پشتو افغانستان کی ’قومی زبان‘ جبکہ دری ’سرکاری زبان‘ ہے: طالبان عہدیدار کا دعویٰ
طالبان کی وزارتِ دفاع کے چیف انسپکٹر مفتی لطف اللہ حکیمی نے حال ہی میں پشتو اور دری (فارسی) کو افغانستان کی سرکاری زبانیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پشتو ’قومی زبان‘ بھی ہے۔
ان کے اس بیان پر نہ صرف اس لیے تنقید کی جا رہی ہے کہ افغانستان میں ’قومی زبان‘ کی کوئی باضابطہ حیثیت موجود نہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ انھوں نے پشتو کو دری سے برتر قرار دیا ہے، حالانکہ دری تاریخی طور پر ملک میں رابطے کی مشترکہ زبان رہی ہے اور افغانستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔
31 اگست کو افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر نجی ٹی وی چینل شمشاد ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب حکیمی سے پوچھا گیا کہ وہ کتنی زبانیں بولتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ پشتو، دری، عربی اور اردو جانتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’دری افغانستان کی سرکاری زبان ہے۔ بلاشبہ افغانستان کی قومی زبان پشتو ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’بعض لوگ کہتے ہیں کہ دو قومی زبانیں ہیں، لیکن قومی زبان صرف ایک ہو سکتی ہے، ورنہ لوگ ہم پر ہنسیں گے۔ ایک قومی (زبان) ہے اور دوسری سرکاری۔ سرکاری زبانیں 10 بھی ہو سکتی ہیں۔‘
طالبان پر اس سے قبل بھی دری زبان کو کمزور کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ دارالحکومت کے مختلف اہم علاقوں کے تاریخی ناموں کو پشتو میں تبدیل کرکے شہر میں نصب کیے گئے نئے سائن بورڈز پر درج کیا گیا۔
تاہم مئی 2024 میں طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ دری اور پشتو میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے اور اس اصول کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
طالبان کے پاس اس وقت کوئی آئین نہیں ہے، تاہم 2004 میں منظور کیے گئے افغانستان کے آئین کے آرٹیکل 16 میں پشتو اور دری کو ریاست کی سرکاری زبانیں قرار دیا گیا تھا۔
آئین کے مطابق ملک میں رائج پشتو، دری، ازبکی، ترکمنی، بلوچی، پشائی، نورستانی، پامیری اور دیگر زبانوں میں سے پشتو اور دری ریاست کی سرکاری زبانیں ہیں، جبکہ آئین میں کسی بھی زبان کو ’قومی زبان‘ قرار نہیں دیا گیا۔