آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, نیپال میں سیلاب سے کئی عمارتیں اور پُل بہہ گئے: 95 افراد کی ہلاکت اور انڈین شہریوں سمیت سینکڑوں سیاح لاپتہ

نیپال اور تبت کی سرحد پر اچانک آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 95 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں سیاح لاپتہ ہو گئے ہیں۔ لاپتہ ہونے والوں میں انڈیا کے 133، امریکہ کے 47 اور برطانیہ کے 33 شہری شامل ہیں۔ پانی کے ریلوں میں کئی عمارتیں اور پل بہہ گئے ہیں۔

خلاصہ

  • پشاور میں پولیس چوکی کے قریب دھماکہ، دو اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی
  • آبنائے ہرمز کھلی ہے، جلد بڑی کامیابی حاصل کریں گے: ٹرمپ
  • ایران جنگ پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنانے والے امریکی فضائیہ کے افسر کے خلاف کارروائی
  • نیپال میں سیلاب سے کئی عمارتیں اور پُل بہہ گئے: 95 افراد ہلاک، انڈین شہریوں سمیت سینکڑوں سیاح لاپتہ
  • وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی سے ہلاک ہونے والے تمام 14 بچوں کی میتیں ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئیں: طلال چوہدری
  • وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے

لائیو کوریج

  1. بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شدت پسندوں کی کارروائیاں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے شہر خاران میں نامعلوم مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    دو دیگر اضلاع چاغی اور قلات میں چھ مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ مستونگ میں ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا گیا۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ ’گزشتہ شب کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے خاران شہر میں ناکہ بندی کی کوشش کی اور پولیس کی ایک گاڑی کو نذر آتش کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار الرٹ تھے اور انھوں نے فوری کارروائی کی جس کی وجہ سے حملہ آور مزید کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے اور فرار ہوگئے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔‘

    خاران کے ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ’رات دس بجے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں شدید فائرنگ اور دھماکوِں کی آوازیں سنائی دیں جس سے شہریوں میں خوف ہراس پھیل گیا۔‘

    خاران میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’نامعلوم مسلح افراد نے شہر میں اندر آنے اور جانے کے مختلف راستوں پر ناکہ بندی کی کوشش کی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’مسلح افراد اور پولیس سمیت سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن کا سلسلہ رات دیر تک جاری رہا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’مسلح افراد نے بیسیمہ پولیس چوکی کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا اور وہاں سے چار پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا تاہم بعد میں ان کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر چھوڑ دیا گیا۔‘

    ادھر خاران سے متصل ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے گزشتہ روز فائرنگ کرکے چار مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

    چاغی میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’نامعلوم مسلح افراد نے گاڑیوں کو چہتر کے علاقے میں نقصان پہنچایا۔‘

    ضلع قلات میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے دو مال بردار گاڑیوں کو فائرنگ کرکے نقصان پہنچایا۔

    قلات پولیس کے سربراہ زاہد شاہ نے فون پر بتایا کہ ’دونوں گاڑیوں میں سیمنٹ لوڈ تھا فائرنگ سے ان کی ٹائروں کو نقصان پہنچا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کارروائی کی جس کی وجہ سے حملہ آور پہاڑوں کی جانب فرار ہوگئے۔‘

    ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا۔

    ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کوئٹہ کراچی شاہراہ پر چوتو کے مقام پر پل کو دھماکے سے جزوی طور پر نقصان پہنچا لیکن ٹریفک کی روانی متائثر نہیں ہوئی۔‘

  2. کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح افراد کی فائرنگ سے رینجرز اہلکار ہلاک: پولیس

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پونچھ ڈویژن کے ڈی آئی جی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک رینجرز اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گئے۔

    ڈی آئی جی کے ترجمان کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ ارکان نے رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑک کو بند کر رکھا ہے، جسے کھلوانے کے لیے ’کلیئرنس آپریشن‘ کیا جا رہا ہے۔

    پریس ریلیز کے مطابق سرساوہ تا تراڑ کھل سڑک پر کلیئرنس آپریشن کے دوران ’کالعدم کمیٹی کے سنائپر‘ نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں رینجرز کے سپاہی شاہ نواز سینے میں گولی لگنے سے ہلاک، جبکہ لانس نائک بلال کندھے پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے اس دعوے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جماعت جموں کشمیر جوائینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ’منگل اور بدھ کی درمیانی شب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے تراڑکھل کے قریب ان کی تنظیم کے کارکنان اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیے ہوئے تھے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان پر بلا اشتعال فائرنگ کی دی جس کے نتیجے میں ان کی تنظیم کا ایک کارکن ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے مظاہرین کی جانب سے مبینہ طور پر فائرنگ کے نتیجے میں رینجر کے ایک اہلکار کی ہلاکت سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کی خبر ان تک بھی پہنچی ہے لیکن وہ اس کی تصدیق نہیں کرسکتے۔‘

  3. پشاور میں پولیس چوکی کے قریب دھماکہ، دو اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی

    ریسکیو 1122 کے مطابق پشاور کے علاقے چمکنی میں ترناب فارم چوکی کے قریب نا معلوم افراد کی جانب سے بارودی مواد پھینکے جانے کے نتیجے میں دھماکہ ہوا، جس کے باعث ڈیوٹی پر موجود دو پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

  4. آبنائے ہرمز کھلی ہے، جلد بڑی کامیابی حاصل کریں گے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے اور ’گذشتہ رات ہم نے 22 کشتیاں وہاں سے نکالی ہیں۔‘

    ٹرمپ نے یہ انٹرویو امریکی مبصر اور سبسکرپشن سٹریمنگ نیٹ ورک بلیز میڈیا کے بانی گلین بیک کو دیا۔

    انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف کامیابی میں امریکی بحریہ، فوج اور ملک کی معاشی طاقت نے اہم کردار ادا کیا ہے اور امریکہ ’بہت بڑی فتح‘ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے وینزویلا میں بھی بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور ’یہاں بھی بہت جلد کامیابی حاصل ہو گی۔‘

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ ’بہت بری طرح زخمی ہوئے تھے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ وہ ہلاک ہوئے ہیں۔‘

  5. ’میرے اہلِ خانہ میری آنکھوں کے سامنے سیلاب میں بہہ گئے‘

    نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب سے متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ پانی کا ریلا اتنی تیزی سے آیا کہ لوگوں کو جان بچانے کا موقع ہی نہیں ملا۔

    نیپال کے ضلع نوواکوٹ سے تعلق رکھنے والی کلپنا ملا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے اہلِ خانہ ان کی آنکھوں کے سامنے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔

    ان کے مطابق ان کے والد، والدہ، بہن اور بہن کے بچے سب سیلاب کی نذر ہو گئے۔

    کلپنا ملا نے کہا: ’وہ سیلاب سے بچ کر نکل نہیں سکے، اس کا کوئی موقع ہی نہیں تھا۔ اس سیلاب نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا۔ میں اور میرا بیٹا ایک گھر کی چھت پر چڑھ گئے اور بچ گئے۔‘

    ان کے بیٹے سگم ملا نے بتایا کہ انھوں نے اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑ کر انھیں بچایا۔

    انھوں نے کہا: ’اس سے پہلے میں نے اپنا موبائل فون اپنی بہن کو دیا تھا تاکہ وہ مدد کے لیے رابطہ کر سکیں، لیکن اب ان سے رابطہ نہیں ہو رہا۔ ان کا فون بند ہے اور مجھے خوف ہے کہ شاید وہ بھی سیلاب میں بہہ گئی ہوں۔‘

    ایک اور متاثرہ خاتون گوما پنڈت نے بتایا کہ وہ اپنے مویشیوں اور زرعی زمین سے محروم ہو گئی ہیں۔

    دوسری جانب نیپال پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں اچانک آنے والے سیلاب کی شدت دیکھی جا سکتی ہے۔ حکام نے مقام کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم فوٹیج میں دریا کے کنارے ٹوٹتے اور پانی کے بلند ریلے آبادیوں کی جانب بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔

    پولیس نے سوشل میڈیا پر عوام سے ایک دوسرے کی مدد کرنے اور افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل بھی کی ہے۔

  6. نیپال میں سیلاب سے تباہی: 95 افراد ہلاک، انڈین شہریوں سمیت 403 سیاح لاپتہ

    نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 95 ہو گئی ہے، جبکہ 403 سیاح اب بھی لاپتہ ہیں۔

    نیپال ٹورازم بورڈ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ لاپتہ افراد میں 200 خواتین اور 203 مرد شامل ہیں۔ حکام کے مطابق غیر ملکی لاپتہ افراد کا تعلق 26 مختلف ممالک سے ہے۔

    ان میں انڈیا کے 133، امریکہ کے 47 اور برطانیہ کے 33 شہری شامل ہیں۔

    ٹورازم بورڈ کے مطابق بیشتر لاپتہ افراد مانسرووار کی جانب سفر کر رہے تھے، جو انڈیا اور نیپال کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

    دوسری جانب سیلابی ریلوں کی شدت سے دریائے تریشولی پر واقع متعدد پل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ تصدیق شدہ ویڈیوز کے مطابق بالائی علاقوں سے بہہ کر آنے والے ملبے نے دو الگ پلوں کو نشانہ بنایا۔

    بی بی سی ویریفائی کے مطابق گھاٹ بیسی پل، جو تریشولی قصبے سے تقریباً 27 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے، ایک دوسرے پل کے ملبے سے ٹکرانے کے بعد دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور بعد ازاں سیلابی پانی میں بہہ گیا۔

    ایک دوسری ویڈیو میں دھاڈنگ بیسی پل بھی شدید سیلابی ریلے کی زد میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ پل گھاٹ بیسی سے تقریباً چھ کلومیٹر مزید مغرب میں واقع ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیلاب اپنے ساتھ ایک تباہ شدہ پل کا ملبہ بھی لے کر آ رہا تھا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

    ایک دوسری ویڈیو میں دھاڈنگ بیسی پل بھی شدید سیلابی ریلے کی زد میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ پل گھاٹ بیسی سے تقریباً چھ کلومیٹر مزید مغرب میں واقع ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیلاب اپنے ساتھ ایک تباہ شدہ پل کا ملبہ بھی لے کر آ رہا تھا۔

  7. نیپال اور تبت کی سرحد پر سیلاب سے تباہی کے مناظر

  8. ایران جنگ پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنانے والے امریکی فضائیہ کے افسر کے خلاف کارروائی

    بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی فضائیہ کے ایک افسر کو ایران جنگ پر ٹرمپ کے خلاف تنقید پر کارروائی کا سامنا ہے۔

    سی بی ایس نیوز کے مطابق 40 سالہ میجر جیسن واٹسن کو حالیہ ہفتوں میں دو مرتبہ حراست میں لیا گیا۔ پہلی مرتبہ انھیں یکم جولائی کو اُس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ امریکی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہِل کے باہر وردی میں موجود تھے، ان کے ہاتھ میں ایک پلے کارڈ تھا جس پر لکھی تحریر میں ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    گذشتہ ہفتے انھیں دوبارہ حراست میں لیا گیا جب انھوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر ٹرمپ ’صرف ایک ناکام صدر ہی نہیں بلکہ وہ کھلے عام آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، قانون توڑ رہے ہیں، بد عنوانی میں ملوث ہیں اور امریکیوں کی جانیں لے رہے ہیں۔‘

    امریکی فضائیہ کے ترجمان نے منگل کو تصدیق کی کہ واٹسن پر آرٹیکل 88 کے تحت تین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں سرکاری عہدیداروں کے خلاف توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کا الزام بھی شامل ہے۔

    ان پر احکامات کی خلاف ورزی اور ایک افسر کے شایانِ شان طرزِ عمل نہ اپنانے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

    فضائیہ کا کہنا ہے کہ مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے تک واٹسن کو حراست میں رکھا جائے گا۔

    واٹسن کے وکلا کے مطابق وہ امریکی فوج کی تاریخ میں اپنے عہدے کے ایسے پہلے افسر ہیں جن پر آرٹیکل 88 کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

  9. سوشل میڈیا کی لَت کا کیس: فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے 17 ارب ڈالر میں تصفیہ کر لیا

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے امریکہ کی مختلف ریاستوں کی جانب سے دائر ان الزامات کے تصفیے پر اتفاق کر لیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ کمپنی نے اپنے پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا ہے کہ بچے ان کی لَت میں مبتلا ہو جائیں۔ الزامات میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کمپنی کی جانب سے صارفین کو ان کی حفاظت کے بارے میں گمراہ کیا گیا اور بچوں کا ذاتی ڈیٹا نا مناسب طریقے سے جمع کیا گیا۔

    تصفیے کے تحت میٹا زیادہ سے زیادہ 16.68 ارب ڈالر ادا کرے گی اور فیس بک اور انسٹاگرام میں کئی بڑی تبدیلیاں کی جائیں گی۔

    اس تصفیے کے بعد امریکہ کی 29 ریاستوں کی جانب سے دائر کیے گئے دعووں اور اس وفاقی مقدمے کا خاتمہ ہو جائے گا جسے سوشل میڈیا کمپنیوں پر نوجوان صارفین کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے حوالے سے اب تک کے نمایاں ترین مقدمات میں شمار کیا جا رہا تھا۔

    معاہدے کے مطابق میٹا بچوں کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کے روزانہ استعمال کی حد مقرر کرے گی، رات کے اوقات میں ان کے استعمال پر پابندیاں عائد کرے گی اور ایسے اقدامات مزید سخت کرے گی تاکہ کم عمر صارفین اس مواد تک رسائی حاصل نہ کر سکیں جو ان کی عمر کے لحاظ سے مناسب نہیں۔

    کیلیفورنیا کے شہر مینلو پارک میں قائم کمپنی میٹا نے تصفیے پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے کسی بھی غلط کام کے ارتکاب کی تردید کی ہے۔

    بدھ کے روز ہونے والے اس تصفیے میں کیلیفورنیا، الینوائے، نیو میکسیکو اور واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے کیمبرج اینالیٹیکا سکینڈل سے متعلق دائر مقدمات بھی شامل ہیں۔ اس سکینڈل میں مشاورتی فرم نے فیس بک کے لاکھوں صارفین کا ذاتی ڈیٹا حاصل کیا تھا۔ ان مقدمات کے تصفیے کے لیے مذکورہ ریاستوں کو مجموعی طور پر 45 کروڑ 93 لاکھ ڈالر ملیں گے۔

    یہ دعوے ان وسیع قانونی کارروائیوں کا حصہ ہیں جو مختلف ریاستوں، مقامی حکومتوں، سکولوں اور افراد کی جانب سے کی گئی ہیں۔ ان میں الزام لگایا گیا ہے کہ میٹا اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں نے نوجوانوں میں ذہنی صحت کے بحران کو ہوا دی۔

    کیلیفورنیا کے شہر آکلینڈ کی وفاقی عدالت میں چلنے والے مقدمے میں کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی کے یہ دعوے بھی شامل تھے کہ میٹا نے صارفین کے تحفظ سے متعلق ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کی۔

    مقدمے میں 29 ریاستوں کے وہ الزامات بھی شامل تھے جن کے مطابق میٹا نے بچوں کے آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے صارفین کا ذاتی ڈیٹا جمع کیا جن کے بارے میں کمپنی جانتی تھی کہ وہ بچے ہیں، اور والدین کو اطلاع دیے یا ان کی رضامندی لیے بغیر اس ڈیٹا کو مشین لرننگ اور جنریٹو اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔

    میٹا طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ وہ صارفین کو اپنی سروسز کی لَت کے بارے میں گمراہ نہیں کر سکتی تھی کیونکہ ’سوشل میڈیا کی لَت‘ باقاعدہ طور پر نفسیاتی بیماری تسلیم نہیں کی جاتی۔

    18 اگست کو مقدمے کے آغاز سے قبل میٹا نے کہا تھا کہ کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی مجموعی طور پر 14 کھرب ڈالر تک جرمانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ریاستوں نے عندیہ دیا تھا کہ اصل رقم تقریباً 200 ارب ڈالر کے قریب ہو گی۔

  10. نیپال میں سیلاب: 400 سیاح لاپتہ، ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی

    نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب کے بعد تقریباً 400 سیاحوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ حکام نے 18 ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔

    نیپال ٹورازم بورڈ (این ٹی بی) کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو حکمت سنگھ آئر نے بی بی سی نیپالی کو بتایا کہ لاپتہ افراد میں 291 غیر ملکی شامل ہیں۔ ان کے مطابق بیشتر سیاح تبت میں واقع مقدس مقام کیلاش مانسرووار جا رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ٹور آپریٹرز کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر اعداد و شمار مسلسل اپ ڈیٹ کیے جا رہے ہیں، کیونکہ لا پتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    لاپتہ افراد میں 100 سے زائد انڈین، 17 ملائیشین، 12 برطانوی اور چار جنوبی افریقی شہری ہیں، جبکہ امریکہ، آسٹریلیا اور نیدرلینڈز کے شہری بھی لاپتہ بتائے گئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر 25 منٹ تک 31 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی تھی۔

  11. اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی سے 14 نومولودوں کی ہلاکت، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    اسلام آباد میں واقع پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود ہلاک ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ بچوں کی نرسری میں لگی اور وہاں موجود نومولودوں کو نکالا نہ جا سکا۔

    نرسری اور اس سے ملحقہ بچوں کے وارڈ میں زیرِ علاج بچوں کے اہلِ خانہ کے مطابق جب صبح سویرے آگ لگنے کی اطلاع ملی تو ریسکیو سروسز کے پہنچنے سے پہلے وہی پہلے وہاں پہنچے تھے۔

    انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ایک نرس کی جانب سے پہلے بچے کو نکالے جانے کے بعد نرسری کے داخلی دروازے تک رسائی ممکن نہ رہی کیونکہ دروازہ یا تو جام ہو گیا تھا یا بند تھا۔ ان کے مطابق نرسری کے اندر موجود دیگر 14 بچوں کو باہر نہیں نکالا جا سکا۔

    ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نرسری کے اندر جانے کی کوشش کر رہے تھے ’لیکن دروازہ بند تھا اور دھواں اتنا زیادہ تھا کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔‘

    اسلام آباد فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ میں بھی سرکاری طور پر تصدیق کی ہے کہ دروازے بند تھے۔

    رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر پہنچنے والے اہلکاروں نے دیکھا کہ ’ہنگامی اخراج کے راستے مستقل طور پر باہر سے بند تھے یا ان میں رکاوٹیں موجود تھیں۔‘

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’آگ سے تحفظ اور جان بچانے کے انتظامات ناکافی تھے، یا معیار کے مطابق نہیں تھے۔‘

    ریسکیو اہلکاروں کو عمارت کی دیواریں توڑ کر اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ کر لاشوں اور زخمیوں کو باہر نکالتے ہوئے دیکھا گیا۔

    ہسپتال انتظامیہ نے تسلیم کیا ہے کہ بعض دروازے بند تھے جبکہ دیگر دروازوں پر ہسپتال کا سکیورٹی عملہ تعینات تھا۔

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے میڈیا کو بتایا کہ بچوں کے وارڈ کا ایک دروازہ اس لیے بند رکھا جاتا تھا کیونکہ حالیہ برسوں میں نومولودوں کے اغوا کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ نرسری کا دوسرا دروازہ مقفل نہیں تھا بلکہ وہاں سکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔

    فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے فائر بریگیڈ کے ابتدائی ردِعمل میں رکاوٹ پیدا کی۔‘

    رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی ممکنہ وجہ برقی شارٹ سرکٹ یا پلگ پر زائد بوجھ تھی۔ تاہم حکومت نے یہ جاننے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے کہ نرسری کے اندر موجود 14 بچوں کو کیوں نہیں بچایا جا سکا۔

    کمیٹی یہ بھی جائزہ لے گی کہ آیا بند دروازوں نے ابتدائی امدادی کارکنوں اور ریسکیو ٹیموں کو نرسری تک بر وقت پہنچنے سے روکا اور کیا اسی وجہ سے بچوں کو بچانے میں ناکامی ہوئی۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ کمیٹی اپنی رپورٹ 24 گھنٹوں کے اندر پیش کرے گی۔

  12. پمز آتشزدگی: سی ڈی اے رپورٹ میں ایمرجنسی راستوں کی بندش کا ذکر، حفاظتی انتظامات ناکافی قرار

    اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن نرسری وارڈ میں ہونے والی آتشزدگی کے بارے میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی فائر انسیڈنٹ رپورٹ میں لکھا کیا گیا ہے کہ ہسپتال میں آگ سے تحفظ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات ناکافی تھے اور معیار کے مطابق نہیں تھے۔

    رپورٹ میں درج مشاہدات کے مطابق ایمرجنسی اخراج کے راستوں کو باہر سے تالے لگا کر مستقل طور بند کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے فائر بریگیڈ کے ابتدائی ردعمل میں رکاوٹ پیدا کی۔

    اسسٹنٹ ڈائریکٹر فائر آپریشنز تشفین زمان آفریدی کی مرتب کردہ رپورٹ میں آگ لگنے کی ابتدائی اور ممکنہ وجہ برقی شارٹ سرکٹ یا پلگ پر زائد بوجھ قرار دی گئی ہے۔

    سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق واقعے کی اطلاع 26 اگست کو صبح چھ بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے ایک منٹ بعد فائر اور ریسکیو ٹیموں کو روانہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی ریسکیو ٹیم چھ منٹ کے اندر، صبح سات بج کر ایک منٹ پر، موقع پر پہنچ گئی تھی۔

    سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ 44 اہلکاروں اور چھ افسران نے ریسکیو کی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ اس آپریشن میں چھ فائر ٹینڈرز، چھ ایمبولینسز، ایک ریسکیو وین اور ایک واٹر باؤزر استعمال کیا گیا۔

  13. پمز ہسپتال آتشزدگی، مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ہوا، اس کا احتساب ہو گا: وزیر صحت

    وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جو بھی غفلت یا کوتاہی کا مرتکب پایا گیا، ’اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔‘

    ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ’احتساب سب کے لیے ہو گا‘ اور انھوں نے خود اپنے آپ کو بھی احتساب کے لیے وزیرِ اعظم کے سامنے پیش کیا ہے۔

    وزیرِ صحت کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایک چنگاری اٹھی، جو نرسوں کے بقول ممکنہ طور پر ایئرکنڈیشنر (اے سی) کے اندر سے نکلی۔ انھوں نے کہا کہ شعلہ زمین پر گرا اور واقعے کی ویڈیو بھی دستیاب ہے۔

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چھ بج کر 39 منٹ پر لوگ وارڈ سے نکلنا شروع ہوئے۔ اُس وقت وہاں دو ڈاکٹرز اور دو انچارج نرسیں موجود تھیں۔ فوٹیج کے مطابق چند افراد مدد طلب کرنے کے لیے دوڑے، تاہم ایک منٹ بعد پورا کمرہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔

    میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ مختلف ماہرین اور ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ حکومت بھی اپنی سطح پر انکوائری کر رہی ہے۔ ان کے بقول وزیرِ اعظم نے بھی تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے ہیں اور تمام شواہد منظرِ عام پر لائے جائیں گے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وارڈ میں موجود 15 بچوں میں سے 14 آکسیجن پر تھے اور انھیں ٹیوب کے ذریعے آکسیجن دی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر آکسیجن نے آگ کو بھڑکانے میں کردار ادا کیا۔

    وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ ایک حادثہ ہے، تاہم اگر کسی شخص نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

    اسلام آباد کی فائر سیفٹی اتھارٹی کی جانب سے گذشتہ برسوں کے دوران جاری کیے گئے نوٹسز کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق جب بھی نوٹس موصول ہوئے، ان پر عمل درآمد کی پوری کوشش کی گئی۔

    وزیرِ صحت نے بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے 26 فائر ایکسٹنگوئشر استعمال کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہسپتال میں سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا (جس سے پانی کا چھڑکاؤ کر کے آگ بجھائی جا سکے) اور آگ بجھانے کے لیے سلنڈرز استعمال کیے جاتے تھے۔

    اخراجی راستوں کے بند ہونے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ چند برس قبل نومولود بچوں کے اغوا کے واقعات پیش آنے کے بعد ایک دروازہ بند کر دیا گیا تھا، جبکہ دوسرے دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے اور اس پر 24 گھنٹے ایک سکیورٹی گارڈ تعینات رہتا ہے جو آنے اور جانے والے افراد کی جانچ پڑتال کے بعد خود دروازہ کھولتا اور بند کرتا ہے۔

    وزیرِ صحت سے سوال کیا گیا کہ کیا سانحے کے بعد وہ مستعفی ہوں گے؟ اس پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ اس معاملے پر جتنا کہہ سکتے تھے، کہہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے سربراہ وزیرِ اعظم پاکستان ہیں اور وہ ان کی ہدایات کے مطابق ہی بات کر سکتے ہیں، جبکہ مزید تفصیلات وقت آنے پر سامنے آ جائیں گی۔

    مصطفیٰ کمال نے توقع ظاہر کی کہ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ آئندہ دو سے تین روز میں سامنے آ جانی چاہیے۔

  14. نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب سے کم از کم 17 افراد ہلاک, پھانندرا داہال (کھٹمنڈو) اور لورا بِکر (بیجنگ)

    پولیس کے مطابق نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ کئی دیہات میں سڑکوں سمیت بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔

    سیلاب بدھ کی صبح سویرے نیپال کے دار الحکومت کٹھمنڈو کے شمال میں واقع ضلع رسووا میں آیا۔ اطلاعات کے مطابق برف کا غیر معمولی رفتار سے پگھل کر بھوٹے کوشی دریا میں شامل ہونا سیلاب کا سبب بنا۔

    تبت اور نیپال کی سرحد کے دونوں جانب سرچ آپریشن جاری ہیں اور اب تک 12 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

    چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تبت میں جانی نقصان بہت زیادہ ہوا ہے، جبکہ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ’بڑے پیمانے پر نقصان‘ کا خدشہ ہے۔

  15. ہمارا مقصد مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل ہے: ایرانی صدر پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ’ہمارا مقصدر باہمی مفاہمت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا ہے۔‘

    انھوں نے یہ بات مرکزی بینک کے دورے کے دوران کہی۔ ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا: ’ ہم اقتصادی دباؤ کے مقابلے میں جس طرح اب تک ڈٹے رہے ہیں، اسی طرح آئندہ بھی مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔‘

    صدر مسعود پزشکیان کے بقول: ’امریکہ، جس طرح جنگ میں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکا، اسی طرح اقتصادی دباؤ کے ذریعے بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔‘

    ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے گذشتہ چند دنوں سے سفارتی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان ایک نئے معاہدے کے بارے میں نئی قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

    اس سے قبل ایرانی صدر کے دفتر کے نائب برائے روابط و اطلاعات، مہدی طباطبائی نے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران کے دورے کو ’بہت نتیجہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس دورے کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔‘

    ایران میں بعض حلقے مسعود پزشکیان کی حکومت اور مذاکراتی ٹیم کو امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے باعث تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم مسعود پزشکیان گذشتہ کئی دنوں کے دوران بارہا اس مفاہمت کا دفاع کر چکے ہیں، جبکہ ایران کے بعض عہدیداروں نے مذاکرات اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو امریکہ کی جانب سے مفاہمتی معاہدے میں واپسی سے مشروط کیا ہے۔

  16. 14 بچوں کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں: طلال چوہدری

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی سے ہلاک ہونے والے تمام 14 بچوں کی میتیں ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

    ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ابتدائی ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح انکوائری ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن کے بعد تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ مرتب کرے گی۔ اس عمل کے نتیجے میں ’ذمہ داروں کے تعین، جزا و سزا کے مراحل اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے طریقۂ کار تجویز کیا جائے گا۔‘

    میڈیا سے گفتگو میں وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں تمام شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر متعلقہ معلومات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے بقول ’ان سوالات کے بھی جواب تلاش کیے جائیں گے کہ ایمرجنسی کے دروازے کیوں بند تھے، حادثے کے وقت کتنے ڈاکٹر موجود تھے اور کتنے ڈاکٹروں اور نرسوں نے ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل دیا۔‘

    طلال چوہدری نے اس تاثر کی تردید کی کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں تاخیر سے پہنچیں۔ انھوں نے کہا کہ ’کنٹرول روم میں کال موصول ہونے کے چھ منٹ بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود تھیں‘ جبکہ اس کے چند منٹ بعد انتظامیہ کے حکام بھی پہنچ گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو اہلکاروں نے مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں سات بچوں سمیت 19 افراد کو بچا لیا گیا۔

  17. پمز میں آتشزدگی: بی بی سی نے کیا دیکھا؟

    اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی نرسری میں ہونے والی آتشزدگی کے نتیجے میں 14 بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔ بی بی سی نے پمز ہسپتال دورہ کیا اور وہاں موجود عینی شاہدین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے وہاں کیا دیکھا۔

  18. پمز میں آتشزدگی، امدادی کارکنوں نے ردعمل میں تاخیر کی: عینی شاہدین

    وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ امدادی کارکنوں نے ردعمل میں تاخیر کی۔

    ایک عینی شاہد خرم محمود نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انھوں نے آتشزدگی میں اپنی تین دن کی بیٹی کو کھو دیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ امدادی کارکنوں کو پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ گئے: ’ہم مدد کے انتظار میں سڑک پر بیٹھے تھے۔‘

    ایک اور عینی شاہد عبدالغفور نے اسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ آگ ’بہت تیزی سے‘ پھیلی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ وہ مریضوں کو بچانے میں مدد کی غرض سے ہسپتال کے اندر گئے، لیکن زچگی وارڈ تک نہیں پہنچ سکے: ’اندر گھنا سیاہ دھواں تھا اور مریض پھنسے ہوئے تھے، امدادی ٹیمیں تقریباً دو گھنٹے بعد پہنچیں۔‘

  19. پمز آتشزدگی میں 14 نومولود ہلاک: اب تک ہم جانتے ہیں؟

    اسلام آباد میں واقع پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ صبح چھ بجے سے ساڑھے چھ بجے کے درمیان لگی تھی۔

    • یہ آگ اسلام آباد میں واقع پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے زچہ و بچہ وارڈ میں لگی۔ اطلاعات کے مطابق آگ ایک ایئر کنڈیشننگ یونٹ سے شروع ہوئی اور وارڈ میں آکسیجن کی لائنوں کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔
    • ہسپتال کے ترجمان کے مطابق آگ لگنے کے وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو زندہ بچایا جا سکا ہے۔
    • وفاقی سیکریٹری صحت کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جسے 24 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے پر ’گہرے دُکھ اور دلی افسوس‘ کا اظہار کیا ہے۔
    • غم سے نڈھال والدین ہسپتال کے باہر جمع ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے جائیں گے۔
    • ہسپتال میں سوگ اور صدمے کی کیفیت ہے، اور عملہ اور لواحقین اس افسوسناک واقعے کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    • پاکستان میں ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، جن کی وجہ اکثر عمارتوں میں حفاظتی قوانین پر ناقص عملدرآمد کو قرار دیا گیا۔ رواں سال کے آغاز میں کراچی کے ایک شاپنگ سینٹر میں لگنے والی آگ سے 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
    • ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین اور لواحقین نے بچوں کے وارڈ میں ناقص انتظامات کے دعوے کیے ہیں جنھیں پمز انتظامیہ نے مسترد کیا ہے۔
  20. کوئٹہ سے ٹرین سروس آج دوسرے روز بھی معطل, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ سے ٹرین سروس آج بدھ کو مسلسل دوسرے روز بھی معطل رہی۔

    کوئٹہ میں پاکستان ریلوے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث ٹرین سروس کو منگل سے دو روز کے لیے معطل کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ نواب اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

    رواں ماہ بھی سکیورٹی خدشات کے باعث جعفر ایکسپریس کی سروس دو سے تین مرتبہ معطل کی جا چکی ہے۔

    جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور تک روزانہ چلنے والی واحد ٹرین ہے۔ یہ سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے پشاور پہنچتی ہے، جس کے باعث کم آمدنی والے اور غریب طبقے کے مسافروں کے لیے سفر کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔

    ٹرین سروس کی معطلی سے مسافروں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔