فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرکورٹ اپیلوں کی سماعت کرنے والے سات رکنی بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون میں ملٹری کورٹ کا نہیں کورٹ مارشل کا ذکر ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملٹری ایکٹ کے سیکشن ٹو ڈی میں ملٹری کورٹ نہیں لکھا گیا بلکہ یہ لکھا گیا ہے کہ اس جرم میں ٹرائل ہوگا۔
سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ بار کے سابقہ عہدیداران کے وکیل عابد زبیری نے دلائل دیے۔
سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس محمد علی مظہر نے درخواست گزار بشری قمر کے وکیل عابد زبیری سے سوال کیا کہ کیا آپ ملٹری کورٹ کو تسلیم کرتے ہیں؟ اگر تسلیم کرتے ہیں تو نتائج کچھ اور ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ کسی عدالتی فیصلے میں یہ نہیں کہا گیا کہ فوجی عدالتیں جوڈیشری کا حصہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آج تک جتنے بھی فیصلے ہوئے اس میں ملٹری کورٹ کے بارے میں وضاحت نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں آئین کے تحت بننے والے نظام کا حصہ نہیں ہیں اور ان عدالتوں میں ٹرائل صرف ان سویلینز کا ہوسکتا ہے جو فوج کا حصہ رہے ہوں۔
انھوں نے کہا کہ آرٹیکل دس اے اور چار کی موجودگی میں سویلین کا کورٹ مارشل ممکن نہیں ہے۔
آئینی بینچ کے سامنے اپنے دلائل میں عابد زبیری نے کہا ایف بی علی 1965 کی جنگ کے ہیرو تھے جن پر ریٹائرمنٹ کے بعد اپنےآفس پر اثر رسوخ کا الزام لگا۔
انھوں نے کہا کہ ایک ریٹائرڈ شخص کیسے اپنا آفس استعمال کر سکتا ہے؟
عابد زبیری نے کہا کہ جنرل ضیا الحق نے ایف بی علی کا ملٹری ٹرائل کیا اور پھر جنرل ضیا الحق نے ہی 1978 میں ایف بی علی کوچھوڑ دیا۔
اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے جو کام ایف بی علی کرنا چاہ رہے تھے وہ ضیا الحق نے کیا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا آرمی ایکٹ میں ملٹری ٹرائل کے لیے مکمل طریقہ کارفراہم کیا گیا ہے، طریقہ کار میں بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے البتہ آرمی ایکٹ میں فراہم طریقہ کار پر عمل نہ کرنا الگ بات ہے، طریقہ کار پر عمل نہ ہو تو دستیابی کا کوئی فائدہ نہیں۔‘
جسٹس محمد علی مظہر نے مزید کہا کہ ملٹری کورٹ پر دو اعتراض ہیں، ایک اعتراض ملٹری ٹرائل غیر جانبدار نہیں ہوتا، دوسرا اعتراض ٹرائل کرنے والوں پر قانونی تجربہ نہ ہونے کا الزام لگایا گیا، اگر ملٹری کورٹ جوڈیشری ہے تو پھر وہ عدلیہ ہے۔‘
اس موقع پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ ملٹری کورٹ ایگزیکٹو کا حصہ ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’ملٹری کورٹ پرغیر جانبدارنہ ہونا اور قانونی تجربہ نہ ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں، آرمی کا کیا کام ہوتا ہے؟ آرمی کے کام میں ایگزیکٹو کہاں سے آ گیا؟‘
اس پر عابد زبیری نے جواب دیا فوج کا کام سرحد پر لڑنا ہے۔
جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے فوج کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے۔