کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن کے باہر لوگ بڑی تعداد میں جمع ہیں۔ یہاں لوگ اپنے پیاروں
کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کبھی ایک گیٹ تو کبھی دوسرے دفتر کی طرف
جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک میاں بیوی اپنے دو بچوں سمیت اس بھیڑ میں موجود ہیں۔ خاتون نے مجھے بتایا کہ
ان کے دیور یعنی ان کے شوہر کے بھائی بھی اس جعفر ایکسپریس میں سوار تھے اور ابھی
ہمیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے اور نہ کوئی ہمیں اس بارے میں کچھ بتا رہا ہے۔
یہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی کو بھی ریلوے سٹیشن کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور نہ کوئی کسی سرکاری دفتر کا رخ کر سکتا ہے۔ یہاں
کرفیو جیسا سماں ہے۔
یہاں ریلوے سٹیشن کے داخلی دروازے پر انفارمیشن ڈیسک کا چارٹ ضرور آویزاں کیا گیا ہے مگر عوام کا داخلہ مکمل طور پر بند ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایف سی اور ریلوے پولیس کے اہلکار ادھر کا رخ کرتے ہیں اور یہاں پلیٹ فارم سے صحافیوں کو کبھی ایک کونے تو کبھی دوسرے کونے کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
ریلوے سٹیشن پر ایک ٹرین کھڑی ہے اور مجھے ایک سینیئر ریلوے اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم نے یہاں سے بڑی تعداد میں تابوت لے کر جانے ہیں۔
کچھ خیراتی اداروں کی طرف سے بھی تابوت یہاں لائے گئے ہیں۔ یہاں پر کھڑی ایک مسافر ٹرین کی پانچ بوگیوں میں یہ تابوت رکھے جا رہے ہیں۔ ابھی تک یہاں 60 سے 70 تابوت لائے گئے ہیں۔
اگرچہ یہاں سے زیادہ ٹرینیں تو نہیں چلتیں مگر عام طور پر پھر بھی اس چھوٹے سے ریلوے سٹیشن پر بہت رش لگا رہتا ہے۔ یہ کوئٹہ شہر کے لیے تفریح کا بھی مقام ہے۔ مگر اب عوام کو یہاں سے دور رکھا جا رہا ہے۔
اس ریلوے سٹیشن کے قریب ہی ریلوے کالونی ہے۔ میں یہاں اس ریلوے پولیس اہلکار کے گھر گیا۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں 20 سے 25 لوگ بیٹھے ہیں اور وہ سب کو اس حادثے کی تفصیلات بتا رہے ہیں۔
ریلوے سٹیشن پر لواحقین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ سب پریشانی کے عالم میں ہیں۔ سوگوار ماحول ہے۔ ہر کوئی اچھی خبر سننے کا منتظر ہے۔
مگر یہاں تو کسی کو بھی صحیح معلومات نہیں مل رہی ہیں۔ ریلوے حکام کی طرف سے مسافروں کی فہرستیں بھی نہیں دی جا رہی ہیں۔
عبدالروف دوسرے دن اپنے والد کا نام دیکھنے یہاں ریلوے سٹیشن پر پہنچے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب ان کی تفتیش مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ ان کے والد شدید بیمار بھی ہیں۔ یہی پریشانی ہے کہ ان حالات میں اب ان کی حالت کیا ہوگی؟
کوئٹہ کو آنے اور یہاں سے جانے والی ٹرینیں دوسرے روز سے معطل ہیں۔ آج یہاں دو بجے کے بعد ایک ریلیف ٹرین روانہ ہوئی ہے جس پر بڑی تعداد میں تابوت ہیں۔ ابھی تک حکام نے ہلاکتوں کے بارے میں حتمی تعداد نہیں بتائی ہے۔