پاکستان افغانستان بارڈر پر واقع ضلع کرم میں اپر کرم کے علاقے میں ایک بار پھر تصادم اور فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اپر کرم پولیس کے مطابق فائرنگ اور تصادم کا پہلا واقعہ گزشتہ روز تھانہ روضہ کی حدود مقبل کے پہاڑی علاقے کنج علیزئی اور اس کے بعد دوسرا واقعہ بھی تھانہ روضہ کی حدود میں آج صبح پیش آیا، جس میں مسافر گاڑیوں کے قافلے پر حملہ کیا گیا۔
اس قافلے میں پشاور اور مقبل کے علاقے سے مسافر پارہ چنار کی طرف سفر کررہے تھے۔
پولیس کے مطابق مسافروں کے قافلے پر ’اندھا دھند‘ فائرنگ کی گئی۔ قافلے میں متعدد مسافر اور نجی گاڑیاں شامل تھیں۔
یاد رہے کہ ضلع کرم میں ہر قسم کے سفر کے لیے پولیس سکیورٹی میں مسافر قافلوں کی صورت میں سفر کرتے ہیں۔
مقبل کے علاقے کنج علیزئی کے پہاڑ پر فائرنگ کے واقعہ کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کچھ لوگ مبینہ طور پر شکار کے لیے ان پہاڑوں پر گئے تھے۔
ضلع کرم میں گذشتہ تین ماہ کے دوران اس نوعیت کے واقعات تیسری مرتبہ پیش آئے ہیں اور گذشتہ واقعات میں بھی بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔
فائرنگ کے حالیہ واقعات کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے جبکہ سکیورٹی فورسز صدہ بائی پاس اور مقبل کے پہاڑی علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔
ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں دونوں واقعات کے نو زخمیوں کو پہنچایا گیا تھا جس میں سے ایک زخمی ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا جبکہ 10 لاشیں ہسپتال میں پہنچائی گئیں تھیں۔
اس سے قبل ستمبر کے آخری ہفتے میں ہونے والی قبائلی جھڑپیں معمولی مورچے کی تعمیر کے تنازعے پر شروع ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ضلع میں چار مقامات پر آٹھ مختلف قبائل کے درمیان شروع ہو گئی تھی۔
یاد رہے کہ ضلع کرم کا شمار ملک کے قدیم ترین قبائلی علاقوں میں ہوتا ہے۔ غیر منقسم ہندوستان میں انگریز دورِ حکومت کے دوران 1890 کی دہائی میں اس قبائلی علاقے کو باقاعدہ طور پر آباد کیا گیا اور اس کے بعد یہاں زمینوں کی تقسیم شروع ہوئی۔
پاکستان کی شمال مغربی سرحد پر واقع ضلع کرم کا جغرافیہ اور اس کی آبادی اسے منفرد بناتے ہیں۔ یہ پاکستان کا واحد قبائلی ضلع ہے جہاں آبادی کی اکثریت کا تعلق اہل تشیع سے ہے۔
پاکستان کے نقشے پر کرم کو تلاش کریں تو آپ کو علم ہو گا کہ یہ ضلع تین اطرف سے افغانستان جبکہ ایک جانب پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس کے جغرافیہ کی وجہ سے ہی کرم کو کسی زمانے میں ’پیرٹس بیک‘ یعنی ’طوطے کی چونچ‘ کہا جاتا تھا اور افغانستان میں سویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران اس ضلع کی سٹریٹیجک اہمیت میں اسی وجہ سے اضافہ ہوا۔
کرم پاکستان کے کسی بھی شہر کے مقابلے میں افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قریب ترین ہے لیکن یہ افغانستان میں خوست، پکتیا، لوگر اور ننگرہار جیسے صوبوں کی سرحد پر بھی واقع ہے جو شیعہ مخالف شدت پسند تنظیموں داعش اور تحریک طالبان پاکستان کا گڑھ ہیں۔
اسی طرح اس علاقے میں جیش محمد اور سپاہ صحابہ جیسی کالعدم شدت پسند تنظیموں کی موجودگی بھی ہے۔ ضلع کرم کا صدر مقام پاڑہ چنار ہے جہاں آبادی کی اکثریت اہلِ تشیع مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔
پاڑہ چنار پاکستان کے دیگر علاقوں سے صرف ایک سڑک کے راستے جڑا ہوا ہے جو لوئر کرم میں صدہ کے علاقے سے گزرتی ہے جو سنی اکثریت آبادی پر مشتمل ہے۔
’کرم‘ کا لفظ دریائے کرم سے منسوب ہے جو ضلع کے اطراف سےگزرتا ہے۔ یہ ضلع تین حصوں میں تقسیم ہے یعنی اپر کرم، سینٹرل اور لوئر کرم۔ اس علاقے کو کوہ سفید کے بلند و بالا پہاڑی سلسلہ افغانستان سے جدا کرتا ہے جو تقریبا سارا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔