آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’انھوں نے امریکی بحریہ کی ایک آبدوز کو نشانہ بنایا ہے، جسے ریموٹ کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔‘ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ آبدوز آبنائے ہرمز کے ’محفوظ علاقے‘ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔

خلاصہ

  • پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز کے 'غیر مجاز راستوں' سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں اور علاقے میں موجود تین امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
  • پنجاب کو ہمسایہ ممالک سے کم اور پڑوسی صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے: وزیرِ اعلیٰ مریم نواز
  • امریکی فوج کا پاسدارانِ انقلاب کے تین تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ
  • یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں، امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف ماسکو پہنچ گئے

لائیو کوریج

  1. پشتو افغانستان کی ’قومی زبان‘ جبکہ دری ’سرکاری زبان‘ ہے: طالبان عہدیدار کا دعویٰ

    طالبان کی وزارتِ دفاع کے چیف انسپکٹر مفتی لطف اللہ حکیمی نے حال ہی میں پشتو اور دری (فارسی) کو افغانستان کی سرکاری زبانیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پشتو ’قومی زبان‘ بھی ہے۔

    ان کے اس بیان پر نہ صرف اس لیے تنقید کی جا رہی ہے کہ افغانستان میں ’قومی زبان‘ کی کوئی باضابطہ حیثیت موجود نہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ انھوں نے پشتو کو دری سے برتر قرار دیا ہے، حالانکہ دری تاریخی طور پر ملک میں رابطے کی مشترکہ زبان رہی ہے اور افغانستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔

    31 اگست کو افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر نجی ٹی وی چینل شمشاد ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب حکیمی سے پوچھا گیا کہ وہ کتنی زبانیں بولتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ پشتو، دری، عربی اور اردو جانتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’دری افغانستان کی سرکاری زبان ہے۔ بلاشبہ افغانستان کی قومی زبان پشتو ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’بعض لوگ کہتے ہیں کہ دو قومی زبانیں ہیں، لیکن قومی زبان صرف ایک ہو سکتی ہے، ورنہ لوگ ہم پر ہنسیں گے۔ ایک قومی (زبان) ہے اور دوسری سرکاری۔ سرکاری زبانیں 10 بھی ہو سکتی ہیں۔‘

    طالبان پر اس سے قبل بھی دری زبان کو کمزور کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ دارالحکومت کے مختلف اہم علاقوں کے تاریخی ناموں کو پشتو میں تبدیل کرکے شہر میں نصب کیے گئے نئے سائن بورڈز پر درج کیا گیا۔

    تاہم مئی 2024 میں طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ دری اور پشتو میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے اور اس اصول کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    طالبان کے پاس اس وقت کوئی آئین نہیں ہے، تاہم 2004 میں منظور کیے گئے افغانستان کے آئین کے آرٹیکل 16 میں پشتو اور دری کو ریاست کی سرکاری زبانیں قرار دیا گیا تھا۔

    آئین کے مطابق ملک میں رائج پشتو، دری، ازبکی، ترکمنی، بلوچی، پشائی، نورستانی، پامیری اور دیگر زبانوں میں سے پشتو اور دری ریاست کی سرکاری زبانیں ہیں، جبکہ آئین میں کسی بھی زبان کو ’قومی زبان‘ قرار نہیں دیا گیا۔

  2. پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’انھوں نے امریکی بحریہ کی ایک آبدوز کو نشانہ بنایا ہے، جسے ریموٹ کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔‘

    ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ آبدوز آبنائے ہرمز کے ’محفوظ علاقے‘ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔

    اس سے قبل سنیچر کی رات گئے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا تھا کہ انھوں نے آبنائے ہرمز میں ’غیر مجاز راستوں‘ سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں اور دیگر علاقوں میں موجود تین امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔‘

    ایران نے اسے امریکی افواج کی جانب سے تین ایرانی ٹینکروں پر کیے گئے حملوں کا جواب قرار دیا تھا۔ تاہم امریکہ نے ان حملوں پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    اس سے قبل سنیچر کی صبح امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا تھا کہ امریکی افواج نے تین ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں سے ایک کو جزیرۂ خارگ کے ساحل کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ جزیرۂ خارگ ایران سے تیل کی برآمدات کا ایک اہم مرکز ہے۔

  3. مصری ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو منشیات کیس میں سزائے موت

    مصر کی ایک ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ اور 11 دیگر افراد کو منشیات سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد پھانسی دے کر سزائے موت سنائی گئی ہے۔

    سرکاری اخبار ’الاہرام‘ کے مطابق یہ افراد ایک ایسے جرائم پیشہ گروہ کا حصہ تھے جو منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال اس مقصد سے درآمد کرتا تھا کہ اس سے منشیات تیار کرکے فروخت کی جائیں۔ ان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا۔

    39 سالہ سارہ خلیفہ اپنے ٹی وی پروگرام ’مشن امپاسیبل‘ کے لیے مشہور ہیں، جس میں جرائم سے متعلق موضوعات پر گفتگو کی جاتی تھی۔ انھوں نے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کی ہے۔

    عدالت کا فیصلہ، جس کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے، ابتدائی طور پر گزشتہ ماہ سنایا گیا تھا۔ تاہم اس کی باضابطہ توثیق ایک ماہ بعد کی گئی، جب عدالت نے مصر کے گرینڈ مفتی سے مذہبی رائے حاصل کر لی۔ سزائے موت کے مقدمات میں یہ ایک قانونی تقاضا ہے۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ حکام نے 750 کلوگرام سے زیادہ منشیات اور منشیات تیار کرنے کے لیے درآمد کیا گیا خام مال ضبط کیا تھا۔

    ’الاہرام‘ کے مطابق 20 گواہوں نے استغاثہ کے سامنے بیانات بھی ریکارڈ کرائے، جبکہ الیکٹرانک شواہد میں گفتگو اور ویڈیو کلپس بھی شامل تھے۔

    سرکاری اخبار ’اخبار الیوم‘ کے مطابق گزشتہ ستمبر میں عدالت میں پیشی کے دوران جج کی جانب سے مبینہ طور پر اپنے کردار کے بارے میں پوچھے جانے پر سارہ خلیفہ نے کہا تھا کہ انھوں نے منشیات اس وقت تک کبھی نہیں دیکھی تھیں جب تک انسدادِ منشیات ادارے کے دفاتر میں ان کی منشیات کے ساتھ تصویر نہیں بنائی گئی۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال کے دوران دنیا بھر میں 492 افراد کو سزائے موت سنائی گئی، جن میں سے 23 کو پھانسی دی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق اس مقدمے میں ملزمان کو منشیات کی سمگلنگ اور ریپ کا مجرم قرار دیا گیا، تاہم ’یہ ایسے جرائم نہیں تھے جن میں ’جان بوجھ کر قتل‘ شامل ہو، جبکہ بین الاقوامی قانون اور معیار کے تحت سزائے موت کا اطلاق صرف ایسے جرائم تک محدود ہونا چاہیے جن میں جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہو۔‘

  4. پوتن سے ماسکو میں بات چیت کے بعد ٹرمپ کے دو اعلیٰ مذاکرات کار یوکرین پہنچ رہے ہیں

    امریکی حکام کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن سے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے بعد امریکہ کے دو خصوصی ایلچی یوکرین میں بھی ’اسی طرح نتیجہ خیز ملاقاتوں‘ کی امید کر رہے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اتوار کو کیف پہنچیں گے۔ دونوں نے سنیچر کو ماسکو میں صدر پوتن سے ملاقات کے دوران ’آئندہ کے اقدامات کے لیے ٹھوس منصوبوں‘ پر بات چیت کی۔

    تاہم ان منصوبوں کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، البتہ یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں تیزی کے درمیان آئندہ چند ہفتوں میں کسی اعلان کی توقع ہے۔ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ مذاکرات کاروں کا یوکرین کے دارالحکومت کا پہلا دورہ ہوگا۔

    سنیچر کو ماسکو میں پوتن کی سرکاری رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی اور روسی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ملاقات بند دروازوں کے پیچھے ہوئی۔ دونوں جانب سے مذاکرات کے بارے میں مجموعی طور پر مثبت بیانات سامنے آئے، تاہم تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    پوتن کے مشیر یوری اوشاکوف نے مذاکرات کو ’تعمیری اور انتہائی دوٹوک‘ قرار دیا۔

    ان کے مطابق بات چیت صرف یوکرین بحران کے حل تک محدود نہیں رہی بلکہ اقتصادی معاملات اور روس و امریکہ کے درمیان ممکنہ بڑے اور باہمی مفاد کے منصوبوں پر بھی تفصیل سے تبادلۂ خیال ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ مذاکرات میں روسی فوج کی محاذِ جنگ پر ’نمایاں پیش قدمی‘ کا بھی ذکر کیا گیا اور اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ تنازع کی ’بنیادی وجوہات‘ کو مذاکرات میں حل کیا جانا چاہیے۔

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ ’بامعنی بات چیت‘ کے لیے تیار ہیں۔ اُن کی جانب سے یہ بیان تب سامنے آیا کہ جب وٹکوف اور کشنر کریملن میں مذاکرات کر رہے تھے۔

    روس نے حالیہ عرصے میں کئیو سمیت یوکرین کے شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے، تاہم جنگ کے بیشتر عرصے میں روسی زمینی افواج کی پیش قدمی انتہائی سست رہی ہے اور اسے بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ روس اب بھی یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر قابض ہے، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر اس نے سنہ 2022 میں قبضہ کیا تھا۔

    جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف روس کے متعدد دورے کر چکے ہیں، تاہم فروری 2022 میں روس کے مکمل حملے کے آغاز کے بعد سے یوکرین کی فضائی حدود بند ہیں، اس لیے یہ واضح نہیں کہ دونوں ماسکو سے کئیو تک کیسے سفر کریں گے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان حالیہ مہینوں میں فضائی حملوں میں بھی شدت آئی ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ ’انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کے باعث اسے بیلسٹک میزائل حملوں کو روکنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ کئیو نے روس کے معاشی بنیادی ڈھانچے، خصوصاً تیل کی تنصیبات، کو اپنے حملوں کا اہم ہدف بنایا ہے۔

  5. عراق کی یومیہ تیل برآمد کرنے کی صلاحیت 30 لاکھ بیرل سے تجاوز کر گئی

    عراق کے وزیرِ تیل باسم محمد خضیر نے کہا ہے کہ ’ملک نے خام تیل برآمد کرنے کی اپنی یومیہ صلاحیت بڑھا کر 30 لاکھ بیرل سے زیادہ کر دی ہے اور اسے 50 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔‘

    عراقی سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے باسم محمد خضیر نے بتایا کہ ’ستمبر کے آغاز سے ملک کی خام تیل کی برآمدات تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’عراق کے شمال میں واقع فیش خابور اور بحیرۂ روم کی ساحلی بندرگاہ بنیاس کو عراق کے تیل کے ذخائر سے ملانے والی سٹریٹیجک پائپ لائنوں کی تکمیل کے بعد برآمدی صلاحیت 50 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔‘

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عراق کے پاس تقریباً 145 ارب بیرل کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر ہیں۔

    ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران عراق کی تیل کی پیداوار 33 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر تقریباً 13 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی تھی، تاہم موسمِ گرما کے وسط سے اس میں دوبارہ اضافہ شروع ہو گیا۔

  6. ایرانی عدلیہ کے سربراہ کا برکس ممالک سے ایران پر حملوں کی مذمت اور جنگی جرائم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

    ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے برکس ممالک پر زور دیا اور کہا ہے کہ وہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزیوں کی مذمت کریں اور ایران کے خلاف ہونے والی دو جنگوں کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمہ دار افراد کے خلاف عالمی دائرۂ اختیار کے اصول کے تحت قانونی کارروائی کریں۔‘

    انڈیا میں برکس ممالک کے سربراہانِ عدلیہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’دنیا کو انصاف کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے اور انصاف کو سیاسی مفادات کی بنیاد پر منتخب نہیں ہونا چاہیے۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حسین محسنی نے برکس کو دنیا کے اہم اقتصادی و سیاسی اتحادوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ گروپ نئے عالمی نظام کی تشکیل میں بڑھتا ہوا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔‘

    ان کے مطابق برکس کی دستاویزات میں ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پابندی پر بارہا زور دیا گیا ہے۔

    ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ ’گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کو امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے ’وحشیانہ جارحیت‘ کا سامنا رہا ہے اور یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور غیر قانونی اقدام تھے۔‘

    ان کے مطابق حملوں کے پہلے ہی روز مناب کے ایک سکول کے 168 طلبہ سمیت بڑی تعداد میں ایرانی شہری ہلاک ہوئے، جبکہ 40 روزہ جنگ کے دوران ہسپتالوں، تعلیمی و ثقافتی مراکز، رہائشی علاقوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری مارے گئے۔

    حسین محسنی نے امریکی اور اسرائیلی اقدامات کو جنگی جرائم کی واضح مثالیں قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی اداروں کی خاموشی پر تنقید کی۔

    انھوں نے برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ ’وہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے مزید غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کریں اور عالمی دائرۂ اختیار کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔‘

  7. امریکی بحری جہازوں کے خلاف مزید ’شدید اور بڑے پیمانے‘ پر کارروائی کی جائے گی: ایران

    خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے امریکہ کی ’دہشت گرد‘ فوج کو خبردار کیا ہے کہ ’اگر واشنگٹن خطے میں اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو ایرانی مسلح افواج امریکی جنگی بحری جہازوں کے خلاف پہلے سے زیادہ شدید اور وسیع پیمانے پر کارروائی کریں گی۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے سنیچر کی شب کہا کہ ’اگر امریکی فوج اپنی ’جارحانہ کارروائیاں‘ جاری رکھتے ہوئے خطے میں عدم تحفظ پیدا کرتی، ایرانی بحری جہازوں کو ہراساں کرتی یا ایران کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھتی ہے تو ایرانی مسلح افواج اس کا مزید سخت جواب دیں گی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر واشنگٹن ایسی کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو ایرانی مسلح افواج خطے میں موجود امریکی فوجی بحری جہازوں کو ’پہلے سے زیادہ شدت سے‘ نشانہ بنائیں گی۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف اپنے اقدامات جاری رکھتا ہے تو ایرانی فوجی ردِعمل کا دائرہ بھی مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

    یہ دھمکی امریکی فوج کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ’امریکی افواج نے خلیج فارس اور خلیج عمان میں تین ایرانی خام تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

  8. اسرائیل میں امریکی سفیر کی اسرائیلی آبادکاروں کی ’لاقانونیت‘ پر مذمت

    اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا ہے کہ ’ترمیزیا کی یہودی بستی میں رہنے والے امریکی شہریوں نے سٹی کونسل کے ایک اجلاس کے دوران انھیں اپنے تباہ شدہ گھروں، بچوں کو دی جانے والی دھمکیوں، تشدد اور خوف زدہ کرنے کے واقعات سے آگاہ کیا۔‘

    یہ بستی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں واقع ہے اور یہاں بڑی تعداد میں امریکی شہری رہتے ہیں۔

    مائیک ہکابی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہودیہ/سامریہ (مقبوضہ مغربی کنارے کے لیے اسرائیل کی استعمال کردہ اصطلاح) میں رہنے والے اسرائیلیوں کو وہاں رہنے کا حق ہے اور میں اس کی حمایت کرتا ہوں، لیکن بائبل پر یقین رکھنے والا کوئی بھی شخص لاقانونیت کی حمایت نہیں کرتا۔‘

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں۔

  9. پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز کے ’غیر مجاز راستوں‘ سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں اور علاقے میں موجود تین امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ’غیر مجاز راستوں‘ سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں اور امریکہ کے تین جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    تسنیم نیوز ایجنسی کی خبر کے مطابق سنیچر کو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ’غیر مجاز راستوں‘ سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میں موجود امریکہ کے تین جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے تاحال پاسدارانِ انقلاب کی ان کارروائیوں پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    اس سے قبل امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا تھا کہ امریکی فورسز نے سنیچر کو ایران کے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک جزیرۂ خارگ کے قریب موجود تھا۔

    جزیرۂ خارگ کو ایرانی تیل کی برآمدات کا سب سے اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے۔

  10. ایرانی وزارتِ خارجہ کی خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں ’ایران کے تجارتی جہازوں‘ پر امریکی حملوں کی مذمت۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں ’ایران کے تجارتی جہازوں‘ پر امریکہ کے حملوں کی مذمت کی ہے۔

    وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں امریکی حملوں کو ’غیر قانونی اور جارحانہ اقدام‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’امریکہ کی فوجی جارحیت کا تسلسل‘ ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ’اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی، جنگی جرم، اور بین الاقوامی امن کے ساتھ ساتھ تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے واضح خطرہ‘ ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ ’خطے میں امریکہ کے جارحانہ اور مداخلت پسندانہ اقدامات کے اس تسلسل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکی حکومت اور اس کے معاونین اور شراکت داروں پر عائد ہو گی۔‘

  11. امریکی حملوں کا نشانہ بننے والے دو آئل ٹینکروں کے عملے کو لائف بوٹس کے ذریعے ساحل پر منتقل کر دیا گیا: ایرانی میڈیا

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے خبر دی ہے کہ آج امریکی افواج کے حملوں کا نشانہ بننے والے دو آئل ٹینکروں کے عملے کو ’لائف بوٹس کے ذریعے ساحل پر منتقل کر دیا گیا‘۔

    رپورٹ کے مطابق ان میں سے ایک ٹینکر خالی تھا جبکہ دوسرے میں تیل کا کارگو موجود تھا۔

    چند گھنٹے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا تھا کہ اس نے ایران کے تین ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔

    سینٹکام کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد کی گئی تھی۔

  12. چاغی اور دُکی میں پرتشدد واقعات میں چار افراد ہلاک

    بلوچستان کے دو اضلاع چاغی اور دُکی میں دو الگ الگ واقعات میں ایک قبائلی رہنما سمیت کم از کم چار افراد مارے گئے ہیں جبکہ دو افراد لاپتہ ہیں۔

    سرکاری حکام کے مطابق دُکی میں مارے جانے والے تین افراد افغان شہری تھے جو ایک قبائلی رہنما کی زرعی اراضی پر چوکیدار کے طور پر کام کرتے تھے۔

    دُکی پولیس کے سربراہ منصور احمد بزدار نے تین افراد کے مارے جانے اور دو کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں جھالار کے علاقے سے آگے ایک پہاڑی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے حملے کا نشانہ بنایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد جھالار میں مقامی قبائلی رہنما سردار اکبر خان ناصر کی اراضی پر چوکیدار کے طور پر کام کر رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ مارے جانے والے اور لاپتہ ہونے والے تمام افراد کی شناخت ہو گئی ہے۔

    تاہم انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    ایک اور سرکاری اہلکار نے بتایا کہ مارے جانے والے افراد کی شناخت افغان شہریوں کے طور پر ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    دُکی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں طویل عرصے سے بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

    گذشتہ اتوار کلی بختیار لونی کے قریب ایک بم حملے میں تین بھائی مارے گئے تھے جبکہ ایک اور شخص زخمی ہوا تھا۔

    ادھر ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں قبائلی شخصیت ملک کریم داد محمد حسنی مارے گئے ہیں۔

    چاغی میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملک کریم داد محمد حسنی کو صبح کے وقت چاغی بازار میں نامعلوم مسلح افراد نے حملے کا نشانہ بنایا۔

    پولیس اہلکار کے مطابق اس واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے۔

    چاغی بلوچستان کا ایک سرحدی ضلع ہے اور اس کی سرحدیں افغانستان اور ایران دونوں سے ملتی ہیں۔

  13. سابق خاتون پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کوئٹہ سے گرفتار

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے سابق خاتون پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پر بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

    ایک سینیئر حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خلاف دو مقدمات درج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی ریاست کے خلاف بات کرے گا یا جو لوگ ریاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں ان کی حمایت میں بیان دے گا تو قانون اس کے خلاف اپنا راستہ لے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف ایک ایف آئی آر سی ٹی ڈی کی جانب سے درج کی گئی ہے جبکہ دوسری ایف آئی آر ان کے خلاف ایک شہری کی جانب سے درج کروائی گئی ہے۔

    حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنمائوں نے ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

    ڈاکٹر عائشہ فیض کون ہیں؟

    ڈاکٹر عائشہ فیض کا تعلق ضلع مستونگ سے ہے۔ وہ بلوچستان کے معروف قوم پرست رہنما فیض محمد دہوار کی صاحبزادی ہیں۔

    ان کے والد قیام پاکستان سے اپنی زندگی کے آخری دنوں تک بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔

    ڈاکٹر عائشہ فیض نے اپنی تعلیم مستونگ اور کوئٹہ سے حاصل کی۔

    ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انھوں نے سرکاری ملازمت اختیار کی۔

    وہ طویل عرصے تک کوئٹہ میں بلوچستان کے سب سے بڑے ہسپتال سنڈیمن پروونشل ہسپتال میں پولیس سرجن کے طور پر کام کرتی رہی اور چند ماہ قبل ہی ملازمت سے ریٹائر ہوئی ہیں۔

    ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری کی مذمت

    بلوچستان میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور وکلا نے ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

    سابق سینیٹر نوابزادہ لشکری رئیسانی نے سماجی رابطے کی میڈیا ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کو گرفتار کر کے حکومت نے قانونی اور اخلاقی حدیں پار کر دی ہیں۔

    قانون دان اور جمعیت وکلا فورم کے مرکزی صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ سیاسی یا انتظامی معاملات پر اختلافِ رائے اور تنقید کا جواب گرفتاریوں، طاقت کے استعمال اور سخت قوانین کے نفاذ سے دینا جمہوری اقدار، آئین اور قانون کی روح کے منافی ہے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی نے بھی ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے ان کی پریس کانفرنس کے بعد گرفتاری ظاہر کرتی ہے کہ اب آزادی اظہار پر مکمل پابندی لگ چکی ہے۔

  14. پنجاب کو ہمسایہ ممالک سے کم اور پڑوسی صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے: وزیرِ اعلیٰ مریم نواز

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کو ہمسایہ ممالک کی نسبت ہمسایہ صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے۔

    سنیچر کے روز لاہور میں ’پرووینشل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر پنجاب‘ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ پنجاب کے لوگوں کو یہ احساس ہو کہ وہ ایک محفوظ ماحول میں سوتے ہیں۔

    ’آپ خود دیکھیے کہ ٹرائی بارڈر ایریاز ہیں۔۔۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مجھے تھریٹ جو ہے وہ میرے پڑوسی ممالک سے کم ہیں اور میرے پڑوسی صوبوں سے زیادہ ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں سے دہشتگردی پنجاب میں آتی ہے۔‘

    یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کی سرحدیں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے ملتی ہیں جبکہ مشرق کی جانب اس کی سرحد پڑوسی ملک انڈیا سے ملتی ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پنجاب کے اوپر سب کی نظر ہے تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب ایک محفوظ صوبہ ہے جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ٹیکنالوجی پر کام کیا گیا ہے۔

    مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے پنجاب کی سکیورٹی اور سیفٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اربوں روپے ٹیکنالوجی میں لگائے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب وہ وزیرِ اعلیٰ بنیں تو انھوں نے دیکھا کہ سکیورٹی اہلکاروں سے زیادہ ٹیکنالوجی شدت پسندوں کے پاس ہوتی تھی۔ ’ان کے پاس نائٹ وژن گلاسز، اور وہ بہت منصوبہ بندی کے ساتھ آتے تھے، لیکن اب اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے پاس بھی وہ سارا سسٹم موجود ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی بلٹ پروفنگ کی گئی ہے کیونکہ شدت پسند اس کو نشانہ بناتے تھے، اسی طرح اب حکومت نے تھرمل کیمرے لگائے ہیں جبکہ ڈرونز پر بھی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

    سکیورٹی اداروں کی چیک پوسٹوں کو مزید محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’دو ڈھائی سال پہلے کی چیک پوسٹ دیکھیں، ایسا لگتا تھا کہ چند بوریاں رکھ کر مٹی کی دیواروں کے پیچھے سکیورٹی اہلکار بنا کسی حفاظت کے بیٹھے ہیں۔

    ’آج آپ جا کر دیکھیں، اونچی اونچی دیواریں ہیں، محفوظ کمرے ہیں، کسی حملے کی صورت میں وہ پناہ لے سکتے ہیں، یا اپنی جان بچا سکتے ہیں۔‘

  15. امریکی فوج کا پاسدارانِ انقلاب کے تین تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے پاسدارانِ انقلاب کے تین تیل بردار جہازوں کو تباہ کر دیا ہے۔

    سینٹکام کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد کی گئی تھی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنگی جہاز ایرانی حملے سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے اور اس میں کسی بھی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں کے بعد امریکی افواج نے جزیرہ خارگ کے ساحل کے قریب پاسدارانِ انقلاب کے دو خام تیل بردار جہازوں کو مستقل طور پر ناکارہ بنا دیا جبکہ خلیجِ عمان میں ایک خالی ایرانی آئل ٹینکر کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ بیان میں مزید دعویڑٰ کیا گیا ہے کہ حملے سے قبل عملے کو جہاز چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

    سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ’پاسدارانِ انقلاب کے لیے پیغام واضح ہے: اگر آپ ہمارے دو جہازوں پر فائر کریں گے تو ہم آپ پر اس سے بھی زیادہ معاشی نقصان پہنچائیں گے – اور آپ کے تین جہاز تباہ کر دیں گے۔‘

    ’ہم امریکی افواج کے دفاع میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے، اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کے محدود اور غیر محفوظ تیل بردار بیڑے کو تباہ کر دیں گے۔‘

  16. خارگ میں صورتحال معمول کے مطابق اور پرسکون ہے: ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ جزیرہ خارگ میں صورتحال معمول کے مطابق اور پرسکون ہے۔

    اس سے قبل بعض ایرانی میڈیا اداروں نے خبر دی تھی کہ امریکہ نے جزیرہ خارگ کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا ہے، تاہم اس بارے میں نہ ایرانی حکام نے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی امریکی حکام نے تبصرہ کیا ہے۔

    ایران کی طالب علم خبر رساں ایجنسی نے جزیرے کی تازہ تصاویر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں آگ یا دھوئیں کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے اور صورتحال معمول کے مطابق ہے۔

    ادھر تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق مبینہ حملے کے وقت ایرانی ٹینکر جزیرہ خارگ سے تقریباً چھ میل (11 کلومیٹر) کے فاصلے پر موجود تھا۔

  17. یمن میں حوثیوں اور سرکاری افواج کے درمیان جھڑپوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک

    طبی اور عسکری ذرائع نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا ہے کہ یمن میں سعودی حمایت یافتہ سرکاری افواج اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اس رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں عام شہری بھی شامل ہیں۔

    اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جنوب مغربی یمن میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں سرکاری افواج کے 26 اہلکار ہلاک ہوئے۔

    ایران کے اتحادی حوثیوں کے طبی اور عسکری ذرائع نے بھی ان فورسز کے 31 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی۔

    حکومت کے زیرِ کنٹرول شہر تعز میں طبی ذرائع نے بتایا کہ ایک بس پر میزائل حملے میں چھ شہری ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔

    حوثی، جو خود کو ’انصار اللہ‘ کہلاتے ہیں، یمن کے شمالی اور بحیرہ احمر کے ساتھ واقع مغربی ساحل کے ایک بڑے حصے کے ساتھ ساتھ دارالحکومت صنعا پر بھی کنٹرول رکھتے ہیں۔

    یمنی صدارتی لیڈرشپ کونسل جسے عالمی برادری حکومت کے طور پر تسلیم کرتی ہے، سعودی عرب کی حمایت یافتہ ہے اور یمن کے مشرقی حصے اور جنوبی ساحل (بشمول عدن کی بندرگاہ) پر کنٹرول رکھتی ہے۔

  18. یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں، امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف ماسکو پہنچ گئے

    یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے مذاکرات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو اعلیٰ ایلچی ماسکو پہنچ گئے ہیں۔

    سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سنیچر کے روز روسی دارالحکومت پہنچے، جہاں وہ بات چیت کریں گے اور اس کے بعد اتوار کو یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے کیئو روانہ ہوں گے۔

    ٹرمپ نے جمعہ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ دونوں شخصیات ’جنگ کے خاتمے کی تجویز اپنے ساتھ لا رہی ہیں۔‘ اب تک، امن معاہدہ کروانے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کوششیں کسی بڑی پیش رفت کا باعث نہیں بن سکیں۔

    امریکی خبر رساں ادارے ’ایگزیوس‘ نے رپورٹ کیا کہ امریکی ایلچی روسی صدر ولادیمیر پیوتن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی دونوں سے الگ الگ ملاقات کریں گے۔

    وٹکوف اور کشنر کی ماسکو کے ونوکوفو ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد روسی سفارت کار کریل دمتریو کی جانب سے استقبال کیے جانے کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔

    فلائٹ ٹریکنگ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ امریکی حکومت کا ایک طیارہ فن لینڈ کے شہر ہیلسنکی سے آیا تھا، جہاں وہ دن کے آغاز میں امریکہ سے پہنچا تھا۔

  19. خارگ میں تیل بردار جہاز امریکی میزائلوں کا نشانہ بنا ہے: ایرانی میڈیا

    ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ نے جزیرہ خارگ کے قریب ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

    خارگ میں موجود تسنیم کے نامہ نگار کے مطابق اس جہاز کو خلیجِ فارس میں ایرانی تیل کی برآمدات کے اہم مرکز، جزیرہ خارگ سے ’چھ میل‘ کے فاصلے پر چار امریکی میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    تسنیم نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور جہاز کا عملہ وہاں سے نکل رہا تھا۔

    ایرانی حکام نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    گذشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں اُنھوں نے لکھا تھا کہ جزیرہ خارگ ’ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے۔‘

    ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر خارگ پر حملہ کیا گیا تو وہ اس کا بھرپور جواب دیں گے۔

  20. خارگ جزیرے کے قریب ایرانی آئل ٹینکر پر مبینہ امریکی میزائل حملے کی اطلاعات

    ایرانی میڈیا کی جانب سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران ملک کی مرکزی آئل پورٹ خارگ جزیرے کے قریب ’کئی دھماکوں‘ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اس کے نمائندے نے دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، تاہم دھواں نظر نہیں آیا۔

    ادھر مقامی سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ نے خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔

    ادھر ایرانی نیوز ویب سائٹس، جن میں عصر ایران بھی شامل ہے، نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ٹینکر کو خالی کرانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    ایرانی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے نور نیوز نے کہا ہے کہ مقامی ذرائع نے خارگ کے قریب ایک ایرانی ٹینکر پر امریکی فورسز کے میزائل حملے کی اطلاع دی ہے، تاہم ان اطلاعات کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔

    واضح رہے کہ یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’ایران خطے میں نیا سکیورٹی نظام تشکیل دینے کی چین کی تجویز کا خیرمقدم کرتا ہے۔‘

    قالیباف نے کہا کہ ’مشترکہ سکیورٹی کو مضبوط بنانے پر چین کی توجہ ان باتوں کی عکاسی کرتی ہے جن پر ایران برسوں سے زور دیتا آیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’خطے کے ممالک کو اپنا مستقبل خود تشکیل دینا چاہیے اور حقیقی استحکام صرف خطے میں ایک نئے اور مقامی سکیورٹی نظام کے قیام سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران تیار ہے۔‘