آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹرمپ کی ایران کو سخت جواب دینے کی دھمکی، ایرانی فوج کا حملوں کے ذرائع کو نشانہ بنانے کا انتباہ

فاکس نیوز کو ٹیلی فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایرانی کارروائی کے جواب میں سخت کارروائی کرے گا۔ ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی حملے کے لیے خطے کے ممالک کی سرزمین استعمال کی گئی تو تہران ایسے حملوں کے ’ذرائع‘ کو بھی نشانہ بنائے گا۔

خلاصہ

  • وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچ گئے
  • شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس: بشکیک میں ایرانی صدر اور انڈین وزیر اعظم کی ملاقات
  • ایرانی فوج کا اردن کے بعد متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
  • امریکی حکام کے مطابق امریکی افواج نے جزیرہ لارک پر موجود دو ایرانی لانچرز کو نشانہ بنایا ہے
  • جزیرہ لارک پر حملے کے نتائج امریکہ کو معاشی اور عسکری میدان میں بھگتنا پڑیں گے: ترجمان پاسدارانِ انقلاب
  • نیپال کی قومی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 903 ہو گئی ہے جبکہ 4,200 افراد اب بھی لاپتہ ہیں
  • مغربی کنارے میں آبادکاروں کا قُصرہ پر حملہ ’جرائم پر مبنی تشدد‘ قرار: نیتن یاہو کی مذمت

لائیو کوریج

  1. حملوں کے ذرائع کو نشانہ بنائیں گے: ایران کی مسلح افواج کا انتباہ

    ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی حملے کے لیے خطے کے ممالک کی سرزمین استعمال کی گئی تو تہران ایسے حملوں کے ’ذرائع‘ کو بھی نشانہ بنائے گا۔

    جنرل سٹاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض علاقائی ممالک اپنے سابقہ مؤقف کے باوجود امریکہ کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، تاہم وہ ’کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا‘ اور ایسے اقدامات کا ’مزید سخت جواب‘ دے گا۔

    ایرانی فوج کے مطابق گذشتہ رات کی جوابی کارروائیاں بھی اسی پالیسی کے تحت کی گئیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے اتوار کی شب خلیج فارس میں واقع ایرانی جزیرے لارک پر حملے کیے تھے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اس کے جواب میں اردن اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ان حملوں کو ’بغیر جواب‘ نہیں چھوڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس کارروائی کا ’سخت جواب‘ دیا جائے گا۔

  2. اسرائیل اور یونان کے درمیان تین ارب یورو کے دفاعی معاہدے پر دستخط

    اسرائیل اور یونان نے تقریباً 3.5 ارب ڈالر مالیت کے ایک بڑے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان اب تک کا سب سے بڑا اسلحہ معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق ’اخیلس شیلڈ‘ نامی اس معاہدے کے تحت یونان کو اسرائیلی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام فراہم کیا جائے گا، جو بیلسٹک میزائلوں سے لے کر ڈرونز تک مختلف خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل اور یونان کے مشترکہ تزویراتی مفادات ہیں اور دونوں ممالک کو خطے میں یکساں چیلنجز کا سامنا ہے۔

    یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی دفاعی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال اسرائیل نے 19 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا دفاعی سازوسامان برآمد کیا، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔

    ماہرین کے مطابق کئی ممالک اسرائیلی اسلحے میں دلچسپی اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ اسے عملی جنگی حالات میں آزمایا جا چکا ہے اور اس کی کارکردگی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

    یونان اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات

    اسرائیل اور یونان کے درمیان گذشتہ ایک دہائی کے دوران دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم پیر کو طے پانے والا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اب تک کا سب سے اہم دفاعی سمجھوتہ تصور کیا جا رہا ہے۔

    یونان اپنی مسلح افواج کو جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ مشرقی بحیرہ روم میں سمندری حدود سے متعلق تنازعات کے باعث اس کا اپنے ہمسایہ اور نیٹو اتحادی ترکی کے ساتھ طویل عرصے سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔

    اس سے قبل یونان نے اسرائیلی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ 1.65 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت فضائی تربیتی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جبکہ راکٹ لانچرز، اینٹی ٹینک میزائلوں اور ڈرونز کے حصول کے معاہدے بھی کیے جا چکے ہیں۔

    یونانی وزیرِ دفاع نیکوس ڈینڈیاس نے معاہدے پر دستخط کے بعد کہا کہ جدید تنازعات نے دفاع اور عسکری مزاحمت کے روایتی تصورات کو تبدیل کر دیا ہے۔

    ان کے مطابق ٹیکنالوجی، بیلسٹک میزائل، سیٹلائٹ مواصلات، بغیر پائلٹ کے نظام، سائبر خطرات اور ہائبرڈ جنگ جیسے عوامل نے پرانے دفاعی نظریات کو ’مکمل طور پر غیرحقیقی‘ بنا دیا ہے۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق معاہدے میں ڈیوڈز سلنگ اور سپائیڈر سمیت متعدد فضائی دفاعی نظام اور ایک نیا قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم شامل ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 30 ملین ڈالر مالیت کے ایک الگ معاہدے کے تحت رافیل کے ڈرون ڈوم سسٹمز بھی یونان کو فراہم کیے جائیں گے۔

    اسرائیل دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ برآمد کنندہ

    سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی رواں سال جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل عالمی اسلحہ برآمدات میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بن گیا ہے۔

    اسرائیلی دفاعی صنعت کی مجموعی برآمدات میں نصف سے زیادہ حصہ میزائلوں، راکٹوں اور فضائی دفاعی نظاموں کا ہے۔

  3. پنجاب اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا، اپوزیشن کی ترامیم مسترد, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

    پنجاب اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 منظور کر لیا ہے جس کے تحت دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران ججز، پراسیکیوٹرز، تفتیش کاروں اور گواہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

    بل پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امور خالد محمود رانجھا نے ایوان میں پیش کیا، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

    اسمبلی کارروائی کے دوران اپوزیشن کی دو ترامیم بھی منظور نہ ہو سکیں۔ اپوزیشن ارکان کے واک آؤٹ کے باعث ان ترامیم کو مسترد کر دیا گیا۔

    بل کے متن کے مطابق مجوزہ قانون کا مقصد دہشت گردی کے مقدمات میں عدالتی کارروائی کو محفوظ بنانا اور ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی فریم ورک کو مضبوط کرنا ہے۔

    قانون کے تحت انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کو محفوظ ٹیکنالوجی کے ذریعے مقدمات کی سماعت اور دیگر عدالتی کارروائیاں انجام دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ خصوصی سکیورٹی مقدمات میں ویڈیو کانفرنسنگ، الیکٹرانک لنکس اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال کیے جا سکیں گے جبکہ عدالتی کارروائی آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ بھی کی جائے گی۔

    بل میں ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے وائس موڈیفکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

    مجوزہ قانون کے مطابق بعض مقدمات کی سماعت محفوظ مقامات پر کی جا سکے گی اور وہاں رسائی صرف متعلقہ ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز، گواہوں اور دیگر مجاز افراد تک محدود ہوگی۔ سکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کی صورت میں مقدمات جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے بھی چلائے جا سکیں گے۔

    بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ موجودہ قانونی فریم ورک ہائی سکیورٹی مقدمات کی محفوظ سماعت کے لیے ناکافی ہے، اس لیے جدید تقاضوں کے مطابق نئی شقیں متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کے باوجود منصفانہ ٹرائل، انسانی وقار اور شہری آزادیوں سے متعلق آئینی ضمانتیں برقرار رہیں گی۔

    قانون کے تحت حکومت گریڈ 20 یا اس کے مساوی عہدے کے ایک افسر کو خصوصی سکیورٹی مقدمات کے لیے نامزد کرے گی۔ یہ افسر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد اس بات کا تعین کرے گا کہ کون سے مقدمات غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے متقاضی ہیں۔

    نامزد اتھارٹی کو متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری، قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے اور ضروری ہدایات جاری کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے جبکہ اس افسر کی شناخت اور تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی۔

  4. بلوچستان اسمبلی کا تیزاب حملوں کے خلاف سخت قانون سازی کا مطالبہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں تیزاب پھینکنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

    یہ قرارداد خواتین پارلیمانی کاکس کی جانب سے پیش کی گئی، جسے ایوان نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا۔

    قرارداد پیش کرتے ہوئے رکن اسمبلی شاہدہ رؤف نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب حملے کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ صرف ایک فرد پر بہیمانہ حملہ نہیں بلکہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس اور باوقار زندگی کے حق پر بھی سنگین حملہ ہے۔

    قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بلوچستان میں خواتین کے خلاف تیزاب حملوں جیسے سنگین جرائم وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں، تاہم ان کی روک تھام اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے صوبائی سطح پر کوئی جامع اور مخصوص قانون موجود نہیں۔

    شاہدہ رؤف کا کہنا تھا کہ یہی قانونی خلا ایسے گھناؤنے جرائم کے سدباب میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزاب حملے متاثرہ افراد کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی نجی زندگی پر بھی ناقابلِ تلافی اثرات مرتب کرتے ہیں، اس لیے مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے۔

    قرارداد میں بلوچستان حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ موجودہ قوانین کا جائزہ لے کر ضروری ترامیم تجویز کرے یا تیزاب حملوں کی روک تھام کے لیے ایک جامع اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نیا قانون متعارف کرائے۔

    قرارداد کے مطابق مجوزہ قانون میں تیزاب حملوں میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں، متاثرین کے لیے معیاری طبی علاج، پلاسٹک سرجری، نفسیاتی معاونت، قانونی اور مالی امداد کی فراہمی سمیت تیزاب کی خرید و فروخت اور نقل و حمل کے لیے سخت ضابطہ کار شامل کیا جانا چاہیے۔

    بحث کے بعد اسمبلی نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

    واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب حملے کا واقعہ رواں سال جون کے اوائل میں پیش آیا تھا۔ انہیں ابتدائی علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں مزید علاج کے لیے بیرونِ ملک بھیجا گیا۔

  5. مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا تعاون مزید مؤثر بنانے پر اتفاق، مستقل سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا

    ترکی کے شہر استنبول میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں شرکت کی ہے۔

    اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں تینوں ممالک نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اعلامیے کے مطابق پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے بحرانوں کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی کے لیے کشیدگی میں کمی اور تحمل کے فروغ کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    تینوں ممالک نے مکہ معاہدے کے تحت اپنے تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے اقدامات پر بھی اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد باہمی یکجہتی کو مضبوط بنانا، مشترکہ دفاعی صلاحیت کو زیادہ مؤثر بنانا اور علاقائی امن کی کوششوں میں کردار ادا کرنا ہے۔

    اس مقصد کے لیے سعودی عرب میں ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی سیکریٹری جنرل کریں گے۔ اعلامیے کے مطابق ابتدائی تین برس کے لیے سیکریٹری جنرل کا عہدہ پاکستان کے پاس ہوگا۔

    مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک دفاعی صنعت میں تعاون، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور پیداوار، اور مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کے باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

    اعلامیے کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے پر مؤثر اور منظم عملدرآمد کے ذریعے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں کردار ادا کریں گے۔

    مزید تفصیلات کے لیے اس خبر کو پڑھیے۔

  6. لارک جزیرے پر امریکی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی، ایران کا دعویٰ

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق خلیج فارس میں واقع جزیرۂ لارک پر گذشتہ رات ہونے والے امریکی حملے میں زخمی ہونے والا ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا ہے، جس کے بعد سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل قشم کاؤنٹی کے گورنر، جس کے انتظامی دائرے میں لارک جزیرہ بھی شامل ہے، نے دو افراد کے ہلاک اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔

    پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ لارک جزیرے پر امریکی حملے کے نتیجے میں ’متعدد جنگجو اور شہری شہید یا زخمی ہوئے ہیں‘۔

    امریکہ نے اتوار کی شام اعلان کیا تھا کہ اس نے لارک جزیرے پر ایرانی بارودی سرنگیں بچھانے والے دو نظاموں کو نشانہ بنایا ہے۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں اردن اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ لارک جزیرے پر ہونے والی یہ امریکی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج فارس میں تقریباً ایک ماہ سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست حملوں میں نسبتاً وقفہ دیکھا جا رہا تھا۔

  7. آبنائے ہرمز میں ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ غلط ہے: امریکی فوج

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کو غلط قرار دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے والا ایک سپر ٹینکر دو بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد مکمل طور پر رک گیا ہے۔

    حقائق کی جانچ کرنے والوں کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دعویٰ علاقائی تجارتی بحری جہاز رانی کو خوفزدہ کرنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی ایک اور غلط معلوماتی مہم (ڈس انفارمیشن) کا حصہ ہے۔

    حکام کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے اور کسی جہاز کے بارودی سرنگ سے متاثر ہونے کی کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں۔

  8. ایران کے حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اردن میں موجود اپنے فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کا ’سخت جواب‘ دے گا۔

    فاکس نیوز کو ٹیلی فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایرانی کارروائی کے جواب میں سخت کارروائی کرے گا۔ یہ بیان پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے اردن میں واقع دو امریکی فضائی اڈوں، شاہ حسین اور الازرق، کو نشانہ بنایا اور وہاں موجود ’تکنیکی و دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے اور دشمن کے لڑاکا طیاروں کو بھاری نقصان‘ پہنچایا۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز نے گذشتہ رات ایک میزائل کو فضائی دفاعی نظام سے گزرنے دیا کیونکہ وہ کسی ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھا، جبکہ دیگر ایرانی میزائلوں کو مار گرایا گیا۔

    ادھر اردن نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے آٹھ ایرانی میزائل ناکارہ بنا دیے۔

    تاہم امریکی صدر نے کشیدگی کے باوجود سفارتی حل کی امید بھی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ واقعی ہم سے ملنا چاہتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘

    اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سوشل ٹروتھ پر امریکی صدر نے لکھا کہ ’ایران باضابطہ طور پر ایک ناکام ریاست بن چکا ہے۔ وہ ختم ہو چکا ہے! اس کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ، نہ کوئی مؤثر کرنسی۔ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں نہیں دے رہا۔ مہنگائی 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اور اس کی قیادت مکمل انتشار کا شکار ہے اور ملک کی مناسب نمائندگی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔‘

    ٹرمپ کے مطابق ’ان کے پاس صرف امریکہ سے آنے والی فیک نیوز، اپنے ہی مظاہرین کو قتل کرنے کی آمادگی (اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھیں انسانیت کے خلاف جنگی جرائم پر مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے!)، اور بے بنیاد دعووں کی ایک لمبی فہرست ہے۔‘

  9. شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر زور

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے۔

    پاکستانی وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران رواں سال جون میں صدر پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ بھی لیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران اور وہاں ہونے والے رابطوں سے مثبت نتائج کی توقع ہے۔

    بیان کے مطابق وزیراعظم نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تحمل، بردباری اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہبی رشتوں پر قائم ہیں۔ انھوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

    صدر پزشکیان نے مسلم دنیا میں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے انھیں پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔

    بیان کے مطابق ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو دسمبر 2026 میں تہران میں ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

  10. وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں مزید صوبے کے قیام کی تجویز کو مسترد کر دیا, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی

    وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں مزید صوبے بنانے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔‘

    پیر کو صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’لاہور کے تاجر بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کریں گے کہ سندھ کو تقسیم ہونا چاہیے۔ یہ فیصلہ سندھ اسمبلی کے ارکان متعدد بار کر چکے ہیں کہ سندھ کے حصے نہیں ہوں گے، سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔‘

    سندھ کے وزیر اعلیٰ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث چل رہی ہے۔

    مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ نئے صوبے بنانے یا نہ بنانے کا ’ہم فیصلہ کریں گے، نہ کوئی عدالت فیصلہ کرے گی اور نہ ہی سڑکوں پر نکلا ہوا کوئی شخص یہ فیصلہ کرے گا۔‘

    ’فیصلہ اس ایوان میں ہوگا، بحث اس ایوان میں ہوگی۔ فیصلہ یہ ایوان کرے گا اور انشا اللہ ایسا فیصلہ کرے گا کہ جو باقی آوازیں چل رہی ہیں، ان سب کے منھ ہم بند کریں گے۔‘

    سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں پر بحث جاری ہے جو اگلے چند روز تک جاری رہے گی ، جس کے بعد حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے قرار دادا پیش کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے خلاف قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک پانچ قرار دادیں منطور کرچکی ہے۔

    پہلی قرارداد 10 فروری 1948 کو پیش کی گئی، جب کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاق کے حوالے کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ یہ قرارداد قاضی اکبر کی جانب سے جمع کروائی گئی اور محمد اعظم نے اسے ایوان میں پیش کیا۔

    یہ قرارداد اکثریتِ رائے سے منظور ہوئی، لیکن بعد میں کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا۔

    دوسری قرارداد چھ مارچ 1954 کو اپوزیشن لیڈر اور قوم پرست رہنما جی ایم سید نے پیش کی۔ قرارداد میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ کراچی شہر اور اس سے منسلک وفاقی علاقہ دوبارہ سندھ میں شامل کیا جائے۔

    قرارداد میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی وجوہات ناکافی تھیں اور اس فیصلے کے نتیجے میں سندھ حکومت کو دارالحکومت اور آمدنی کے ہونے والے نقصان کا ازالہ بھی نہیں کیا گیا۔

    تیسری قرارداد 25 ستمبر 2014 کو کراچی کی ممکنہ علیحدگی کے خلاف منظور کی گئی۔ یہ قرارداد اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر محمد شہریار خان مہر نے پیش کی تھی اور ایوان نے اکثریتِ رائے سے اسے منظور کیا۔

    چوتھی قرارداد 16 ستمبر 2019 کو منظور کی گئی، جس پر مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اسمبلی ارکان نے دستخط کیے تھے، اس قرارداد کے ذریعے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کردیا گیا تھا۔

    پانچویں قرارداد 21 فروری 2026 کو سندھ اسمبلی نے منظور کی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ اس قرارداد میں کراچی کو سندھ کا تاریخی، آئینی اور انتظامی حصہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کی حیثیت میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

  11. شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات

    پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی ہے۔

    دونوں رہنما اس وقت کرغستان میں موجود ہیں جہاں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ہو رہا ہے۔

    اس سے قبل ایرانی صدر کی انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔

  12. اردن کا آٹھ میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    اردن کے میڈیا نے 31 اگست کو ملک کی مسلح افواج کے ترجمان کے ایک بیان کو نمایاں طور پر شائع کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فضائی دفاعی نظام نے علی الصبح مملکت کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ’آٹھ میزائلوں کو تباہ کر دیا۔‘

    ماضی میں منظر عام پر آنے والے بیانات کے برعکس اس بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ میزائل فائر کس نے کیے اور نہ ہی یہ بتایا کیا کہ ان کا ہدف کونسے علاقے تھے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے 30 اگست کی رات آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے جزیرۂ لارک پر امریکی حملوں کے جواب میں اردن کے کنگ حسین اور الازرق فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے مشترکہ حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں لڑاکا طیاروں کے ہینگرز تباہ کر دیے گئے اور خبردار کیا گیا کہ ’ہر حملے کا جواب اس سے بھی زیادہ تباہ کن کارروائی سے دیا جائے گا۔‘

    ایرانی میڈیا، جن میں سرکاری ریڈیو چینل بھی شامل ہے، نے جنوبی علاقوں میں، بشمول عقبہ کے قریب اور امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے اڈوں کے اطراف، دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات دی تھیں۔

    اردن کی مسلح افواج کے ترجمان نے تصدیق کی کہ تمام میزائلوں کو ’کامیابی کے ساتھ تباہ کر دیا گیا‘ تھا۔

  13. وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچ گئے

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے ہیں۔

    وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق بشکیک پہنچنے پر کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین عادلبیک قاسمالیف نے وزیر اعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔

    چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایک درجن سے زائد دیگر ممالک کے رہنما آج کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دو روزہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

    وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اپنے تین روزہ دورے کے دوران شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرنے والے مختلف ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

    ’ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، تجارت و سرمایہ کاری، علاقائی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔‘

  14. مکہ اتحاد کے پہلے اجلاس سے قبل ترک وزیر دفاع کی پاکستانی ہم منصب اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں

    استنبول میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلے اجلاس سے قبل ترکی کے وزیر دفاع یشار گولر نے اپنے پاکستانی ہم منصب خواجہ آصف اور چیف آف ڈیفینس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کی ہیں۔

    ترکی کی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان ملاقاتوں کی ویڈیوز شیئر کی ہیں۔

    پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق خواجہ آصف اور ترکی کی قیادت نے ملاقاتوں میں باہمی دفاعی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    خیال رہے ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کی جانب سے سات اگست کو قائم کیے گئے مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا اجلاس آج یعنی 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔

    تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور سربراہانِ افواج پر مشتمل سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی اتحاد کے لیے لائحۂ عمل تیار کرے گی اور عسکری امور میں تعاون کے عملی اقدامات کا جائزہ لے گی۔

    ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق، استنبول میں ہونے والے اجلاس میں ترکیہ کی نمائندگی وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان، وزیرِ دفاع یشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بیرقدار اوغلو کریں گے۔

    اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف اور مسلح افواج کے سربراہ و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کریں گے۔

    سعودی عرب کی جانب سے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

  15. شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس: بشکیک میں ایرانی صدر اور انڈین وزیر اعظم کی ملاقات

    کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی ہے۔

    چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایک درجن سے زائد دیگر ممالک کے رہنما آج کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دو روزہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

    روس، چین، انڈیا، پاکستان، ایران، بیلاروس اور وسطی ایشیا کے چار ممالک اس تنظیم کے رکن ہیں، جو اپنے قیام کی 25ویں سالگرہ منا رہی ہے۔

    ولادیمیر پوتن اور شی جن پنگ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاسوں کو کثیر قطبی عالمی نظام کے فروغ اور مغرب کے مقابلے میں متحد محاذ کے اظہار کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

    یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب روس کے یوکرین پر حملے کو ساڑھے چار سال اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کو چھ ماہ گزر چکے ہیں۔

  16. اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی نجی ہسپتال میں علاج کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی ہسپتال میں علاج کی سہولت حاصل کرنے کے لیے دائر تین قیدیوں کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد آصف نے محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کر دیا۔

    اڈیالہ جیل میں قید ان تین قیدیوں نے نجی ہسپتال میں علاج کرانے اور ٹیلی فون پر بیرونِ ملک بات چیت کی سہولت فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔

  17. چین کا سیلاب کی معلومات چھپانے کے الزام پر ردِعمل، ’بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا‘ کی مذمت

    چین نے تباہ کن سیلاب کے بعد معلومات کی شفافیت سے متعلق سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ وہ صورتحال کے بارے میں معلومات ’کھلے، شفاف اور بروقت انداز میں‘ جاری کر رہا ہے۔

    سنیچر کو بی بی سی نے رپورٹ کیا تھا کہ نیپال اور تبت کے درمیان مرکزی سرحدی گزرگاہوں میں سے ایک، گییرونگ پورٹ میں پانی کے تیز بہاؤ سے ہونے والی تباہی کی ڈرامائی ویڈیو کو چین میں سینسر کیا جا رہا ہے۔

    اب تک چین کے سرکاری ٹی وی کے مرکزی نیوز بلیٹن میں اس واقعے کی صرف ایک تصویر نشر کی گئی ہے۔

    پیر کو ایک پریس بریفنگ کے دوران جب ترجمان سے ویڈیو کی مبینہ سینسرشپ کے بارے میں سوال کیا گیا تو چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے کہا کہ ’آفت سے نمٹنے اور امدادی کارروائیاں ہنگامی بنیادوں پر لیکن منظم انداز میں جاری ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’چین کو بدنام کرنے یا صورتحال کو سنسنی خیز بنانے کے لیے آفت کو استعمال کرنے کی کوششوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔‘

  18. ایرانی صدر پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عراقچی بشکیک پہنچ گئے

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے ہیں جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سالانہ سربراہی اجلاس سے خطاب کریں گے۔

    ایرانی صدر سنہ 2026 کے ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دو روزہ دورے پر ہیں۔

    دورے کے دوران مسعود پزشکیان کرغزستان کے صدر صادیر جاپاروف، تاجکستان کے صدر اور انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے ملاقاتیں کریں گے۔

    وہ کرغزستان کے صدر کی دعوت پر چھٹی عالمی نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔

    دورے کے دوسرے روز مسعود پزشکیان ایس سی او اور ایس سی او پلس کے رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ان کے دورے کے ایجنڈے میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ دوطرفہ ملاقات بھی شامل ہے۔

    چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایک درجن سے زائد دیگر ممالک کے رہنما آج کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دو روزہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

    روس، چین، انڈیا، پاکستان، وسطی ایشیا کے چار ممالک اور ماسکو کے اتحادی بیلاروس اس تنظیم کے رکن ہیں، جو اس سال اپنی 25ویں سالگرہ منا رہی ہے۔

    ولادیمیر پوتن اور شی جن پنگ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاسوں کو مغرب کے مقابلے میں متحدہ مؤقف پیش کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

    یہ اجلاس روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے ساڑھے چار سال بعد اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے چھ ماہ بعد ہو رہا ہے۔

    مسعود پزشکیان اور عباس عراقچی اجلاس میں ایران کے اعلیٰ سطحی نمائندے ہیں۔

  19. نیپال کی ڈیزاسٹر ایجنسی کی ہیلی کاپٹرز صرف ہنگامی امدادی کاموں کے لیے مختص رکھنے کی اپیل

    نیپال کی ڈیزاسٹر ایجنسی نے ملک بھر میں جاری بڑے پیمانے کی امدادی کارروائیوں کے دوران ہیلی کاپٹرز کو صرف ریسکیو اور امدادی سامان کی منتقلی کے لیے استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’ہیلی کاپٹرز صرف فوری ضرورت، ریسکیو اور امدادی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کیے جائیں۔‘

    متاثرہ علاقوں کے بڑے حصے تک صرف ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے کیونکہ سیلاب نے کئی رابطہ سڑکیں تباہ کر دی ہیں۔

    تاہم ایجنسی کا کہنا ہے کہ ’متبادل سڑکیں‘ اب کھل رہی ہیں اور جہاں ممکن ہو ان راستوں کو استعمال کیا جانا چاہیے۔‘

  20. متحدہ عرب امارات نے المنہاد ائیربیس پر حملے کی تردید کر دی

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے المنہاد ائیربیس کو نشانہ بنائے جانے کے پاسدارانِ انقلاب کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس حوالے سے میڈیا میں آنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔‘

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کی جانب سے یہ بیان ایکس پر جاری کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اب سے چند گھنٹے قبل ایرانی فوج نے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ’اس نے گذشتہ رات امریکی فورسز کی جانب سے لارک جزیرے پر کیے گئے حملے کے جواب میں متحدہ عرب امارات میں المنہاد ائیربیس پر موجود ’امریکی ہیلی کاپٹروں اور فورسز کے مقام‘ کو درجنوں تباہ کن ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔‘

    تاہم متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ ’ملک کے دفاعی نظام نے اپنی حدود میں داخل ہونے والے ایک ڈرون کو روک لیا گیا ہے۔‘

    متحدہ عرب امارات نے ڈرون کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کیں اور یہ بھی واضح نہیں کیا کہ اسے مار گرایا گیا یا وہ اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

    وزارتِ دفاع نے تاہم زور دیا کہ وہ ’کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار‘ ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’صرف سرکاری ذرائع سے خبریں حاصل کریں اور افواہوں اور غلط معلومات سے گریز کریں۔‘