آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی کا حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان: ’ہم نے کب کہا کہ جوڈیشل کمیشن نہیں بنائیں گے‘: عرفان صدیقی کا ردعمل

پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف حکومتی کمیٹی کے رکن سینیٹر عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کے اعلان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’ہم نے کب کہا کہ جوڈیشل کمیشن نہیں بنائیں گے۔‘

خلاصہ

  • پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے 10 مغوی ملازمین کو بازیاب نہ کروائے جانے کے خلاف لکی مروت میں احتجاج، مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کرکے خیبرپختونخوا سے پنجاب کو ملانے والی لکی مروت میانوالی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا
  • خبر رساں ادارے روئٹرز کےمطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ سعودی عرب امریکہ میں اپنی سرمایہ کاری کو وسعت دیتے ہوئے اگلے چار سال کے دوران اسے 600 ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتا ہے۔
  • سعودی عرب امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور تجارت کرے گا: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی صدر ٹرمپ کو یقین دہانی
  • صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو خبردار کیا ہے کہ وہ یا تو یوکرین میں جاری اپنی ’نامعقول جنگ‘ ختم کریں یا پھر نئی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں

لائیو کوریج

  1. نوشکی میں معدنیات سے لدے ٹرکوں پر مسلح افراد کا حملہ, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد نے معدنیات سے لدے تین ٹرکوں پر حملہ کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نوشکی امجد سومرو نے بتایا کہ حملہ نوشکی شہر سے کچھ فاصلے پر پولیس کی انتظامی حدود میں ہوا۔

    ان کے مطابق معدنیات سے لدے تینوں ٹرک چاغی سے کوئٹہ کی جانب جارہے تھے۔ جب یہ ٹرک منگل کی شب نوشکی شہر سے کچھ فاصلے پر پہنچے تو نامعلوم مسلح افراد نے ان پر حملہ کر دیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ حملہ آوروں نے دو ٹرکوں کو نذر آتش کیا جس کے باعث انھیں زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

    اس سے قبل 11 جنوری کو بھی نوشکی کے علاقے بدل کاریز کراس پر نامعلوم افراد نے معدنیات سے بھرے تین ٹرکوں پر حملہ کر کے ان کو نقصان پہنچایا تھا۔

    منگل کی شب ہونے والے حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم 11 جنوری کے حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

    یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس طرز کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس سے قبل بھی چاغی سے معدنیات لے جانے والی ٹرکوں پر قلات اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں حملے ہوتے رہے ہیں۔

  2. سات اکتوبر حملہ روکنے میں ناکامی پر اسرائیلی فوج کے سربراہ مستعفیٰ: ’فوج شہریوں کے تحفظ میں ناکام رہی‘

    اسرائیلی فوج کے سربراہ نے سات اکتوبر کو حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر استعفی دے دیا ہے۔

    وزیرِ دفاع کو بھیجے گئے خط میں، لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حالوی نے تسلیم کیا کہ اسرائیلی ڈیفینس فورس اسرائیلی شہریوں کی حفاظت میں ناکام رہی ہے۔

    ’اپنی ذمہ داری نہ نبھانے پانے کا یہ احساس ہر روز، ہر گھنٹے میرے ساتھ ہے، اور باقی زندگی بھی میرے ساتھ رہے گا۔‘

    جنرل حالوی کا کہنا ہے کہ چھ مارچ کو اسرائیلی فوج کی ’اہم کامیابیوں‘ کے موقع پر اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

    انھوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اسرائیل کے تمام جنگی مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکے ہیں۔

    انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل 7 اکتوبر کے واقعات کے بارے میں آئی ڈی ایف کی انکوائری مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انکوائری ’اعلیٰ درجے کی، جامع اور شفاف‘ ہوگی۔

    جنرل حالوی کے استعفے کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی فوج کے سدرن کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل یارون فنکل مین نے بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

    جنرل فنکل مین کا کہنا تھا کہ وہ ’مغربی نیگیو اور اس کے بہادر باشندوں کی حفاظت کے اپنے فرض‘ میں ناکام رہے تھے۔

    یہ دونوں استعفے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ بندے معاہدے کے نفاذ کے تین روز بعد سامنے آئے ہیں۔

    حماس کے سات اکتوبر کے حملے سے قبل اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس حکام کو اس بارے میں متعدد اطلاعات ملی تھیں اس کے باوجود وہ اس حملے کو روکنے میں ناکام رہے۔ اس حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک جبکہ 250 کے قریب کو اغوا کر لیا گیا۔

    اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملہ کردیا۔ تقریباً 15 ماہ جاری رہنے والی اس جنگ میں 47 ہزار سے زائد فلسطینی مارے گئے۔

  3. پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے دو بینکوں سے ایک ارب قرض ملے گا: وزیر خزانہ

    پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دو بینکوں کے ساتھ چھ سے سات فیصد سود پر ایک ارب ڈالر قرض دینے پر اتفاق ہوا ہے۔

    انھوں نے یہ بیان ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے دوران خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے دیا۔

    محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ دو اداروں کے ساتھ ٹرم شیٹ پر دستخط ہوئے ہیں جن میں سے ایک کا مقصد باہمی اور دوسرے کا تجارت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ قلیل مدتی قرض ایک سال تک کے لیے ہیں۔

    اگست میں سٹیٹ بینک کے سربراہ نے کہا تھا کہ اگلے مالیاتی سال تک مشرق وسطیٰ کے کمرشل بینکوں سے چار ارب ڈالر حاصل کیے جائیں گے۔

    محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان ریٹنگ ایجنسیوں سے بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ بی ریٹنگ مل سکے اور انھیں آئندہ مہینوں کے دوران مثبت پیشرفت کی امید ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’میں چاہوں گا کہ ہمارا مالیاتی سال ختم ہونے تک اس سمت میں کوئی پیشرفت ہو۔‘

    اگست میں موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کر کے سی اے اے ٹو کر دی تھی اور میکرو اکمنامک حالات میں بہتری تسلیم کی تھی۔ فِچ نے آئی ایم ایف معاہدے کے بعد جولائی میں ریٹنگ بہتر کر کے سی سی سی پلس کی تھی۔

    پاکستان نے ستمبر 2024 کے دوران آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر قرض منظور کرایا تھا جس پر پہلی نظر ثانی فروری کے اواخر میں ہوگی۔

    دریں اثنا پاکستانی وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے پانچ سے چھ ماہ میں اچھی پیشرفت ہوگی۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 20 سے 24 جنوری تک جاری رہنے والے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے دوران ’مختلف ممالک اور عالمی اداروں کے سیاسی، تجارتی و کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔‘

    وہ فورم کے دوران ’ترقی پذیر معیشتوں پر عالمی قرضوں کے بڑھتے بوجھ کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی مذاکرے میں بطور پینلسٹ شریک ہوں گے۔‘

  4. ’مفرور‘ ملک ریاض کے دبئی پراجیکٹ میں سرمایہ کاری منی لانڈرنگ ہوگی: نیب کی تنبیہ

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے لوگوں کو ’تنبیہ‘ کی ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے دُبئی میں شروع ہونے والے نئے پراجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں کیونکہ ایسے کسی بھی اقدام کو ’منی لانڈرنگ‘ تصور کیا جائے گا۔

    منگل کو جاری ایک بیان میں نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملک ریاض اس وقت ’عدالتی مفرور‘ کی حیثیت سے دبئی میں مقیم ہیں اور انھوں نے وہاں ایک نیا پراجیکٹ شروع کیا ہے۔

    ’عوام الناس کو اس حوالے سے تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ مذکورہ پراجیکٹ کے اندر کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری سے اپنے آپ کو دور رکھیں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کا یہ قعل منی لانڈرنگ کے زمرے میں آئے گا۔‘

    نیب کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیرِ تفتیش ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’نیب کے پاس اس بات کے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کرچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں نہ صرف سرکاری بلکہ نجی اراضی پر بھی ناجائز قبضہ کر کے بغیر اجازت نامے کے ہاؤسنگ سوسائیٹیز قائم کی ہیں اور وہ لوگوں سے دھوکہ دہی کے ذریعے بھاری رقم وصول کر رہے ہیں۔‘

    نیب کے بیان کے مطابق ملک ریاض 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عدالت اور نیب دونوں کو مطلوب ہیں اور ان کو مفرور قرار دیا گیا ہے۔

    یہ وہی کیس ہے جس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو 14 برس اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سات سال قید کی سزا سُنائی ہے۔

    عدالت نے اس مقدمے میں ملک ریاض کی کی مسلسل عدم پیشی پر انھیں گرفتار کرنے اور ان کے ملک میں موجود اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔

    اس حوالے سے بحریہ ٹاؤن یا ملک ریاض کی جانب سے کوئی بیان نہیں جاری کیا ہے۔ تاہم گذشتہ برس راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن کے دفاتر پر چھاپوں کے بعد ملک ریاض نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ: ’ملک ریاض وعدہ معاف گواہ نہیں بنے گا۔ جو چاہے مجھ پر ظلم کرو۔‘

  5. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا باقاعدہ مکین بنتے ہی ٹرمپ نے اپنے نئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بہت سی ایگزیکٹو سمریوں، صدارتی یادداشتوں اور پالیسی ترجیحات سے متعلق درجنوں حکمناموں پر دستخط کیے ہیں۔
    • چئیرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت ہے کہ اگر حکومت نو مئی کے واقعات سے متعلق تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیتی ہے تو اسی صورت میں حکومتی مشاروتی کمیٹی کے ساتھ ہونے والی چوتھی ملاقات میں شرکت ہو گی۔
    • ترکی کے شہر بولو کے گرینڈ کارٹل ہوٹل میں میں آگ لگنے سے 66 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہو گئے ہیں۔
    • پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں 11 جنوری کو ہلاک ہونے والے ایک عسکریت پسند کی شناخت محمد خان خیل کے نام سے ہوئی ہے جو کہ ایک افغان شہری تھا اور پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث تھا۔
  6. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔