آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

بنوں چھاؤنی میں دو بم دھماکے: ہلاکتوں کی تعداد 12 ہو گئی، 32 زخمی

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں چھاؤنی کے علاقے میں دو بم دھماکوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے جبکہ 32 افراد زخمی ہیں۔

خلاصہ

  • صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں چھاؤنی کے علاقے میں دو بم دھماکوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے جبکہ 30 افراد زخمی ہیں۔
  • کینیڈا ، چین اور میکسیکو پر ٹیرف کا اطلاق ہو گیا ہے لیکن امریکی صدر اب مزید اشیا اور ممالک ٹیکس لگانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
  • وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ یوکرین کو دی جانے والی عسکری امداد روک رہا ہے۔
  • جرمنی کے شہر مینہیم کے مرکزی علاقے میں ایک گاڑی کو ہجوم پر چڑھانے کے واقعے کے باعث دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
  • پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے مطابق بلوچستان کے ضلع قلات میں ایف سی کے قافلے پر خودکش حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, قلات میں ایف سی کے قافلے پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک: پولیس کو ’خاتون خودکش بمبار‘ کے ملوث ہونے کا شبہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے مطابق بلوچستان کے ضلع قلات میں ایف سی کے قافلے پر خودکش حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔

    حملہ قلات کے علاقے مغلزئی کے قریب قومی شاہراہ پر اس وقت ہوا جب وہاں سے ایف سی کا قافلہ گزر رہا تھا۔

    قلات پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس علاقے سے گزرنے والی سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کے قریب ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

    پولیس اہلکار اور قلات انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملے میں خاتون خود کش بمبار ملوث تھی لیکن تاحال اس کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اور کسی عسکریت پسند گروہ کی جانب سے بھی تاحال اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ بلوچستان میں جاری حالیہ شورش کے دوران سنہ 2022 سے خواتین کو بھی بطور خودکش بمبار استعمال کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون شاری بلوچ نے اپریل 2022 میں خود کش حملہ کیا تھا جس میں چینی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    اس کے بعد سمیعہ بلوچ نے جون 2023 میں سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر خود کش حملہ کیا تھا۔ گذشتہ سال اگست میں لسبیلہ شہر میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر ایک اور خاتون کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔

    قلات کہاں واقع ہے؟

    قلات بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب میں اندازاً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    اس ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ اس ضلع کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہیں۔ گذشتہ ماہ کے اوائل میں ضلع کے علاقے منگیچر میں عسکریت پسندوں کے حملے میں 18 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جبکہ فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 12عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے تھے۔

    چند روز قبل منگیچر بازار میں بلوچستان کے ضلع چاغی سے معدنیات لے جانی والی گاڑیوں کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    اگرچہ قلات بم دھماکوں، سکیورٹی فورسز پر حملوں اور سنگین بدامنی کے واقعات طویل عرصے سے پیش آ رہے ہیں تاہم سرکاری حکام اس بات پر مصر ہیں کہ ماضی کے مقابلے میں حکومتی اقدامات سے سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہے۔

  2. اسرائیل: حیفہ میں چاقو حملے میں ایک ہلاک اور چار زخمی، ’حملہ آور اسرائیلی دروز شہری ہے‘ پولیس

    اسرائیل کے شہر حیفہ میں چاقو کے حملے میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق شمالی اسرائیل کے شہر حیفہ کے ایک بس سٹیشن پر چاقو کے حملے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے ہیں جبکہ اسرائیلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ مجرم کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

    اسرائیلی ایمبولینس سروس نے کہا ہے کہ ایک 70 سالہ شخص ہلاک ہو گئے جبکہ باقی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    اسرائیلی پولیس کے مطابق حملہ آور دروز فرقے سے تعلق رکھنے والا اسرائیلی شہری ہے جو حال ہی میں بیرون ملک سے واپس آیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں میں ایک مرد اور ایک خاتون جن کی عمر تیس سال ہے اور ایک پندرہ سالہ لڑکا شامل ہیں۔

    غزہ کی پٹی میں حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی معاہدے کے 19 جنوری کو نافذ ہونے کے بعد اسرائیل میں یہ پہلا ایسا حملہ ہے۔

  3. مغربی اتحاد کے ’ٹکڑے ٹکڑے‘ ہونے کا آغاز ہو چکا ہے: کریملن, وٹالی شیوچینکو بی بی سی مانیٹرنگ کے روسی ایڈیٹر

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوو نے ایک پریس کال کے دوران بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین میں فوجی آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام اہداف پورے نہیں کر لیے جاتے۔

    انھوں نے یوکرین کے ساتھ کسی ممکنہ امن منصوبے کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کوئی ’منظم‘ یا ’جاری‘ منصوبہ ہمارے ایجنڈا پر نہیں ہے۔

    انھوں نے مغربی ممالک کے درمیان بڑھتی خلیج کے بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغربی اتحاد میں اب اتحاد کم نظر آ رہا ہے۔ مغربی اتحاد کی ٹکڑے ٹکڑے کا آغاز ہوگیا ہے اور مختلف ممالک اور گروہوں کے نظریات تبدیل ہو رہے ہیں۔

    بظاہر گذشتہ روز لندن میں یوکرین سمٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کچھ ممالک کا گروپ اب بھی موجود ہے جو بظاہر جنگ چاہتے ہیں۔۔۔ یہ ملک یوکرین کی جنگ جاری رکھنے میں حمایت کر رہے ہیں اور انھیں فوجی کارروائیوں کے رسد فراہم کر رہے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے اضافی ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر یوکرین کے لیے پانچ ہزار سے زیادہ ایئر ڈیفنس میزائل کی خریداری کے لیے مختص کیے۔ یہ یوکرین کو برطانیہ کی جانب سے فراہم کی گئی دو اعشاریہ دو ارب ڈالر کی عسکری امداد کے علاوہ ہے۔

  4. مری میں بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری، تین انچ برفباری ریکارڈ

    پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے اور کل سے شروع ہونے والے برفباری کے سلسلے میں اب تک تین انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق مری میں تین انچ تک برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں تک مزید بارش و برفباری کے امکانات ہیں۔

    تاہم ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق جدید مشنری کی مدد سے مری کی شاہراہوں پر موجود برف کو ہٹایا جا رہا ہے اور علاقے کی اہم اور مصروف شاہراہوں پر مشینری اور سٹاف موجود ہے۔

    برفباری اور سرد موسم کے باعث سیاحوں کے آمد کے لیے مری کی تمام شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھلی ہیں جبکہ ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے مری انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات کی ہیں۔

    ریلیف کمشنر پنجاب کا کہنا ہے کہ شہری موسم کی صورت حال کا جائزہ لے کر سفر پر نکلیں۔

  5. فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کا معاملہ: مقدمات ملٹری سے انسداد دہشت گردی کی عدالت منتقل ہو تو ٹرائل کہاں سے شروع ہو گا؟

    سپریم کورٹ میں عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے مقدمے میں ملزمان کی حوالگی سے متعلق وکیل کے دلائل پر جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ مقدمات ملٹری کورٹ سے انسداد دہشت گردی کی عدالت منتقل ہوں تو ٹرائل کہاں سے شروع ہو گا؟

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں عام شہریوں کے ملٹری ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی جس میں سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیے۔

    عدالت میں دلائل دیتے ہوئے فیصل صدیقی نے کہا سوال یہ نہیں کہ 105ملزمان کو ملٹری ٹرائل کے لیے منتخب کیسے کیا، معاملہ یہ ہے کہ کیا قانون ملٹری ٹرائل کی اجازت دیتا ہے؟

    جسٹس امین الدین نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی ریکارڈ کا معاملہ ہے، کیا آپ نے آرمی ایکٹ کے سیکشن 94 کو چیلنج کیا ہے؟

    جس پر وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا ملزمان کی حوالگی کے وقت جرم کا تعین نہیں ہوا تھا، سیکشن 94 کے لامحدود صوابدیدی اختیار کو بھی چیلنج کیا ہے۔

    یاد رہے کہ سنہ 2023 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائلز سے متعلق آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

    پیر کے روز اس فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران ایڈوکیٹ فیصل صدیقی نے کہا کہ کمانڈنگ افسر سیکشن 94 کے تحت حوالگی کی درخواست دیتا ہے، ملزمان کی ملٹری حوالگی کا فیصلہ کرنے والے افسر کے اختیارات لامحدود ہیں جب کہ پاکستان میں وزیر اعظم کا اختیار لامحدود نہیں ہے۔ ملزمان کی حوالگی کے اختیارات کا سٹریکچر ہونا چاہیے۔

    اس پر جسٹس حسن اظہر نے سوال کیا کہ کیا پولیس کی تفتیش آہستہ اور ملٹری کی تیز تھی؟ کیا ملزمان کی حوالگی کے وقت مواد موجود تھا؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ مواد کا ریکارڈ پر ہونا نہ ہونا مسئلہ نہیں، ساری جڑ ملزمان حوالگی کا لامحدود اختیار ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا انسداد دہشتگردی عدالت حوالگی کی درخواست مسترد کر سکتی ہے؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا عدالت کو ملزمان کی حوالگی کی درخواست مسترد کرنے کا اختیار ہے اس پر جسٹس امین الدین نے کہا یہ دفاع تو ملزمان کی جانب سے انسداد دہشتگردی عدالت یا اپیل میں اپنایا جا سکتا تھا۔

    یہ بھی پڑھیے

    جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ کیا عدالت نے ملزمان کو نوٹس کیے بغیر کمانڈنگ افسر کی درخواست پر فیصلہ کر دیا تھا؟

    اس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ سیکشن 94 کا اطلاق ان ملزمان پر ہو گا جو آرمی ایکٹ کے تابع ہیں،انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے بعد ملزمان آرمی ایکٹ کے تابع ہو گئے، انسداد دہشت گردی کی عدالت کمانڈنگ افسر کی درخواست کو مسترد بھی کر سکتی تھی۔

    وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیے کہ کورٹ مارشل کرنے کا فیصلہ ملزمان کی حوالگی سے قبل ہونا تھا، اگر کورٹ مارشل کا فیصلہ نہیں ہوا تو ملزمان کی حوالگی کیسے ہو سکتی ہے؟

    جسٹس حسن اظہر نے سوال کیا کہ کیا کمانڈنگ افسر کی درخواست میں حوالگی کی وجوہات بتائی گئیں؟ فیصل صدیقی نے کہا کمانڈنگ افسر کی درخواست میں کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔

    اس موقع پر جسٹس نعیم اختر نےکہا کہ ملزمان حوالگی کی درخواست میں وجوہات بتائی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ ملزمان پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے جرائم ہیں۔

    جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت شکایت کےاندراج کا طریقہ ضابطہ فوجداری میں واضح ہے، شکایت مجسٹریٹ کے پاس جاتی ہے، مجسٹریٹ بیان ریکارڈ کرکے فیصلہ کرتا ہےکہ تفتیش ہونی چاہیے یا نہیں۔

    فیصل صدیقی نے دلائل دیے کہ درخواست مقدمہ کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درخواست وفاقی حکومت ہی دے سکتی، کوئی پرائیویٹ شخص آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درخواست نہیں دے سکتا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ مقدمات ملٹری کورٹ سے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل ہوں تو ٹرائل کہاں سے شروع ہوگا ؟ کیا ٹرائل ملٹری ٹرائل کے ریکارڈ شواہد سے شروع ہوگا؟

    جسٹس امین الدین نے سوال کیا پاسٹ اینڈ کلوز ٹرانزیکشن کی دلیل سے ملٹری ٹرائل کی توثیق نہیں ہو جائے گی؟

    اس پر ایڈوکیٹ فیصل صدیقی نے کہا ملٹری ٹرائل کو سپریم کورٹ میں آرٹیکل 245 کے اطلاق کی وجہ سے چیلنج کیا، جسٹس امین الدین نے کہا نو مئی کو تو آرٹیکل 245 نہیں لگا تھا، جب درخواستیں دائر کیں تب آرٹیکل 245 لگ چکا تھا۔

    بعد ازاں آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

  6. اسرائیل کی جانب سے غزہ میں امداد بند کرنے پر عرب ممالک اور اقوام متحدہ کی مذمت

    متعدد عرب ریاستوں اور اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں امداد بند کرنے کے اقدام کی مذمت کی ہے۔

    مصر اور قطر نے کہا کہ اسرائیل کے اتوار کے اقدام نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، جب کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ٹام فلیچر نے اسے ’تشویشناک‘ قرار دیا ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ اقدام اس لیے اٹھایا کیونکہ حماس یہ امداد چوری کر رہی ہے اور اسے اپنی جنگجؤوں کو دے رہی ہے۔

    انھوں نے فلسطینی گروہ (حماس) پر غزہ میں جنگ بندی میں توسیع کی امریکی تجویز کو مسترد کرنے کا الزام بھی لگایا، جس کی میعاد سنیچر کے روز ختم ہو گئی۔ اسرائیل نے کہا کہ اس نے اس تجویز کی منظوری دے دی تھی۔

    حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی کی جانب سے ناکہ بندی ’بلیک میل کرنے کے اوچھے ہتھکنڈے ہیں اور یہ جنگ بندی کے معاہدے کے خلاف ہے۔

    جنگ بندی کے معاہدے نے حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان 15 ماہ سے جاری لڑائی کو روک دیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت تقریباً 1,900 فلسطینی قیدیوں اور زیر حراست افراد کے لیے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی اجازت دی گئی۔

    اتوار کو ایک بیان میں قطر کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ’وہ اسرائیلی اقدام‘ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور یہ جنگ بندی کے معاہدے اور عالمی انسانی ہمدردی کے قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مصر کی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ بھوک کو فلسطینیوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    یاد رہے کہ مصر اور قطر دونوں نے جنگ بندی کے معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔

    دریں اثنا سعودی عرب نے بھی اس اقدام کی مذمت کی ہے۔

  7. یوکرین اب بھی امریکہ کے ساتھ معدنیات کا معاہدہ کرنے کو تیار ہے: صدر زیلنسکی

    یوکرین کے صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین اب بھی امریکہ کے ساتھ معدنیات کا معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

    یوکرینی صدر نے بی بی سی کی نامہ نگار کی جانب سے پوچھے گئے سوال کہ کیا صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک غیر معمولی اور تلخ ملاقات کے باوجود وہ امریکہ کے ساتھ مثبت بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

    اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں صرف چاہتا ہو کہ یوکرین کا موقف سنا جائے، ہم اپنے ساتھیوں سے چاہتے ہیں کہ وہ یاد رکھیں اس جنگ کو شروع کرنے والا کون ہے۔‘

    جب امریکہ اور یوکرین کے درمیان تعلقات پہلی بار ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے روس کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے سے کشیدہ ہوئے تو معدنیات کے معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعلقات کی طرف ایک قدم بڑھانا تھا۔

    مگر گذشتہ ہفتے امریکی صدر کے اوول دفتر میں میڈیا نمائندوں کے سامنے زیلنسکی، ٹرمپ اور امریکی نائب صدر وینس کے درمیان ملاقات میں تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد زیلنسکی کو بنا معاہدے پر دستخط کیے وہاں سے چلے جانے کا کہا گیا تھا۔

    زیلنسکی کا یہ بیان امریکی سیکرٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے اس بیان کے بعد آیا ہے کہ ’کسی بھی امن معاہدے کے بنا کوئی معاشی معاہدہ ہونا نا ممکن ہے۔‘

    امریکی سیکرٹری خزانہ نے کہا تھا کہ زیلنسکی نے ’ان معاملات اور ترتیب کو بگاڑ دیا ہے‘ کہ کیسے معدنیات اور سکیورٹی سے متعلق معاہدوں کو آگے لے کر بڑھا جائے گا۔ انھوں نے اس بارے میں عوام کے سامنے بات کرنا پسند کی جبکہ ان معاملات کو بند کمروں میں طے کرنا چاہیے تھا۔

    اتوار کو لندن میں یورپی رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ان کی حالیہ تلخ ملاقات کا فائدہ نہ امریکہ اور نہ ہی یوکرین کو پہنچے گا بلکہ اس کا فائدہ صرف پوتن کو ہو گا۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر انھیں دوبارہ مدعو کیا گیا تو وہ وائٹ ہاؤس جائیں گے۔

  8. جب تک جنگ جاری ہے یوکرین کو فوجی امداد جاری اور روس پر معاشی دباؤ بڑھایا جائے گا: یورپی رہنماؤں کا اتفاق

    لندن میں منعقد یورپی ممالک کے رہنماؤں کے اہم اجلاس میں یوکرین کی حمایت اور سلامتی کے حوالے سے جائزے کے بعد طے پایا کہ جب تک روس یوکرین جنگ جاری ہے یوکرین کے لیے فوجی امداد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

    برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے یوکرین کی حمایت اور جنگ بندی کے حوالے سے برطانوی وزیر اعظم کی جانب سے پیش کیے گئے ایک منصوبے پر اتفاق کیا ہے جسے امریکہ کے ساتھ زیر بحث لایا جائے گا۔

    اجلاس میں طے پایا کہ یوکرین کے دفاع اور وہاں امن کی ضمانت کے لیے ’مرضی کے حامل ممالک کا اتحاد‘ قائم کیا جائے گا جبکہ برطانیہ یوکرین کو نئے میزائیلوں کی خریداری کے لیے 1.6 ارب پاؤنڈز دے گا۔

    لنکاسٹر ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی میزبانی برطانوی وزیر اعظم کیئرسٹارمر نے کی جس کے اختتام پر یوکرین میں امن کے لیے چار نکات پر اتفاق ہوا۔

    اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ کسی بھی امن مذاکرات میں کیئو کو شامل کیا جائے گا جبکہ یورپی رہنما مستقبل میں روسی جارحیت کو روکنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

  9. اسرائیل نے غزہ میں تمام انسانی امداد کا داخلہ بند کر دیا: ’یہ جنگ بندی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے‘، حماس

    اسرائیل غزہ میں تمام انسانی امداد کا داخلہ بند کر دیا ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ حماس جنگ بندی میں توسیع کے امریکی منصوبے پر اتفاق کرے۔

    جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا اختتام سنیچر کو ہوا تھا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر کا کہنا تھا کہ حماس نے اب تک ڈونلڈ ٹرمپ کے مندوب سٹیو وٹکوف کی جانب سے تجویز کردہ جنگ بندی میں عارضی توسیع کے منصوبے کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

    حماس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کو روکنا ’بلیک میل‘ کرنے کا ایک بھونڈا طریقہ ہے جو جنگ بندی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے اور انھوں نے مذاکرات کاروں سے مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے۔

    حماس جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ وہی چاہتے ہیں جیسے شروعات میں مذاکرات میں طے ہوا تھا۔ یعنی مزید یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوجیوں کا غزہ سے انخلا۔

    حماس کی جانب سے اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ وہ پہلے مرحلے میں توسیع کے کسی بھی منصوبے پر تب تک اتفاق نہیں کرے گا جب تک امریکہ، قطر اور مصر کے مذاکرات کاروں کی جانب سے یہ یقین دہانی نہ کروائی جائے کہ دوسرا مرحلہ بالآخر شروع ہو گا۔

    نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یرغمالیوں کے تبادلے کے پہلے مرحلے کے اختتام اور حماس کی جانب سے وٹکوف کے منصوبے سے پر اتفاق نہ کرنے پر جس پر اسرائیل اتفاق کر چکا ہے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے فیصلہ کیا ہے کہ آج صبح غزہ میں امداد کی ترسیل ختم کر دی جائے گی۔‘

  10. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر نے اپنی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ پر یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ہونے والی ملاقات میں انھیں اس بات کا یقین دلایا کہ ’برطانیہ بھر میں انھیں مکمل حمایت' حاصل ہے۔
    • اسرائیل غزہ میں تمام انسانی امداد کا داخلہ بند کر دیا ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ حماس جنگ بندی میں توسیع کے امریکی منصوبے پر اتفاق کرے۔ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا اختتام سنیچر کو ہوا تھا۔
    • اسرائیلی حکومت نے غزہ کی جنگ بندی میں آئندہ چھ ہفتوں تک عارضی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسا مسمانوں کے مقدس مہینے رمضان اور یہودی تہوار عید الفصح کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔
    • بلوچستان کے ضلع خضدار میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں وڈیرہ غلام سرور موسیانی سمیت جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے دو رہنما ہلاک۔ ان کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے زہری کے علاقے تراسانی میں سنیچر کی شب گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔
  11. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبریں جاننے کے لیے بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    دو مارچ تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں