اسرائیل اور یونان نے تقریباً 3.5 ارب ڈالر مالیت کے ایک بڑے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان اب تک کا سب سے بڑا اسلحہ معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق ’اخیلس شیلڈ‘ نامی اس معاہدے کے تحت یونان کو اسرائیلی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام فراہم کیا جائے گا، جو بیلسٹک میزائلوں سے لے کر ڈرونز تک مختلف خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل اور یونان کے مشترکہ تزویراتی مفادات ہیں اور دونوں ممالک کو خطے میں یکساں چیلنجز کا سامنا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی دفاعی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال اسرائیل نے 19 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا دفاعی سازوسامان برآمد کیا، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق کئی ممالک اسرائیلی اسلحے میں دلچسپی اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ اسے عملی جنگی حالات میں آزمایا جا چکا ہے اور اس کی کارکردگی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
یونان اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات
اسرائیل اور یونان کے درمیان گذشتہ ایک دہائی کے دوران دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم پیر کو طے پانے والا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اب تک کا سب سے اہم دفاعی سمجھوتہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یونان اپنی مسلح افواج کو جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ مشرقی بحیرہ روم میں سمندری حدود سے متعلق تنازعات کے باعث اس کا اپنے ہمسایہ اور نیٹو اتحادی ترکی کے ساتھ طویل عرصے سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔
اس سے قبل یونان نے اسرائیلی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ 1.65 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت فضائی تربیتی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جبکہ راکٹ لانچرز، اینٹی ٹینک میزائلوں اور ڈرونز کے حصول کے معاہدے بھی کیے جا چکے ہیں۔
یونانی وزیرِ دفاع نیکوس ڈینڈیاس نے معاہدے پر دستخط کے بعد کہا کہ جدید تنازعات نے دفاع اور عسکری مزاحمت کے روایتی تصورات کو تبدیل کر دیا ہے۔
ان کے مطابق ٹیکنالوجی، بیلسٹک میزائل، سیٹلائٹ مواصلات، بغیر پائلٹ کے نظام، سائبر خطرات اور ہائبرڈ جنگ جیسے عوامل نے پرانے دفاعی نظریات کو ’مکمل طور پر غیرحقیقی‘ بنا دیا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق معاہدے میں ڈیوڈز سلنگ اور سپائیڈر سمیت متعدد فضائی دفاعی نظام اور ایک نیا قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم شامل ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 30 ملین ڈالر مالیت کے ایک الگ معاہدے کے تحت رافیل کے ڈرون ڈوم سسٹمز بھی یونان کو فراہم کیے جائیں گے۔
اسرائیل دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ برآمد کنندہ
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی رواں سال جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل عالمی اسلحہ برآمدات میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بن گیا ہے۔
اسرائیلی دفاعی صنعت کی مجموعی برآمدات میں نصف سے زیادہ حصہ میزائلوں، راکٹوں اور فضائی دفاعی نظاموں کا ہے۔