاکستان میں ’بہت جلد‘ ہو گی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جرمن ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین ’بالواسطہ‘ رابطے ہوئے ہیں اور براہ راست ملاقات کی تیاریاں کی جا چکی ہیں۔

    جرمن وزیرِ خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف نے جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں اہم کرداد ادا کر رہا ہے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کی تصدیق کی تھی۔

  2. تل ابیب پر ایرانی میزائل حملہ اور کار کی قلابازی

    26 مارچ کو اسرائیل میں تل ابیب کے قریب ہونے والے ایرانی میزائل حملے کے دوران ایک کار کو ہوا میں قلابازیاں لگاتے دیکھا گیا۔

  3. اسرائیل کا ایران بھر میں فضائی دفاعی نظام اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل نے ایران بھر میں فضائی دفاعی نظام اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب تہران میں اُن مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو بیلسٹک میزائل سمیت دیگر ہتھیار بنانے کا مرکز تھے۔

    فوج کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مغربی ایران میں اسرائیلی فضائیہ نے میزائل لانچرز اور میزائل ذخیرہ کرنے والے مقامات کو بھی نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب کویت کا کہنا ہے کہ اس کی مرکزی تجارتی بندرگاہ پر ’دُشمن‘ ڈرونز سے حملہ کیا گیا ہے۔

    ایک بیان میں کویت پورٹس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ شوائیخ بندرگاہ کو نقصان پہنچا ہے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  4. ’اسرائیل کی فوج تھک چکی ہے:‘ اسرائیل کے اپوزیشن رہنما کا الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو بھی فوج میں بھرتی کرنے کا مطالبہ

    اسرائیل میں اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ بغیر کسی حکمت عملی کے بہت کم فوجیوں کو جنگ میں بھیج رہی ہے۔

    عبرانی زبان میں اپنے ویڈیو بیان میں یائر لیپڈ نے دعویٰ کیا کہ ’اسرائیل کی فوج اپنی زیادہ سے زیادہ صلاحیت تک پہنچ چکی ہے اور حکومت میدان جنگ میں فوجیوں کا خون بہنے دے رہی ہے۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ حکومت ’حکمتِ عملی اور ضروری وسائل کے بغیر اور بہت کم فوجیوں کو ایک بڑے محاذ جنگ میں بھیج رہی ہے۔ ریزرو فوجی تھک چکے ہیں اور اب وہ ہمارے سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔‘

    یائر لیپڈ نے حکومت سے الٹرا آرتھوڈوکس حریدیم یہودیوں کو بھی فوج میں بھرتی کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ یہودیوں کو وہ گروہ ہے جو مذہب کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور سنہ 1948 کے بعد سے ہی اُنھیں لازمی فوجی خدمات سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

    یائر لیپڈ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل ایال زمیر نے خبردار کیا تھا کہ ’اسرائیلی فوج ٹوٹنے کے قریب ہے۔‘

  5. انڈین حکومت نے صارفین پر بوجھ کم کرنے کے لیے ڈیزل اور پیٹرول پر ٹیکس کم کر دیا

    انڈیا کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور سپلائی چین میں خلل کے باعث ڈیزل اور پیٹرول پر عائد ٹیکسوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    انڈین وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ ’مغربی ایشیا کے بحران کی روشنی میں، گھریلو استعمال کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر مرکزی ٹیکس کو کم کر دیا گیا ہے۔‘

    انڈیا خام تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے اور اپنی تیل کی 85 فیصد ضروریات دیگر ممالک سے منگوائے گئے تیل سے پوری کرتا ہے۔

    انڈین وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ڈیزل اور پیٹرول پر ٹیکس میں 10 روپے کمی کی گئی ہے تاکہ صارفین کو قیمتوں میں اضافے سے بچایا جا سکے۔

    انڈین حکومت نے ڈیزل اور جیٹ ایندھن کی برآمدات پر فیس عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے،

  6. آبنائے ہرمز کی بندش؛ ایشیائی ممالک تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

    ایشیائی ممالک تک پہنچنے والا 90 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جنگ کی وجہ سے ایشیائی ممالک ایندھن کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

    اس بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    جنوبی کوریا نے نیفتھا کی برآمدات پر پابندی عائد کر دی ہے جو کہ پیٹرو کیمیکلز میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا ایک اہم فیڈ سٹاک ہے۔ سول آبنائے ہرمز سے اپنی تیل کی ضروریات کا نصف درآمد کرتا ہے۔ صدارتی آفس کے مطابق توانائی کی بچت کے لیے صدارتی آفس کی آدھی روشنیاں بند رکھی جائیں گی۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جاپان نے عارضی طور پر کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں سے پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل کوئلے سے چلنے والے تھرمل پاور سٹیشنز کو 50 فیصد صلاحیت کے مطابق چلانے کی اجازت تھی تاکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو روکا جائے، تاہم اب انھیں اپنی پوری صلاحیت کے مطابق چلانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

    ویتنام نے جمعے کو پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں ایک چوتھائی کمی کے لیے ایندھن پر ماحولیاتی ٹیکس کو عارضی طور پر معاف کر دیا ہے، اس کی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ یہ چھوٹ 15 اپریل تک جاری رہے گی۔

    سنگا پور نے ملک سے روانہ ہونے والی پروازوں پر گرین جیٹ فیول لیوی میں بھی چھوٹ دی ہے اور اسے جنوری 2027 تک ملتوی کر دیا ہے۔

    فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں دوسرے روز بھی ٹرانسپورٹ کی ہڑتال جاری ہے۔ ٹرانسپورٹ ورکرز ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ہڑتال کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ملک نے قومی توانائی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔

  7. صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں: رپورٹ

    امریکی جریدے ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ تعیناتی کا مقصد ’صدر ٹرمپ کو مزید فوجی آپشنز فراہم کرنا ہیں، حالانکہ وہ تہران کے ساتھ مذاکرات کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔‘

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فورس میں ممکنہ طور پر انفنٹری اور بکتر بند گاڑیاں شامل ہوں گی۔ یہ فوجی اُن پانچ ہزار امریکی میرینز کے علاوہ ہوں گے جو پہلے ہی خطے کے مختلف ممالک میں تعینات ہیں۔

    تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ نئے آنے والے فوجیوں کو کہاں تعینات کیا جائے گا۔

    بی بی سی نے تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سے رابطہ کیا ہے۔

  8. ایران کی جوہری تنصیب پر حملے سے بڑے علاقے میں تابکاری اثرات ہو سکتے ہیں: عالمی جوہری توانائی ایجنسی کا انتباہ

    عالمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں کسی بھی جوہری حادثے سے بچنے کے لیے ’زیادہ سے زیادہ تحمل‘ کا مظاہرہ کیا جائے۔

    یہ انتباہ منگل کو جنوب مغربی ایران میں بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب مبینہ حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گراس کے مطابق یہ ایک فعال جوہری پلانٹ ہے جس میں بڑی مقدار میں جوہری مواد موجود ہے۔ لہذا اس تنصیب کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں ایران اور اس سے باہر ایک بڑے علاقے کو تابکاری کے اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

  9. آبنائے ہرمز کی بندش سے اہم کیمیکل، سمارٹ فونز اور کھانے پینے کی اشیا بھی مہنگی ہو سکتی ہیں

    آبنائے ہرمز کے ذریعے صرف تیل اور گیس کی سپلائی میں رکاوٹ نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑھا دیا ہے۔

    لیکن یہ صرف ایندھن نہیں ہے جو تنازعات سے متاثر ہوا ہے۔ دیگر بہت اہم کیمیکلز، گیسز اور دیگر مصنوعات عام طور پر آبنائے ہرمز کے راستے بین الاقوامی سپلائی چین میں داخل ہوتی ہیں۔

    بی بی سی ویریفائی کے مطابق کھانے پینے کی اشیا، سمارٹ فونز اور ادویات کی تیاری کے لیے خام مال کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ آبی گزرگاہوں سے گزرنے بحری جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے یومیہ 100 کے مقابلے میں بہت کم رہ گئی ہے۔

  10. ایران کا اپنے رہنماؤں کا قتل روکنے کے لیے اقوامِ متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کے نام لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی رہنماؤں کے قتل کا منصوبہ روکنے کے لیے مداخلت کریں۔

    امیر سعید ایراوانی کی جانب سے لکھے گئے خط میں انتونیو گوتریس سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سینئر ایرانی رہنماؤں کو قتل کرنے کی دھمکیوں کے خلاف مؤقف اختیار کریں اور پڑوسی ممالک پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کو دفاع کا جائز حق بھی قرار دیں۔

    اس خط میں ایراوانی نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کو قتل کرنے کی دھمکی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ایک مثال قرار دیا ہے۔ خط میں انتونیو گوتریس سے کہا گیا ہے کہ اگر ایسا طریقہ جاری رہا تو اس کے نتائج ہوں گے۔

    ایرانی نمائندے کی طرف سے لکھے گئے خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی فضائی حدود کو استعمال کرتے ہوئے ایران پر حملہ کیا اور ان ممالک پر ایران کے میزائل یا ڈرون حملے اس کا ردِعمل ہیں۔

  11. خلیجی ممالک کے ہوٹلز امریکی فوجی اہلکاروں کو رہائش دینے سے گریز کریں: ایرانی وزیرِ خارجہ کا انتباہ

    ایران کے وزیرِِ خارجہ نے خلیج فارس کے ممالک میں ہوٹلز کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی فوجی اہلکاروں کی میزبانی سے گریز کریں ورنہ ان کے مہمانوں کی جان کو خطرہ ہو گا۔

    عباس عراقچی نے جمعرات کو ایکس پر انگریزی زبان میں جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی ہوٹل فوجی اہلکاروں کو رہائشی خدمات فراہم نہیں کرتے، لہذا خلیجی ممالک کے ہوٹلوں کو بھی اسی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی اڈوں اور سفارت خانوں کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوج کے اہلکاروں کو ہوٹلوں میں رکھا گیا ہے۔

    گذشتہ روز نیویارک ٹائمز اخبار نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ گذشتہ 25 دنوں میں ایرانی حملوں میں متعدد امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اسی وجہ سے ان کی افواج اور ملازمین ان اڈوں کے باہر ’دور سے کام کر رہے ہیں۔‘

    متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت خلیجی ممالک میں متعدد ٹاورز اور ہوٹلوں کو ایران سے منسوب ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم، چند روز قبل، روئٹرز نے بحرینی حکام کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ ایک ٹاور کو نقصان ایک پیٹریاٹ میزائل کی باقیات کی وجہ سے ہوا ہے جو ایک پروجیکٹائل کو نشانہ بنانے کے لیے داغا گیا تھا۔

  12. جمعرات کو تہران میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں: ’ہمارے دماغ دھماکوں کے عادی ہو رہے ہیں‘, غنچہ حبیب زادہ، بی بی سی فارسی

    مغربی اور مشرقی تہران کے رہائشیوں نے جمعرات کی شام بہت زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔

    مغربی تہران میں 20 سالہ لڑکی نے مجھے بتایا کہ دھماکے اتنے قریب محسوس ہو رہے تھے کہ اُنھوں نے رونا شروع کر دیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے اتنا زوردار دھماکہ سنا جو میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ میرے کان کے بالکل قریب ہوا ہو۔ میں نے رونا شروع کر دیا اور میرے ہاتھ کانپنے لگے جب میں نے ایک دوست کو یہ بتانے کے لیے ٹیکسٹ ٹائپ کرنے کی کوشش کی کہ میں ٹھیک ہوں۔‘

    تہران میں ایک 30 سالہ شخص نے بتایا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارے دماغ دھماکوں کے عادی ہو رہے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ہم انٹرنیٹ کی بندش کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم ایک مختلف قسم کی زندگی سیکھ رہے ہیں... پابندیوں، مہنگائی، عدم تحفظ اور سماجی دباؤ، جنگ اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے ساتھ زندگی۔‘

    ایران اس وقت تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی زد میں ہے، لیکن کچھ لوگ اب بھی رابطہ قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

  13. ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے موخر کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں: سابق امریکی ایلچی

    بائیڈن انتظامیہ میں ایران کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی ایلچی رابرٹ میلی کہتے ہیں کہ ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملے 10 روز کے لیے موخر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ زمینی مداخلت کا حکم نہیں دیں گے۔

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے رابرٹ میلی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات میں پیش رفت کو حملے روکنے کا جواز قرار دے رہیں کہ لیکن ’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بات چیت ہو بھی رہی ہے یا نہیں۔‘

    پینٹاگون نے اس ہفتے خطے میں مزید زمینی دستے تعینات کیے ہیں، اسی وقت جب امریکہ نے کہا تھا کہ اس نے ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے۔

    میلی کہتے ہیں کہ تنازع کا سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ امریکہ اور ایران کے مابین کوئی ’عظیم معاہدہ‘ نہیں ہے۔ یہ اُسی وقت ختم ہو جائے گا جب ٹرمپ یہ فیصلہ کریں گے کہ اُن کے پاس سیاسی اور اقتصادی طور پر یہ جنگ ختم کرنے کا جواز ہے۔

  14. ایران نے انرجی پلانٹس پر حملے سات دنوں کے لیے مؤخر کرنے کو کہا تھا: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ان سے انرجی پلانٹس پر حملے سات دنوں کے لیے مؤخر کرنے کو کہا تھا، تاہم انھوں نے تہران کو 10 دن دیے اور وہ (ایران) بہت ’شکر گزار‘ ہے۔

    فوکس نیوز سے فون پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران سے ’اچھی‘ بات چیت چل رہی ہے۔

    امریکی صدر نے فوکس نیوز کے میزبان کو بتایا کہ ’انھوں (ایران) نے میرے لوگوں کے ذریعے مجھ سے اچھے طریقے سے کہا: ’کیا ہمیں مزید وقت مل سکتا ہے؟‘

    ’انھوں نے مجھ سے سات دن مانگے تھے۔ اور میں نے کہا میں آپ کو 10 (دن) دیتا ہوں کیونکہ انھوں نے مجھے جہاز دیے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے نا ہم نے آٹھ جہازوں کی بات کی تھی۔ وہ جس ’تحفے‘ کی میں نے بات کی تھی۔‘

    خیال رہے اس سے قبل کابینہ کے اجلاس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران نے ’تحفتاً‘ 10 آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔

    خیال رہے ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کی ہے۔

  15. شمالی اسرائیل میں میزائل حملے میں ایک شخص ہلاک: ایمرجنسی سروس

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل کے علاقہ نہریہ میں ایک میزائل حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

    ایمرجنسی سروس کے مطابق حملے کے بعد مزید 25 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ایک 50 سالہ شخص کو میزائل کا ٹکڑا لگنے سے پسلیوں میں زخم آیا ہے۔

    اس کے مطابق 13 افراد اس حملے میں معمولی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 11 افراد میں اضطراب کی علامات نظر آئی ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ میزائل لبنان سے فائر کیا گیا تھا۔

  16. مذاکرات چل رہے ہیں، ایران کے کے پاور پلانٹس کی ’تباہی‘ 10 دن کے لیے مؤخر: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’ایرانی حکومت کی درخواست پر‘ ایران میں انرجی پلانٹس پر حملے مزید 10 دن تک مؤخر کر رہے ہیں۔

    ٹرتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ وہ ایران میں پاور پلانٹس کی ’تباہی‘ کا ارادہ چھ اپریل تک مؤخر کر رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ’اچھے چل رہے ہیں۔‘

    خیال رہے امریکی صدر متعدد بار یہ إصرار کر چکے ہیں کہ ان کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاہم ایران نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق دونوں ہی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی امریکی مجوزہ منصوبہ اسلام آباد کے ذریعے تہران بھیجا گیا ہے۔

    ایران نے گذشتہ روز اس منصوبے پر منفی ردِ عمل دیا تھا اور اس کے سرکاری میڈیا کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط رکھی تھیں۔

  17. ایران میں سٹارلنک انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران اب بھی تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش کا شکار ہے لیکن کچھ لوگ سٹارلنک کے سیٹلائیٹ انٹرنیٹ اور دیگر طریقوں کے ذریعے اسے استعمال کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، لیکن انھیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔

    ایران میں سٹارلنک ڈیوائس کا استعمال یا اسے اپنے پاس رکھنے پر دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے اور حکام اس کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اپنی تازہ کوششوں کے دوران وسطی صوبے یزد کے پولیس کمانڈر نے کہا ہے کہ انھوں نے چھ ایسے آلات برآمد کیے ہیں اور ’مشکوک‘ افراد کے 61 بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔

    ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس نے 17 مارچ کو کہا تھا کہ اس نے اب تک سٹارلنک کی ’سینکڑوں‘ ڈیوائسز اپنے قبضے میں لی ہیں۔

    ایران میں سٹارلنک کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی ٹیلی گرام کی ایپ کے ذریعے فروخت کی جا رہی ہے، جس کی فی جی بی قیمت چھ ڈالر ہے۔ یہ ایک ایسے ملک میں بڑی رقم ہے جہاں اوسطاً ماہانہ تنخواہ 200 سے 300 ڈالر کے درمیان ہے۔

  18. لبنان میں 1100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں: سرکاری میڈیا

    لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی شروعات کے بعد اب تک ایک ہزار 116 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    نیشنل نیوز ایجنسی نے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں اس وقت ایک لاکھ 36 ہزار 262 افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور تین ہزار 229 لوگ زخمی ہیں۔

  19. اسرائیلی فضائیہ نے گذشتہ روز ایران پر 20 حملے کیے: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے گذشتہ روز مغربی ایران میں ’لانچ سائٹس‘ پر تقریباً 20 حملے مکمل کیے ہیں۔

    ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں آئی ڈی ایف کا کہنا تھا کہ اس کی فضائیہ نے ان مقامات پر ’70 بم گرائے‘ اور یہ مقامات ’بیلسٹک میزائلوں کو لانچ کرنے اور فضائی دفاعی نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان مقامات پر فوجی اہلکاروں کا بھی ’خاتمہ‘ کر دیا گیا ہے اور اسرائیلی فضائیہ ’بلا تعطل ایرانی حکومت کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں پر حملے‘ کر رہی ہے۔

  20. ایران کے شہر بندر عباس میں رہائشی عمارت تباہ, پاریا منظر زادے، بی بی سی فارسی

    ایک تصدیق شدہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایران کے ساحلی شہر بندر عباس میں ایک فضائی حملے کے بعد ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے۔

    یہ ویڈیو دانشگاہ سٹریٹ کی ہے، جو شہر کے مشرقی حصے میں واقع ایک رہائشی علاقہ ہے۔ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس عمارت کے پاس اب صرف ملبہ باقی رہ گیا ہے۔

    اس عمارت کے اطراف میں دو عمارتوں کو بھی نقصان ہوا ہے لیکن وہ اپنی جگہ قائم ہیں۔

    مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ایک لڑاکا طیارے نے اس عمارت کو نشانہ بنایا ہے اور ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس حملے تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔