وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست کسی جتھے کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گی، کوشش کی جا رہی ہے کہ طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔ غزا کے نام پر ہونے والے مظاہرے کا مقصد کچھ اور ہے جس کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
یاد رہے کہ مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان نے ’لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ‘ کے نام سے 10 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور جمعے کی دوپہر وہ لاہور میں اپنے مرکز سے نکل کرراوی روڈ پر اس وقت موجود ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت طلال چوہدری نے اس مارچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذہب، انتہا پسندی اور ذاتی مقاصد کے لیے جتھوں کی سیاست اور احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ احتجاج کسی بھی سیاسی اور مذہبی جماعت اور شہریوں کا حق ہے تاہم اس کے لیے کچھ شرائط ہوتی ہیں۔
’تحریک لبیک کے احتجاج کے حوالے سے ان کا ماضی گواہ ہے جنھوں نے ماضی میں بھی سول اور فوجی املاک پر حملے کیے اور اس میں کافی لوگ جان سے گئے۔
طلال چوہدری کے مطابق ’جتھوں کی سیاست کی پاکستان میں کہیں گنجائش نہیں۔ پوری دنیا میں جہاں جہاں فلسطین کے لیے احتجاج کیا گیا وہاں آج خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔
’ایک بڑے المیے کے بعد اب امن کی امید پیدا ہو رہی ہے۔ اگر غزہ کے تمام سٹیک ہولڈر خوش ہیں تو یہاں اس احتجاج کی کیا وجہ ہے۔ ان کے نام پر احتجاج کیوں ہو رہا ہے اس کی وجہ کچھ اور ہے۔‘
’کیمیکل، شیشے کی گولیاں، ٹینس کی بال کو کیلوں سے لیس کر کے پولیس اور رینجرز پر حملے کیے‘
طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ’مسجد کو سیاسی دفتر بنا کر مسجد کا تقدس خراب کیا جا رہا ہے۔
’سنت کا نام لینے والوں نے کیمیکل، شیشے کی گولیاں، ٹینس کی بال کو کیلوں سے لیس کر کے پولیس اور رینجرز پر حملے کیے اور ایک درجن سے زیادہ پولیس والے اور رینجرز زخمی ہو گئے ہیں۔ ‘
ان کے مطابق ’پولیس نے ان پر طاقت کا استعمال نہیں کیا جب ہی دو ہزار کے قریب لوگ مسجد سے نکل کر وہاں سے باہر آنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ اپنے مرکزی دفتر سے نکل کر راوی روڈ پر پہنچ گئے ہیں۔ پورے پنجاب میں سوائے ایک روڈ جہاں ان کا مرکز ہے اس کے سوا کوئی روڈ بند نہیں۔ پورا پنجاب اور لاہور کھلا ہوا ہے۔‘
تشدد ٹی ایل پی کی جانب سے ہوا ہے: طلال چوہدری
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں سوائے ایک جگہ کے جہاں سے پنڈی کا راستہ آتا ہے تمام جگہ میں معمول کے مطابق لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارا اس پر پورا کنٹرول ہے۔‘
’جتنی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے وہاں تعینات ہیں، اگر طاقت کا استعمال کیا ہوتا تو پنجاب پولیس سے کیا یہ بچ پاتے۔ پہلے سیف سٹی کے کیمرے توڑے ۔ اب دعویٰ کر رہے ہیں کہ لوگوں کی جان گئی۔ تشدد ٹی ایل پی کی جانب سے ہوا ہے جس کی فوٹیج جمع کی جا رہی ہے۔‘
وزیر مملکت برائے داخلہ کے مطابق ’پرسوں رات تحریک لبیک نے فائرنگ کی جس کی فوٹیج موجود ہے۔ دوہزار لوگوں کو کنٹرول کرنا کوئی مسئلہ نہیں لیکن کوشش کی جا رہی ہے کہ کم سے کم طاقت کا استعمال کیا جائے۔‘