آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

16 دسمبر: اسلام آباد سمیت پنجاب کے متعدد شہروں کے سکولوں میں چھٹی کا اعلان

یاد رہے کہ چھٹی کے حوالے سے متعلقہ شہروں کے ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے جاری سرکاری اعلامیے میں اس تعطیل کی وجوہات نہیں بتائی گئیں تاہم آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے پیغام میں بتایا گیا ہے کہ ’کل بروز پیر16 دسمبر کو آرمی پبلک سکولز کے سانحے کی یاد میں تعطیل ہوگی۔‘

خلاصہ

  • وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فی الحال ہلاک یا لاپتہ پاکستانی شہریوں کی تعداد کی تصدیق کرنا ممکن نہیں۔
  • زیراعظم شہباز شریف نے یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی الٹنے کے واقعے کے بعد انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔
  • وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے یونان میں کشتی ڈوبنے کے واقعے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے پانچ روز میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔
  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ’حقیقی آزادی تک تحریک جاری رہے گی۔ گولی کیوں چلائی اور کس کے حکم پر چلائی؟ حکومت کو جواب دینا پڑے گا۔'
  • جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے صدر یون سوک یول کے خلاف مواخذے کی قرارداد اکثریت سے منظورکر لی ہے جس کے بعد انھیں معطل کردیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    16 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. 16 دسمبر کو اسلام آباد سمیت پنجاب کے متعدد شہروں کے سکولوں میں چھٹی کا اعلان

    اسلام آباد سمیت پنجاب کے متعدد شہروں کے سکولوں اور تعلیمی اداروں میں 16 دسمبر کو عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ چھٹی کے حوالے سے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے جاری سرکاری اعلامیے میں اس تعطیل کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

    تاہم صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا کی جانب سے جاری پیغام میں بتایا گیا ہے کہ ’کل بروز پیر16 دسمبر ملک بھرکے سکولز میں آرمی پبلک سکولز کے سانحہ کی یاد میں تعطیل ہوگی۔‘

    آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے مطابق ’سکولز دوبارہ 17 دسمبر بروز منگل ریگولر شیڈول کے مطابق کھل جائیں گے۔‘

    دوسری جانب بلوچستان کے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری اعلامیے میں 16 دسمبر سے صوبے میں سرما کی چھٹیوں کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

    16 دسمبر 2014 جب اے پی ایس میں حملے میں 114 بچوں سمیت 150 ہلاکتیں ہوئیں

    پشاور کے آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) میں 16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین آج بھی اپنے بچوں کو یاد کرتے ہیں جبکہ بچ جانے والے زخمی آج بھی اس کے اثرات سے نکل نہیں پاتے۔

    آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کے لیے تشکیل پانے والے عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس واقعے کو ’سکیورٹی کی ناکامی‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس واقعے نے ملک کے سکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

  3. نوشکی سے سکول ٹیچر کی مبینہ جبری گمشدگی کے واقعے کے خلاف احتجاجی ریلی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع نوشکی سے ایک سکول ٹیچر فرید احمد کی مبینہ جبری گمشدگی کے واقعے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی ہے۔

    مقررین نے الزام عائد کیا کہ سکول ٹیچر کو چند روز قبل جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جس سے ان کے اہلخانہ شدید پریشانی اور کرب میں مبتلا ہیں۔

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ سکول ٹیچر کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

    یاد رہے کہ فرید احمد کا شمار ضلع نوشکی کے سینیئر اساتذہ میں ہوتا ہے۔

    ان کا تعلق نوشکی شہر سے جنوب مغرب میں چند کلومیٹر کے فاصلے پرکلی بدل کاریز سے ہے۔

    وہ کلی بدل کاریز ہی میں مڈل اسکول میں ہیڈ ماسٹر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

    ان کے رشتہ داروں کے مطابق وہ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں۔ ان کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کو 13 اکتوبر کی شب ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

    سینیئر سکول ٹیچر فرید احمد کی جبری گمشدگی کے خلاف ریلی اور مظاہرے میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی۔

    ریلی کے شرکا شہر کی اہم شاہراہوں سے ہوتے ہوئے مرکزی چوک پہنچے جہاں مقررین نے ریلی کے شرکا سے خطاب کیا۔

    بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک سے ڈیڑھ ہفتے کے دوران یہ تیسرا مظاہرہ ہے اس سے قبل ضلع قلات کے علاقے منگیچر سے تین بھائیوں اور جبکہ قلات سے والد اور بیٹے کی جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بند کرکے احتجاج کیا گیا۔

  4. آئینی حق نہ دیا گیا تو ہمارا احتجاج اور تحریک جاری رہے گی: علی امین گنڈاپور, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ ’ہمیں ہمارا آئینی حق نہ دیا گیا تو ہمارا احتجاج اور تحریک جاری رہے گی۔ ہم پھر پلان بنائیں گے۔‘

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ان کو خبردار کیا ہوا ہے۔ ہماری شرائط میں عمران خان کی رہائی، ہمارے مینڈیٹ کی واپسی اور 26ویں آئینی ترمیم کے غیر قانونی اقدام کی واپسی ہے۔ یہ ہمارا آئینی حق ہے جو ہم کو نہیں دیا جا رہا۔‘

    ان کے مطابق ’جب بھی ہماری تحریک چلی ہے تو خیبرپختونخوا فرنٹ لائن پر رہا ہے اور حکومت بھی ہماری یہیں پر ہے۔ تو ہم دونوں کو نبھا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں جتنی بار احتجاج کے لیے نکلا ہر بار ہمارے ساتھ پہلے سے ڈبل تعداد میں لوگ نکلتے رہے۔ کیا ریاست کا کام ہے کہ وہ لوگوں پر گولیاں چلائے گی اور ایک جماعت کو احتجاج بھی نہیں کرنے دے گی۔‘

    یاد رہے کہ سنیچر کے روز وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا جس میں کہا تھا کہ ’ہمارے لوگوں پر ریاست نے گولیاں برسائیں اور ہلاک کیا، ان کو 15 دسمبر کو (آج) خراج تحسین پیش کریں گے۔ کارکنان شرکت کو یقینی بنائیں۔‘

    پریس کانفرنس کے دوران صوبے میں امن و امان اور افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے، پوری دنیا اسے قبول کر چکی ہے تو ہمیں بھی ان سے مذاکرات کر لینے چاہیئں۔ اس کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔‘

    علی امین گنڈاپور کے مطابق ’وفاق افغانستان سے بات چیت کے لیے پہلے تو راضی نہیں ہو رہا تھا اور جب میں نے کہا کہ میں بطور صوبہ ان سے بات کر لیتا ہو ں جس کے بعد میری بات کو کچھ کا کچھ بنا کے پیش کیا گیا۔‘

    علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اب وفاق نے مزاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم جب تک عملی کام نہیں ہوتا اس کے ٹی او آر نہیں بنائے جا سکتے۔ اس وقت تک اس کا نتیجہ نہیں نکل سکتا۔

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے دعویٰ کیا کہ ’اس دہشت گردی کی وجہ سے تجارت رکی ہوئی ہے جس کا نقصان ہمارے صوبے پر آ رہا ہے۔‘

    علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا افغانستان کے ساتھ ہمیں مذاکرات کرنے چاہئیں، دہشت گرد بارڈر کراس کر جاتے ہیں تو ہماری پہنچ سے دور ہو جاتے ہیں، دہشت گرد پہلے ملک کے دیگر شہروں میں کارروائی کر رہے تھے، ہم نے دہشتگردوں کو روکا ہوا ہے۔‘

    دوسری جانب وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے کبھی پرامن احتجاج کی کال دی ہی نہیں۔

    یاد رہے کہ عمران خان کی 24 نومبر کو احتجاج کی فائنل کال پر پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکن عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد پہنچے تھے۔

    26 نومبر کو ڈی چوک پر پی ٹی آئی کے ان کارکنوں کے خلاف پولیس نے نیم فوجی دستوں سے مل کر گرینڈ آپریشن کیا تھا۔

    احتجاج کے حوالے سے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا تھا کہ اس آپریشن میں پی ٹی آئی کے 12 کارکنان مارے گئے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ مظاہرین پر گولی نہیں چلائی گئی۔

    ان میں اب اتنی ہمت نہیں کہ کوئی کال دے سکیں: وفاقی وزیر اطلاعات

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے چند الزامات لگائے ہیں۔ جبکہ ان کا احتجاج اور دھرنوں کے سوا کوئی کام نہیں۔ 26 نومبرکو انتشار اور لاشوں کی سیاست کی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ ’علی امین گنڈاپور کی جانب سے عالمی میڈیا کو جھوٹ پر مبنی بریفنگ دی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے کبھی پرامن احتجاج کی کال دی ہی نہیں۔ پی ٹی آئی کی کون سی کال پرامن تھی۔‘

    عطا تارڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے الزامات جھوٹ اور فساد پر مبنی ہیں۔ اور یہ کچھ نہیں کرسکتے۔ دھمکیاں دینے کا سلسلہ 2014 سے بانی پی ٹی آئی نے شروع کیا تھا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ ان کے اپنے کارکنان نے ان پر پتھراؤ کیا اور ان کے گارڈز نے فائرنگ کی۔ جو آپ کے گارڈز نے فائرنگ کی اس کی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے۔

    عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ ’بشریٰ بی بی نے علی امین گنڈاپور پر پتھراؤ کرایا۔ اور دوڑ لگائی لیکن اب بہانے بازی کی جا رہی ہے۔ فائنل کال ناکام ہونا ان کی سیاسی ناکامی ہے۔ اور ان میں اب اتنی ہمت نہیں کہ کوئی کال دے سکیں۔‘

  5. یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی کو حادثہ، ایک پاکستانی کی ہلاکت کی تصدیق

    پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سنیچر کو یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی الٹنے کے واقعے میں ایک پاکستانی شہری ہلاک ہوا ہے۔

    دفترِ خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے بعد 47 پاکستانی شہریوں کو بچالیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ فی الحال ہلاک یا لاپتہ پاکستانی شہریوں کی تعداد کی تصدیق کرنا ممکن نہیں۔

    وزارتِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ ایتھنز میں پاکستان کا سفارت خانہ سرچ آپریشن کرنے والے ہیلینک کوسٹ گارڈ اور چانیا کے کوسٹ گارڈز کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے یونان میں کشتی الٹنے کے واقعے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

    شہباز شریف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو واقعے کی انکوائری رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کی شناخت کی جائے اور ان کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ وہ ایسے ’قبیح فعل کو نہ دھرائیں۔ ایسے واقعات کے مستقبل میں تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔‘

    سنیچر کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس واقعے کی تحقیقات کے کا حکم دیتے ہوئے پانچ روز میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    ہلاک ہونے شہریوں کی تعداد تاحال غیر واضح ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یونان کے گاودوس جزیرے کے قریب پیش آنے والے حادثے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  6. یونان میں کشتی الٹنے سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ، وزیراعظم کا انسانی سمگلرز کے خلاف کارروائی کا حکم

    وزیراعظم شہباز شریف نے یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی الٹنے کے واقعے پر افسوس ظاہر کیا ہے اور انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے یونان کے جنوبی جزیرے کے قریب کشتی اُلٹنے کے واقعے میں ’غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے بعض پاکستانی شہریوں‘ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اب تک پانچ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ایک بیان کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’انسانی سمگلنگ اندوہناک جرم ہے جس کی وجہ سے کئی افراد کی جانیں جاتی ہیں اور ہر سال کئی گھر اجڑ جاتے ہیں۔ انسانی سمگلر ایک ایسا ظالم مافیا ہے جو غریب عوام کو جھوٹے اور سنہری خواب دکھا کر ان سے پیسے بٹورتا ہے۔‘

    شہباز شریف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو واقعے کی انکوائری رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کی شناخت کی جائے اور ان کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ وہ ایسے ’قبیح فعل کو نہ دھرائیں۔ ایسے واقعات کے مستقبل میں تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔‘

    سنیچر کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس واقعے کی تحقیقات کے کا حکم دیتے ہوئے پانچ روز میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    ہلاک ہونے شہریوں کی تعداد تاحال غیر واضح ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یونان کے گاودوس جزیرے کے قریب پیش آنے والے حادثے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق سمندر میں اُلٹنے والی کشتی میں سوار 39 افراد کو بچا لیا گیا ہے جن میں اکثریت پاکستانی شہریوں کی ہے۔ یونانی کوسٹ گارڈ جمعے کی رات سے اس حادثے میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

  7. یونان میں غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے والے افراد کی کشتی اُلٹنے کے واقعے میں پاکستانیوں سمیت پانچ افراد ہلاک

    پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے یونان کے جنوبی جزیرے کے قریب کشتی اُلٹنے کے واقعے میں ’غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے بعض پاکستانی شہریوں‘ کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    سنیچر کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس واقعے کی تحقیقات کے کا حکم دیتے ہوئے پانچ روز میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    وزارت سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انسانی سمگلنگ ناقابلِ برداشت جُرم ہے اور اس کے سبب کئی گھر اُجڑ چکے ہیں۔‘

    پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے ہلاک ہونے شہریوں کی تعداد کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا ہے، تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یونان کے گاودوس جزیرے کے قریب پیش آنے والے حادثے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق سمندر میں اُلٹنے والی کشتی میں سوار 39 افراد کو بچالیا گیا ہے جن میں اکثریت پاکستانی شہریوں کی ہے۔

    یونانی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں لاپتہ ہونے والے مسافروں کی کُل تعداد کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

    یونانی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ ان کے جہاز جمعے کی رات سے اس حادثے میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

  8. پی ٹی آئی احتجاج کے دوران مبینہ ہلاکتوں اور لاپتہ کارکنان سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقرر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ڈی چوک میں ہونے والے تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران مبینہ ہلاکتوں اور لاپتہ کارکنان سے متعلق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہرکی درخواست 23 دسمبرکو سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے اپنی درخواست میں 12 ’ہلاک ‘ ہونے والے کارکنان کی لسٹ فراہم کی ہے جبکہ گولیوں سے زخمی ہونے والے 38 کارکنان کی لسٹ بھی درخواست کے ساتھ منسلک ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے 139 لاپتہ کارکنان کے بھی نام درخواست میں درج کیے ہیں۔

    یاد رہے کہ 24 نومبر کو عمران خان نے احتجاج کے لیے فائنل کال دی تھی جس کے بعد احتجاج کے لیے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد آیا تھا۔

    26 نومبر کو ڈی چوک پر پی ٹی آئی کے ان کارکنوں کے خلاف پولیس نے نیم فوجی دستوں سے مل کر گرینڈ آپریشن کیا تھا۔ پی ٹی آئی نے گولیاں چلانے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ حکومت اس سے انکاری ہے اور ان سے ثبوت مانگ رہی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی جانب سے دائر درخواست میں وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور آئی جی اسلام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی سکیورٹی اور نامعلوم افراد کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ آٹھ دسمبر کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما عمر ایوب نے دعویٰ کیا تھا کہ ’اسلام آباد میں پارٹی کے حالیہ احتجاج کے دوران نہتے کارکنوں پر گولیاں چلائی گئیں اور ہمارے 12 کارکن ہلاک ہوئے جب کہ 200 لاپتہ ہیں۔‘

    خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پارٹی کے دیگر سینیئر رہنماؤں اسد قیصر، سینیٹر شبلی فراز اور جنرل سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا تھا کہ پانچ دسمبر کو عمران خان سے طویل ملاقات ہوئی تھی۔ جیسے ہی اڈیالہ جیل سے باہر نکلا تو مجھے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اگلے دن عدالت نے میری رہائی کا آرڈر دیا اور توہین عدالت بھی لگائی۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ 24 نومبر کو ہم نے پرامن احتجاج کیا، پرامن احتجاج میں نہتے کارکنوں پر گولیاں چلائی گئیں جس میں 12 نہتے کارکن مارے گئے اور 200 سے زائد کارکن تاحال لاپتہ ہیں۔

  9. جنوبی کوریا: صدر کے مواخذے کی قرارداد پارلیمنٹ سے منظور

    جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے صدر یون سوک یول کے خلاف مواخذے کی قرارداد اکثریت سے منظورکر لی ہے جس کے بعد انھیں معطل کردیا گیا ہے اور وزیراعظم ہاں ڈک سو جنوبی کوریا کے قائم قام صدر ہوں گے۔

    جنوبی کوریا کی آئینی عدالت کے پاس یون سوک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ سنانے کے لیے 180 دن ہیں۔

    سنیچرکے روز جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کے خلاف پارلیمنٹ میں صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ ہوئی جس میں حکمراں جماعت کے ارکان نے بھی ووٹنگ میں حصہ لیا۔

    یاد رہے کہ جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے رواں ماہ کے آغاز میں ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم چند گھنٹے بعد ہی پارلیمنٹ کے فیصلے کے بعد مارشل لا اٹھا لیا تھا۔

    تاہم یون سوک یول کے خلاف ملک کے دارالحکومت سیئول میں ہزاروں افراد صدر کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا جب کہ مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ کے دوران پارلیمنٹ کے باہر شہریوں کی بڑی تعداد جمع رہی۔

    جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ میں 204 ارکان نے تحریک کے حق میں جب کہ 85 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

    اپنے بیان میں صدر یون سوک نے کہا کہ وقتی طور پر وہ اپنا سفر روک رہے ہیں تاہم ملک کے لیے وہ آخری دم تک خدمات انجام دیں گے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’مستقبل کا سفر جس پر میں پچھلے ڈھائی سالوں سے چل رہا ہوں اسے کبھی رکنا نہیں چاہیے۔ میں کبھی ہمت نہیں ہاروں گا۔ میں آپ کی تنقید، تعریف اور حمایت کو دل سے قبول کرتا ہوں اور ملک کے لیے آخر تک اپنی کوششیں جاری رکھوں گا۔‘

    اس فیصلے کے سامنے اتے ہی جنوبی کوریا میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا۔

    سیئول میں مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ کے دوران پارلیمنٹ کے باہر شہریوں کی بڑی تعداد جمع رہی۔

    جنوبی کوریا کی بڑی نیوز ایجنسی یونہاپ کے مطابق جنوبی کوریا کی حکمران پیپلز پاور پارٹی (پی پی پی) کے پانچوں سپریم کونسل کے اراکین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول کون ہیں؟

    یون سوک یول 2022 سے جنوبی کوریا کے صدررہے۔ وہ پیپلز پاور پارٹی کا حصہ ہیں اور اپنے حریف لی جے میونگ کو نہایت ہی کم پوائنٹس سے شکست دے کر صدارتی انتخاب میں کامیاب ہوئے۔

    جنوبی کوریا کے صدر کے ساتھ ساتھ اُن کی اہلیہ کو بھی مختلف تنازعات اور سکینڈلز کی وجہ سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

    اُن کی اہلیہ پر مبینہ طور پر مہنگے تحائف قبول کرنے کی وجہ سے تنقید ہوتی رہی ہے۔

    جس کی وجہ سے گزشتہ ماہ یون نے معافی بھی مانگی تھی اور کہا تھا کہ اُن کی اہلیہ کو اپنے معاملات کو بہتر کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

  10. حقیقی آزادی تک تحریک جاری رہے گی، گولی کیوں چلائی حکومت جواب دے: علی امین گنڈا پور

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ ’ہم ڈی چوک میں ہلاک ہونے والوں کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، حقیقی آزادی تک تحریک جاری رہے گی۔ گولی کیوں چلائی اور کس کے حکم پر چلائی؟ حکومت کو جواب دینا پڑے گا۔‘

    اپنے ویڈیو پیغام میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے دعویٰ کیا کہ ’ان کے 12 کارکنان ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہیں۔ میڈیا بھی دباؤ کی وجہ سے اس معاملے کو کوریج نہیں دے رہا۔‘

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ’حکومت کو پیغام دیتا ہوں کہ ہمارے بہت سے لوگ لاپتا ہیں، ہمیں خدشہ ہے کہ ہمارے لاپتا افراد میں بہت سے لوگوں کو مارا گیا ہے اس حوالے سے ہمارے تحفظات اور خدشات دور کیے جائیں۔‘

    یاد رہے کہ عمران خان کی 24 نومبر کو احتجاج کی فائنل کال پر پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکن عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد پہنچے تھے۔

    26 نومبر کو ڈی چوک پر پی ٹی آئی کے ان کارکنوں کے خلاف پولیس نے نیم فوجی دستوں سے مل کر گرینڈ آپریشن کیا تھا۔

    احتجاج کے حوالے سے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا تھا کہ اس آپریشن میں پی ٹی آئی کے 12 کارکنان مارے گئے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ مظاہرین پر گولی نہیں چلائی گئی۔

    سنیچر کے روز وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہمارے لوگوں پر ریاست نے گولیاں برسائیں اور ہلاک کیا ان کو 15 دسمبر کو خراج تحسین پیش کریں گے۔ کارکنان شرکت کو یقینی بنائیں۔‘

    وزیراعلی نے کہا کہ ’فوج ہماری ہے اور فوج کو یہاں رہنا ہے فوج کو عوام کی حفاظت کرنی ہے، ہمیں بھی عوام میں رہنا ہے اور فوج میں جو لوگ بھرتی ہوتی ہیں وہ بھی ہم میں سے ہیں، یہ مطلب پرست سیاست دان یہ اس وقت کو فوج اور عوام کو آپس میں لڑانے کی سازش کر رہی ہے اور ہمیں ان کی سازش کامیاب ہونے نہیں دینی۔‘

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ واضح پیغام ہے کہ جو صوبوں میں نفرت پھیلانے کی سازش شروع کی گئی ہے یہ سازش بھی ناکام ہو چکی ہے۔ ہماری تحریک جاری ہے ہم اپنا حق لے کر بھی اور چھین کر لیں گے۔‘

  11. پی ٹی آئی کا 24 نومبر کا احتجاج، عدالت کا 32 ملزمان کی رہائی کا حکم، مقدمے سے نام بھی خارج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج سے متعلق درج ایک مقدمے میں گرفتار 32 ملزمان کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے اور ان کے خلاف مقدمات ختم کرتے ہوئے پولیس کو یہ ہدایات دی ہیں کہ انھیں آئندہ گرفتار نہ کیا جائے۔

    اسلام آباد انسداد دہشتگردی عدالت میں شناخت پریڈ پر بھیجے گئے 32 ملزمان کو رات گئے جہلم کی جیل سے اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جس پر جج نے پولیس پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔

    اس مقدمے کی سماعت انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی۔ پولیس نے تھانہ آئی نائن اور تھانہ مارگلہ کے مقدمات میں ملزمان کی گرفتاری ظاہر کی۔ ملزمان کی جانب سے ان کے وکیل انصر کیانی رات گئے عدالت پیش ہوئے۔

    پولیس نے عدالت میں بتایا کہ ملزمان کو 25 نومبر کو گرفتار کیا گیا شناخت پریڈ نہ ہو سکی، ملزمان کے 30 ،30 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔ ان ملزمان کے وکیل انصر کیانی نے کہا کہ ملزمان کی شناخت پریڈ بھی نہیں اور پولیس برآمدگی کے لیے ریمانڈ مانگ رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پولیس نے نمبرز پورے کرنے کے لیے مزدوروں کو گھروں سے اٹھا کر احتجاج کے کیس میں ڈال دیا۔

    جج نے ریمارکس دیے کہ ’اگر ان افراد کو گرفتار کیا تو پولیس والوں کو ہتکھڑی لگوا دوں گا۔‘

  12. اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال 25 سے 28 نومبر تک زیرعلاج مریضوں اور ہلاکتوں کی تفصیلات دیں: پی ٹی آئی

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اسلام میں واقع ہسپتالوں کی انتظامیہ سے 25 سے 28 نومبر تک زیر علاج مریضوں کی تفصیلات شیئر کرنے کی درخواست کی ہے۔

    اپنے ایک خط میں انھوں سے ان ہسپتالوں کی انتظامیہ سے کہا کہ وہ اطلاعات تک رسائی کے قانون کے تحت ان سے یہ معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے یہ خطوط اسلام آباد میں واقع پولی کلینک اور پمز ہسپتال کی انتظامیہ کو لکھے۔ اپنے خطوط میں انھوں انتظامیہ سے کہا کہ اسلام آباد میں 24 نومبر کو ایک پرامن احتجاج کی کال دی گئی تھی اور اس احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان زخمی، ہلاک اور لاپتہ ہوئے ہیں جن کی تفصیلات ہمیں درکار ہیں۔

    انھوں نے انتظامیہ سے کہا وہ اس عرصے میں زیرعلاج مریضوں کے نام، عمر اور زخموں کی نوعیت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اور یہ کہ اس دوران جو لوگ مر گئے ان کی تفصیلات بھی درکار ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمیں ایسے تمام افراد کی پوسٹمارٹم رپورٹ دیں اور موت کی وجہ بھی بتائیں۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ڈی چوک پر احتجاج کے دوران اس کے سیاسی کارکنان پر گولیاں برسائی گئیں جس سے 12 کارکنان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم حکومت نے پی ٹی آئی کے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

  13. اسلام آباد میں رینجرز اہلکاروں کی ہلاکت: عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف درج ایف آئی آر منظرِ عام پر آگئی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    گذشتہ مہینے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران تین رینجرز اہلکاروں کی ہلاکت پر اسلام آباد کے ایک تھانے میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر منظرِ عام پر آگئی ہے جو کہ رینجرز کی مدعیت میں درج کروائی گئی ہے۔

    اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں درج ایف آئی آر کے متن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رینجرز اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ عمران خان کی ایما اور حکم پر ہوا، جس کی تعمیل بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور، عمر ایوب، شیخ وقاص اکرم، سلمان اکرم راجہ، مراد سعیدم زلفی بخاری، رؤف حسن، حماد اظہر اور پی ٹی آئی کے دیگر قائدین نے ’باہمی سازش اور مجرمانہ حکمت عملی‘ کے تحت کی۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کے گواہان جیل میں قید کچھ قیدی، مشقتی اور وہاں تعینات خفیہ پولیس کے ملازمین ہیں۔

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور دیگر ملزمان نے ویڈیو پیغام کے ذریعے عوام کو مشتعل کیا اور انھیں فوج اور حکومت کے خلاف بغاوت پر اُکسایا۔

    خیال رہے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ایک تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے رینجرز کے تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ درج کی گئی ایف آئی آر میں قتل کے ساتھ دہشتگردی اور تعزیراتِ پاکستان کی دس مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔

  14. ’ہم جنگ میں کشیدگی کو بڑھا رہے‘: یوکرین کے امریکی میزائلوں کے استعمال پر ٹرمپ اور روس ایک صفحے پر

    روس کا کہنا ہے کہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یوکرین کے امریکی اسلحے کے استعمال کے حوالے سے بیان کریملن کے مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے۔

    ٹائمز میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ روس کے خلاف امریکی میزائلوں کے استعمال کی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے اور اس کو ’پاگل پن‘ سمجھتے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’ہم اس جنگ میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں اور اسے مزید خراب کر رہے ہیں۔‘

    جمعے کو نو منتخب امریکی صدر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان روس کے مؤقف سے ’مکمل مطابقت‘ رکھتا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ: ’ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ داراصل صورتحال کس چیز سے مزید کشیدہ ہو رہی ہے۔‘

  15. پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں پانچ ہزار روپے کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں جمعے کے روز بڑی کمی اس وقت ریکارڈ کی گئی جب اس کی فی تولہ قیمت میں پانچ ہزار روپے کی کمی ہوئی۔

    پاکستان کی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت دو لاکھ 77 ہزار 800 روپے پر پہنچ گئی ہے۔

    ٓل سندھ صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دس گرام سونے کی قیمت میں بھی چار ہزار 286 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد اس کی قیمت دو لاکھ 38 ہزار 169 روپے ہو گئی ہے۔

    ملک میں سونے کی قیمت میں کمی کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی قیمت میں ہونے والی کمی ہے۔

    گولڈ ٹریڈنگ پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار احسن الیاس نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ہونے والی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر کسی بھی چیز نے سونے کی قیمت پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں پچاس ڈالر فی اونس کی کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت دو ہزار 666 ڈالر فی اونس ہو گئی۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں سونے کی قیمت کا تعین اس کی بین الاقوامی قیمت کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

  16. اسلام آباد کی مقامی عدالت نے 26 نومبر کے مبینہ واقعات پر تحریکِ انصاف کی درخواست ابتدائی سماعت کے لیے منظور کر لی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ڈی چوک میں 26 نومبر کو ہونے والے مبینہ واقعات سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔

    یہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے دائر کی گئی ہے اور اس درخواست پر سماعت سنیچر کو ہو گی۔

    درخواست میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔ اسی طرح آئی جی، ایس ایس پی، ڈی آئی جی و دیگر کے خلاف بھی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی سردار لطیف کھوسہ نے بیرسٹر گوہر کے ذریعے دائر کمپلینٹ میں 38 زخمی پی ٹی آئی کارکنوں کی فہرست بھی منسلک کی ہے۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے 139 لاپتا کارکنوں کی لسٹ بھی ساتھ لگائی گئی ہے۔

    استغاثہ میں استدعا کی گئی ہے کہ کرمنل کمپلینٹ منظور کر کے وزیر اعظم سمیت دیگر فریقین کو طلب کیا جائے۔ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے دو وزیر اور دو ارکان صوبائی اسمبلی کو بھی بطور گواہ شامل کیا گیا ہے۔

    کمپلینٹ میں استدعا کی گئی ہے کہ فریقین کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر کے بلایا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

  17. ’نو مئی سے پہلے بھی تو کسی کو ان دفعات کے تحت سزا ہوئی ہو گی‘: سماعت کا احوال, شہزاد ملک/بی بی سی اردو

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق اس وقت 103 افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ مستعفی ہونے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں نو مئی کے واقعات کے بعد سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق دائر درخواستوں کا فیصلہ سنایا تھا۔

    اس کے مطابق سویلینز کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانا ’خلاف آئین ہے۔‘

    تاہم کچھ دنوں کے بعد اس فیصلے کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے انٹرا کورٹ اپیلوں پر سپریم کورٹ کے چھ رکنی لارجر بینچ نے اس فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کر دیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتیں ایسے واقعات سے متعلق اپنی عدالتی کارروائیاں جاری رکھ سکتی ہے لیکن فوجی عدالتیں اس وقت تک فیصلہ نہیں سنا سکتیں جب تک ان اپیلوں پر حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔

    ’اگر کیس صرف کور کمانڈر ہائوس تک ہی رکھنا ہے تو یہ بھی بتا دیں‘

    جمعے کو جب وفاقی اور تین صوبائی حکومتوں کی جانب سے انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت شروع ہوئی اور وزارت وفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دینے لگے تو بینچ میں موجود جسٹس جمال مندوخیل نے وزارت دفاع کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اس نکتے پر دلائل دیں کہ ’کیا آرمی ایکٹ کی کالعدم دفعات آئین کے مطابق ہیں اور کیا آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے ہر شخص کو اس کے ذمرے میں لایا جا سکتا ہے؟‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس پہلو کو بھی مدنظر رکھیں کہ ’آرمی ایکٹ ملک کے 1973 کے آئین سے پہلے بنا تھا۔‘

    وزارت دفاع کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی اپنے دلائل میں اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بہت سی خرابیاں۔

    اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے کو اتنا بے توقیر تو نہ کریں کہ اسے خراب کہیں۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ وہ معذرت خواہ ہیں کیونکہ ان کے الفاظ اس ضمن میں قانونی نوعیت کے نہیں تھے۔

    بینچ میں موجود جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کل بھی کہا تھا کہ نو مئی کے واقعات کی تفصیلات فراہم کریں کیونکہ فی الحال تو ہمارے سامنے معاملہ صرف کور کمانڈر ہائوس کا ہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر کیس صرف کور کمانڈر ہائوس تک ہی رکھنا ہے تو یہ بھی بتا دیں۔‘

    ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انھیں تمام تفصیلات آج صبح ہی موصول ہوئی ہیں اور وہ تفصیلات باضابطہ طور پر متفرق درخواست کی صورت میں جمع کروائیں گے۔

    بینچ میں موجود جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ ’فیصلے میں جن دفعات کو کالعدم قرار دیا گیا ہے ان کے تحت ہونے والے ٹرائل کیا کیا ہوگا؟ کیونکہ نو مئی سے پہلے بھی تو کسی کو ان دفعات کے تحت سزا ہوئی ہوگی۔‘

    وزارت دفاع کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’عمومی طور پر کالعدم ہونے سے پہلے متعلقہ دفعات پر ہونے والے فیصلوں کو تحفظ ہوتا ہے۔‘

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ’یہ تو اُن ملزمان کے ساتھ تعصب برتنے والی بات ہوگی۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’آرمی میں کوئی شخص زبردستی نہیں، اپنی مرضی سے جاتا ہے اور آرمی جوائن کرنے والے کو علم ہوتا ہے کہ اس پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آرمی ایکٹ کے تحت بنیادی حقوق میسر نہیں ہوتے اور آرمی ایکٹ بنایا ہی فوج کی ملازمت کے قواعد اور ڈسپلن کے لیے گیا ہے۔‘

    وزارت دفاع کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’فوج میں بنیادی حقوق جرم کرنے پر ہی ختم ہوتے ہیں۔‘

    ’فریقین اپنی معروضات تک محدود رہ سکتے ہیں، عدالت نہیں‘

    جسٹس جمال نمدوخیل نے سوال کیا کہ ’کیا اپیل میں عدالت صرف اپیل کنندہ کی استدعا تک ہی محدود رہے گی اور کیا عدالت فیصلے کے دیگر پہلو کا بھی جائزہ لے سکتی ہے؟‘

    بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ ’فریقین اپنی معروضات تک محدود رہ سکتے ہیں، عدالت نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس 26ویں آئینی ترمیم سمیت بہت سے مقدمات پائپ لائن میں ہیں۔

    انھوں نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ ’آپ مزید کتنا وقت لیں گے؟‘ جس پر وزارت وفاع کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ابھی دلائل میں مزید کچھ وقت لگ جائے گا۔‘

    بعد ازاں عدالت نے فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے مقدمات سنانے کا عبوری فیصلہ دیتے ہوئے اس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

  18. نو مئی واقعات: سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو 85 سویلینز کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی, شہزاد ملک/بی بی سی اردو

    پاکستان کی عدالت عظمی نے فوجی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں سے 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی تاہم عدالت نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمے کے فیصلے سے مشروط ہوں گے۔

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی لارجر بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ جن ملزمان کو سزاؤں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے اور جن ملزمان کو رہا نہیں کیا جا سکتا انھیں سزا سنانے پر جیلوں میں منتقل کیا جائے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائلز سے متعلق آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

    سپریم کورٹ کا سات رکنی آئینی بینچ ملٹری کورٹس کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں سن رہا ہے۔ فوجی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف پنجاب کی صوبائی حکومت اور وفاق کی جانب سے اپیل دائر کی گئی تھی۔

    یاد رہے کہ نو مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے تھے اور فوجی تنصیبات سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے تھے۔ نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق پارلیمان نے قرارداد منظور کی تھی جس کے بعد وفاقی حکومت نے ان افراد کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی منظوری دی تھی۔

    ’فوج میں نہ ہونے والا فرد فوج کے ڈسپلن کے نیچے کیسے آ سکتا ہے؟‘

    جمعرات کو سویلینز کے مقدمے فوجی عدالتوں میں چلانے کے حوالے سے سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا تھا کہ ’فوج میں نہ ہونے والا فرد فوج کے ڈسپلن کے نیچے کیسے آ سکتا ہے؟‘

    اس پر حکومتی وکیل خواجہ حارث کا دوران سماعت کہنا تھا کہ ’مخصوص حالات میں سویلین پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔ عدالت کے پاس آرمی ایکٹ دفعات کو کالعدم کرنے کا اختیار نہیں۔‘

    اس پر جسٹس جمال نے کہا کہ ’اس طرح تو اگر کوئی اکسانے کا سوچے تو آرمی ایکٹ کا اطلاق ہو گا، کیا آرمی ایکٹ نے آئین کے آرٹیکل 8 کا سیکشن 1 غیر مؤثر نہیں کر دیا؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ملٹری ٹرائل میں بھی فیئر ٹرائل کا آرٹیکل 10 اے موجود ہوتا ہے۔‘

    جسٹس مندوخیل نے مزید کہا کہ ’پاکستان میں سب سے بڑا عہدہ صدر مملکت کا ہے، اگر صدر ہاؤس پر حملہ ہو تو ملزم کا ٹرائل انسداد دہشتگردی عدالت میں ہو گا مگر آرمی املاک پر حملہ ہو تو ٹرائل ملٹری کورٹس میں؟ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ یہ فیصلہ قانون سازوں نے قانون سازی سے کیا ہے۔‘

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ’ملٹری کورٹس کے زیر حراست افراد کی ایف آئی آر کی نقول نہیں دی گئیں، کیا ملٹری کورٹ ٹرائل میں وکیل کی اجازت ہوتی ہے؟ کیا ملٹری کورٹ میں ملزم کو تمام مواد فراہم کیا جاتا ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے جواب دیا ’جی ملٹری کورٹ میں ملزم کو وکیل اور تمام متعلقہ مواد فراہم کیا جاتا ہے۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا ’اگر ایک فوجی اپنے افسر کا قتل کر دے تو کیس کہاں چلے گا؟‘

    خواجہ حارث نے جواب دیا کہ قتل کا کیس عام عدالت میں چلے گا۔

  19. شام میں پھنسے 300 سے زیادہ پاکستانی شہریوں کی بیروت کے راستے واپسی

    پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شام میں پھنسے 300 سے زیادہ پاکستانی شہری بیروت سے چارٹرڈ طیارے کے ذریعے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے شام سے مزید پاکستانیوں کے انخلا کے لیے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

    وطن واپس آنے والے شہریوں کے کے استقبال کے لیے موجود وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ’شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ لبنان کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’شام سے پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ وطن واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تشکیل دیا گیا۔‘

    گذشتہ روز پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا تھا کہ 250 زائرین سمیت 475 پاکستانی شہری شام کی سرحد عبور کر کے لبنان داخل ہوئے تھے جنھیں بیروت سے اسلام آباد لانے کی تیاریاں کی گئیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان شام کی ’خودمختاری اور سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔‘

  20. ’فیض حمید جنرل باجوہ کی اجازت سے مجھ سے ملتے تھے، نو مئی سے تعلق جوڑنا احمقانہ ہے‘: عمران خان کا پیغام

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر پاکستانی فوج کی تحویل میں خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کے کورٹ مارشل کے دوران انھیں چارٹ شیٹ کیے جانے پر ردعمل دیا گیا ہے۔ ایک پیغام میں ان کی طرف سے لکھا گیا ہے کہ ’جنرل فیض، جنرل باجوہ کے ماتحت تھے۔۔۔ نو مئی کے سلسلے میں جنرل فیض سے تعلق جوڑنا احمقانہ بات ہے۔‘

    اس پیغام کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم نے صحافیوں اور وکلا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’ہم اداروں سے کہتے ہیں کہ جو لوگ عوام اور فوج کو آمنے سامنے لانے کا کام کر رہے ہیں انہیں پہچانیں اور روکیں- ہم اپنا ملک ٹوٹنے نہیں دیں گے۔‘

    خیال رہے کہ 10 دسمبر کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران ’ملک میں انتشار اور بدامنی سے متعلق پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے سے متعلق علیحدہ تفتیش کی جا رہی ہے۔‘ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جنرل فیض کے خلاف ’مذموم سیاسی عناصر کی ایما اور ملی بھگت سے 9 مئی سے جڑے واقعات بھی شامل تفتیش ہیں۔‘

    عمران خان کے پیغام میں کہا گیا ہے کہ ان کے دور میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض کا معاملہ ’فوج کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔‘

    تاہم انھوں نے واضح کیا ہے کہ ’جب میں وزیرِ اعظم تھا جنرل فیض جنرل باجوہ (اُس وقت کے آرمی چیف) کی اجازت سے مجھے ملتے تھے اور پھر جنرل باجوہ کو ڈی بریف بھی کرتے تھے۔ نو مئی کے سلسلے میں جنرل فیض سے تعلق جوڑنا احمقانہ بات ہے۔

    خیال رہے کہ نو مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک میں متعدد شہروں میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جن میں فوجی تنصیبات سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔ عمران خان سمیت پی ٹی آئی قیادت پر نو مئی سے جڑے کئی مقدمات قائم کیے گئے تھے جن میں انسداد دہشتگردی کی دفعات بھی شامل ہیں۔

    اس پر عمران خان نے سوال کیا ہے کہ ’کیا مجھے پتہ تھا کہ نو مئی کو مجھے گرفتار کرنا ہے؟ تو سازش کس بات کی کرنی تھی؟ جنرل فیض ریٹائرمنٹ کے بعد ہماری کیا مدد کر سکتے تھے؟‘

    عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’اصل حساب تو جنرل باجوہ کا ہونا چاہیے جس نے ہماری منتخب حکومت کے خلاف سازش کی۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف کی موجودہ حکومت نے اگست میں فیض حمید کی گرفتاری کے وقت کہا تھا کہ وہ عمران خان کی قیادت میں اس ’سیاسی گٹھ جوڑ‘ کا حصہ تھے جس نے عمران خان کی گرفتاری کے بعد پُرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی کی تھی۔

    ’سول نافرمانی کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں‘

    پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ ’اس وقت تک حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان کسی قسم کا کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہوا ہے۔‘

    عمران خان کی طرف سے اس پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سول نافرمانی کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں چھوڑا- اگر سینئر ترین ججز پر مشتمل آزاد جوڈیشل کمیشن اور انڈر ٹرائل سیاسی قیدیوں کی رہائی کے ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے تو سول نافرمانی کی تحریک بھرپور طریقے سے چلائی جائی گی جس میں پہلا قدم اووررسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں کمی کی مہم ہو گی۔‘

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی کا دعویٰ ہے کہ 26 نومبر کو جماعت کے اسلام آباد میں مظاہرے کے دوران قانون نافد کرنے والے اداروں کی طرف سے گولیاں چلائی گئیں تاہم حکومتی وزرا اس کی تردید کرتے ہیں۔ 11 دسمبر کو ایک بیان میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی جماعت ’گولی چلنے کا جھوٹا بیانیہ بنا رہی ہے، گولی چلی ہے تو ثبوت سامنے کیوں نہیں لاتے؟‘

    عمران خان نے اس معاملے پر تحقیقات اور اپنے کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’ہم اداروں سے کہتے ہیں کہ جو لوگ عوام اور فوج کو آمنے سامنے لانے کا کام کر رہے ہیں انھیں پہچانیں اور روکیں- ہم اپنا ملک ٹوٹنے نہیں دیں گے۔‘

    خیال رہے کہ توشہ خانہ کے دوسرے کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فرد جرم کر دی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے 2021 میں دورۂ سعودی عرب کے دوران حاصل شدہ بلگاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا۔ تاہم وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے رہنما سید ذوالفقار (زلفی) علی بخاری نے بی بی سی سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی عمران خان کے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے بیانات کو ان کی سوشل میڈیا چلاتی ہے۔

    انھوں نے مزید بات کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا ٹیم کو عمران خان کے بیانات ان کی قانونی ٹیم یعنی وکلا سے ذریعے موصول ہوتے ہیں۔

    ’عمران خان جیل میں قید ہیں اور ان سے ملاقات کرنے والی قانونی ٹیم اور وکلا ہی ان کے پیغامات سوشل میڈیا ٹیم کو دیتے ہیں۔‘

    ایک سوال پر کہ کیا یہ پیغامات تحریری ہوتے ہیں یا زبانی، زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ چونکہ جیل میں لکھنے کی اجازت نہیں لہذا یہ تمام پیغامات زبانی ہوتے ہیں جو عمران خان سے ملاقات کرنے والے وکلا سوشل ٹیم کو ڈکٹیٹ کرواتے ہیں۔