اسمبلی اجلاس کے دوران سابق افغان فوجیوں کی پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ، حکومت نے شواہد طلب کر لیے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن صوبائی اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے متصل پاکستانی علاقوں میں ہزاروں سابق افغان فوجی لائے گئے ہیں، تاہم صوبائی حکومت نے اس دعوے کے ثبوت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات یا شواہد موجود نہیں۔
ضلع ژوب سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے امن و امان سے متعلق ایک قرار داد پر بحث کے دوران یہ دعویٰ کیا۔ مذکورہ قرار داد عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی انجینیئر زمراک خان اچکزئی نے پیش کی تھی، جس میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے فضل قادر مندوخیل نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ظاہر کی اور دعویٰ کیا کہ سابق افغان صدر اشرف غنی کے دور کے ہزاروں افغان فوجی ان کے علاقے میں لائے گئے ہیں۔ انھوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ان افراد کو وہاں کیوں منتقل کیا گیا ہے۔
قرارداد پر حکومت اور اپوزیشن کے اراکین نے اظہار خیال کیا، تاہم اجلاس کے دوران صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے اس دعوے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
بعد ازاں اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ اگر کسی کے پاس سابق افغان فوجیوں کی موجودگی سے متعلق معلومات ہیں تو انھیں اس کے شواہد بھی پیش کرنے چاہییں۔
انھوں نے کہا کہ اسمبلی ایک ذمہ دار فورم ہے اور وہاں حقائق اور شواہد کی بنیاد پر گفتگو ہونی چاہیے۔
بخت محمد کاکڑ کے مطابق، بغیر ثبوت کے اس نوعیت کے دعوے ’عوام میں بے چینی اور کنفیوژن‘ پیدا کر سکتے ہیں۔
فضل قادر مندوخیل کی جانب سے سابق افغان فوجیوں کی موجودگی سے متعلق دعوے کے حوالے سے اجلاس یا بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے، جبکہ صوبائی حکومت نے بھی کہا ہے کہ اس دعوے کی تائید میں اس کے پاس کوئی معلومات موجود نہیں۔