یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
16 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے بتایا کہ پاناما کے پرچم بردار ٹینکر 'ال گایا' کا رخ منگل کے روز عمان کی ایک بندرگاہ کی جانب تھا۔ عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے بتایا کہ پاناما کے پرچم بردار ٹینکر 'ال گایا' کا رخ منگل کے روز عمان کی ایک بندرگاہ کی جانب تھا۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
16 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوامِ متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دی جائے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے مزید سینکڑوں لاشیں نکالی گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ٹرک نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے گھروں پر بمباری کے طویل عرصے بعد ملنے والی ان باقیات (جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں) سے اشارہ ملتا ہے کہ جنگی جرائم ہوئے ہوں گے۔
وولکر ٹرک نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی زیرِ کنٹرول علاقوں کو بلڈوزروں کے ذریعے زمین بوس کیا جا رہا ہے اور اس دوران ہلاک شدگان کی لاشوں کا احترام نہیں کیا جا رہا ہے۔
اُنھوں نے متاثرین کی شناخت، فارنزک شواہد کو محفوظ کرنے، تدفین کے مقامات کا اندراج کرنے اور لواحقین کو مطلع کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے پر زور دیا۔
حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
حماس نے سات اکتوبر 2023 کو کیے گئے ایک حملے میں تقریباً 1200 افراد کو ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا تھا، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عمان نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر حملے کے بعد دو ملاح لاپتہ ہیں پر 23 دیگر کو بچا لیا گیا ہے۔
عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے بتایا کہ پاناما کے پرچم بردار ٹینکر ’ال گایا‘ کا رخ منگل کے روز عمان کی ایک بندرگاہ کی جانب تھا۔
اس ٹینکر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس کے انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی۔ مرکز کے مطابق جہاز کو مسندم جزیرہ نما کے شمال میں 1.3 ناٹیکل میل (2.4 کلومیٹر) کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔
پیر کے روز پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ ٹینکر ایک ایسے راستے سے گزرتے ہوئے بحری بارودی سرنگوں کی زد میں آیا اور اس میں آگ لگ گئی جسے اُنھوں نے ’ممنوعہ اور غیر محفوظ‘ قرار دیا تھا۔
تاہم امریکی فوج نے ایران کی اس رپورٹ کو جھوٹا قرار دیا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس ٹینکر کو گذشتہ ماہ ایک ایرانی میزائل اور پھر ہفتے کے آخر میں ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ خلیجِ فارس کے خطے میں جوابی حملے، امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ ختم کرنے کی امن کوششوں پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔
اُنھوں نے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انقرہ اپنے پڑوسی ملک ایران کے استحکام کو اہمیت دیتا ہے۔
منگل کو باکو میں اپنے آذربائیجانی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خاقان فیدان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے بلا رکاوٹ آمدورفت کی اجازت ہونی چاہیے اور جنگ سے قبل کی صورتحال بحال کی جانی چاہیے۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ انقرہ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے شپنگ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً تین ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا۔
یہ اضافہ بحیرہ احمر میں واقع سعودی عرب کی بندرگاہ ’ینبع‘ پر تیل کی لوڈنگ روک دیے جانے کی اطلاعات کے بعد دیکھنے میں آیا۔
دریں اثنا، اطلاعات کے مطابق ریاض نے یورپی خریداروں کو مطلع کیا ہے کہ اس نے ستمبر کے آخر میں ہونے والی خام تیل کی ترسیل منسوخ کر دی ہے۔
سعودی عرب نے تین روز قبل ہونے والے ڈرون حملے کے بعد ’ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن‘ کے ذریعے تیل کی ترسیل روک دی تھی۔ سعودی عرب نے اس حملے کا ذمہ دار عراق کو ٹھہرایا تھا۔
یہ پائپ لائن سعودی عرب کو اس قابل بناتی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر ینبع تک اور وہاں سے نہرِ سوئز کے ذریعے (باب المندب سے گزرے بغیر) یورپ تک تیل پہنچا سکے۔
اب، ایران کے اتحادی حوثی باغیوں کی حالیہ پیش قدمی اور باب المندب پر ان کے قبضے کے بعد سعودی عرب کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
سعودی عرب کی تیل کمپنی ’سعودی آرامکو‘ جس نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ینبع ٹرمینل کا استعمال بڑھا دیا تھا نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
لیبیا نے بھی تیل کے تین فیلڈز (کنوؤں) میں آپریشن روک دیا ہے، جس سے تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت چار روپے 10 پیسے اضافے کے ساتھ 384 روپے 34 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت چھ روپے 41 پیسے اضافے کے بعد 415 روپے 83 پیسے ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی یہ قیمتیں 16 ستمبر کے لیے ہوں گی۔
گذشتہ چند روز کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ نے افغان شہریوں کے پاکستان میں میڈیکل، ڈینٹل تعلیم اور پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ جاری رکھنے سے متعلق آئینی درخواستوں کو خارج کر دیا ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس محمد عامر نواز رانا اور جسٹس عبدالقیوم لہڑی پر مشتمل بینچ نے افغان طلبہ کی دو درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ریاستی پالیسی کو برقرار رکھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ غیر ملکی شہری پاکستان میں قیام، تعلیم یا تربیت کا ایسا مستقل حق نہیں رکھتے جو ریاستی پالیسی کے خلاف ہو۔
عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے افغان شہریوں کی میڈیکل اداروں میں داخلے، منتقلی اور سہولت کاری سے متعلق جاری ہدایات میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’امیگریشن، غیر ملکی شہریوں کی واپسی اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات بنیادی طور پر انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں ہیں۔‘
عدالت نے واضح کیا کہ ’افغان شہریوں کے ساتھ انسانی وقار، انصاف اور قانون کے مطابق سلوک لازم ہے، تاہم اس بنیاد پر پاکستان میں قیام یا تعلیم جاری رکھنے کا مستقل حق پیدا نہیں ہوتا۔‘
عدالت نے درخواست کو ابتدائی مرحلے پر خارج کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو اپنی شکایات کے ازالے کے لیے افغانستان کے سفارتخانے سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔

،تصویر کا ذریعہInstagram/@chaipapa_podcast
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی میں منگل کو کاروباری معاملات، سی سی ٹی وی فوٹیج، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد، پولیس کی تفتیش اور پوسٹ مارٹم سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن کے سامنے میر رضا کے کاروبار سے وابستہ افراد نے بیانات قلم بند کرائے جبکہ ووفلکس کے مینیجر شہریار عرف شیری نے میر رضا کی گمشدگی، سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کی تفتیش سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔
سرمایہ کاری اور کاروباری معاملات
کمیشن کے سامنے اسد علی بٹ نے بتایا کہ وہ ایڈورٹائزنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں اور کرپٹو کرنسی میں ان کی کوئی سرمایہ کاری نہیں تھی۔
ان کے مطابق پبلک سپیکنگ کے دوران ان کی ملاقات میر رضا سے ہوئی تھی۔
اسد علی بٹ نے بتایا کہ میر رضا نے انھیں آگاہ کیا تھا کہ وہ احمد بھاردے کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں اور بعد ازاں انھوں نے اپنے کاروبار میں سرمایہ کاری کے لیے لوگوں کو دعوت دینا شروع کی۔
ان کا کہنا تھا کہ میر رضا کو اس بات کا علم تھا کہ سرمایہ کاری کی رقم کس مقصد کے لیے استعمال ہو گی اور انھوں نے مشورہ دیا تھا کہ اس ضمن میں باقاعدہ دستاویزات ہونی چاہییں۔
اسد علی بٹ کے مطابق انھوں نے ایک معاہدے کے تحت 25 لاکھ روپے سرمایہ کاری کی تھی اور انھیں 40 لاکھ روپے واپس ملنے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ میر رضا نے انھیں دو مرتبہ ادائیگی کی اور ہر دو ماہ بعد رقم دی جاتی تھی۔
ان کے مطابق ادائیگی میں تاخیر ہونے پر ان کی والدہ نے میر رضا سے رابطہ کیا تھا، جس پر میر رضا نے ادائیگی کی یقین دہانی کروائی تھی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں کیا دیکھا گیا؟
ووفلکس کے مینیجر شہریار عرف شیری نے کمیشن کو بتایا کہ انھوں نے کبھی میر رضا کو کسی وینڈر، قرض خواہ یا سرمایہ کار کے ساتھ جھگڑتے نہیں دیکھا۔
شیری کے مطابق 28 جولائی کی صبح تقریباً چار بجے احمد کی کال کے ذریعے انھیں میر رضا کی گمشدگی کا علم ہوا۔
کمیشن کی جانب سے پوچھا گیا کہ دکان کی سی سی ٹی وی فوٹیج کیسے حاصل کی گئی؟
اس پر شیری نے بتایا کہ انھوں نے نعمان نامی شخص سے رابطہ کیا تھا جس نے کیمرے نصب کیے تھے۔
ان کے مطابق فوٹیج میں دیکھا گیا کہ دکان بند ہونے کے تقریباً 15 منٹ بعد میر رضا دوبارہ واپس آئے، سکیورٹی گارڈ کا پستول گاڑی میں رکھا اور وہاں سے چلے گئے۔
پولیس کے رویے پر اعتراضات
شیری نے کمیشن کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور انہیں گالیاں دیں۔
ان کے مطابق انہیں میر رضا کے حق میں ہونے والے احتجاج میں شرکت اور خاندان سے ملاقات کرنے سے بھی روکا گیا۔
شیری نے بتایا کہ دوسری تحقیقاتی ٹیم نے ان سے میر رضا کی ذہنی حالت، قرض داروں، منشیات کے استعمال اور خاندان سے متعلق ذاتی نوعیت کے سوالات کیے۔
ان کے مطابق تفتیش کاروں نے بار بار پوچھا کہ کیا میر رضا منشیات استعمال کرتے تھے۔
شیری کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے جواب دیا کہ میر رضا منشیات استعمال نہیں کرتے تھے تو تفتیش کار ناراض ہو گئے اور اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے۔
لاش کی شناخت میں مشکلات
گلستانِ جوہر تھانے کے ایس ایچ او ذیشان حیدر نے کمیشن کو بتایا کہ پولیس نے اپنی سطح پر معلومات حاصل کی تھیں۔
ان کے مطابق جب لاش کو نیچے ایمبولینس میں منتقل کیا گیا تو تلاش ایپ کا آپریٹر بھی موقع پر پہنچ گیا۔
انھوں نے بتایا کہ میر رضا کا بایاں ہاتھ شدید سوجا ہوا تھا، جلد گل چکی تھی جبکہ دائیں ہاتھ کی انگلیوں کا رنگ جامنی پڑ چکا تھا۔
ایس ایچ او کے مطابق تلاش ایپ کے آپریٹر عارف نے پانچ سے سات منٹ تک شناخت کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد انھوں نے ہاتھوں کی تصاویر حاصل کیں۔
ڈاکٹر اسامہ پر کمیشن کی برہمی
سماعت کے دوران میر رضا کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مقتول کا خاندان چاہتا ہے کہ ان کی ٹائم لائن بھی کمیشن کے سامنے سنی جائے۔
اس پر کمیشن نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایک کے بعد ایک جھوٹ بولتے رہے ہیں۔‘
کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے کہا کہ ان کی کوشش تھی کہ ایک سینئر پولیس سرجن کو قربانی کا بکرہ بنایا جائے اور یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر ڈاکٹر سمعیہ کے خلاف ان کے نام سے پوسٹس چل رہی ہیں۔
کمیشن نے بتایا کہ اس نے ڈاکٹر اسامہ اور ڈاکٹر سمعیہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کے سکرین شاٹس بھی دیکھے ہیں۔
جواب میں ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ ان کے پاس بھی سکرین شاٹس موجود ہیں۔

موبائل فونز اور شواہد کا معاملہ
ڈاکٹر اسامہ نے کمیشن کو بتایا کہ 19 اگست کو پولیس نے ان کا موبائل فون لے لیا تھا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ جب انھیں پہلے طلب کیا گیا تھا تو اس وقت یہ بات کیوں نہیں بتائی گئی؟
کمیشن نے انھیں ہدایت کی کہ اگر وہ اس معاملے پر کچھ کہنا چاہتے ہیں تو باقاعدہ درخواست دیں۔
اس موقع پر میر رضا کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ تمام گواہوں کے موبائل فون پولیس نے پاس ورڈز سمیت اپنے قبضے میں لیے۔
ان کا کہنا تھا کہ نہ تو فونز کو سیل کیا گیا اور نہ ہی ان کی تحویل کے حوالے سے کوئی میمو تیار کیا گیا۔
حساس ادارے کے نام پر کال کا دعویٰ
سماعت کے دوران جبران ناصر نے ایک اور معاملہ کمیشن کے سامنے اٹھایا۔
ان کے مطابق گذشتہ رات میر رضا کے والد کو ایک فون کال موصول ہوئی، جس میں کال کرنے والے نے اپنا تعارف ایک حساس ادارے سے منسلک شخص کے طور پر کروایا۔
جبران ناصر کے مطابق کال کرنے والے نے میر رضا کے والد سے کہا کہ ’ایس ایچ او عدیل افضال ان کا بچہ ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ کال کرنے والے نے والد سے یہ بھی پوچھا کہ آیا انھیں آصف، عابد، احمد یا عبداللہ میں سے کسی پر شک ہے۔
جبران ناصر کے مطابق جب والد نے کسی پر شک کا اظہار نہیں کیا تو کال کرنے والا برہم ہو گیا۔
انھوں نے کمیشن کو بتایا کہ فون کال کی ریکارڈنگ اور اس سے متعلق سکرین شاٹس رجسٹرار کے پاس جمع کرا دیے گئے ہیں۔
کاروباری شراکت دار کو نوٹس
سماعت کے اختتام پر کمیشن نے میر رضا کے کاروباری شراکت دار احمد بھاردے کو 17 ستمبر کو طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں مزید کارروائی کے لیے سماعت ملتوی کر دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے کہا ہے کہ ’یمن میں ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد سمندری راستے سے جبوتی فرار ہوئے ہیں۔‘
ادارے کے مطابق یمن میں متاثرہ افراد تک انسانی امداد پہنچانے میں اب بھی بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ سکیورٹی کی خراب صورتحال، تباہ شدہ سڑکوں، مواصلاتی نظام میں خلل اور آمدورفت پر پابندیوں کے باعث امدادی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
یمن میں حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے شہروں اور توانائی کی تنصیبات پر حملے تیز کر دیے ہیں اور آبنائے باب المندب پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
دوسری جانب سعودی فضائیہ حوثیوں کے زیرِکنٹرول علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے قاہرہ میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی اور دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتِ حال پر بات چیت کی۔
مصر کے صدارتی دفتر کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت کی آزادی اور سکیورٹی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
صدارتی دفتر کے مطابق مصر نے سعودی عرب کی جانب سے اپنے ملک کی سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کی اور یمن کے بحران کے جامع اور پائیدار سیاسی حل کے لیے کوششوں کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
گزشتہ ہفتے ایران کے اتحادی حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مشرقی ساحل اور باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہونے کے بعد باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
فرانس کی درخواست پر باب المندب کی صورتِ حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج نیویارک میں ہوگا۔
سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے حملوں کا ’فیصلہ کن‘ جواب دے گا۔

،تصویر کا ذریعہIRNA
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’امریکی اور اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد 200 راتوں تک ایرانی عوام کی سڑکوں پر موجودگی نے ثابت کر دیا کہ شکست ایرانی قوم کے عزم کی نہیں بلکہ جارح قوت کے اندازوں کی ہوئی ہے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عوام کے نام پیغام میں قالیباف نے کہا کہ ’دشمن نے سوچا تھا کہ فوجی جارحیت کے ذریعے ایرانی عوام کے حوصلے توڑے جا سکتے ہیں، لیکن عوام کے بلند ہمت اور حوصلے نے ثابت کیا کہ اسلامی جمہوریہ کی طاقت کا بنیادی ذریعہ ایرانی قوم ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایران کی دفاعی صلاحیتیں عوام کے ایمان اور عزم سے جڑی ہیں، جبکہ ملک کی سفارتی کوششوں کو بھی عوام کی حمایت حاصل ہے۔‘ ان کے مطابق عوام کی مزاحمت نے ایران کو تقسیم اور کمزور کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا۔
قالیباف نے کہا کہ ’اختلافات اور دباؤ نو کروڑ ایرانیوں کے اپنے ملک اور قومی مفادات کے ساتھ گہرے تعلق کو کمزور نہیں کر سکتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایرانی انقلاب، ’مقدس دفاع‘ اور حالیہ جنگوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ دشمنوں کے خلاف ایران کی کامیابی کی بنیادی وجہ عوام کی مزاحمت رہی ہے۔‘
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔ ایران کے مطابق اس دوران اسلامی انقلاب کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا جبکہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک سکول کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں متعدد کم عمر طلبہ ہلاک ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطر نے اہم بحری گزرگاہ باب المندب کی بندش کے ممکنہ سنگین نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے عہدیدار ابراہیم ہاشمی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا پہلے ہی آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے دوچار ہے، اس لیے باب المندب کو بھی اس صورتحال میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بحیرۂ احمر کے جنوبی راستے کی بندش پوری دنیا کے لیے ’تباہ کن‘ ہو گی اور اس کے اثرات پہلے ہی نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق قطر اس صورتحال کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیتا ہے۔
حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مشرقی ساحل اور باب المندب پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس کے بعد خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ وہ نہرِ سویز تک بحری رسائی روک سکتے ہیں۔
باب المندب پر قبضے کے بعد حوثیوں نے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ ’باب المندب تمام بحری جہازوں کے لیے کھلا رہے گا، تاہم سعودی بحری جہاز اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔‘
آبنائے باب المندب کتنی اہم ہے؟

آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔
بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔
115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے سنہ 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔
بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے جبکہ اندازوں کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش مزید 12 فیصد عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل، جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور مغرب کی جانب جاتا ہے، اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔
مزید یہ کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے بعد، بحیرہ احمر نے عالمی تجارت میں مزید اہمیت حاصل کر لی ہے۔
خام تیل اور گیس کے علاوہ، باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان مرکزی تجارتی رابطے کا حصہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ درجنوں کارگو جہاز گزرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی 16 ستمبر کو چین کا دورہ کریں گے۔
چین کی وزارت خارجہ نے اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ اپنے دورے کے درمیان اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔
ایران کے وزیر خارجہ کے چین کے دورے کی تصدیق ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دو دن قبل نئی دہلی میں برکس کے اجلاس میں شرکت کے دوران مشرق وسطیٰ میں ’امن‘ کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’چینی برکس کے دیگر اراکین کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن کے حصول اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک اور جدید امریکی ایم کیو-1 ڈرون مار گرایا ہے، جس کے بعد رواں ہفتے مار گرائے جانے والے امریکی ڈرونز کی تعداد چار ہو گئی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ’اس کی ایرو سپیس فورس کے نئے جدید فضائی دفاعی نظام نے، جو ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے زیرِ کنٹرول ہے، آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایرانی فضائی حدود میں ایک ایم کیو-1 ڈرون کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور اسے تباہ کر دیا۔‘
یہ اعلان اس سے چند گھنٹے بعد کیا گیا کہ جب پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے بتایا تھا کہ اسی دفاعی نظام کے ذریعے منگل کی صبح آبنائے ہرمز کے مغرب میں ایک اور امریکی ڈرون مار گرایا گیا۔
بیان کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران ایران کے مربوط فضائی دفاعی نظام نے ملک کی فضائی حدود میں چار ایم کیو-1 ڈرونز تباہ کیے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے ایرانی فضائی دفاعی فورسز نے سینکڑوں ’درانداز ڈرونز‘ اور دیگر دشمن طیارے مار گرائے ہیں، جن میں لوکاس، ہرمس، ایم کیو-1 اور ایم کیو-9 طرز کے ڈرونز شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آبنائے ہرمز میں پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایل گایا کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کے بعد اس کے انجن روم میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں جہاز پر سوار عملے کے 23 افراد کو نکال لیا گیا جبکہ دو افراد لاپتہ ہیں۔
عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے مطابق ٹینکر کو عمان کی بحری حدود میں مسندم جزیرے سے تقریباً 103 ناٹیکل میل شمال مشرق میں نشانہ بنایا گیا۔ آگ لگنے کے بعد ٹینکر کو عمانی بندرگاہ کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔
مرکز کے مطابق عمانی بحریہ کے ایک جہاز نے ٹینکر کے عملے کے 23 ارکان کو نکال لیا۔
اس سے قبل برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے بتایا تھا کہ پیر کی شب آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس واقعے میں کسی نقصان یا ماحولیاتی اثرات کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے حملوں کا ’فیصلہ کن‘ جواب دیا جائے گا۔
حوثیوں کے حالیہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں سعودی عرب میں 13 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کے اتحادی حوثیوں نے بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد بحیرۂ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔
گزشتہ ہفتے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مشرقی ساحل اور باب المندب پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہونے کے بعد باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب فرانس کی درخواست پر باب المندب کی صورتِ حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج نیویارک میں طلب کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انھیں امید ہے کہ پیٹرول کے پہلے اور دوسرے کوٹے میں کسی قسم کی کمی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘
فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ’پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ گزشتہ سال سردیوں میں کیا جانا تھا، لیکن جنگی حالات کے باعث یہ معاملہ مؤخر کر دیا گیا۔‘ ان کے مطابق حکومت کی قرارداد کے تحت یہ اصلاحات ہر موسم میں کی جانی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے حاصل ہونے والی آمدنی ’مکمل طور پر عوام کی روزمرہ ضروریات پر خرچ کی جا رہی ہے۔‘
فی الحال 60 لیٹر پیٹرول کا کوٹہ 1500 تومان فی لیٹر اور 50 لیٹر پیٹرول کا کوٹہ 3000 تومان فی لیٹر برقرار ہے۔
فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ’اگر ہمیں کوئی بھی سخت قدم اُٹھنا پڑا تو میں یقین دلاتی ہوں کہ ہم سب سے پہلے عوام سے اس بارے میں بات کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@Saudi_Gazette
سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع کی جانب سے مکہ مکرمہ شہر میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے ہدایات جاری کی گئیں ہیں۔
محکمہ شہری دفاع (سول ڈیفنس) کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری ہونے ولے ایک بیان میں حکام نے لوگوں کو پرسکون رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ کسی بھی ہنگامی صورتِحال میں فوری طور پر قریبی محفوظ مقام، عمارت یا کھڑکیوں سے دور کسی اندرونی کمرے میں چلے جائیں اور خطرہ ٹلنے تک وہیں رہیں۔‘
یاد رہے کہ منگل کی صبح محکمہ سول ڈیفنس نے جدہ، طائف سمیت چند دیگر علاقوں کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کے انتباہات جاری کیے تھے۔
مکہ سے متعلق بیان میں شہریوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلا وجہ گھروں یا عمارتوں سے باہر نہ نکلیں، کُھلے مقامات، کھڑکیوں اور شیشوں سے دور رہیں اور بالکونی یا چھت پر کھڑے ہونے سے گریز کریں۔
حکام نے شہریوں کو ہجوم اور خطرناک علاقوں سے دور رہنے اور تصاویر بنانے سے گریز کرنے کا بھی کہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی محکمہ شہری دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل پر انتباہ موصول ہونے کی صورت میں گاڑی سڑک کے کنارے، پلوں اور بلند عمارتوں سے دور کھڑی کریں۔
حکام کے مطابق مکہ، مدینہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں ہنگامی صورتِ حال کی اطلاع 911 جبکہ دیگر علاقوں میں 998 پر دی جا سکتی ہے۔
شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی متعلقہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
دوسری جانب سعودی کابینہ نے حوثی ’دہشت گرد ملیشیا‘ کی جانب سے مملکت میں شہریوں اور شہری تنصیبات پر مسلسل اور جان بوجھ کر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
کابینہ نے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت سعودی عرب کے اپنے دفاع، خودمختاری، شہریوں، رہائشیوں اور اہم مفادات کے تحفظ کے حق کی توثیق بھی کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images
امریکہ میں نیو یارک کے جنوبی ضلع کے پراسیکیوٹر نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ کرپٹو کرنسی میں موجود ایران کے وہ چھ کروڑ 10 لاکھ ڈالر ضبط کیے جائیں جو اس نے بلیک مارکیٹ میں تیل بیچ کر حاصل کیے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اثاثے ایران کی مسلح افواج، بشمول پاسدارانِ انقلاب، کی جانب سے پابندیوں کے شکار خام تیل اور تیل کی مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے منسلک ہیں۔
امریکی معاون پراسیکیوٹر شان ایس بکلی اور ایف بی آئی کے نیو یارک فیلڈ آفس کے ایڈمنسٹریٹر جیمز سی بارناکل جونیئر نے تقریباً چھ کروڑ ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثوں کی ضبطی کے لیے مقدمے کا اعلان کیا۔
شان بکلی کے مطابق ایرانی حکومت اپنی فوجی سرگرمیوں کی مالی معاونت، مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کو فروغ دینے اور جوہری پروگرام اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائلوں کی ترقی جیسے اقدامات کے لیے پابندیوں کے شکار خام تیل کی بلیک مارکیٹ میں فروخت پر انحصار کرتی ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے چین اور دیگر مقامات پر موجود کرپٹو کرنسی نیٹ ورکس کی مدد سے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی 1.5 ارب ڈالر سے زیادہ کی مبینہ غیر قانونی آمدنی کو منی لانڈر کرنے کی کوشش کی۔
امریکی حکام کے مطابق یہ رقوم ایران کی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کی جانی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے ملک کے مختلف علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث ممکنہ سیلاب کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 17 ستمبر تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں بارشوں کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے اضلاع گلگت، دیامر، غذر، اشکومن، گپس یاسین، نگر، ہنزہ، شمشال، اسکردو اور شگر میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں اپر دیر، سوات، باجوڑ، ملاکنڈ، کرم، کوہستان، مہمند اور اورکزئی کے علاقوں میں بھی سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان کے اضلاع ژوب، شیرانی اور موسیٰ خیل جبکہ اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں، جن میں راولپنڈی، گوجرانوالہ، سرگودھا، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شیخوپورہ شامل ہیں، میں بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔
ممکنہ خطرات کے پیش نظر این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی الرٹ جاری کرتے ہوئے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
ادارے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ شدید بارش کے دوران برساتی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور نشیبی گزر گاہوں کو عبور کرنے سے گریز کریں۔