’نوبل انعام علامتی طور پر بھی کسی کو منتقل نہیں کیا جا سکتا‘
نوبل انعام دینے والی تنظیم نوبل فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ تنظیم کی جانب سے دیا جانے والا انعام علامتی طور پر بھی کسی کو منتقل نہیں کیا جا سکتا ہے۔
نوبل فاؤنڈیشن کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نوبل فاؤنڈیشن کے بنیادی مشن میں سے ایک نوبل انعام کے وقار کی حفاظت کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فاؤنڈیشن الفریڈ نوبل کی وصیت اور ان کی شرائط کو برقرار رکھنے کی پابند ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ان شرائط میں شامل ہے کہ یہ انعام ان لوگوں کو دیے جائیں گے جنھوں نے ’انسانیت کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا ہو‘ اور یہ بھی کہ کون ان انعامات کا اعلان کر سکتا ہے۔ ’اس لیے یہ انعام علامتی طور پر بھی کسی کو منتقل یا آگے نہیں دیا جا سکتا۔‘
نوبل فاؤنڈیشن کی جانب سے یہ اعلان وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر مرِیا کورینا مَچاڈو کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے اپنا نوبل انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دینے کا اعلان کیا تھا۔
گذشتہ ہفتے امریکی صدر سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد مچاڈو نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’میں نے امریکہ کے صدر کو نوبل امن انعام کا تمغہ پیش کیا۔‘ انھوں نے اپنے اس اقدام کو ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کی ’آزادی کے ساتھ ان کی منفرد وابستگی کا اعتراف‘ قرار دیا۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے ایکس پر صدر ٹرمپ اور مَچاڈو کی تصویر شیئر کی جس میں صدر ٹرمپ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر کا نوبل انعام کا تمغہ تھامے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔