قدرتی
آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق جمعرات کو بلوچستان کے 13
اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ صوبے کے سرحدی شہر چمن میں مختلف واقعات
میں مزید سات افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جس کے بعد حالیہ بارشوں کے باعث ہلاکتوں کی
مجموعی تعداد 15 ہو گئی ہے۔
ڈپٹی
کمشنر چمن راجہ اطہر عباس کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں سے چمن میں کلی ٹاکئی،
بوستان، رحمان کہول ، بائی پاس ، گلدارہ باغیچہ، محمود آباد اور روغانی میں گھروں
کو نقصان پہنچا اور مختلف واقعات میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان میں سے تین
خواتین اور دو بچے شین تالاب کے علاقے میں طغیانی کے باعث بہہ گئے جبکہ رنگین چوک
کے علاقے میں دو خواتین کی موت واقع ہوئی۔
ڈپٹی
کمشنر کے مطابق چمن میں گرڈ سٹیشن میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے بجلی کی فراہمی بھی
معطل ہوگئی ہے۔ پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق اس سے قبل بارشوں کے حالیہ سلسلے
کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے پانچ کی
موت آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے ہوئی۔
ادھر ساحلی
ضلع گوادر کے مختلف علاقوں میں بارش کے پانی کا نکاس نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو
مشکلات کا سامنا ہے جس کے خلاف پسنی اور گوادر شہر میں لوگوں نے احتجاج بھی کیا
جبکہ پسنی میں حکام کے مطابق 90 کے قریب کشتیاں سمندر میں ڈوب گئی ہیں۔
اطلاعات
کے مطابق بارشوں کے باعث چمن، گوادر ، نوشکی اور چاغی اور کوئٹہ کے متعدد علاقوں میں
صورتحال سنگین ہے۔
گوادر
کے شہر پسنی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی ساجد نور نے بتایا کہ پسنی شہر سے
بارش کے پانی کے اخراج کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا
سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نکاسی آب کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے خلاف شہر میں
لوگوں نے بطور احتجاج کوسٹل ہائی وے کو بند کیا۔
انھوں
نے بتایا کہ احتجاج میں گوادر سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان
نے بھی شرکت کی۔ ساجد نور کے مطابق پسنی میں ماہی گیروں کے سو کے قریب کشتیاں بھی
سمندر برد ہوگئیں جبکہ اس سے زیادہ کشتیوں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔
رابطہ کرنے پر تحصیلدار پسنی اکبر علی بلوچ نے بتایا کہ آج شادی کور ڈیم سے آنے والا پانی پسنی میں داخل ہوگیا جس سے ماہی گیروں کی کشتیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ماہی گیروں کے مطابق 80سے 90 کے قریب کشتیاں ڈوب گئی ہیں تاہم ابھی تک ان کی صحیح تعداد کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پسنی کے نشیبی علاقوں میں 35کے لگ بھگ گھر گر چکے ہیں۔ علی اکبر بلوچ کا کہنا تھا شہر سے بارش کے پانی کے اخراج کے لیے کوششیں جاری ہیں، توقع ہے کہ رات تک پانی کو نکالنے کا عمل مکمل ہوگا۔
پسنی کے علاوہ گوادر شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کے پانی کو نکالنے کے لیے اقدامات نہ ہونے کے خلاف بھی لوگوں نے احتجاج کیا۔ گوادر سے رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا ہے پسنی ، اورماڑہ ، جیونی سمیت گوادر کے شہری اور دیہی علاقوں میں بارش کا پانی کھڑا ہے جس سے لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پانی کو نکالنے اور اس حوالے سے لوگوں کو مشکلات کو کم کرنے کے لیے حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے جو اقدامات ہونے چائیے تھے وہ نہیں ہورہے ہیں۔
جمعرات کو بارشوں کے باعث کوئٹہ میں سریاب کے بعض علاقے زیر آب آگئے جن کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ضلع پشین اور قلعہ سیف اللہ کے مختلف علاقوں میں ژالہ باری بھی ہوئی جس سے فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
پی ڈی ایم اے بلوچستان کے کنٹرول روم کے مطابق گوادر،پنچگور،کیچ،نوشکی کے کچھ علاقوں میں اربن فلڈنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم مجموعی صورتحال کنٹرول میں ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلعی انتظامیہ گوادر،کیچ پنچگور اور چاغی،نوشکی متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں اورِنکاسی آب آپریشن میں مصروف عمل ہے پی ڈی ایم اے بلوچستان کی طرف سےریسکیو ٹیمیں،کشتیاں و دیگر ضروری سامان ضلع نوشکی کے لیے بھجوائی گئی ہیں تاکہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو بروقت ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے۔
پی ڈی ایم اے کی طرف سے متاثرہ علاقوں میں مزید امدادی سامان کے ترسیل کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مشکل کی گھڑی میں متاثرین تک بروقت امدادی سامان پہنچ پائیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق جمعہ کے روز بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے۔ متوقع بارش و سیلابی صورتحال کے پیش نظر پی ڈی ایم اے کی طرف سے تمام اضلاع کے انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی حالت سے بروقت نمٹا جا سکے اور ان کے خطرات کو کم کیا جا سکیں۔