پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں پولیس نے رات گئے اڈیالہ روڈ پر سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ
انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب
سے عمران خان کی ان کی بہنوں سے ملاقات نہ کروائے جانے کے خلاف دیا گیا دھرنا ختم
کروا دیا۔
مقامی پولیس کے مطابق، مظاہرین کو منتشر کرنے
کے لیے لاٹھی چارج کے ساتھ ساتھ واٹر کینن کا بھی استعمال کیا گیا جس کی زد میں سابق
وزیر اعظم عمران خان کی بہنیں بھی آئیں۔
پولیس کا کہنا ہے
کہ 15 سے زائد کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
دھرنے کے مقام سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا
ہے کہ پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر
کینن استعمال کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ ویڈیوز میں پولیس کو مظاہرین پر لاٹھی چارج کرتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ مظاہرین بظاہر پولیس سے بچنے کے لیے گلیوں کی جانب بھاگتے نظر آ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ منگل کے روز سابق وزیر اعظم کی بہنوں نے اپنے بھائی سے ملاقات نہ کروانے پر اڈیالہ جیل سے کچھ فاصلے پر دھرنا دیا تھا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں منگل کے روز بھی ان کے بھائی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان صحت مند ہیں، اب انھیں ذہنی تشدد کے لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے جو غیرآئینی اور غیرقانونی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں قانون کے مطابق عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دیں تو پھر یہاں احتجاج ختم ہو جائے گا۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ ایلس جِل ایڈورڈز نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ حراست کے دوران غیر انسانی اور ناروا سلوک کی خبروں کے متعلق فوری اور موثر کارروائی کرے۔
اقوامِ متحدہ کی نمائندہ خصوصی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 26 ستمبر 2023 کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے بعد سے عمران خان کو مبینہ طور پر حد سے زیادہ قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں انھیں دن میں 23 گھنٹے ان کے سیل میں رکھا جاتا ہے جبکہ بیرونی دنیا تک ان کی رسائی بھی انتہائی محدود ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’بنا کسی تاخیر کے [عمران] خان کی قید تنہائی ختم کی جائے۔‘