اسلام آباد کی ضلعی
انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پانچ اگست کو ایف نائن پارک میں جلسہ کرنے
سے متعلق درخواست مسترد کردی ہے دوسری جانب پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں احتجاج
کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی نے سابق وزیر
اعظم عمران خان کی گرفتار کو دو سال مکمل ہونے کے موقع پر ملک بھر میں احتجاجی جلسوں
کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسی حوالے سے اسلام آباد کے ایف نائین پارک میں جلسہ کرنے کی
اجازت مانگی تھی۔ جلسے کی درخواست پی ٹی آئی رہنما عامر مغل کی جانب سے دی گئی تھی۔
اسلام آباد پولیس کے
ادارے سپیشل برانچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کا شہر کے
مختلف علاقوں میں چھوٹی چھوٹی ریلیاں نکالنے کا منصوبہ ہے۔ سپیشل برانچ کا دعویٰ
ہے کہ اس منصوبے میں اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں کی بندش بھی شامل ہے۔
اسلام آباد پولیس نے
اس رپورٹ کی روشنی میں پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے گھروں پر چھاپے مارنے شروع کر
دیے ہیں تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ راولپنڈی میں بھی
پولیس پی ٹی آئی قیادت کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے۔
پی ٹی آئی کا خیبر
پختونخوا میں احتجاج کے لیے لائحہ عمل کا اعلان
پاکستان تحریکِ
انصاف (پی ٹی آئی) پشاور ریجن کی جانب سے پانچ اگست کے احتجاج کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب
سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پشاور اور خیبر کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے کارکنان دن ساڑھے تین بجے حیات آباد
ٹول پلازہ، رنگ روڈ سے قلعہ بالا حصار، پشاور تک وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت
میں ریلی میں شرکت کریں گے۔
صوابی، مردان اور چارسدہ
میں احتجاج کے بارے میں پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ تینوں اضلاع سے تعلق رکھنے
مظاہرین دن ساڑھے تین بجے امبار انٹر چینج صوابی پر اکٹھے ہوں گے اور عشاء کی نماز
تک عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کریں گے۔
اس کے علاوہ نوشہرہ
اور مہمند سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نوشہرہ میں خیر آباد کے مقام پر احتجاج کریں
گے۔
پی ٹی آئی پشاور ریجن نے تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور ٹکٹ
ہولڈرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی قیادت میں آنے والے جلسوں کی ویڈیو بنا کر ضلعی تنظیم
کو جمع کروائیں۔