امریکہ میں مرکزی
انسپکٹر جنرل کی طرف سے کانگریس کے لیے تیار کردہ ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں
ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان اور
ہلاکتوں کی تفصیل بتائی گئی ہے اور جنگ کے دوران گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا اعتراف
کیا گیا ہے۔
یہ رپورٹ امریکی محکمۂ دفاع کے
انسپکٹر جنرل کی سربراہی میں تیار کی گئی ہے، جنھیں 12 مئی 2026 کو ’لیڈ انسپکٹر
جنرل‘ نامزد کیا گیا تھا۔ اس میں 30 جون 2026 تک کی صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی
جنگ، جسے آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا گیا تھا، کے دوران گولہ بارود کے استعمال
کے نتیجے میں امریکی فوج کے ذخائر میں کمی ہوئی اور ان کی دوبارہ فراہمی کے لیے پیداواری
صلاحیت میں حائل رکاوٹیں بھی سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اسلحہ سازی
کی صنعت میں کئی مستقل رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں سالڈ راکٹ موٹروں کی تیاری،
جدید دھماکہ خیز مواد اور پروپیلنٹس کی دستیابی، اور ہنرمند افرادی قوت کی کمی
شامل ہیں۔
محکمۂ دفاع میں اسلحہ کی خریداری اور رسد کی نگرانی کرنے والے
دفتر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے خاصا وقت درکار
ہو گا۔
آپریشن ایپک فیوری سے متعلق کانگریس
کو پیش کی گئی لیڈ انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 جون 2026 کے
درمیان 11 امریکی فوجی جنگی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے جبکہ سات دیگر غیر جنگی
واقعات میں جان سے گئے۔ اسی عرصے کے دوران 417 امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے۔
رپورٹ میں امریکی فوج کی مرکزی کمان
(سینٹکام) سے منسوب یہ بیان بھی درج کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں
کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی
فوجی اڈوں پر موجود سینکڑوں عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو
گئیں۔
رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران
درجنوں امریکی طیارے تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ چار
ایف۔15ای لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، جن میں سے تین اپنی ہی فورسز کی فائرنگ جبکہ ایک
دشمن کی فائرنگ کی زد میں آیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک ایف۔35اے لڑاکا
طیارے کو ایران کے اوپر پرواز کے دوران دشمن کی فائرنگ سے نقصان پہنچا، جبکہ ایک
اے۔10 طیارہ جنگی تلاش و امداد مشن سے واپسی پر نقصان کے باعث تباہ
کر دیا گیا۔
اسی طرح کے سی۔135 ایندھن بردار
طیاروں میں سے سات تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔ ان میں ایک طیارہ عراق کی فضائی
حدود میں تصادم کے نتیجے میں تباہ ہوا، ایک کو نقصان پہنچا جبکہ پانچ طیارے سعودی
عرب میں ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی
نگرانی کرنے والے ایک ای۔3 طیارے کو سعودی عرب میں ایرانی حملوں سے نقصان پہنچا،
جبکہ ایک ایچ ایچ۔60ڈبلیو ہیلی کاپٹر جنگی تلاش و امداد کی کارروائیوں کے دوران
متاثر ہوا۔
دستاویز کے مطابق ایک ایم کیو۔4سی بغیر
پائلٹ طیارہ گر کر تباہ ہوا، جبکہ چار اے ایچ۔6 ہیلی کاپٹرز کو اس نوعیت کا نقصان
پہنچا کہ امریکی فورسز نے انھیں خود ہی تباہ کر دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک
اے ایچ۔64 ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے اوپر مار گرایا گیا اور ایک ایم ایچ۔60 ہیلی
کاپٹر بحیرۂ عرب میں گر کر تباہ ہوا۔
اس
کے علاوہ 30 ایم کیو-9 طرز کے نگرانی اور
حملہ آور ڈرونز کے تباہ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔