یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جارہا، جمعہ چار ستمبر کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی حملے میں ’تین ایرانی پائلٹ ہلاک‘ ہوئے: آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گی، ابراہیم عزیزی
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نیوز نے خبر دی ہے کہ دو رات قبل ایران پر امریکی حملوں میں ’تین ایرانی فوجی پائلٹ‘ ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم یہ پائلٹ کہاں اور کس طرح ہلاک ہوئے اس کی تفصیلات تاحال نہیں دی گئیں۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گی۔
خلاصہ
- پاسداران انقلاب نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ سرک کاؤنٹی کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب پر 'جان بوجھ' کر حملے سے انکار کا مؤقف اختیار کر کے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
- ایرانی فوج نے کویت میں سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، آلات کے گوداموں اور امریکی لڑاکا طیاروں کے ہینگروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
- پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے نزدیک شمالی وزیرستان میں ایک کارروائی کے دوران 15 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
- ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔
لائیو کوریج
امریکی حملے میں ’تین ایرانی پائلٹ ہلاک‘
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نیوز نے خبر دی ہے کہ دو رات قبل ایران پر امریکی حملوں میں ’تین ایرانی فوجی پائلٹ‘ ہلاک ہوئے تھے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے قریب سمجھے جانے والی اس میڈیا ایجنسی نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ پائلٹ کہاں اور کس طرح ہلاک ہوئے۔
تسنیم نیوز کے مطابق ان پائلٹس کے نام مجتبیٰ باقری، بحریہ کے حامد اوکاٹی اور فضائیہ کے حسین مہدویان تھے۔
تسنیم نے ایک علیحدہ رپورٹ میں ایرانی آرمی فورسز کے چھ دیگر ارکان کے نام بھی شائع کیے اور کہا کہ وہ ملک کے جنوبی حصوں میں حملوں میں ہلاک ہوئے۔
یاد رہے کہ امریکہ نے 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب ایران پر ایک لمبے وقفے کے بعد حملے کیے تھے۔ سینٹکام نے دو دن قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی ایران کے متعدد شہروں پر حملے کیے ہیں۔
ایران کے مطابق سرک میں کوہستک پر حملے کے علاوہ صوبہ خوزستان کے اہواز اور آغاجری کے علاقوں میں کیے گئے حملوں میں سات افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔
ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص کی شناخت ’مقبول سکیورٹی فورسز‘ کے رکن کے طور پر ہوئی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے بھی تصدیق کی تھی کہ آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار ارکان صوبہ کرمانشاہ میں ہلاک ہوئے تھے جبکہ اطلاعات کے مطابق لاوان جزیرے پر امریکی حملے کے بعد بسیج فورس کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔
آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گا: ابراہیم عزیزی
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’ایران کے ساتھ جنگ کے بعد امریکی افواج پانچ سو میل دور چلی گئی ہیں آبنائے ہرمز نہیں کھول سکنے کے باعث وہ ایسے اقدامات کر رہی ہیں۔‘
ابراہیم عزیزی کے مطابق ’اسلامی جمہوریہ ایران امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔‘
حالیہ دنوں میں امریکہ نے ایران کے جنوبی علاقوں میں کئی حملے کیے ہیں۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور بحری جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔
ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
روس نے ایران سے ’دوری‘ اختیار کرنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا
روس نے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے دیگر ممالک کو ایران کی حمایت ختم کرنے اور اس سے دوری اختیار کرنے کی اپیل مسترد کر دی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی وزیر خزانہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ’ہم ایران پر غیر معمولی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ اس تنازع کو ختم کرنے کا تیز ترین طریقہ یہ ہے کہ کوئی بھی ایرانی حکومت کی مدد نہ کرے۔‘
تاہم چین اور روس سمیت بعض ممالک نے اس مؤقف پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
روسی نیوز ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو کہا کہ ’ہمارے شراکت دار اور دوست موجود ہیں اور ہم ان کے ساتھ اپنے دوستانہ اور شراکت داری پر مبنی تعلقات کو برقرار رکھیں گے اور مزید مضبوط بنائیں گے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس پوزیشن میں نہیں کہ دوسرے ممالک کے تعلقات پر ’اجارہ داری‘ قائم کرے۔
امریکہ ایران میں شادی کی تقریب پر حملے کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے: پاسداران انقلاب
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک بیان میں امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ سرک کاؤنٹی کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب پر ’جان بوجھ‘ کر حملے سے انکار کا مؤقف اختیار کر کے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق بیان میں پاسداران انقلاب نے افغانستان، عراق اور یمن میں امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ حملے شادی کی تقریبات پر بھی کیے گئے تھے۔‘
پاسداران انقلاب کے بیان میں دھمکی دی گئی کہ امریکہ کو ایسے حملوں کا جواب دیا جائے گا۔
ہرمزگان میں امدادی حکام کے مطابق کوہستک پر حملے میں ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوئے۔
امریکہ نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ منگل کی رات کیے گئے فضائی حملوں میں پاسداران انقلاب کی فوجی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی فوج کا کویت میں امریکی فوج کے ریڈار نظام اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی فوج نے کویت میں سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، آلات کے گوداموں اور امریکی لڑاکا طیاروں کے ہینگروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ آج صبح اس نے ’میزائلوں اور تباہ کن ڈرونز کے ذریعے کویت میں احمد الجابر ایئر بیس پر سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، فوجی تنصیبات اور امریکی لڑاکا طیاروں کے ہینگروں کو نشانہ بنایا۔‘
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں میں ’مواصلاتی نظام اور لڑاکا طیاروں کے ہینگروں کو نقصان پہنچا ہے۔‘
ایرانی فوج نے یہ بھی کہا کہ اس نے متحدہ عرب امارات میں المنہاد ایئر بیس پر امریکی فوج کے اہلکاروں کی رہائش گاہ اور ریڈار نظام کو نشانہ بنایا ہے ۔
یاد رہے کہ اس سے قبل کویتی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران سے آنے والے ڈرون اور میزائل حملوں کو روکنے کے لیے اس کے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔
ایران کے کئی شہروں میں بچوں سمیت عام شہریوں پر جان بوجھ کر حملے کیے: اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا انتونیو گوتیرس کو خط
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے کہا ہے کہ ایران کے کئی شہروں میں عام شہریوں پر جان بوجھ کر حملے کیے کیے گئے، بچوں سمیت شہریوں کو قتل کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے۔‘
ایران کے سفیر اور ڈپٹی ہیڈ آف مشن غلام حسین درزی نےتنظیم کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو ایک خط میں یکم ستمبر کو ہونے والے امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جنوبی ایران کے کئی شہروں میں شہریوں اور شہری اہداف پر یہ حملے جان بوجھ کر کیے گئے۔
ایرانی حکام نے کہا کہ مارچ 1404 میں حالیہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ’امریکہ نے بارہا شہریوں، شہری مقامات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے جن میں سکول، ہسپتال، ہوائی اڈے، رہائشی علاقے، پل، سڑکیں اور ریلوے کی تنصیبات شامل ہیں۔‘
یاد رہے کہ ہرمزگان میں امدادی حکام کے مطابق کوہستک پر حملے میں ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 60 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی رات کیے گئے فضائی حملوں میں پاسداران انقلاب کی فوجی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
کوہستک بندرگاہ میں شادی ہال کے مقام کا جائزہ لینے پر بی بی سی فارسی کے فیکٹ فائنڈنگ ڈیپارٹمنٹ نے مشاہدہ کیا کہ یہ جگہ ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور سے کم از کم 110 میٹر دور تھی، جو ممکنہ طور پر امریکی فضائی حملے کا اصل ہدف ہو سکتا تھا۔
اب تک کی خبروں کا خلاصہ
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم اس مرحلے پر پہلے صبح سے اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
- جماعتِ احمدیہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین میں اس کے ایک عہدیدار کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔
- پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے نزدیک شمالی وزیرستان میں ایک کارروائی کے دوران 15 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
- ایران پر گزشتہ رات کیے گئے حملوں کے ایک روز بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران کے خلاف امریکہ کی نئی فوجی کارروائی ’زیادہ دیر‘ جاری نہیں رہے گی۔‘
- اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک کا کہنا ہے کہ سیکریٹری جنرل کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں خاص طور پر شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر تشویش ہے، جن میں شادی کی ایک تقریب پر حملہ بھی شامل ہے۔ شہریوں پر حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔
- امریکی وزارتِ خزانہ کے ذیلی ادارے یو ایس منٹ (امریکہ میں کرنسی جاری کرنے والے ادارے) نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر والے سکے جاری کیے ہیں جس کے بعد وہ گذشتہ ایک صدی کے دوران امریکی کرنسی پر نمودار ہونے والے پہلے زندہ صدر بن گئے ہیں۔
- پاسدارانِ انقلاب سے قریب سمجھے جانے والی ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے کویت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے جمعرات کے روز دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔
- پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تین ارب امریکی ڈالر مالیت کے یورو بانڈز کامیابی سے جاری کر دیے۔پاکستان کی وزارت خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ملکی تاریخ میں ایک ہی ٹرانزیکشن کے ذریعے بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ سے حاصل کی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔
- یمنی فوج کا کہنا ہے کہ تعز شہر کے جنوب مغرب میں واقع المعافر علاقے میں حوثی جنگکوؤں کے ساتھ شدید لڑائی جاری ہے۔
حوثی جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی جاری ہے: یمنی فوج کا دعویٰ
یمنی فوج کا کہنا ہے کہ تعز شہر کے جنوب مغرب میں واقع المعافر علاقے میں حوثی جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی جاری ہے۔
عدن میں قائم بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے حوثیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک کا محاصرہ کرنے اور اس کی تیل کی برآمدات روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کی حمایت یافتہ یمنی حکومت پر اس سے ملتے جلتے الزامات عائد کیے ہیں۔
2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعا اور ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں کے بیشتر حصے حوثی جنگجوؤں کے کنٹرول میں ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں یمن میں لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور یمنی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حوثیوں کے خلاف سیکڑوں فوجی کارروائیاں کی ہیں۔
آئی ایس پی آر کا پاکستان، افغانستان سرحد کے نزدیک کارروائی کے دوران 15 مبینہ شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ
پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے نزدیک شمالی وزیرستان میں ایک کارروائی کے دوران 15 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 31 اگست اور یکم ستمبر 2026 کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز کو شمالی وزیرستان کے نزدیک پاکستان۔افغانستان سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنے والے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ ملا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے اس گروہ کے خلاف کارروائی کی جو کہ 36 گھنٹوں تک جاری رہی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں 15 مبینہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بعد ازاں علاقے میں کی جانے والی سرچ اور کلیئرنس کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
بیان کے مطابق کارروائی کے دوران ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں اور ان کی مبینہ معاونت کرنے والوں کے کردار کے بارے میں مزید شواہد سامنے آئے ہیں۔
منڈی بہاؤ الدین میں فائرنگ کے واقعے میں جماعت احمدیہ کا مقامی عہدیدار ہلاک
جماعتِ احمدیہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین میں اس کے ایک عہدیدار کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دو ستمبر کو تھانہ سٹی کی حدود میں عید گاہ کے دروازے جماعت احمدیہ کے مقامی عہدیدار مرزا صفدر محمود کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
اس واقعے کی ایف آئی آر مقتول کے بیٹے کی مدعیت میں درج کر لی گئی ہے۔
مندی بہاؤالدین کے تھانہ سٹی میں درج ایف آئی آر میں مدعی کا کہنا ہے کہ وہ بدھ کے روز شام چھ بج کر 42 منٹ پر اپنی ساس کی تیمارداری کے سلسلے میں اور سیز ہسپتال میں موجود تھے کہ انھیں اپنے ورکشاپ کے ملازم کی کال آئی کہ ان کے والد پر عید گاہ کے گیٹ کے نزدیک کسی نے فائرنگ کی ہے۔
مدعی کا کہنا ہے کہ جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو ان کے والد موٹر سائیکل سے نیچے خون میں لت پت پڑے تھے اور ان کی وفات ہو چکی تھی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مقتول روزانہ موٹر سائیکل پر نماز مغرب کے لیے شہر کی بیت الذکر جاتے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی کا دعویٰ ہے کہ ان کے والد کی کسی سے دشمنی نہیں تھی اور یہ قتل مذہبی منافرت اور احمدیوں میں خوف ہراس پھیلانے کے لیے کیا گیا ہے۔
پولیس نے قتل اور انسدادِ دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پاکستان نے تین ارب ڈالر کے بین الاقوامی بانڈز جاری کر دیے, تنویر ملک، صحافی
پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تین ارب امریکی ڈالر مالیت کے یورو بانڈز کامیابی سے جاری کر دیے۔
پاکستان کی وزارت خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ملکی تاریخ میں ایک ہی ٹرانزیکشن کے ذریعے بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ سے حاصل کی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔
حکومت کے مطابق اس بانڈ کے لیے دنیا بھر کے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے تقریباً چھ ارب ڈالر کے آرڈرز موصول ہوئے، جو جاری کی جانے والی رقم سے تقریباً دو گنا زیادہ ہیں۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی اور عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کی جانب اشارہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم دو مختلف مدت کے یورو بانڈز کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔
پہلے مرحلے میں پانچ سال اور 6 ماہ کی مدت کے لیے ایک ارب 75 کروڑ ڈالر کا یورو بانڈ جاری کیا گیا ہے، جس پر شرح سود 7.50 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
ایک ارب 25 کروڑ ڈالر کا دوسرا یورو بانڈ 10 سالہ مدت کے لیے جاری کیا گیا ہے جس پر کوپن ریٹ 7.90 فیصد ہے۔
یوں مجموعی طور پر پاکستان نے 3 ارب ڈالر حاصل کیے، جبکہ عالمی سرمایہ کاروں کی مجموعی طلب تقریباً چھ ارب ڈالر رہی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ طویل مدت، خصوصاً 10 سالہ بانڈ کے لیے سرمایہ کاروں کی نمایاں دلچسپی پاکستان کی معاشی اور مالی صورتحال کے بارے میں عالمی مارکیٹ کے بہتر ہوتے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
حکومت کے مطابق اس سے قبل پاکستان نے اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کیا تھا۔ اب جاری کیے جانے والے بانڈز پاکستان کے تجدید شدہ گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت پہلا اجرا ہیں، جس کا مقصد عالمی مالیاتی منڈیوں سے مختلف ذرائع کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے کے امکانات بڑھانا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت کے ذمے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال تک 87 ارب ڈالر کا قرض ہے۔ سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ایک سال کے طویل مدتی قرضوں میں پیرس کلب کے رکن ملکوں کی جانب سے دیا جانے والا 5.2 ارب ڈالر کا قرضہ، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے دیا جانے والا 43.5 ارب ڈالر کا قرضہ اور دوسرے ملکوں سے باہمی طور پر لیا جانے والا 14 ارب ڈالر کا قرضہ شامل ہے۔
اس کے ساتھ اس میں یورو، سکوک اور دوسرے بانڈز سے عالمی کیپٹل مارکیٹ سے لیا گیا چھ ارب ڈالر کا قرضہ اور 6.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرضہ بھی شامل ہے اور اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے لیا جانے والا 11 ارب ڈالر کا قرضہ شامل ہے۔
ایران کا آبنائے ہرمز میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ
ایران کی جانب سے جمعرات کے روز دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔
ایرانی مسلح افواج کی آپریشنل کوآرڈینیشن کی ذمہ دار خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہنا ہے کہ ’گذشتہ رات کی کارروائی کے دوران آبنائے ہرمز کے جنوب میں غیر قانونی بحری راستوں پر مزید بحری بارودی سرنگیں بچھادی گئی ہیں۔‘
ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کر کے اس آبی گزرگاہ کا نام ’ آبنائے ٹرمپ‘ رکھنے کی تجویز کا بھی تمسخر اڑایا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس اقدام کے جواب میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) صرف ’فوٹوشاپ کے ذریعے آبنائے کا نام تبدیل‘ کر سکتی ہے۔
انھوں نے واشنگٹن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’مسئلہ حل ہو گیا‘ اب امریکہ ’فوٹوشاپ کے ذریعے ہی تیل بردار جہازوں کو بھی اس گزرگاہ سے گزار سکتا ہے۔‘
یہ بیان واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل سینٹ کام نے اعلان کیا تھا کہ سمندری آمد و رفت کے تمام راستوں سے بحری بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں، اور تیل بردار جہازوں کے سرنگوں سے ٹکرانے سے متعلق اطلاعات کو گمراہ کن قرار دیا تھا۔
گذشتہ روز ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ دو تیل بردار بحری جہاز، امریکی فوج کے کہنے پر جن کے عملے کو اتار دیا گیا تھا اور وہ جہاز غیر قانونی راستے سے گزرنے کے لیے امریکی عناصر کے اختیار میں دے دیے گئے تھے، بارودی سرنگ سے ٹکرا کر دھماکے سے پھٹ گئے ہیں اور آگ کی لپیٹ میں ہیں۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اس سے پہلے پاسداران انقلاب کی بحریہ نے بارودی سرنگوں سے آلودہ گزر گاہ عبور کرنے کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔‘
پاسداران انقلاب کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’وہ بحری کمپنیاں جو قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے امریکہ کے دھوکے میں آتی ہیں اور اپنے جہاز دشمن کے اختیار میں دے دیتی ہیں، ان کے لیے اضافی سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں جن پر جلد عمل درآمد کیا جائے گا۔‘
ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے کویت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے: ایرانی میڈیا کا دعویٰ
پاسدارانِ انقلاب سے قریب سمجھے جانے والی ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے کویت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
خبر رساں ایجنسی نے اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بھی ان اطلاعات پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔
اس سے قبل کویت کی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے ملک کا فضائی دفاعی نظام دشمن کے میزائلوں اور ڈرونز کے خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔
خلیجی ممالک میں سخت سنسرشپ کے باعث ذرائع ابلاغ کے لیے حملوں کا نشانہ بننے والے علاقوں تک براہِ راست رسائی حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے، جبکہ امریکہ نے بھی ان علاقوں کی سیٹلائٹ تصاویر کی اشاعت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
بدھ کو تسنیم نے منگل کے روز اردن میں امریکی اڈوں پر کیے گئے اپنے مبینہ حملوں سے متعلق فضائی تصاویر شائع کیں، جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ ان میں ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصانات دیکھے جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی تصویر والے ایک ڈالر کے سکے جاری، 100 سال میں امریکی کرنسی پر نمودار ہونے والے پہلے زندہ صدر بن گئے
امریکی وزارتِ خزانہ کے ذیلی ادارے یو ایس منٹ (امریکہ میں کرنسی جاری کرنے والے ادارے) نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر والے سکے جاری کیے ہیں جس کے بعد وہ گذشتہ ایک صدی کے دوران امریکی کرنسی پر نمودار ہونے والے پہلے زندہ صدر بن گئے ہیں۔
امریکہ کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں جاری ہونے والے اس ایک ڈالر کے سکے پر ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ ’ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں‘ (In God We Trust) کی عبارت درج ہے۔
یو ایس منٹ کی جانب سے 25 سکوں کے ایک رول کی قیمت 61 ڈالر جبکہ 100 سکوں کے ایک تھیلے کی قیمت 154.50 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ تاہم فروخت کے لیے پیش کیے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی یو ایس منٹ کی ویب سائٹ پر یہ سکے ’فی الحال دستیاب نہیں‘ لکھا آ رہا تھا۔
بی بی سی نے مزید تفصیلات کے لیے یو ایس منٹ، وزارتِ خزانہ اور وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔
اس سے قبل مئی میں امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ ان کا محکمہ صدر کی تصویر والا نیا 250 ڈالر کا نوٹ جاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
امریکی وفاقی قانون کے تحت کسی زندہ شخص کی تصویر کے ساتھ امریکی کرنسی چھاپنے کی اجازت نہیں۔ تاہم کانگریس میں ٹرمپ کے اتحادیوں نے ایسی قانون سازی پیش کی ہے جس کے تحت اس معاملے میں استثنا دیا جا سکے، اگرچہ یہ تجویز فی الحال آگے نہیں بڑھ سکی۔
اس وقت بیسنٹ نے یہ بھی نشاندہی کی تھی کہ ماضی میں ایک اور زندہ امریکی صدر کی تصویر بھی ملک کی کرنسی پر چھاپی جا چکی ہے۔
امریکہ کی 150ویں سالگرہ کی یاد میں 1926 میں جاری کیے گئے نصف ڈالر کے سکے پر اُس وقت کے صدر کیلون کولیج کی تصویر شامل تھی۔
جرمنی کا روس پر لیپزگ ایئر پورٹ پر ڈرون حملے کا الزام، یورپی یونین اور نیٹو کا ماسکو پر دباؤ بڑھانے کا عزم
نیٹو اور یورپی کمیشن کے سربراہان نے خبردار کیا ہے کہ روس کا رویہ تیزی سے زیادہ لاپرواہ ہوتا جا رہا ہے اور انھوں نے اس ’نئی صورتحال‘ کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا وان ڈیر لاین کا کہنا ہے کہ ’لیپزگ کا واقعہ یورپی یونین کی سرزمین پر ایک نئی سطح کی کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے جس کی ذمہ داری براہِ راست روس پر عائد کی گئی ہے۔‘
انھوں نے یہ بیان جرمنی کی جانب سے گذشتہ ماہ لیپزگ ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کی ناکام کوشش کا الزام روس پر عائد کیے جانے کے ایک دن بعد دیا ہے۔
وان ڈیر لاین کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اپنی تیاریوں میں اضافہ کرنا ہو گا، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ روس کی لاپرواہی کا زیادہ تیزی اور بہتر انداز میں جواب دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔‘
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ پورا اتحاد، جس میں امریکہ بھی شامل ہے، ’جرمنی کے ساتھ مکمل یکجہتی‘ کا اظہار کرتا ہے۔
روس نے جرمنی کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ ایک دھماکہ خیز ڈرون نے چار اگست کو جان بوجھ کر یوکرین کے ایک مال بردار طیارے کو نشانہ بنایا تھا۔
لیپزگ ہوائی اڈے پر اس ڈرون کو ایک روبوٹ کے ذریعے ناکارہ بنا دیا گیا تھا، جبکہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایک دوسرا ڈرون ایک اور مال بردار طیارے سے ٹکرا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق تیسرا ڈرون 10 روز بعد اسی ہوائی اڈے سے برآمد ہوا، جو نیٹو کا ایک اہم مرکز ہے اور جسے یوکرین کے انتونوف مال بردار طیارے باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔
ملک کا فضائی دفاعی نظام اس وقت دشمن کے میزائلوں اور ڈرونز کے خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے: کویتی فوج
کویتی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت جو ملک میں دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں، وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کے نتیجے میں آ رہی ہیں۔
کویتی فوج کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی اور سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔
یاد رہے کہ بدھ کی صبح پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ کے فضائی حملوں کے جواب میں بحرین، اردن اور کویت میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
تاہم اس خبر کی اشاعت تک ایرانی فوجی ذرائع کی جانب سے کویت کے خلاف کسی نئے میزائل یا ڈرون حملے کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کوہستک میں شادی کی تقریب پر حملے پر تشویش کا اظہار: ’شہریوں پر حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں‘
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک کا کہنا ہے کہ سیکریٹری جنرل نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں پر گہری تشویش ہے۔
بدھ کے روز ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل کو ’خاص طور پر شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر تشویش ہے، جن میں شادی کی ایک تقریب پر حملہ بھی شامل ہے۔ شہریوں پر حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔‘
پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے دوجارک کا کہنا تھا ’سیکریٹری جنرل تمام فریقوں سے انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنے اور کسی بھی ایسے اقدام یا بیان سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہیں جو کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہو۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل کا بدستور ماننا ہے کہ اس بحران کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
دوجارک کا کہنا ہے کہ سیکریٹری جنرل ’تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی راہ پر واپس آئیں۔‘
چند روز قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کرغزستان میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی تھی۔
اس سے قبل ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی نے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو خط لکھ کر جنوبی ایران میں امریکی حملوں کی مذمت کی ہے، رپورٹس کے مطابق جن میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا۔
اپنے خط میں ہلالِ احمر نے کہا ہے کہ فضائی حملے میں ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ مزید 67 افراد زخمی ہوئے۔
ہلالِ احمر کے مطابق یہ حملہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے نو بجے اُس وقت ہوا جب سیریک کے علاقے کوہستک میں شادی کی ایک تقریب جاری تھی۔
ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں تنظیم نے کہا: ’زخمیوں میں سے بعض کی تشویشناک حالت کے پیشِ نظر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی طویل نہیں ہوگی: ٹرمپ
ایران پر گزشتہ رات کیے گئے حملوں کے ایک روز بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران کے خلاف امریکہ کی نئی فوجی کارروائی ’زیادہ دیر‘ جاری نہیں رہے گی۔‘
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے گزشتہ رات کے حملوں کو ’بہت شدید‘ قرار دیا اور کہا کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’ایران ایک ایسے میزائل کی تیاری کی کوشش کر رہا تھا جو بارودی سرنگیں گرانے کی صلاحیت رکھتا ہو، تاہم امریکہ نے اسے تباہ کر دیا۔‘
ان کے مطابق ایران اپنے ’ریڈار اور میزائل‘ نظام بھی دوبارہ تعمیر کر رہا تھا، جنھیں امریکی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔‘
حالیہ امریکی حملوں میں 18 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے: ایرانی وزیرِ صحت کا دعویٰ
ایران کے وزیرِ صحت محمد رضا ظفرقندی نے ایک اعلان میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’پیر اور منگل کی درمیانی شب مختلف صوبوں میں ہونے والے امریکی حملوں میں 18 افراد ہلاک اور 108 زخمی ہوئے ہیں۔‘
یہ 40 روزہ جنگ کے بعد ہونے والے امریکہ کے شدید ترین حملوں میں سے ایک ہے۔
امریکی حملوں میں سیرِک کے پہاڑی علاقے بھی نشانہ بننے والے مقامات میں شامل تھے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں کے دوران ایک خاتون اور ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوئے۔ یہ افراد ایک شادی کی تقریب میں شریک تھے۔
ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے صدر پژمان شاہروخی نے بتایا کہ سیرِک کے پہاڑی علاقے میں پیش آنے والے واقعے میں زخمی ہونے والے چھ افراد انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں جبکہ 26 سرجیکل وارڈز میں زیرِ علاج ہیں۔
بی بی سی فارسی کے ایک سوال کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے حملے کی تردید نہیں کی اور کہا کہ وہ ان رپورٹس سے ’آگاہ‘ ہیں۔ تاہم انھوں نے زور دے کر کہا کہ امریکی فوج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔
خوزستان صوبے میں اہواز اور آغاجاری کے مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں میں سات افراد کی ہلاکت اور آٹھ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ایک شخص کو ’عوامی سکیورٹی فورسز‘ کے رکن کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے بھی تصدیق کی ہے کہ صوبہ کرمانشاہ میں آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق لاوان جزیرے پر امریکی حملے کے بعد بسیج فورسز کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔