آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

باجوڑ میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ، ایک سپاہی اور شہری ہلاک

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی تحصیل سالارزئی کے علاقے تنگی میں انسداد پولیو مہم کی ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو مہم کسی صورت متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔

خلاصہ

  • سڈنی کے بونڈائی ساحل پر حملہ کرنے والے نوید اکرم ہوش میں آ گئے، پولیس کی تفتیش جاری: آسٹریلوی میڈیا
  • گھوٹکی میں مسافروں کے اغوا کے بعد پولیس کی کارروائی، حکام کا تمام 14 افراد کی بازیابی کا دعویٰ
  • ایف بی آئی کا نئے سال کے موقع پر جنوبی کیلیفورنیا میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ
  • فلپائن کی پولیس بونڈائی حملہ آوروں کے فلپائن دورے کی تحقیقات کر رہی ہے: وزارتِ دفاع

لائیو کوریج

  1. عمران خان سے جیل میں ملاقات کا دن، اڈیالہ روڈ کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    آج سابق وزیرِاعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کا دن ہے، جس کے پیش نظر شہر بھر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ عمران خان کی بہنیں، آج اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے پہنچیں گی۔

    اُدھر راولپنڈی میں سکیورٹی کے انتظامات ہائی الرٹ پر ہیں اور دفعہ 144 کا نفاذ جاری ہے۔

    راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق پانی برسانے والی گاڑی (واٹر کینن) جیل کے گیٹ نمبر پانچ کے باہر پہنچا دی گئی ہے۔

    پولیس کے اضافی دستے بھی گورکھپور ناکے پر تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی ممکنہ احتجاج یا ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

    قیدی وینز مختلف مقامات پر پہنچا دی گئی ہیں۔

    ٹریفک کی چیکنگ پر ناکوں سے گزرنے والی گاڑیوں میں سوار افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ واٹر کینن وہیکل جیل کے باہر پہنچا دی گئی ہے تاکہ کسی ممکنہ دھرنے یا احتجاج کو قابو میں رکھا جا سکے۔

    یہ اقدامات ممکنہ پی ٹی آئی کارکنوں کے احتجاج اور دھرنے کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔

  2. بونڈائی ساحل پر حملے کے بعد آسٹریلیا میں خون عطیہ کرنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد نے نام درج کروا لیے

    آسٹریلیا کے بونڈائی ساحل پر حملے کے بعد عوام کی بڑی تعداد نے خون کے عطیات دینے کے لیے سامنے آئی ہے۔ لائف بلڈ آسٹریلیا کے مطابق ملک بھر میں تقریباً پچاس ہزار افراد نے خون عطیہ کرنے کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ صرف گذشتہ روز سات ہزار آٹھ سو دس افراد نے خون، پلازما اور پلیٹلیٹس عطیہ کیے۔

    خون عطیہ کرنے کا اس سے قبل بڑا ریکارڈ فروری 2009 میں ’بلیک سیٹرڈے‘ کے موقع پر آگ لگنے کے واقعے کے بعد قائم ہوا تھا۔

  3. سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کوئٹہ اور ملک کے دیگر شہروں کے درمیان ٹرین سروس معطل

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ملک کے دیگر شہروں کے درمیان ٹرین سروس آج معطل رہے گی۔

    محکمہ ریلویز کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرین سروس سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر معطل کی گئی ہے۔

    اہلکار کا کہنا ہے کہ نہ صرف بین الصوبائی ٹرین سروس معطل کی گئی ہے بلکہ کوئٹہ اور بلوچستان کے سرحدی شہر چمن کے درمیان مسافر ٹرین سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ کوئٹہ سے پنجاب اور سندھ کے درمیان پہلے متعدد ٹرینیں چلتی تھیں لیکن سابق آمر پرویز مشرف کے درو میں امن و امان کی صورتحالی کی خرابی اور پھر کورونا کی وبا کے بعد ان کی تعداد میں کمی کر دی گئی۔

    اس وقت کوئٹہ اور دیگر شہروں کے درمیان تین مسافر ٹرینیں چلتی ہیں جن میں جعفر ایکسپریس، بولان میل اور چمن پیسنجر ٹرین شامل ہیں۔

    ان میں جعفر ایکسپریس روزانہ کی بنیاد پر سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں سے ہوتی ہوئی پشاور تک جاتی ہے جبکہ بولان میل ہفتے میں دو روز کراچی اور کوئٹہ کے درمیان چلتی ہے۔

    ریلویز اہلکار نے بتایا کہ شیڈول کے مطابق آج کوئٹہ اور کراچی کے درمیان بولان میل کو بھی چلنا تھا تاہم سکیورٹی خدشات کی بنا پر اسے بھی کراچی کے لیے روانہ نہیں کیا گیا۔

    رواں سال اب تک کوئٹہ اور دیگر شہروں کے درمیان ٹرین سروس سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر متعدد بار ملتوی کی جا چکی ہے۔

  4. ایف بی آئی کا نئے سال کے موقع پر جنوبی کیلیفورنیا میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لاس اینجلس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک انتہا پسند گروہ کی جانب سے نئے سال کے موقع پر دہشت گردی کی ایک مشتبہ سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔

    پیر کے روز ایف بی آئی (فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن) اور لاس اینجلس کے قانون نافذ کرنے والے ادارے نے بتایا کہ ٹرٹل آئی لینڈ لبریشن فرنٹ نامی تنظیم کے چار مبینہ ارکان کو جنوبی کیلیفورنیا میں کم از کم پانچ مقامات پر ایک مربوط بم حملے کی منصوبہ بندی کے شبہے میں گرفتار کیا ہے۔ یہ تنظیم ایک فلسطینی حکومت مخالف گروپ کی شاخ ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کو گذشتہ ہفتے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ لاس اینجلس کے مشرق میں واقع صحرا میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کا تجربہ کرنے جا رہے تھے۔

    ایف بی آئی کا خیال ہے کہ انھوں نے منصوبہ ناکام تو بنا دیا ہے تاہم اس میں شامل دیگر مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

  5. گھوٹکی میں مسافروں کے اغوا کے بعد پولیس کی کارروائی، حکام کا 10 افراد کی بازیابی کا دعویٰ

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں متعدد مسافروں کے اغوا کے بعد ان کی بازیابی کے لیے پولیس اور رینجرز کی کارروائی جاری ہے اور حکام نے اب تک 10 افراد کی بازیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

    اغوا کا یہ واقعہ پیر کی شب ضلع گھوٹکی میں اوباڑو کے نزدیک پیش آیا تھا جب صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی ایک بس کو ڈاکوؤں نے روک کر اطلاعات کے مطابق 19 افراد کو اغوا کر لیا تھا۔

    ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ کا کہنا ہے کہ اغوا کیے جانے والے مسافروں میں سے اب تک 10 مغویوں کو بازیاب کروایا جا چکا ہے۔

    ڈی آئی جی سکھر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، پولیس اور رینجرز کی جانب سے ساری رات جاری رہنے والے آپریشن کے دوران کچے کی طرف جانے والے تمام راستے بروقت بند کر دیے گئے جس کے باعث ڈاکو مغویوں کو کچے کی طرف لے کر جانے میں ناکام رہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کامیاب کاروائی کرتے ہوئے 10 مغوی مسافروں کو بحفاظت بازیاب کروا کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے علاقے میں ناکہ بندی جاری ہے اور ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلہ اور انکا تعاقب جاری ہے۔

    ڈی آئی جی سکھر کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں آپریشن میں ایس ایس پی خیرپور، ایس ایس پی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سکھر رینج کے اہلکار شامل ہیں۔

    ڈی آئی جی عبداللہ چاچڑ کا کہنا ہے کہ مقابلے میں چند ڈاکو زخمی ہوئے ہیں

  6. فلپائن کی پولیس بونڈائی حملہ آوروں کے فلپائن دورے کی تحقیقات کر رہی ہے: وزارتِ دفاع

    فلپائن کی وزارت دفاع کے ترجمان آرسینیو اینڈولونگ نے بی بی سی کو ایک ٹیکسٹ میسج کے جواب میں بتایا ہے کہ فلپائن کی پولیس اتوار کے روز سڈنی کے بونڈائی ساحل پر ہونے والی فائرنگ سے قبل دونوں حملہ آوروں کے فلپائن کے دورے کے متعلق تحقیقات کر ہے ہیں۔

    منگل کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر مل لینیون کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران پتہ چلا ہے کہ دونوں حملہ آور، جن کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور ان کے 24 سالہ بیٹے نوید کے طور پر ہوئی ہے، گذشتہ ماہ فلپائن گئے تھے۔

    ایک سوال کے جواب میں کمشنر لینیون کا کہنا کہ فی الحال یہ معلوم نہیں کہ ان کے فلپائن کے دورے کا مقصد کیا تھا اور اس بارے میں تفتیش جاری ہے۔

    اس سے قبل آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں حملہ آوروں بونڈائی ساحل پر حملے سے قبل عسکری تربیت حاصل کرنے کی غرض سے فلپائن گئے تھے۔

    خیال رہے کہ فلپائن کو طویل عرصے سے اپنے ملک کے جنوبی حصے میں عسکریت پسندی کا سامنا ہے۔ 2017 میں، نام نہاد دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا عہد کرنے والے عسکریت پسندوں نے مراوی شہر پر قبضہ کر لیا تھے جس کے نتیجے میں پانچ ماہ تک لڑائی جاری رہی تھی۔

  7. پاکستان میں ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے فی لیٹر کی کمی، پیٹرول کی قیمت برقرار

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق، وزارت توانائی کی جانب سے اگلے 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت 14 روپے کمی کے بعد 265 روپے 65 پیسے ہو گئی ہے جبکہ پیٹرول کی 263 روپے 45 پیسے پر برقرار رکھی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان میں وزارتِ توانائی ہر 15 روز میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرتی ہے۔

  8. بونڈائی بیچ پر حملہ آور کا مقابلہ کرنے والے احمد الاحمد کے لیے بنائے گئے فنڈ میں 10 لاکھ ڈالر سے زائد رقم جمع

    سڈنی کے بونڈائی بیچ پر مسلح حملہ آور کا مقابلہ کرنے والے ’ہیرو‘ احمد الاحمد کے لیے قائم کیے گئے فنڈ میں اب تک 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم جمع ہو چکی ہے۔

    ان کے لیے بنائے گئے ’گوفنڈ می‘ فنڈ میں اب تک 10 لاکھ 58 ہزار ڈالر سے زائد رقم جمع ہو چکی ہے اور اس کے مزید بڑھنے کے بھی امکانات ہیں۔

    ’گوفنڈ می‘ کی ویب سائٹ کے مطابق اس فنڈ میں سب سے زیادہ رقم 99 ہزار 999 ڈالر ایک امریکی کروڑ پتی شخصیت نے جمع کروائے ہیں۔

    آسٹریلیا میں ایک پھلوں کی دُکان کے مالک احمد الاحمد بونڈائی بیچ پر ہونے والے حملے کے وقت ’اتفاقاً‘ اس مقام پر موجود تھے۔ وہ اس علاقے میں ایک دوست کے ہمراہ کافی پینے گئے تھے۔

    احمد الاحمد کے والد محمد فتح الاحمد کے مطابق ان کے بیٹے نے ’اپنے جذبات، اپنے ضمیر اور انسانیت‘ کے لیے حملہ آور کا مقابلہ کیا۔

    نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز نے ہسپتال میں احمد کی عیادت کی اور انھیں ایک ’حقیقی ہیرو‘ قرار دیا۔

  9. آسٹریلیا کے بونڈائی بیچ پر حملہ کرنے والے نوید اکرم نے اپنی والدہ کو کیا بتایا تھا؟

    سڈنی میں بونڈائی بیچ پر اتوار کو یہودی برادری پر حملہ کرنے والے ساجد اور نوید اکرم نے اپنے خاندان کو بتایا تھا کہ وہ فِشنگ ٹرپ (مچھلی پکڑنے) آئے ہوئے ہیں۔

    نوید کی والد ورینا نے سڈنی مارننگ ہیرلڈ کو بتایا کہ اتوار کو حملے والے دن ان کی اپنے بیٹے سے بات ہوئی تھی۔

    ورینا کہتی ہیں کہ ’انھوں نے مجھے فون کیا اور کہا ماں میں ابھی تیرنے گیا تھا، سکوبا ڈائیونگ کرنے گیا تھا، اب میں کھانا کھانے جا رہا ہوں اور آج صبح ہم گھر پر ہی رہیں گے کیونکہ یہاں بہت گرمی ہے۔‘

    آسٹریلوی اخبار کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ نوید کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی جان بچ جائے گی۔

    خیال رہے نوید اس وقت تشویشناک حالت میں ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

  10. سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکانے اور مذہبی منافرت پھیلانے پر ٹی ایل پی رہنما ظہیر الحسن کو ساڑھے 35 برس قید کی سزا, ترہب اصغر، بی بی سی اُردو

    لاہور میں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مرکزی رہنما ظہیر الحسن شاہ کو سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکی دینے، مذہبی منافرت پھیلانے اور دیگر الزامات ثابت ہونے پر مجموعی طور پر ساڑھے 35 برس قید کی سزا سُنائی ہے۔

    بی بی سی اردو کو دستیاب جیل وارنٹ کے مطابق ظہیر الحسن شاہ پر انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کی متعدد دفعات کے تحت مجموعی طور چھ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

    ظہیر الحسن شاہ کے خلاف یہ مقدمہ جولائی 2024 میں لاہور کے تھانہ قلعہ گجر خان میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق ظہیر الحسن نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف لوگوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تھی۔

    مقدمے میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ، مذہبی منافرت، فساد پھیلانے، عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی دفعات کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدلیہ کو دھمکی، کارِ سرکار میں مداخلت اور قانونی فرائض کی انجام دہی میں رُکاوٹ ڈالنے سے متعلق دفعات شامل کی گئی تھیں۔

    جیل وارنٹ کے مطابق ظہیر الحسن کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 (1) (بی) (کسی کی جان کو خطرے میں ڈالنا)کے تحت 10 برس قید اور دو لاکھ جُرمانے کی سزا سُنائی گئی ہے۔

    اسی طرح انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 جی (جو کہ دہشت گردی سے متعلق ہے) کے تحت پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ اسی دفعہ کے تحت ان پر ایک لاکھ روپے جُرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

    ظہیر الحسن کو منافرت اور منافرت انگیز مواد پھیلانے کے الزام میں انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 11 ڈبیلو کے تحت بھی پانچ برس کی سزا سُنائی گئی ہے اور ایک لاکھ روپے کا جُرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    اسی طرح کالعدم ٹی ایل پی کے رہنما کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 505 (سرکاری افسران کو ریاست کے خلاف اُکسانا) کے تحت بھی سات برس قید کی سزا سُنائی گئی ہے، جبکہ اسی دفعہ کے تحت ان پر ایک لاکھ روپے کا جُرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

    ظہیر الحسن شاہ کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 117 کے تحت تین برس اور دفعہ 188 کے تحت چھ مہینے کی سزائیں بھی سُنائی گئی ہیں۔ تاہم جیل وارنٹ کے مطابق ان سزاؤں کا عملدرآمد کا آغاز ایک ساتھ ہو گا، یعنی سادہ الفاظ میں انھیں 10 برس جیل میں گزارنے ہوں گے۔

    ظہیر الحسن شاہ کے خلاف درج ایف آئی آر میں کیا لکھا تھا؟ طہیر الحسن شاہ کے خلاف یہ مقدمہ جولائی 2024 میں لاہور کے تھانہ قلعہ گجر خان میں درج کیا گیا تھا۔

    اس وقت بی بی سی کو دستیاب ایک ویڈیو میں یہ دیکھا جاسکتا تھا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے رہنما ظہیر الحسن ایک اجتماع کے دوران سابق چیف جسٹس کے خلاف دھمکی آمیز تقریر کر رہے تھے۔

    چھ فروری 2024 کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے توہینِ مذہب کے الزام میں قید ایک شخص کو رہا کرتے ہوئے اس کے خلاف درج ایف آئی آر سے توہینِ مذہب کی دفعات 298 سی اور 295 بی حذف کرنے کا حکم دیا تھا۔

    ٹی ایل پی سمیت متعدد مذہبی جماعتوں نے اس فیصلے کے خلاف کئی دنوں تک احتجاجی ریلیاں نکالی تھیں۔

  11. آسٹریلیا میں یہود مخالف واقعات میں اضافہ، رپورٹ

    آسٹریلیا میں نفرت پر مبنی جرائم کو ریکارڈ کرنے کا کوئی مرکزی نظام موجود نہیں، ہر ریاست اور علاقہ اپنی تعریف اور ردِعمل کے مطابق ایسے واقعات سے نبرد آزما ہوتا ہے۔

    ایگزیکٹو کونسل آف آسٹریلین جیوری، جو آسٹریلیا میں یہودی کمیونٹی کی نمائندگی کرتی ہے، سنہ 1990 سے ہر سال ملک بھر میں یہود مخالف واقعات کی رپورٹ شائع کر رہی ہے۔

    تازہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ دو برسوں میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے کیونکہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

    اکتوبر 2023 سے ستمبر 2024 کے درمیان ایسے واقعات کی تعداد 2,062 تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد اگلے سال یعنی ستمبر 2025 تک یہ تعداد کچھ کم ہو کر 1,652 رہی، لیکن یہ اب بھی غزہ میں اسرائیل۔۔حماس جنگ کے بعد ان میں سالانہ تین گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

    ان واقعات میں جسمانی اور زبانی حملے، توڑ پھوڑ، عوامی مقامات پر یہود مخالف پیغامات، پوسٹر یا سٹیکر لگانا، اور یہودی افراد یا اداروں کو خطوط یا ای میلز کے ذریعے دھمکیاں دینا شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھیجے گئے پیغامات الگ شمار کیے جاتے ہیں۔

    ستمبر 2025 کو ختم ہونے والے سال میں اس کونسل کے مطابق سب سے زیادہ واقعات زبانی بدسلوکی اور عوامی پیغام رسانی جیسے گرافٹی، پوسٹر اور سٹیکر لگانے کے تھے۔

  12. سڈنی کے بونڈائی ساحل پر حملہ: تازہ ترین کیا صورتحال ہے؟

    یہ واقعہ پیش آئے 28 گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے جب دو مسلح افراد نے یہودی کمیونٹی کو نشانہ بناتے ہوئے 15 افراد کو ہلاک کر دیا۔

    • اتوار کو آسٹریلیا کے مقامی وقت کے مطابق 18:47 پر دو حملہ آوروں نے ہنوکا تہوار کی پہلی رات کا جشن منانے والے یہودی افراد پر فائرنگ کی۔
    • 43 سالہ احمد الاحمد، جو وہاں موجود تھے، ایک حملہ آور پر جھپٹے اور اس کا ہتھیار چھین کر اسے پیچھے کی جانب دھکیل دیا۔
    • 50 سالہ ساجد اکرم موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے 24 برس کے بیٹے نوید اکرم شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

    متاثرین

    • اس حملے میں سب سے کم عمر ہلاک ہونے والی لڑکی 10 برس کے میٹیلڈا ہیں۔ ان کی خالہ نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ وہ خوش مزاج بچی تھی اور اس کے بہت دوست تھے۔
    • برطانوی نژاد ربی ایلی شلانگر، ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے الیکس کلائٹ مین، ایک سابق پولیس افسر، فٹبالر ڈین ایلکایم اور سلوواکیہ کی شہری ماریکا بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

    حملہ آور

    • ساجد اکرم اور ان کا بیٹا نوید اکرم نیو ساؤتھ ویلز کے بونی رگ علاقے میں رہتے تھے، لیکن پولیس کے مطابق انھوں نے حملے کی تیاری بونڈائی ساحل کے قریب ایک کرائے کے مکان میں کی تھی۔
    • دونوں نے داعش سے وفاداری کا عہد کیا تھا۔ آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز کے مطابق حملہ آور ’انتہا پسند نظریے‘ سے متاثر تھے۔
    • آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے نوید سنہ 2019 میں حکام کی نظر میں آئے تھے مگر اس وقت کی جانچ میں ’کسی جاری خطرے یا تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی اشارہ‘ نہیں ملا۔
    • ساجد اکرم، جو حملے میں مارے گئے ہیں، ایک گن کلب کے رکن تھے اور تفریحی شوٹنگ کے لیے انھیں اسلحے کا لائسنس بھی تھا۔

    عینی شاہدین

    • 27 برس کی چاوی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے بچے کے ساتھ زمین پر لیٹ گئی تپیں کیونکہ ’گولیاں ہمارے اوپر سے گزر رہی تھیں‘۔
  13. حملہ آور ساجد اکرم کے پاس چھ لائسنس شدہ بندوقیں تھیں: آسٹریلوی پولیس

    آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بونڈائی ساحل پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک 50 سالہ ساجد اکرم کے پاس چھ لائسنس شدہ بندوقیں تھیں۔ ریاست میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ ان کے پاس تفریحی زمرے میں آنے والی بندوقوں کا اے/بی لائسنس بھی تھا۔

    نیو ساؤتھ ویلز میں لائسنس حاصل کرنے کے لیے صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ شخص 18 سال سے زیادہ کا ہو، فٹ ہو، تربیت اور حفاظت کا کورس مکمل کر چکا ہو اور اسلحے کی ضرورت کی مناسب وجہ فراہم کر سکے۔

    اے/بی لائسنس تفریحی نشانے بازوں کے لیے ہیں، یہ کھیلوں کی شوٹنگ، شکار اور کیڑوں پر قابو پانے جیسی مختلف سرگرمیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔

    اس طرح کے لائسنس یافتہ کے پاس بندوقوں کی تعداد کی کوئی حد نہیں ہے اور جون تک ایک فرد کے پاس 298 آتشیں اسلحہ رکھنے کا ریکارڈ بھی ہے۔

    اگست کے تازہ ترین اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ دو لاکھ 59 ہزار 107 کے پاس ریاست بھر میں 10 لاکھ سے زیادہ بندوقیں تھیں۔ اوسط لائسنس یافتہ کے پاس چار سے زیادہ بندوقیں تھیں۔ رجسٹرڈ آتشیں اسلحہ میں سے نو لاکھ 73 ہزار سے زیادہ اے/بی کے زمرے میں تھے۔

  14. یہود دشمن تشدد بہت ہو گیا، اپنے دلوں سے نفرت کو ختم کریں: کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا

    کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پوپ لیو کہتے ہیں کہ سڈنی میں یہودی کمیونٹی پر ہونے والے حملے نے اُنھیں بہت افسردہ کیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’میں یہودی کمیونٹی کے خلاف کیے گئے دہشت گردانہ قتلِ عام کے متاثرین کو رب کے سپرد کرنا چاہتا ہوں۔‘

    پوپ لیو کا مزید کہنا تھا کہ ’یہود مخالف تشدد بہت ہو گیا۔۔آئیے اپنے دلوں سے نفرت کو ختم کریں۔‘

    پوپ کا مزید کہنا تھا کہ آئیں ہر اُس شخص کے لیے دُعا کریں جو جنگ یا تشدد کے نتیجے میں نقصان اُٹھاتا ہے۔

  15. حملہ آور کسی بڑے شدت پسند گروپ کا حصہ نہیں تھے: آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز

    آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے بونڈائی ساحل پر یہودی کمیونٹی پر حملہ کرنے والے دونوں افراد کسی بڑے شدت پسند نیٹ ورک کا حصہ نہیں تھے، بلکہ اُنھوں نے اپنے طور پر یہ قدم اُٹھایا۔

    آسٹریلوی براڈ کاسٹر ’اے بی سی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ باپ، بیٹے کے کسی منظم گروہ سے تعلق کے شواہد نہیں ملے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ دونوں ’انتہا پسند نظریے‘ سے متاثر تھے۔

    آسٹریلوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پولیس کسی تیسرے شخص سے کوئی تفتیش نہیں کر رہی، لیکن یہ ضرور ہے کہ ایک کار سے دھماکہ خیز مواد ملا ہے۔

    حملہ آور نوید اکرم سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں البانیز نے تصدیق کی کہ یہ نوجوان انسداد دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شامل نہیں تھا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ مبینہ حملہ آور سے سنہ 2019 میں دو افراد سے روابط سے متعلق تفتیش کی گئی تھی، جنھیں بعد میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

    آسٹریلوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ چھ ماہ کی تفتیش میں حملہ آور کے تشدد یا یہود مخالف کسی منصوبے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔

  16. پنجگور: مسلح افراد اور پولیس کے درمیان فائرنگ میں ایک اہلکار ہلاک، دو زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اُردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع پنجگور میں بینکوں کو لوٹنے کے دوران مسلح افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے ہیں۔

    پنجگور پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پیر کو چار گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد شہر میں آئی۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ مسلح افراد شہر میں تین بینکوں کو لوٹنے کے بعد جب ایک اور نجی بینک اور ایک سرکاری بینک کو لوٹنے کے لیے آئے تو وہاں نجی بینک کو لوٹنے کی کوشش کے دوران پولیس اہلکاروں نے مزاحمت کی۔

    اہلکار نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران ایک پولیس اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہو گئے جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

    پولیس اہلکار کے مطابق اس نجی بینک پر مزاحمت کی وجہ سے مسلح افراد رقم نہیں لے جا سکے اور جھڑپ کے بعد وہ فرار ہو گئے۔

    اہلکار نے بتایا کہ جھڑپ سے قبل مسلح افراد تین نجی بینکوں سے رقوم لوٹنے میں کامیاب ہو گئے تاہم وہ فوری طور پر یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ وہاں سے کتنی رقم لے جا سکے۔

    فون پر رابطہ کرنے پر ایس ایس پی پنجگور دوست محمد بگٹی نے بتایا کہ پولیس کی مزاحمت کی وجہ سے مسلح افراد دو بینکوں میں داخل نہیں ہو سکے۔

    انھوں نے بتایا کہ مسلح افراد کی تعداد زیادہ تھی تاہم پولیس اہلکاروں نے مزاحمت کی جس کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد کی فائرنگ کی زد میں آکر ایک شہری بھی ہلاک ہوا۔ اُنھوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

  17. ’اس طرح تو کسی چپڑاسی کو بھی کام سے نہیں روکا جاتا‘: جسٹس طارق جہانگیری کا ڈگری تنازع کیس میں چیف جسٹس پر عدم اطمینان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق جہانگیری نے ڈگری تنازع کیس میں چیف جسٹس کے بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض اُٹھا دیا ہے۔

    پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم نے کیس کی سماعت شروع کی تو جسٹس طارق طارق جہانگیری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے، آپ اس کیس میں میرے خلاف نہیں بیٹھ سکتے۔ لہذا آپ یہ کیس نہ سنیں۔

    جسٹس طارق جہانگیری نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے عدالتی کام سے بھی روک دیا ہے، جو عدالتی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس طرح تو کسی چپڑاسی کو بھی کام سے نہیں روکا جاتا۔

    جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ میں قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میری ڈگری اصلی ہے۔

    جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ یونیورسٹی نے یہ نہیں کہا کہ ڈگری جعلی ہے اور اُنھوں نے ایشو نہیں کی تھی، میں حلفاً کہتا ہوں کہ میرے ڈگری اصلی ہے۔

    جسٹس طارق جہانگیری نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے آپ کے بینچ پر اعتماد نہیں، اگر کیس سننا ہے تو کسی اور بینچ کو بھجوا دیں، مجھے کچھ مہلت بھی دی جائے۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔ دریں اثنا پٹیشنر میاں داؤد نے پٹیشن کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی استدعا کر دی۔

    ڈگری کا معاملہ کب منظر عام پر آیا؟

    دس جولائی سنہ 2024 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکیل میاں داؤد ایک درخواست دائر کرتے ہیں جس موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ انھیں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی کی ڈگری سے متعلق کچھ ایسی معلومات ملی ہیں جس سے انھیں شک ہے کہ مذکورہ جج کی قانون کی ڈگری جعلی ہے لہذا اس معاملے کی تحققیات کروائی جائیں۔

    اس درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض لگایا جاتا ہے اور گیارہ جولائی کو اس وقت کے چیف جسٹس عامر فاروق اس درخواست پر لگائے گئے اعتراضات کی سماعت کرکے فیصلہ محفوظ کرلیتے ہیں۔ تاہم اس درخواست پر فیصلہ نہیں سنایا جاتا اور جسٹس عامر فاروق کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے یہ معاملہ موجودہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو بھیجا۔

    جسٹس جہانگیری کی جعلی ڈگری کو لے کر کچھ وکلا سندھ ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرتے ہیں اور سندھ ہائی کورٹ اس پر سٹے ارڈر جاری کر دیتی ہے جس کے بعد اس وقت کی اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قیادت بھی اس میں فریق بن جاتی ہے۔

  18. وادی تیراہ میں مقامی افراد کی علاقہ چھوڑنے پر مشروط آمادگی، ’ہر خاندان کو ماہانہ ایک لاکھ روپے دیے جائیں‘, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور

    خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے شورش زدہ علاقے وادی تیراہ کی عوام نے علاقہ چھوڑنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ تاہم اُنھوں نے علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے 27 نکات پر مشتمل شرائط نامہ پیش کیا ہے۔

    اس حوالے سے اتوار کو تیراہ میں آفریدی قبائل کا جرگہ منعقد ہوا جس میں ملک دین خیل، قمبر خیل، ملک دین خیل، اکاخیل اور دیگر قبائل کے 24 سرکردہ قبائلی عمائدئن نے شرکت کی۔

    جرگہ کے رُکن ملک کمال الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً تین چار سال سے ہمارے لوگ یرغمال بنے ہوئے ہیں علاقے میں سرگرم مختلف مسلح تنظیموں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران بے گناہ افراد بھی مارے جا رہے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم متعدد بار یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ ہمارے علاقوں میں پرتشدد کارروائیاں اور سرگرمیاں نہ کریں، مگر ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

    ملک کمال الدین کہتے ہیں کہ گذشتہ ماہ وزیر اعلی کے سامنے بھی ہم نے بات رکھی تھی کہ کم از کم غیر اعلانیہ کرفیو اور گولہ باری کو رکوائیں۔ لیکن کچھ نہیں ہوا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ چھ ماہ سے سکیورٹی ادارے بھی ہمیں بار بار کہہ رہے ہیں کہ علاقہ خالی کریں لیکن اب علاقہ خالی کریں گے، لیکن اس کی شرائط ہوں گی۔

    • دو ماہ میں مقامی افراد کی واپسی کی ضمانت
    • تیراہ میں کوئی امن کمیٹی یا ویلج کمیٹی نہیں بنائی جائے گی
    • امن قائم رکھنا، سکیورٹی اداروں اور حکومت کی ذمے داری ہو گی
    • نقل مکانی کے لیے مقامی افراد کو ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی
    • ہر خاندان کو پانچ لاکھ روپے نقد اور ایک لاکھ ماہانہ ادا کیا جائے
    • آپریشن کے بعد یقینی بنائے جائے گا کہ آئندہ کوئی فوجی کارروائی نہیں ہو گی

    ملک کمال الدین کے مطابق آج بھی تیراہ میں کچھ مقامات پر دو دن کے لیے کرفیو لگا ہے لوگ گھروں سے جا رہے ہیں مگر محدود تعداد میں پورا گھر خالی نہیں کر رہے لیکن باقاعدہ نقل مکانی تب کریں گے، جب ہمارے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے۔

    ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اسلام گل آفریدی کا کہنا تھا کہ ابھی جو دہشت گردی کی دوسری لہر چل رہی ہے اس میں کافی عرصے سے لوگوں کو کہا جا رہا تھا کہ علاقہ چھوڑیں۔

    اُن کے بقول علاقے کے لوگوں کو مشکلات ہیں جرگہ آخری آپشن کے طور ہر کیا گیا کیونکہ مقامی لوگوں کے اس شرائط ہر بھی تحفظات ہیں اب دیکھنا پڑے گا کہ حکومتی یقین دہانی کے بعد کتنے لوگ علاقہ چھوڑیں گے کیونکہ پہلے نقل مکانی ہوئی تھی اس کے متاثرین ابھی تک معاوضوں کے لیے چکر کاٹ رہے ہیں

    خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں بشمول ٹانک، وادی تیراہ اور باجوڑ میں حالیہ کچھ عرصے میں جہاں بدامنی کے واقعات بڑھے ہیں، وہیں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں پر مقامی افراد نے احتجاج بھی کیے ہیں۔

    گذشتہ چند ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں شہری ہلاکتوں کے ایسے دو واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جولائی میں تیراہ میں ہی ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک بچی کی ہلاکت ہوئی تھی جس کے بعد ہونے والے احتجاج پر فائرنگ سے پانچ افراد مارے گئے تھے۔

    اس کے علاوہ جولائی میں ہی باجوڑ میں بھی عسکری کارروائیوں کے دوران تین شہریوں کی ہلاکت کے واقعات پیش آئے تھے۔

  19. امریکی تاجر کا حملہ آور کو قابو کرنے والے شخص کے لیے 65 ہزار ڈالرز کا عطیہ، ’وہ حقیقی زندگی کے ہیرو ہیں‘

    امریکی تاجر نے آسٹریلیا میں سڈنی بونڈائی ساحل پر فائرنگ کرنے والے ایک حملہ آور پر قابو پانے والے 43 سالہ احمد الاحمد کو 65 ہزار امریکی ڈالڑز کا عطیہ دیا ہے۔

    یہ عطیہ امریکہ میں سکوائر کیپیٹل مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ولیم ایک مین کی جانب سے دیا گیا ہے، جنھوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں احمد کو ہیرو قرار دیا ہے۔

    احمد الاحمد کو حملہ آور کو قابو کرنے پر آسٹریلیا میں ہیرو قرار دیا جا رہا ہے، وہ زخمی حالت میں اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کی مدد کے لیے چندہ جمع کرنے کی آن لائن مہم شروع کی گئی ہے، جس میں اب تک تقریباً 10 لاکھ ڈالرز جمع ہو چکے ہیں۔

    'گو فنڈ می' یا 'میری مالی مدد کریں' نامی ویب سائٹ پر لوگ مشکل میں پھنسے ضرورت مند افراد کے لیے عطیات جمع کرتے ہیں۔

    بی بی سی نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں احمد کو مسلح حملہ آور پر جھپٹتے ہوئے اور اس کی بندوق چھینتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد احمد نے بندوق چھین کر اسی حملہ آور پر تان لی تھی۔

    احمد کے اہلخانہ نے سیون نیوز آسٹریلیا کو بتایا ہے کہ وہ ایک پھل فروش ہیں اور دو بچوں کے والد ہیں۔ اس وقت احمد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کو بازو اور ہاتھ پر گولیاں لگیں تھیں اور ہسپتال میں ان کی سرجری کی گئی ہے۔

    نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز نے ہسپتال میں احمد ال احمد کی عیادت کرتے ہوئے کہا کہ ’احمد حقیقی زندگی کے ہیرو ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ رات اس ناقابلِ یقین بہادری نے بلاشبہ لاتعداد جانیں بچائیں، کیونکہ اُنھوں نے ایک دہشت گرد کو خود کو خطرے میں ڈال کر غیر مسلح کیا۔

  20. بونڈائی ساحل پر فائرنگ کرنے والوں کی گاڑی سے نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے جھنڈے ملے ہیں، مقامی میڈیا

    آسٹریلیا کے نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے ایک سینیئر اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سڈنی کے ساحل بونڈائی پر فائرنگ کرنے والوں کی گاڑی سے کالعدم تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے دو جھنڈے ملے ہیں۔

    اے بی سی کی رپورٹ کے مطابق، جائے وقوعہ کی فوٹیج میں گاڑی کے بونٹ پر ایک جھنڈا دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس سے قبل اے بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ماضی میں بونڈائی پر ہونے والے حملے میں ملوث حملہ آوروں میں سے ایک، نوید اکرم، کے سڈنی میں قائم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے دہشت گردی سیل سے تعلقات کے شبہے میں جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

    تاہم آسٹریلین وزیرِ اعظم انتھونی البانیز کے مطابق، اس وقت ان کی جانچ پڑتال کرنے والوں کو نہیں لگا کہ ان سے کوئی خطرہ ہے یا وہ کسی پرتشدد کارروائی میں ملوث ہو سکتے ہیں۔