وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال میں ٹیکس اضافی وصولی کے لیے ٹیکس کی شرح میں اضافے کے ساتھ مختلف شعبوں میں ٹیکس چھوٹ کی بجٹ میں تجویز دی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے بجٹ میں انکم ٹیکس کے شعبے میں غیر منقولہ جائیداد میں کیپٹل گین پر فائلرز اور نان فائلرز دونوں کی ہولڈنگ کی مدت کی بنیاد پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔
ہولڈنگ کی مدت سے قطع نظر 15 فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے جب کہ نان ٹیکس کے ٹیکس ریٹ مختلف سلیبوں کے تحت 45 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں سیکورٹیز پر کیپٹل گین ٹیکس کا نظام تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یکم جولائی سے سیکورٹیز کی ہولڈنگ سے قطع نظر فائلرز کے لیے 15 فیصد اور نان فائلرز کی مختلف سلیبوں کے لیے 45 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ غیر منقولہ جائیدادوں پر منتقلی پر فائلرز، نان فائلرز اور تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے تین الگ ریٹ متعارف کرائے جائیں گے۔
ہول سیلرز اور ریٹیلرز کے شعبے میں نان فائلرز سے ایڈوانس ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے 2.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
موٹر گاڑیوں کی رجسٹریشن پر ٹیکس کی وصولی اب انجن کیپسٹی سے تبدیل کر کے قیمت کے تناسب پر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سیلز ٹیکس کے شعبے میں زیرو ریٹنگ، استثنیٰ اور کم ریٹس کی چھوٹ کے خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔
ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات پر درجہ اول کے ریٹیلرز پر جی ایس ٹی 15 فیصد سے 18 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
موبائل فون کی مختلف کیٹیگریوں پر سیلز ٹیکس کا سٹینڈرڈ ٹیکس لگانے کی تجوزی دی گئی ہے۔ لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت پر خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ پر خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے سولر پینل انڈسٹری کے فروغ کے لیے اس کے پلانٹ، مشینری اور اس کے منسلک آلات، سولر پینل، انورٹیرز اور بیٹریوں کی تیاری پر خام مال اور پرزہ جات کی درآمد پر رعایت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سیمنٹ پر فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی دو روپے سے تین روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔