آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’صوبے، وسائل یا اپنے لوگوں کا حق مانگو تو ظلم کا سامنا کرنا ہو گا، یہ جرگہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے‘ علی امین گنڈاپور

ضلع خیبر میں پشتون تحفظ موومنٹ کا جرگہ جاری ہے۔ اتوار کو وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا، 'صوبے، وسائل یا اپنے لوگوں کا حق مانگو تو ظلم کا سامنا ہوگا۔ یہ جرگہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔'

خلاصہ

  • کراچی میں سول سوسائٹی کی جانب سے رواداری مارچ اور تحریک لبیک پاکستان کا بھی اسی مقام پر ریلی کا فیصلہ سامنے آنے پر پولیس نے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر متعدد افراد گرفتار کیے ہیں۔
  • صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے کوہستان کے ضلع کوالئی پالس میں فریقین میں تصادم پر کم از کم چار افراد ہلاک اور چار زخمی ہوچکے ہیں۔
  • خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب وسطی اور شمالی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 29 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • لبنان میں اسرائیلی افواج کے فضائی حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے

لائیو کوریج

  1. پشتون تحفظ موومنٹ کے جرگے میں شرکا کی آمد کا سلسلہ جاری, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    خیبر پختون حوا کے ضلع خیبر میں پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے بلائے گئے جرگے کے لیے کیے جانے والے انتظامات پایہ تکمیل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق اس جرگے میں ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں لوگ آئے ہوئے ہیں۔

    پی ٹی ایم کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس جرگے کے سلسلے میں ضلع خیبر میں 80 کیمپ لگائے جانے ہیں جن میں 45 کیمپس اضلاع کے لیے مختص ہیں اور ان میں ان کے نمائندے موجود ہوں گے۔

    پی ٹی ایم کے مطابق 35 کیمپس سیاسی جماعتوں، مختلف تنظیموں اور دیگر شعبہ جات کے سربراہان کے لیے بھی ہوں گے۔

    واضح رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ نے 11 اکتوبر کو ضلع خیبر کے ایک بڑے میدان میں ’پشتون قومی جرگہ‘ یا عدالت کے انعقاد کا اعلان کر رکھا تھا تام جمعے کے روز باوجوہ وہ شروع نہ ہو سکا تھا۔

  2. کرم میں تصادم اور فائرنگ کے واقعات: کم از کم 11 افراد ہلاک, محمد زبیر خان، صحافی

    پاکستان افغانستان بارڈر پر واقع ضلع کرم میں اپر کرم کے علاقے میں ایک بار پھر تصادم اور فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اپر کرم پولیس کے مطابق فائرنگ اور تصادم کا پہلا واقعہ گزشتہ روز تھانہ روضہ کی حدود مقبل کے پہاڑی علاقے کنج علیزئی اور اس کے بعد دوسرا واقعہ بھی تھانہ روضہ کی حدود میں آج صبح پیش آیا، جس میں مسافر گاڑیوں کے قافلے پر حملہ کیا گیا۔

    اس قافلے میں پشاور اور مقبل کے علاقے سے مسافر پارہ چنار کی طرف سفر کررہے تھے۔

    پولیس کے مطابق مسافروں کے قافلے پر ’اندھا دھند‘ فائرنگ کی گئی۔ قافلے میں متعدد مسافر اور نجی گاڑیاں شامل تھیں۔

    یاد رہے کہ ضلع کرم میں ہر قسم کے سفر کے لیے پولیس سکیورٹی میں مسافر قافلوں کی صورت میں سفر کرتے ہیں۔

    مقبل کے علاقے کنج علیزئی کے پہاڑ پر فائرنگ کے واقعہ کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کچھ لوگ مبینہ طور پر شکار کے لیے ان پہاڑوں پر گئے تھے۔

    ضلع کرم میں گذشتہ تین ماہ کے دوران اس نوعیت کے واقعات تیسری مرتبہ پیش آئے ہیں اور گذشتہ واقعات میں بھی بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔

    فائرنگ کے حالیہ واقعات کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے جبکہ سکیورٹی فورسز صدہ بائی پاس اور مقبل کے پہاڑی علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔

    ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں دونوں واقعات کے نو زخمیوں کو پہنچایا گیا تھا جس میں سے ایک زخمی ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا جبکہ 10 لاشیں ہسپتال میں پہنچائی گئیں تھیں۔

    اس سے قبل ستمبر کے آخری ہفتے میں ہونے والی قبائلی جھڑپیں معمولی مورچے کی تعمیر کے تنازعے پر شروع ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ضلع میں چار مقامات پر آٹھ مختلف قبائل کے درمیان شروع ہو گئی تھی۔

    یاد رہے کہ ضلع کرم کا شمار ملک کے قدیم ترین قبائلی علاقوں میں ہوتا ہے۔ غیر منقسم ہندوستان میں انگریز دورِ حکومت کے دوران 1890 کی دہائی میں اس قبائلی علاقے کو باقاعدہ طور پر آباد کیا گیا اور اس کے بعد یہاں زمینوں کی تقسیم شروع ہوئی۔

    ضلع کرم اہم کیوں ہے؟

    پاکستان کی شمال مغربی سرحد پر واقع ضلع کرم کا جغرافیہ اور اس کی آبادی اسے منفرد بناتے ہیں۔ یہ پاکستان کا واحد قبائلی ضلع ہے جہاں آبادی کی اکثریت کا تعلق اہل تشیع سے ہے۔

    پاکستان کے نقشے پر کرم کو تلاش کریں تو آپ کو علم ہو گا کہ یہ ضلع تین اطرف سے افغانستان جبکہ ایک جانب پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس کے جغرافیہ کی وجہ سے ہی کرم کو کسی زمانے میں ’پیرٹس بیک‘ یعنی ’طوطے کی چونچ‘ کہا جاتا تھا اور افغانستان میں سویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران اس ضلع کی سٹریٹیجک اہمیت میں اسی وجہ سے اضافہ ہوا۔

    کرم پاکستان کے کسی بھی شہر کے مقابلے میں افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قریب ترین ہے لیکن یہ افغانستان میں خوست، پکتیا، لوگر اور ننگرہار جیسے صوبوں کی سرحد پر بھی واقع ہے جو شیعہ مخالف شدت پسند تنظیموں داعش اور تحریک طالبان پاکستان کا گڑھ ہیں۔

    اسی طرح اس علاقے میں جیش محمد اور سپاہ صحابہ جیسی کالعدم شدت پسند تنظیموں کی موجودگی بھی ہے۔ ضلع کرم کا صدر مقام پاڑہ چنار ہے جہاں آبادی کی اکثریت اہلِ تشیع مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔

    پاڑہ چنار پاکستان کے دیگر علاقوں سے صرف ایک سڑک کے راستے جڑا ہوا ہے جو لوئر کرم میں صدہ کے علاقے سے گزرتی ہے جو سنی اکثریت آبادی پر مشتمل ہے۔

    ’کرم‘ کا لفظ دریائے کرم سے منسوب ہے جو ضلع کے اطراف سےگزرتا ہے۔ یہ ضلع تین حصوں میں تقسیم ہے یعنی اپر کرم، سینٹرل اور لوئر کرم۔ اس علاقے کو کوہ سفید کے بلند و بالا پہاڑی سلسلہ افغانستان سے جدا کرتا ہے جو تقریبا سارا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔

  3. پشتون تحفظ موومنٹ کے جرگے کی تیاریاں عروج پر، رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    ضلع خیبر میں پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے بلایا گیا جرگہ تاحال شروع نہیں ہوا تاہم اس حوالے سے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں لوگ اس جرگے میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ہیں۔

    میدان میں ہر ضلعے اور علاقے کے لوگوں کا الگ کیمپ بنایا گیا ہے۔

    جرگے میں آنے والے بیشتر لوگوں نے سرخی علامتی ٹوپی پہن رکھی ہے۔ یہاں پختون قوم پرستی سے متلعق کتابیں بھی فروخت کی جا رہی ہیں۔

    وزیرستان سے کچھ لوگ یہاں پیدل پہنچے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ساتھ شامل لوگ 76 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے آئے ہیں۔

    ان افراد کا کہنا ہے کہ پولیس نے انھیں جگہ جگہ روکنے کی کوشش کی تاہم وہ اپنے حق کے تحفظ کے لیے یہاں پہچنے ہیں۔ ان کے مطابق وہ سات سو کے قریب لوگ روانہ ہوئے تھے تاہم اب تک صرف چار سو لوگ پہنچ پائے ہیں۔

    جرگے کے مقام پر سکرینز لگا دی گئی ہے۔ جرگے کے قائدیین ابھی پہنچ رہے ہیں۔ جرگے میں آنے والے افراد میں نوجوانوں اور طلبا کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔

    واضح رہے کہ رہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پشتونوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) پر وفاقی حکومت کی جانب سی پابندی عائد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ تنظیم ’ریاست مخالف سرگرمیوں‘ میں ملوث ہے۔

    وفاقی حکومت نے نہ صرف پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیا بلکہ اس تنظیم سے وابستہ افراد کے نام فورتھ شیڈول میں بھی ڈال دیے ہیں۔

    حکومت کی جانب سے تنظیم پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات پر پی ٹی ایم نے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے ہیں۔

    ’پشتون قومی جرگہ‘ میں کیا ہونا ہے؟

    ابتدائی طور پر پی ٹی ایم کی جانب سے تقریباً تین ماہ پہلے اس جرگے کا اعلان کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اس جرگے میں پشتون اقوام، اضلاع ، سیاسی جماعتیں اور یہاں تک کہ مختلف تنظیمیں بھی شرکت کریں گی۔

    پی ٹی ایم کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس جرگے کے سلسلے میں ضلع خیبر میں 80 کیمپ لگائے جانے ہیں جن میں 45 کیمپس اضلاع کے لیے مختص ہوں گے جہاں ان کے نمائندے موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ 35 کیمپس سیاسی جماعتوں، مختلف تنظیموں اور دیگر شعبہ جات کے سربراہان کے لیے ہوں گے۔

    اس جرگے کے شیڈول کے مطابق پہلے روز ایک بڑی سکرین پر پشتونوں کے خلاف گذشتہ برسوں میں جو مبینہ کارروائیاں یا مظالم ہوئے ہیں، جنگوں سے جو نقصانات ہوئے اور اس کے علاوہ متاثرہ افراد کی کہانیاں، ویڈیوز اور دستاویزی شواہد دکھائے جائیں گے۔

    دوسرے دن بند کمرے میں بااثر شخصیات ان مسائل پر غور و فکر کریں گے اور پہلے دن جو دیکھا گیا اس پر روشنی ڈالیں گے۔ اس دن کے دوران ہر کیمپ سے ایک نمائندہ منتخب کیا جائے گا جو جرگے کے آئندہ کے لائحہ عمل پر اپنے رائے دے سکے گا۔

    تیسرے دن منتخب نمائندگان حلف اٹھائیں گے اور آئندہ کے ایجنڈے اور لائحہ عمل کو تیار کریں گے۔ اس دن کا اختتام قومی عدالت جرگہ کے نتائج اور مستقبل کے لیے بنائے گئے لائحہ عمل کے باقاعدہ اعلان سے ہوگا۔

  4. جبالیہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 20 افراد ہلاک

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طبی عملےنے بتایا ہے کہ جمعے کی رات جبالیہ پر کیے جانے والے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

    میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں ایم ایس ایف کے پروجیکٹ کوآرڈینیٹر سارہ ویولسٹیکے کا کہنا ہے کہ ’کسی کو بھی اندر یا باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔‘

    کیمپ میں پھنسے ایم ایس ایف کے ڈرائیور حیدر کا کہنا ہے کہ ’میں یہاں رکنے پر خوف زدہ ہوں یہاں سے جانے سے بھی ڈر رہا ہوں۔‘

    اسرائیلی افواج نے ایک ہفتہ قبل اس علاقے میں کارروائی کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد حماس کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعے کے روز غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں 61 افراد ہلاک ہوئے۔

    غزہ کی وزارت صحت کا ہسپتال میں ایندھن کی فوری فراہمی کا مطالبہ

    گذشتہ روز غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کی جانب سے جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے کمال ادوان ہسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ کے لیے ایندھن کی فوری درخواست کی گئی تھی۔

    ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں وزارت صحت نے کہا کہ اسے ’بہت دیر ہونے سے پہلے زخمیوں اور بیماروں کی زندگیاں بچانے کے لیے ایندھن کی ضرورت ہے۔‘

    اس ہفتے کے اوائل میں فلسطینی طبی عملے نے کہا تھا کہ انھوں نے قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں اور دیگر مریضوں کو ہسپتال سے دور منتقل کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ اسرائیلی فوجیوں اور ٹینکوں نے اسے گھیرے میں لے رکھا ہے۔

    وزارت صحت نے شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں اسرائیل کے تازہ ترین حملوں پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  5. ماہ رنگ بلوچ کے خلاف ملک میں انارکی پھیلانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج: ’یہ ہمیں ڈرانے کی بوگس کوشش ہے‘

    کراچی کے ایک شہری نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن اور لاپتہ بلوچوں کے لیے احتجاجی مارچ کی قیادت کرنے والی ماہ رنگ بلوچ کے خلاف ملک میں بدامنی پھیلانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کروایا ہے۔

    اس ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی ’پڑھے لکھے مرد و خواتین کو ورغلا کر نامعلوم مقامات پر پناہ دینے کے بعد سکیورٹی اداروں پر الزامات لگا کر سنگین نوعیت کی دھمکیاں دیتے اور ہمارے انصاف کے ایوانوں میں ان اداروں کو نیچا دکھانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔‘

    درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ ’اس طرح کے کردار پڑوسی ملک کے دشمن عناصروں کے مکمل رابطوں میں ہیں اور اُن کی ایما اور فنڈنگ سے (انھوں نے) آئے روز ہمارے ملک کے مختلف شہروں اور شاہراہوں پر دھرنے دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔‘

    ایف آئی آر میں الزام ہے کہ ’بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں مرد و خواتین کو روشن مستقبل کا جھانسا دے کر انھیں ورغلایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں خاص طور پر غیر بلوچوں کی بلوچستان میں آمد ورفت کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ’دوسرے علاقوں سے بلوچستان جانے والے مزدورں کو قتل کر دیا جاتا ہے اور پھر اس کا الزام ریاست پر ڈالنے کی کوششیں کی جاتی ہے تاکہ ملک میں انارکی پھیلے اور ریاست کے لیے لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا ہو۔‘

    ایف آئی آر میں ماہ رنگ بلوچ کو نامزد کر کے دعوی کیا گیا ہے کہ وہ ’اپنی ریلیوں میں جھتوں کی شکل میں دہشت گردوں کو شہروں تک لائی ہیں اور وہ باآسانی حساس جگہوں کی ریکی کرتے ہیں اور حملے کرواتے ہیں۔‘

    ’یہ صرف ہمیں ڈرانے کی کوشش ہے‘

    اپنے خلاف ایف آئی آر پر ردِ عمل میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے ماہ رنگ بلوچ کا کہنا ہے کہ ایسا تمام سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو دیوار سے لگانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

    ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’یہ سب ہمیں بین الاقوامی سطح پر پہچان ملنے کے بعد ہمیں مقصد سے ہٹانے اور ڈرانے کی ایک بوگس کوشش ہے۔ ‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میرا پاسپورٹ چھینے جانے پر میری ایف آئی درج نہیں کی گئی۔ لیکن الٹا مجھ پر ایف آئی آر درج کی گئی۔‘

    یاد رہے کہ ماہ رنگ بلوچ کا کہنا ہے کہ انھیں ٹائمز میگزین کی جانب سے بااثر خواتین میں شامل کیے جانے کی تقریب میں شرکت کے لیے جانے سے روکا گیا۔

    ان کے مطابق کراچی ایئر پورٹ پر انھیں پرواز میں سوار نہیں ہونے دیا گیا جہاں پہلے انھیں یہ کہا گیا کہ ان کا ویزہ ویلڈ نہیں تاہم بعد میں بتایا گیا کہ انھیں سفر کی اجازت نہیں۔

    ماہ رنگ بلوچ کا الزام ہے کہ ایئر پورٹ سے واپسی پر راستے میں پولیس کی جانب سے ان کی گاڑی روکی گئی اور ان سے ان کا پاسپورٹ لے لیا گیا جو اب تک واپس نہیں کیا گیا ہے۔

  6. بریکنگ, شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے قبل راولپنڈی سمیت پنجاب کے 13 اضلاع میں دفع 144 نافذ

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مزید 5 اضلاع میں فوری طور پر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی، جس کے تحت ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، احتجاج اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی ہوگی۔

    اس سے پہلے آٹھ اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔

    محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابقیہ پابندی 3 دن کے لیے ہے اور اس کا اطلاق 12 اکتوبر سے سوموار 14 اکتوبر تک ہوگا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ’سکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے، امن وامان کےقیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔‘

    واضح رہے حکومت پنجاب نے پہلے ہی جڑواں شہر راولپنڈی میں 8 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔

    حکام کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کا مقصد اسلام آباد میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کو محفوظ بنانا ہے، اس لیے راولپنڈی میں بھی سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے، احتجاج سمیت تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

  7. ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی بوئنگ کا 17 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا عندیہ

    ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی بوئنگ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی افرادی قوت کے دسویں حصے کی کٹوتی کر رہا ہے جس سے 17,000 ملازمتیں کم ہوں گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سے پیداوار میں تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ وہ اپنے کاروباری مسائل سے نمٹ رہی ہے۔

    چیف ایگزیکٹیو کیلی اورٹبرگ نے عملے کو ایک ای میل میں کہا کہ ’ایگزیکٹوز، مینیجرز اور ملازمین‘ کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔

    یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کاروبار اپنے طیاروں کے معیار کے بارے میں عملے کی ہڑتال اور بڑھتے ہوئے خدشات سے نبرد آزما ہے۔

    مسٹر اورٹبرگ نے ای میل میں کہا کہ کمپنی ’آنے والے مہینوں میں اپنے ملازمین کی تعداد میں کمی کرے گی۔ ‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے کاروبار کی حالت اور مستقبل کی بحالی کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ ملازمتوں میں کٹوتی کے ساتھ ساتھ کمپنی اپنے 777 ایکس کی پیداوار میں بھی تاخیر کر رہی ہے جس کی وجہ ہمیں ترقی میں درپیش چیلنجز کے ساتھ ساتھ فلائٹ ٹیسٹ کے تعطل اور جاری کام کی بندش ہے، جو کئی ہفتوں سے جاری ہڑتال کے باعث ہے۔‘

    انھوں نے کہا، ’ہم نے صارفین کو مطلع کیا ہے کہ اب ہم 2026 میں پہلی ڈلیوری کر پائیں گے۔‘

    بوئنگ میں یونین کی ایک ماہ سے جاری ہڑتال متنازع ہو گئی ہے کیونکہ تقریبا 33,000 ملازمین نے بہتر تنخواہ کے پیکیج کا مطالبہ کیا ہے۔

    عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی نے بوئنگ کو کریڈٹ واچ پر ڈال دیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر ہڑتال ختم ہوتی ہے تو وہ ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی کی درجہ بندی کو کم کر سکتے ہیں۔

    کمپنی جنوری کے ایک واقعے کے بعد پہلے ہی کانگریس کی جانچ کے دائرے میں تھی جس کے دوران ایک خرابی کی وجہ سے بوئنگ 737 میکس جیٹ کا پینل اڑان بھرنے کے فورا بعد پھٹ گیا تھا۔

    وئنگ کے اس وقت کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو کلہون کا کہنا تھا کہ کمپنی اپنی غلطی تسلیم کر رہی ہے۔

  8. انڈیا: چنئی میں مسافر ٹرین کو حادثہ، تیرہ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں

    انڈیا کے شہر چنئی میں جمعے کی رات ایک مسافر ٹرین کھڑی مال بردار ٹرین سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے میں مسافر ٹرین کی 13 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔

    خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق اس ٹرین حادثے میں اب تک 19 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

    اس کے علاوہ اس حادثے میں ایک ڈبے میں بھی آگ لگ گئی۔ مسافر ٹرین میسور سے دربھنگہ کی طرف جارہی تھی۔ اس واقعے پر تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے سٹالن نے ایک ٹویٹ میں لکھا، ’حکومت امدادی کام تیزی سے کام کر رہی ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ گھر واپس آنے والے دیگر مسافروں کے لیے کھانے اور سفری سہولیات کا بندوبست کرنے کے لیے ایک الگ ٹیم کام کر رہی ہے۔ میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہا ہوں۔‘

    ایک مسافر نے بتایا کہ ’ہم ٹرین میں تھے کہ اچانک آواز آئی جب ہم نے ٹرین سے باہر دیکھا تو بوگیاں الٹ گئیں۔ باہر نکل کر دیکھا کہ کمپارٹمنٹ میں بھی آگ لگی ہوئی تھی۔‘

    حادثے کے بعد ٹرین کے روٹ کو بحال کرنے کا کام بھی تیزی سے کیا جا رہا ہے۔

    سدرن ریلوے کے جنرل منیجر آر این سنگھ نے کہا، ’ٹرین کا سٹیشن پر کوئی سٹاپ نہیں تھا، اس ٹرین کو چنئی سے نکلنے کے بعد گرین سگنل دیا گیا تھا۔ ڈرائیور نے بھی درست طریقے سے سگنل پر عمل کیا لیکن ٹرین کو مین لائن سے گزرنا تھا لیکن وہ لوپ لائن پر چلی گئی جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔‘

    مسافروں کو متبادل ٹرینوں کے ذریعے ان کی منزل پر پہنچا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حادثے کی وجہ سے کچھ ٹرینوں کا رخ بھی موڑ دیا گیا ہے۔

  9. تحریک انصاف کا 15 اکتوبر کو ڈی چوک پر احتجاج کا اعلان، حکومتی وزرا کا سخت ردعمل

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے 15 اکتوبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ایس سی او کے اجلاس کے دوران ’شرپسند عناصر کو رخنہ ڈالنے کا موقع نہیں ملے گا۔‘

    تحریک انصاف کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق ’تحریک انصاف کی پولیٹکل کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کے اگر عمران خان صاحب تک فوری رسائی نہیں دی جاتی تو اسلام آباد میں 15 اکتوبر کو پورا پاکستان پہنچے گا۔ پنجاب میں جاری تمام احتجاج موخر کیے جاتے ہیں۔ کارکنان اسلام آباد کی تیاری کریں۔‘

    خیال رہے کہ عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے بے دخلی کے بعد سے کئی مقدمات کا سامنا ہے اور وہ فی الحال اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس خوش اسلوبی سے ہوگا اور اس دوران ’شرپسند عناصر کو رخنہ ڈالنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ہم مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایس سی او میں شامل 12 ملکوں کے سربراہان آ رہے ہیں۔ ’پاکستان کی عزت و تکریم میں بین الاقوامی سطح پر اضافہ ہوگا اور ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی پاکستان کے لیے اعزاز ہے۔‘

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’سازشی ذہنیت والوں کو گھر بیٹھ کرسکون کرنا چاہیے۔ سکیورٹی انتظامات مکمل ہیں، فوج، رینجرز اور پولیس تعینات ہے۔‘

    ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے احتجاج کی کال کو ’پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کڑی‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایس سی او اجلاس کے دوران ’ہم ملک کو یرغمال بننے نہیں دیں گے۔‘

    ایس سی او اجلاس کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد میں 17 اکتوبر تک فوج تعینات کی گئی ہے۔

  10. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کے اگر اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان تک فوری رسائی نہیں دی جاتی تو اسلام آباد میں 15 اکتوبر کو پورا پاکستان پہنچے گا۔
    • پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے پختونوں کے حقوق کے لیے سرکردہ کالعدم تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کو مذاکرات کے بعد جمرود میں ’قومی جرگے‘ کا انعقاد کرنے کی اجازت ملنے کے باوجود جرگہ پہلے روز شروع نہیں ہو سکا ہے۔
    • امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں امن دستوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ اس سے قبل فرانس، اٹلی اور سپین کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ایسے حملے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور انسانی حقوق کے تحت ’سنگین خلاف ورزی‘ ہیں اور یہ ’غیر منصفانہ ہیں اور انھیں فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔‘