آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

3 دسمبر 2024شہباز شریف کا ’دھرنوں میں نقصان پر‘ سزائیں دینے کا حکم، کارکنان کی ہلاکت پر عمران خان کا وزیر اعظم پر الزام

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں 24 نومبر کو ہونے والے دھرنے میں فسادات کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ ٹاسک فورس کے اجلاس میں دھرنوں میں قانون پامال کرنے والوں کو سخت سزا دینے کے احکامات جاری کیے۔ وہیں دوسری جانب اڈیالہ جیل میں عمران خان نے اپنے وکلا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’26 نومبر کو پی ٹی آئی کے کارکُنان پر ہونے والے مظالم کے خلاف شہباز شریف اور محسن نقوی کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے۔‘

خلاصہ

  • خصوصی ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے دھرنوں میں ’قانون پامال کرنے والوں‘ کو سخت سزا دینے کے احکامات جاری کیے۔
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان نے اپنے وکلا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’26 نومبر کو پی ٹی آئی کے کارکُنان پر ہونے والے مظالم کے خلاف شہباز شریف اور محسن نقوی کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے۔‘
  • لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں نو مئی کو کور کمانڈر ہاؤس میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعے کے بعد درج ہونے والے مقدمے میں نامزد سات افراد کو منگل کے روز بے گناہ قرار دے دیا گیا۔
  • آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ قوم کی حمایت سے ملک کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
  • اسرائیل کا لبنان کے جنوبی حصے پر ’جوابی حملہ‘، لبنانی وزارت صحت نے نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔

لائیو کوریج

  1. مظاہرین اگر مسلح ہوتے تو پولیس، رینجرز اہلکاروں کو بھی گولیوں کے زخم آتے: ترجمان وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا

    وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین مسلح ہوتے تو دوسری طرف کے لوگوں کو بھی گولیوں کے زخم آنے چاہیے تھے۔ ’پوسٹ مارٹم رپورٹ ہونی چاہیے کہ فلاں فلاں بندے کو گولی لگی ہے، فلاں پولیس اہلکار یا رینجرز کو۔ لیکن یہاں تو ایک ہی طرف گولیاں چل رہی ہیں۔‘

    اتوار کی شب نجی ٹی چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اسلحے میں شاید جعلی کارتوس تھے کہ وہ نہیں کام کر رہا تھا لیکن ان کا اسلحہ کام کر رہا تھا۔

    اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے اس احتجاج میں تربیت یافتہ مسلحہ افغان شہری اور دیگر شرپسند عناصر موجود تھے۔ مظاہرین جدید اسلحہ اور آنسو گیس کے شیل چلانے میں ماہر تھے۔

    جب بیرسٹر سیف سے وزیرِ اطلاعات کے اس دعویٰ کے بارے میں پوچھا گیا کہ اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید بھی موجود تھے تو ان کا کہنا تھا کہ ’مراد سعید اگر ان کو نظر آیا ہے تو مراد سعید کو پکڑ لیتے۔ کس نے ان کو روکا تھا۔‘

    ’وہ اگر اسلام آباد پہنچ گیا تھا تو وہاں سے گرفتار کیوں نہیں ہوا اور وہاں سے بھاگا کیوں؟‘

    وفاقی وزیرِ اطلاعات نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مراد سعید خیبر پختونخوا کے چیف منسٹر ہاؤس میں روپوش ہیں لیکن وزیراعلی ہاؤس پر چھاپہ مارنا اچھا نہیں لگتا۔ بیرسٹر سیف نے اینکر جواب دیتے ہوئے کو کہا کہ ’آپ خود آکر چیف منسٹر ہاؤس میں رہیں اور دیکھ لیں، اگر آپ کو نظر آجائے تو عطااللہ تارڑ کو بتادیں کہ آکر لے جائے۔‘

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے جن چند رہنماؤں نے روپوشی اختیار کی تھی ان میں مراد سعید نے بھی شامل ہیں۔

    اس سوال پر کہ کیا پی ٹی آئی کے احتجاج میں افغان باشندے شامل تھے، ان کا کہنا تھا کہ افغان باشندے اپنے ملک میں بھی در بدر ہیں اور یہاں بھی جو جرم ہوتا ہے ہم اس کا الزام ان پر لگا دیتے ہیں۔ ’اگر ہمارے پاس ورکر نہیں تھے اور حکومت کو پتا تھا کہ ہم کرائے پر افغان باشندوں کو لے آرہے ہیں تو پھر آپ کو ڈرنے کی کیا ضرورت تھی اور پورے اسلام آباد کو کنٹینرستان کیوں بنایا ہوا تھا؟‘

    جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ آیا ان کی اور پی ٹی آئی چیئر مین بیرسٹر گوہر علی خان کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ہونے والی ملاقات کے دوران عمران خان نے سنگجانی کے مقام پر احتجاج پر رضامندی ظاہر کردی تھی، تو بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ جب ہم نے عمران خان بتایا کہ ڈی چوک جانا مناسب نہیں کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں رینجرز اور پولیس تعینات ہے اور حکومت کی جانب سے آفر ہے کہ سنگجانی میں جلسہ کر لیں تو عمران خان نے اس کی اجازت دے دی تھی۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ جلوس میں موجود قیادت میں اس پر اتفاق نہ ہو سکا۔ ’وہاں جو بھی ہوا وہ پارٹی کا ایسا فیصلہ تھا جو پارٹی نے ان حالات میں کیا۔‘

    بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو فون کر کے بتایا کہ خان صاحب مان گئے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ آپ لوگ ڈی چوک کے بجائے سنگجیانی میں جلسہ کریں۔

    ان کے مطابق بعد ازاں رات میں عمران خان کی وزیراعلی کے پی سے فون پر بات ہوئی جس میں انھوں اس بات کی تصدیق کی کہ انھوں نے ڈی چوک کی جگہ سنگجیانی میں جلسہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ تاہم ڈاکٹر سیف کے مطابق تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔

  2. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کی فوج کا کہنا ہے سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے دو مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک اور نو کو زخمی کر دیا ہے جبکہ اس دوران فوج کے ایک کیپٹن سمیت دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
    • اتوار کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بڑا افسوس ہوتا ہے کہ اب ڈیڈ باڈی کی سیاست کی جا رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں کی انتظامیہ کے مطابق تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران یہاں کوئی لاشیں نہیں لائی گئی ہیں۔
    • پاکستان کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے گولیاں اور بارودی مواد استعمال نہیں کیا۔
    • امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سابق معاون کاش پٹیل کو فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کی سربراہی کے لیے منتخب کیا ہے۔ وہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران امریکی محکمہ دفاع کے چیف آف سٹاف تھے۔
  3. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔