گذشتہ روز کی خبروں کا خلاصہ
’جو شخص فوج میں نہیں وہ اس کے ڈسپلن کا پابند کیسے ہو سکتا ہے؟‘
سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے سویلینز کے مقدمے ملٹری کورٹس میں چلانے کے حوالے سے آئینی بینچ کے سامنے مقدمے کی سماعت کے دوران بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آرمڈ فورسز میں نہ ہونے والا فرد آرمڈ فورسز کے ڈسپلن کے نیچے کیسے آ سکتا ہے؟‘ جمعرات کو سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں ملٹری کورٹس کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔ خیال رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائلز سے متعلق آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا جس کے خلاف پنجاب کی صوبائی حکومت اور وفاق کی جانب سے بھی اپیل دائر کی گئی تھی۔
حکومتی وکیل خواجہ حارث کا دوران سماعت کہنا تھا کہ ’مخصوص حالات میں سویلین پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔ عدالت کے پاس آرمی ایکٹ دفعات کو کالعدم کرنے کا اختیار نہیں۔‘
شام میں باغیوں نے بشارالاسد کے والد کے مقبرے کو آگ لگا دی
شام میں باغیوں نے معزول صدر بشارالاسد کے والد حافظ الاسد کے مقبرے کو تباہ کر دیا ہے۔ بی بی سی کی جانب سے جن ویڈیوز کی تصدیق کی جاسکی ہے ان میں مسلح افراد کو حافظ الاسد کے آبائی علاقے قرداحہ میں واقع ان کے مقبرے میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ مقبرے میں آگ لگی ہوئی ہے۔
دریں اثنا شام میں باغی گروہ کا کہنا ہے کہ وہ بشار الاسد کے دور میں چلائے جانے والے بدنام زمانہ قید خانوں کو بند کر دیں گے اور ان افراد کی تلاش کریں گے جو قیدیوں پر تشدد اور ان کی ہلاکتوں کے ذمہ دار تھے۔
خلیل الرحمان حقانی کابل دھماکے میں ہلاک
طالبان حکومت کے پناہ گزینوں کے امور کے وزیر خلیل الرحمن حقانی کابل میں وزارت کی عمارت میں ہونے والے ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ وہ حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی کے بھائی تھے جو 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کے اعلیٰ کمانڈروں میں سے ایک تھے۔